Tuesday, November 20, 2018

آہ اشبیلیہ

اور میں پھر بالآخر سیویا پہنچ گیا اور یوں رومیوں کا ہسپالس‘ مسلمانوں کا اشبیلیہ اور ہسپانیوں کا سیویا میرے سامنے تھا۔مورخین1500ءسے 2000ءتک پانچ سو سال کی تاریخ کو دنیا کا جدید ترین دور کہتے ہیں اور سیویا  اس دور کا نقطہ آغاز تھا‘ امریکا اس شہر سے دریافت ہوا ‘ سگریٹ‘ سگار اور بیڑی نے اس شہر میں جنم لیا‘ مکئی‘ آلو اور چاکلیٹ اس شہر سے جدید دنیا میں داخل ہوئے ‘ افریقہ کے سیاہ فام غلام پہلی مرتبہ اس شہر سے امریکا پہنچائے گئے ‘ کافی‘ گھوڑے اور گنا اس شہر سے لاطینی امریکا کا حصے بنے ‘

یہ وہ شہر تھا جس نے پوری دنیا میں آتشک اور سوزاک جیسی جنسی بیماریاں پھیلائیں اور یہ وہ شہر تھا جو اندلس میں مسلمانوں کے زوال کی پہلی اینٹ بنا غرض آپ جدید دنیا کو جس زاویئے‘ جس اینگل سے بھی دیکھیںگے سیویا آپ کو درمیان میں نظر آئے گا اور میں دس نومبر 2018ءکو اس عظیم سیویا پہنچ گیا‘ کرسٹوفر کولمبس‘ ابن بطوطہ اور ابن خلدون کے سیویا میں۔سیویا کا پہلا حوالہ یونان کی رزمیہ داستان ہیلن آف ٹرائے میں ملتا ہے‘ داستان کا مرکزی کردار ٹروجن ہسپالس (سیویا) میں پیدا ہوا تھا‘ دوسرا اہم حوالہ مورش مسلمان ہیں‘ طارق بن زیاد کے قدموں نے 711ءمیں سپین کی سرزمین کو چھوا‘ وہ بربر غلام زادہ سپین میں جس جگہ اترا وہاں طریفہ کے نام سے شہر آباد ہوا‘ یہ شہر آج بھی 13 سو سال سے قائم ہے اور یہ سپین اور مراکش کے درمیان اہم بندرگاہ ہے‘ مراکش کا شہر طنجہ (تانجیر) طریفہ سے صرف بیس منٹ کے آبی سفر کے فاصلے پر واقع ہے‘ طریفہ اور طنجہ کے درمیان ہر گھنٹے بعد فیری چلتی ہے‘ یہ فیری دو تہذیبوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور افریقہ دو براعظموں کے درمیان رابطہ بھی ہے‘ بنو امیہ کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے کمانڈر اور گورنر تھے‘ طارق بن زیاد ان کا غلام تھا‘ طارق بن زیاد نے 711ءمیں جبل الطارق (جبرالٹر) فتح کر لیا اور وہ سپین کے اہم ترین شہروں کے طرف بڑھنے لگا ‘ موسیٰ بن نصیر کا صاحبزادہ عبدالعزیز بھی طریفہ میں اترا اور وہ ہسپالس کی طرف بڑھنے لگا‘ عبدالعزیز بن موسیٰ نے 712ءمیں ہسپالس فتح کیا اور شہر کا نام تبدیل کر کے اشبیلیہ رکھ دیا‘

یہ شہر پھر 23 نومبر 1248ءعیسائیوں کے ہاتھوں ختم ہونے تک اشبیلیہ ہی رہا‘ اشبیلیہ کی فتح کے دو سو سال بعد 2 جنوری 1492ءکو مسلمانوں کی آخری ریاست غرناطہ بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئی‘ آخری مسلمان فرمانروا ابو عبداللہ محمد اپنے 1130 لوگوں کے ساتھ مراکش پہنچا‘ فیض گیا اور یوں سپین میں اسلامی ریاست کا پرچم ہمیشہ ہمیشہ کےلئے سرنگوں ہو گیا‘ سیویا کا تیسرا حوالہ کرسٹوفر کولمبس ہے‘ وہ سقوط غرناطہ کے وقت عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کے ساتھ کھڑا تھا‘ کولمبس ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا‘ وہ فنڈنگ کےلئے یورپ کے تین بادشاہوں کے پاس گیا مگر انکار ہو گیا‘

وہ آخر میں غرناطہ کے اسلامی سقوط پر نظریں جما کر کھڑا ہو گیا‘ جوں ہی الحمرا سے اسلامی پرچم اتارا گیا‘ وہ آگے بڑھا‘ ملکہ ازابیلا کا ہاتھ چوما‘ مبارک باد دی اور فنڈنگ کی درخواست کر دی‘ ملکہ اس وقت خوشی کی انتہا کو چھو رہی تھی‘ اس نے کھڑے کھڑے کولمبس کا منہ موتیوں سے بھر دیا یوں کولمبس تین اگست 1492ءکو سیویا سے روانہ ہوا اور ہندوستان کا نیا راستہ تلاش کرتے کرتے دنیا کو نئی دنیا سے متعارف کرا گیا اور اس کے بعد پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا‘ دنیا صرف دنیا نہ رہی حیران کن دنیا بن گئی۔

میں یکم نومبر کو روانہ ہوا‘ کینیڈا میری پہلی منزل تھی‘ میں ٹورنٹو اور کیلگری میں نو دن گزار کر دس نومبر کو سپین کے شہر مالگا اترا‘ یہ شہر مسلمانوں کے اندلسی دور میں مالقا کہلاتا تھا‘ عیسائی فوجوں نے 1487ءمیں مالقا کے امیر کو شکست دی اور پھر اس کے بعد پورا اندلس پکے ہوئے سیب کی طرح عیسائیوں کو گود میں آ گرا‘ میرے دوست اور بھائی سہیل مقصود مالگا ائیرپورٹ کے باہر میرا انتظار کر رہے تھے‘ سہیل مقصود ایک سادہ‘ مخلص اور گرم جوش انسان ہیں‘

غرناطہ میں کیش اینڈ کیری کے مالک ہیں اور انتہائی دلچسپ مگر غیرسیاسی دوست ہیں‘ ہم مالگا سے سیویا روانہ ہو گئے‘ ہائی وے کے دونوں طرف زیتون کے باغ تھے‘ اوپر جنوبی سپین کا نیلا آسمان تنا ہوا تھا اور نیچے ہم ڈرائیو کر رہے تھے‘ سیویا مالگا سے ساڑھے تین گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘ شہر کی پانچ سو سال کی جدید تاریخ تین حصوں میں تقسیم ہے‘ امریکا کی دریافت کا دور‘ یہ دور 1500ءسے ساڑھے 1800ءتک محیط ہے‘ سیویاان ساڑھے تین سو سال میں دنیا کا امیر ترین شہر اور سپین رئیس ترین ملک بن گیا‘ کارلو فائیو(چارلس فائیو)1516ءمیں سپین کا بادشاہ بنا‘

یہ دنیا کا پہلا بادشاہ تھا جس کی سلطنت میں سورج نہیں ڈوبتا تھا‘ یہ تھائی لینڈ‘ ایک چوتھائی ہندوستان‘ آدھے یورپ اور پورے امریکا کا مالک تھا چنانچہ سورج چل چل کر اور جل جل کر تھک جاتا تھا لیکن کارلو فائیو کی سلطنت ختم نہیں ہوتی تھی مگر پھر بحیرہ ہند‘ یورپ اور امریکا کے زیادہ تر ملک سپین کے ہاتھ سے نکل گئے‘ امریکا اور ہندوستان سے تجارت ختم ہو گئی‘ ملک طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا اور آہستہ آہستہ یورپ کا مرد بیمار بنتا چلا گیا یوں سپین کا پہلا سنہری دور اختتام پذیرہو گیا‘

سپین کا دوسرا دور 1929ءمیں شروع ہوا‘ بادشاہ الفانسونے سپین کی معیشت کو اٹھانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے امریکا اور لاطینی امریکا کے ملکوں سے رابطہ کیا‘ کولمبس کا واسطہ دیا‘ نئی دنیا راضی ہوئی اور 1929ءکو سیویا میں جدید دنیا کی سب سے بڑی نمائش شروع ہو گئی‘ لاطینی امریکا کے تمام ملکوں نے سیویا میں اپنے قونصل خانے بنائے‘ اپنے تجارتی جہازوں کا رخ سپین کی طرف موڑا اور یوں سپین ایک بار پھر ٹیک آف کرنے لگا اور تیسرا دور 1992ءمیں شروع ہوا‘

بارہ اکتوبر1992ءکو امریکا کی دریافت کے پانچ سو سال پورے ہوئے‘سپین کے وزیراعظم فلپ گونزا لیز مارکوئز نے امریکی اقوام کو ایک بار پھر راضی کیا‘ سیویا میں امریکی ٹیکنالوجی اور مصنوعات کی ایک اور بین الاقوامی نمائش ہوئی اور سیویا کی مہربانی سے سپین ایک بار پھر جدید دنیا کے امیر ترین ملکوں میں شمار ہونے لگا‘ سپین آج جو کچھ ہے اس کی وجہ 1929ءاور 1992 کی نمائشیں ہیں۔ہم نے سیویا کی مرکزی شاہراہ پر نیم جدید ہوٹل سلکن اندلوسیہ میں قیام کیا‘ یہ سڑک 1929ءکی نمائش کےلئے تعمیر کی گئی تھی ‘

لاطینی امریکا کے زیادہ تر قونصل خانے اس سڑک پر واقع ہیں‘ پرانا شہر ہوٹل سے چار کلو میٹر دور تھا‘ ہم رات کے وقت سیویا کی قدیم گلیوں میں اتر گئے‘سیویا میں چار مقامات اہم ہیں‘ مسلمان بادشاہوں کا محل القصر‘ کیتھڈرل‘ انڈین آرکائیو اور جدید محل‘ ہم نے دوسرے دن یہ تمام مقامات ادھیڑ کر دیکھے‘ القصر مسلمانوں کی آخری نشانی ہے‘ محل کی بیرونی اور اندرونی دیواریں آج بھی قائم ہیں‘ ان میں اسلامی دور کی خوشبو بھی موجود ہے‘ نیلی اور سفید ٹائلیں‘ وہی آبنوسی لکڑی کی چھتیں اور ان چھتوں پر اسلامی نقش‘ وہی وزنی منقش دروازے‘ وہی پتھر کے فرش‘ وہی قدیم لکڑی کے قدیم جھروکے‘ وہی کمروں کے اندر فوارے اور محل کے چاروں اطراف وہی سبز باغات‘ مسلمانوں کی پوری تہذیب آج بھی القصر میں زندہ ہے‘

مسلمان اپنا طرز تعمیر مراکش سے لائے تھے‘ سپین کے عیسائی آرکی ٹیکٹس نے ان میں اپنا خون جگر ملایا اور یوں دنیا میں اندلسی طرز تعمیر نے جنم لیا‘ آپ کو یہ طرز تعمیر قرطبہ میں بھی ملتا ہے‘ غرناطہ میں بھی اور سیویا میں بھی‘ اندلسی لوگ اونچی چھتیں بناتے تھے‘ دیواریں موٹی ہوتی تھیں اور ان پر مٹی میں چونا ملا کر ایک ایک انچ لیپ کیا جاتا تھا اور پھر اس لیپ پر سنگ مرمر کے ٹکڑے اور چھوٹی ٹائلیں لگائی جاتی تھیں‘ یہ ٹائلیں‘ سنگ مر مر اور آبنوسی لکڑی تینوں مل کر اندلسی فن بن جاتی تھیں‘

دلانوں‘ ڈیوڑھیوں اور کمروں کے درمیان سنگ مرمر کے فوارے لگائے جاتے تھے اور فواروں کا پانی سفید پتھروں کی نالیوں سے ہوتا ہوا صحن کے تالاب میں جا گرتا تھا‘ تالاب کے گرد سرو کے چھوٹے بڑے درخت‘ بوگن بیل اور انگوروں کی بیلیں ہوتی تھیں اور ان بیلوں میں رنگ برنگے پرندوں کے گھونسلے ہوتے تھے‘ یہ فن القصر میں اپنے تمام رنگوں کے ساتھ موجود تھا‘ بادشاہ کا حرم چھوٹا سا الحمرا محسوس ہوتا تھا‘ گائیڈ نے بتایا عیسائی بادشاہ نے غرناطہ کے بادشاہ سے الحمرا کے معمار ادھار لئے اور محل کا یہ حصہ تعمیر کیا‘

کولمبس کا دفتر بھی القصر میں تھا‘ امریکا کی تمام تجارتی مہمات اسی دفتر سے روانہ ہوتی تھیں‘ کولمبس کے جہاز کا شناختی نشان اور کولمبس کی امریکا روانگی کی پینٹنگ دفتر کی دیواروں پر لگی تھی‘ پینٹنگ میں کولمبس کا دوست امریکانو ویسپیوسیو  صاف نظر آ رہا تھا‘ امریکانو نے سرخ ٹوپی پہن رکھی تھی‘ امریکانو اطالوی تھا اور کولمبس کا دوست تھا‘ کولمبس موت تک امریکا کو انڈیا سمجھتا رہا‘ اس نے اسی لئے امریکا کے قدیم باشندوں کو ”ریڈ انڈین“ کا نام دیاتھا‘

امریکانو پہلا شخص تھا جس نے نقشے کی بنیاد پر ثابت کیا ”کولمبس نے انڈیا کا نیا راستہ نہیں بلکہ ایک نئی دنیا دریافت کی “ امریکانو کی تھیوری بعد ازاں سچ ثابت ہوئی چنانچہ نئے ملک کا نام امریکانو کے نام پر امریکا رکھ دیا گیا‘ بادشاہ فرڈیننڈ نے 1508ءسیویا میں ”نیوی گیشن“ کی دنیا کی پہلی یونیورسٹی بنائی اور امریکانو کو اس کا سربراہ بنا دیا‘ یونیورسٹی کی عمارت آج تک موجود ہے‘ مجھے وہاں جانے کا موقع بھی ملا‘ سپین کے تمام جہاز ران کولمبس کے اس دفتر سے اجازت لے کر امریکا جاتے تھے اور بادشاہ ان کے تجارتی سامان سے اپنا حصہ وصول کرتا تھا‘

کولمبس کے دفتر کے بعد محل کے دو ہال بہت اہم ہیں‘ پہلا کارلو فائیو کی شہزادی ازابیلا دوم کے ساتھ شادی کا ہال تھا‘ ازابیلا پرتگال کی شہزادی تھی‘ وہ ہال کے دائیں دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی جبکہ کارلو فائیو بائیں دروازے سے‘ دائیں دروازے پر آج بھی پرتگال کا جھنڈا اور شناختی نشان موجود ہے جبکہ بائیں دروازے پر سپین کا نشان اور جھنڈا تھا‘ یہ ہال خصوصی طور پر اس شادی کےلئے بنایا گیا تھا‘ دوسرا ہال تیونس کی فتح کی یادگار تھا‘ 1535ءمیں ترک بادشاہ سلطان سلیمان اول تیونس تک پہنچ گیا‘

وہ سیویا فتح کر کے یورپ داخل ہونا چاہتا تھا ‘کارلو فائیو نے یورپی فوج بنائی‘ بحری جہازوں پر تیونس پہنچا اور عثمانی خلیفہ کو شکست دی‘ اس شکست نے فیصلہ کر دیا عثمانی خلافت شمالی افریقہ سے آگے نہیں آئے گی‘ کارلو فائیو نے فتح کے بعد یہ وکٹری ہال بنوایا‘ ہال کی تین دیواروں پر طویل قالین لٹک رہے تھے‘ قالین بافوں نے قالینوں میں جنگ اور فتح کا سارا احوال نقش کر رکھا تھا‘ یہ کارپٹ پینٹنگز تھیں اور یہ پینٹنگزہر لحاظ سے ماسٹر پیس تھیں۔

The post آہ اشبیلیہ appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/11/20/524362

Sunday, November 18, 2018

تقرر اور تبادلوں کاحل

میرے ایک دوست ہیں احمد مبارک‘ میں پچھلے بیس برسوں سے انہیں جانتا ہوں‘یہ ڈی آئی جی پولیس تھے‘ یہ دوران سروس مجھے جب بھی فون کرتے تھے‘ میں ان سے پوچھتا تھا ”آپ آج کل کہاں تعینات ہیں“اور یہ ہر بار کسی نہ کسی نئی جگہ‘ کسی نہ کسی نئے عہدے کا حوالہ دے دیتے تھے‘ یہ مجھے افسر کم اور فٹ بال زیادہ محسوس ہوتے تھے کیونکہ یہ سال چھ ماہ سے زیادہ کسی جگہ ٹک کر سروس نہیں کر سکے‘ یہ پوسٹ ہوتے تھے‘ کسی نہ کسی معاملے پر ان کا سینئرز‘ مقامی ایم این اے‘ ایم پی اے یا پھر کسی وزیر یا وزراء اعلیٰ سے پھڈا ہوتا تھا اور یہ اگلے ہی دن ٹرانسفر ہو جاتے تھے‘

آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچئے‘ کیا کوئی شخص ہر سال اپنے پورے خاندان کے ساتھ نئی جگہ ایڈجسٹ ہوسکتا ہے‘ کیا یہ اس خانہ بدوشی کے عالم میں اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکتے تھے‘ کیا یہ اپنے خاندان کو پال سکتے تھے‘ کیا یہ بار بار کی ٹرانسفرزسے اپنی نفسیات کو بگڑنے سے بچا سکتے تھے اور کیا یہ ایک سال میں کسی ڈسٹرکٹ یا ڈویژن کو پوری طرح سمجھ سکتے تھے؟ اور اگر یہ سمجھ جاتے تو کیا یہ زیادتی نہیں آپ اس شخص کو اس عہدے سے ہٹا رہے ہیں جس نے سال بھر کی محنت کے بعد علاقے کے مزاج اور جرائم کی وجوہات کو سمجھ لیا اور یہ جب ڈیلیور کرنے کی پوزیشن میں آیا تو آپ نے اسے ہٹا کر اس کی جگہ پر ایک ایسا شخص لگا دیا جس کو اب اس علاقے کو سمجھنے کیلئے سال بھر کا عرصہ چاہیے اور آپ اس کو بھی سال چھ مہینے بعد فارغ کر دیں گے‘ کیا یہ گورننس ہے؟ کیا اسے اچھی ایڈمنسٹریشن کہا جائے گا؟ یہ ایس ایس پی اور ڈی آئی جی رینک کے آفیسرز کی حالت ہے‘ آپ اگر ایس ایچ اوز کا ڈیٹا نکالیں تو آپ کو لاہور جیسے شہرکا ڈیٹا حیران کر دے گا‘ لاہور میں ایس ایچ او کی او سطاً پوسٹنگ ایک ماہ ہے‘ ایس ایچ او بمشکل کسی تھانے کا چارج لیتا ہے اور اگلے دن اس کی معطلی یا پوسٹنگ کا حکم آ جاتا ہے‘ آپ خود سوچئے جس افسر کو یہ اعتماد نہیں ہو گا کہ میں اس علاقے یا اس عہدے پر اتنے سال کیلئے آیا ہوں اور کوئی ایم پی اے‘ ایم این اے یا وزیر میرا تبادلہ نہیں کر سکتا وہ اطمینان کے ساتھ کیسے کام کرے گا؟

ملک کی حالت یہ ہے جب بھی کوئی ایم پی اے یا ایم این اے سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو وہ ”خریدار جماعت“ سے اپنے حلقے کے ایس ایچ اوز‘ ڈی ایس پی‘ پٹواری اور نائب تحصیلدار اور تحصیلدار تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اس سیاسی قلابازی کا نتیجہ سرکاری افسروں کے تبادلے اور تعیناتی کی شکل میں نکلتا ہے‘ آپ جب پولیس اور محکمہ مال کی تعیناتیاں ان لوگوں کے ہاتھ میں دے دیں گے جو اس سے براہ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو آپ اس علاقے کی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کا اندازہ خود لگا سکتے ہیں

اور ہمارے ملک میں یہ کھیل روزانہ ہوتا ہے اور اس کھیل کے نتیجے میں مظلوم لوگ ایف آئی آر کٹوانے‘ ملزم کو گرفتار کرانے‘ اپنے بے گناہ عزیز کو چھڑوانے‘ زمین کا فرد لینے اور اپنی زمین کا قبضہ لینے کیلئے تھانے یا کچہری نہیں جاتے‘ یہ ایم پی اے یا ایم این اے کے ڈیرے پر جاتے ہیں اور وہاں سے جس شخص کے بارے میں فون آ جاتا ہے پولیس اس کیلئے تھانے کے دروازے کھول دیتی ہے جبکہ باقی مظلوم تھانے کے باہر بیٹھے رہتے ہیں۔

آپ اس صورتحال پر غور کیجئے اور اب فیصلہ کیجئے ہمارے سرکاری ملازمین بالخصوص پولیس اور ڈی ایم جی کے پاس اب کیا آ پشن بچتا ہے؟ کیا یہ سسٹم انہیں یہ پیغام نہیں دے رہا‘ آپ اگر او ایس ڈی نہیں بننا چاہتے‘ آپ اگر اپنی پوسٹنگ بچانا چاہتے ہیں اور آپ اگر ملک کے دور دراز علاقوں میں تبادلے سے بچنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے آپ ملک اور عوام کی بجائے اپنے سینئرز‘ سیاستدانوں‘ حکمران جماعت اور طاقتور اداروں کی غلامی میں چلے جائیں اور آپ کا سینئر‘ آپ کی حکمران جماعت اور آپ کا ایم پی اے یا ایم این اے آپ کو جو حکم دے آپ اچھے غلام کی طرح اس پر چپ چاپ عمل کریں‘

ہماری بیورو کریسی نے یہ پیغام نہ صرف سن لیا ہے بلکہ یہ اس کو سمجھ بھی گئی ہے اور یہ اس پر عمل بھی کر رہی ہے اور ”یس سر“ کے اس سسٹم کی سزا اب عام شخص کے ساتھ ساتھ اقتدار سے بے دخل حکمرانوں کو بھی ملتی ہے‘ حکومتی پارٹی جب قانون کے رکھوالوں کو حکم دیتی ہے تو یہ میاں نواز شریف کے والد کو دفتر سے کرسی سمیت اٹھا لیتے ہیں‘ یہ فاروق لغاری کو سر عام تھپڑ ماردیتے ہیں‘ یہ نصرت بھٹو پر لاٹھیاں برسا دیتے ہیں‘ یہ بے نظیر بھٹو کو سڑکوں پر گھسیٹتے ہیں‘

یہ شریف فیملی کو اٹک قلعے میں پھینک دیتے ہیں‘ یہ آصف علی زرداری کی زبان کاٹ دیتے ہیں‘ یہ میاں نواز شریف کو دھکے دے کر اسلام آباد ائیر پورٹ سے جدہ پہنچا دیتے ہیں‘ یہ بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت دھو دیتے ہیں‘ یہ چیف جسٹس کو بھی بالوں سے پکڑ لیتے ہیں‘ اب حکم ہوا تو نیب نے شہباز شریف کو بھی حراست میں لے لیا‘ آپ نواز شریف کا سارا کیس اٹھا کر دیکھ لیجئے آپ کو یہ حقائق اس میں بھی نظر آئیں گے اوریہ اس غلامانہ سوچ کا نتیجہ ہے جس کے ذریعے ہمارے حکمرانوں نے پولیس کو ذہن نشین کرا دیا تم نے قانون کی بجائے اپنے آقا کی پیروی کرنی ہے

چنانچہ یہ پوسٹنگ بچانے اور تبادلے سے بچنے کیلئے اپنی ساری توانائیاں آقا کے حکم کی بجا آوری میں لگا دیتے ہیں اور اس کا خمیازہ عام شخص کے ساتھ ساتھ حکمران طبقہ بھی بھگتتا ہے‘ مجھے یقین ہے آج اگر ملک میں مارشل لاء لگ جائے اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر پولیس کو آصف علی زرداری‘ میاں نواز شریف‘ میاں شہباز شریف‘ عمران خان اور سپریم کورٹ کے ججوں کو ڈنڈے مارنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کا حکم دے دے توپولیس چند لمحوں میں یہ کر گزرے گی کیونکہ ان کا آقا بدل چکا ہو گا اور انہوں نے اس آقا سے بھی اپنی پوسٹنگ بچانی ہے۔

ہم آتے ہیں اب اس کے حل کی طرف‘ اس کے تین حل ہیں‘ پاکستان کی تمام فیلڈ پوسٹنگز تین سال کیلئے کر دی جائیں‘ یہ قانون اگر پہلے سے موجود ہے تو اس پر سختی سے عمل کیا جائے‘ ان تین برسوں میں کوئی سینئر یا کوئی سیاستدان کسی افسر کو اس کی جگہ سے نہ ہٹا سکے‘ اگر کوئی افسر مس کنڈکٹ کا مرتکب ہویا قانون کی خلاف ورزی کرے‘ یہ کسی کو فیور دے یا کسی کو بلاجواز نقصان پہنچائے تو محکمہ اس کا کیس سپیشل باڈی کو بھیج دے‘ ملک کے تمام صوبوں اور وفاق میں سرکاری افسروں کیلئے سپیشل باڈیز بنائی جائیں‘

ان باڈیز میں ریٹائر سینئر بیورو کریٹس‘ ریٹائر ججز حضرات‘ سینئر پروفیسرز اور سینئر بزنس مین شامل ہوں‘ یہ کیس کا جائزہ لیں اور ایک ہفتے کے اندر اندر فیصلہ دے دیں‘ محکمے کا سینئر اگر سپیشل باڈی کے سامنے کسی جونیئر پر لگائے جانے والے الزام ثابت نہ کر سکے تو یہ سپیشل باڈی اس کی اے سی آر میں نیگٹو پوائنٹ دے دے اور یہ افسر پانچ چھ نیگٹو پوائنٹس کے بعد ترقی کی فہرست سے باہر ہو جائے‘ کابینہ‘ وزیراعلیٰ‘ وزیراعظم اور صدر کا پوسٹنگز اور تبادلوں کا صوابدیدی اختیار فوری طور پر ختم کر دیا جائے‘

ملک کے تمام محکموں کے رولز دیکھے جائیں‘ ان رولز کے مطابق میرٹ بنے اور تمام سرکاری ملازم اس میرٹ لسٹ اور رولز کے مطابق ترقی پائیں اور ان کی پوسٹنگز اور تبادلے ہوں‘ کوئی افسر اس لسٹ میں اچانک شامل نہ ہو سکے اور کسی کو خاص پروسیجر کے بغیر فہرست سے خارج نہ کیا جا سکے‘ انیس سے بائیسویں گریڈ کی تمام تقرریوں کا فیصلہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کرے‘ حکومت کسی کو ہٹا سکے اور نہ ہی لگا سکے اور سپریم کورٹ ایڈہاک‘ ایکٹنگ چارج اور ایکسٹینشن پر قطعی پابندی لگا دے‘

ہماری حکومتیں ایکسٹینشن‘ ایکٹنگ چارج اور ایڈہاک سے بھی جی بھر کر فائدہ اٹھا رہی ہیں‘ یہ مرضی کے ملازموں کو ایکٹنگ چارج دے دیتے ہیں‘ ان کی مدت ملازمت میں اضافہ کر دیتے ہیں یا پھر انہیں ایڈہاک پر اہم عہدوں پر لے آتے ہیں‘ سپریم کورٹ پابندی لگا دے گی تو یہ راستہ بند ہو جائے گا‘ سپریم کورٹ حکم جاری کر دے تمام محکمے کسی تبادلے یا ریٹائرمنٹ سے پہلے اس پوزیشن پر نیا عہدیدار تعینات کریں گے تاکہ وہ عہدہ خالی نہ رہ سکے‘ کوئی افسر چھٹی پر جائے تو اس کے اختیارات جونیئر افسر کو منتقل ہو جائیں لیکن وہ صرف محدود پیمانے پر عارضی احکامات جاری کر سکے۔

ان کی حتمی توثیق وہ افسر واپس آ کر کرے اور اگر وہ حکم واپس لینا چاہے تو وہ پرانا فیصلہ معطل بھی کر سکے گا۔ بیوروکریسی کو ریاست کا ماتحت ہونا چاہیے حکومت کا نہیں‘آپ نے پچھلے دنوں تین چار بڑے واقعات پڑھے ہوں گے‘ پہلا واقعہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ تھا‘ آئی جی پنجاب طاہرخان کا تبادلہ ایک ماہ دو دن بعد کر دیا گیا تھا‘اس متنازعہ فیصلے کی وجہ سے پنجاب پولیس ریفارمز کمیشن کے چیئرپرسن ناصر درانی اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے‘

ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا ایشو بھی ساری دنیا کے سامنے ہے‘آج آپ صرف یہ معلوم کرلیجئے رضوان گوندل کہاں ہیں اور ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی‘ ڈی سی راجن پوراللہ دتہ وڑائچ نے پی ٹی آئی کے ایم این اے نصراللہ دریشک اور صوبائی وزیر سردار حسنین بہادر دریشک کی جانب سے انتظامی امور میں مداخلت پر کمشنر ڈی جی خان کو مراسلہ لکھا تھا اور ڈی سی چکوال غلام صغیر شاہد نے چیف سیکرٹری پنجاب کو خط لکھ کر پی ٹی آئی کے ایم این اے ذوالفقارعلی خان پرسرکاری کاموں میں مداخلت کا الزام لگایا تھا‘ یہ دونوں ڈی سی آج کس حال میں ہیں؟ آپ ان کا بھی پتہ کرا لیجئے۔

سپریم کورٹ کو ان ایشوز کا بھی نوٹس لینا چاہیے ورنہ ہماری غلام بیورو کریسی مزید غلام ہو جائے گی اور یہ کسی دن کسی بھی طاقتور شخص کے حکم پر صدر‘ وزیراعظم اور چیف جسٹس کو گرفتار کر لے گی اور ان پر بھینس چوری کا مقدمہ بنا دے گی کیونکہ بیورو کریسی جب قانون کے طاق سے اتر کر حکمرانوں کی انا کی غلام بنتی ہے تو پھر کسی عزت دار شخص کی عزت محفوظ نہیں رہتی‘ پھر ہر چڑھتا سورج سجدہ گاہ بن جاتا ہے اور ہر گزرا حکمران کچرہ گھر۔

نوٹ: کالمز کی یہ سیریز میں نے اپنے 80 ممالک کے وزٹس‘مطالعے اور مشاہدے کی روشنی میں لکھی ہے‘ان پر مزید بات ہو سکتی ہے‘ میراخیال ہے حکومت کو ان پوائنٹس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے‘ اس سے سسٹم بہتر ہو سکتا ہے اور پاکستان واقعی پاکستان بن سکتا ہے۔

The post تقرر اور تبادلوں کاحل appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/11/18/523615

Friday, November 16, 2018

صحت اور انصاف کاحل

صحت اور انصاف بھی ہمارے مسئلے ہیں‘ دنیا دس ہزار سال کی تحریری تاریخ میں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے معاشرے میں جب تک انصاف نہیں ہو تا اور لوگ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے صحت مند نہیں ہوتے ملک اور معاشروں میں اس وقت تک استحکام نہیں آ تا مگر ہمارے ملک میں بدقسمتی سے یہ دونوں شعبے زوال پذیر ہیں‘ سرکاری ہسپتالوں‘ شفاء خانوں اور ڈسپنسریوں کی حالت یہ ہے راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں 26 نومبر 2012ء کو دو نومولود بچوں کو چوہے کاٹ گئے‘

اس حادثے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہو گیا‘نومبر 2012ء میں لاہور میں 25 افراد کھانسی کا شربت پینے سے جاں بحق ہو گئے جبکہ جنوری 2012ء میں لاہور میں دل کے 100 سے زائد مریض دوائی میں ملاوٹ کی وجہ سے ہلاک ہو گئے‘ پاکستان میں آخری ڈرگ ریگولیٹری ایکٹ 1976ء میں پاس ہوا تھا اور یہ 36 سال بعداکتوبر2012ء میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ان تھک محنت کے بعد دوبارہ پاس ہوا‘ آج بھی ملک کے 1206 لوگوں کیلئے ایک ڈاکٹر‘1700 مریضوں کیلئے ہسپتال کا ایک بیڈ‘1700 افراد کیلئے ایک ڈینٹسٹ اور 1667 لوگوں کیلئے ایک نرس دستیاب ہے‘ سرکاری ہسپتالوں میں کاکروچ‘ چھپکلیاں‘ چوہے اور بلیاں عام پھرتی ہیں‘ ملک میں جعلی ڈاکٹروں کی بھرمار ہے‘ ملک میں ہومیو پیتھک ڈاکٹروں اور حکیموں کے نام پر ہزاروں قصاب پھر رہے ہیں اور ملک میں عام چاقو سے بچے پیدا کر دیئے جاتے ہیں اور آنکھوں کے آپریشن ہو جاتے ہیں‘ صحت کا بجٹ آج بھی جی ڈی پی کا.9 0فیصد ہے اور پنجاب جیسا دس کروڑ لوگوں کا صوبہ جون2008ء سے فروری 2012ء تک وزیر صحت کے بغیر چلتا رہا اور مریض اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال پمز کے کوریڈورز اور لانوں میں پڑے ہوتے ہیں اور یہ صورتحال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہم اس مسئلے کی سنگینی کو نہیں سمجھیں گے۔

ہمارے پاس اس مسئلے کے تین چار حل ہو سکتے ہیں‘ پہلا حل‘ حکومت ہسپتال‘ ڈسپنسریاں اور بی ایچ یو چلانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے چنانچہ صحت کو مکمل طور پر پرائیوٹائز کر دیا جائے‘ سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ کمپنیوں کے حوالے کر دیا جائے‘ یہ کمپنیاں ہسپتال بنائیں اور چلائیں‘ ملک بھر کے ڈاکٹرز اور ان کے کلینکس کیلئے ایک باڈی بنا دی جائے‘ یہ باڈی جب تک تحریری اجازت نہ دے کوئی ڈاکٹر اس وقت تک پرائیویٹ پریکٹس نہ کر سکے‘

یہ باڈی ڈاکٹروں کی تعلیم‘ تجربے اور مہارت کو دیکھ کر ان کا فیس پیکج تیار کرے‘ یہ ہوٹلز کی طرح کلینکس کا معیار بھی طے کرے اور کڑی چھان بین کے بعد انہیں ون سٹار‘ ٹو سٹار‘ تھری سٹار‘ فور سٹار اور فائیو سٹار کے درجوں میں تقسیم کرے‘ یہ کلینکس ان سٹارز کے مطابق کمروں‘ آپریشن تھیٹرز‘ پیرا میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹروں کی فیس چارج کریں‘ یہ باڈی پرائیویٹ نرسز‘ وارڈ بوائز اور لیبارٹری ٹیکنیشنز کا معیار اور کوالیفکیشن بھی طے کرے‘ میڈیکل باڈی کے رولز ”فکس“ ہوں اور کوئی شخص ان رولز میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کر سکے‘

میڈیکل لیبارٹریز کیلئے بھی معیار طے ہوں‘ انہیں بھی ون سے لے کر فائیو سٹار تک کیٹگریز میں تقسیم کیا جائے اور ان کے نرخ بھی ان کیٹگریز کے مطابق طے کئے جائیں‘ ان اقدامات کے بعد ملک کے ہر شہری کی ہیلتھ انشورنس کر دی جائے‘ ملک کا ہر وہ شہری جس کے پاس شناختی کارڈ ہے یا جو بی فارم میں شامل ہے اس کی ہیلتھ انشورنس لازم ہو‘ پاکستان کا کوئی بچہ اس وقت تک سکول میں داخل نہ ہو سکے‘ یہ پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک امتحان نہ دے سکے‘

یہ اس وقت تک شناختی کارڈ‘ پاسپورٹ‘ ڈرائیونگ لائسنس اور بینک اکاؤنٹ کی سہولت حاصل نہ کر سکے جب تک اس کی ہیلتھ انشورنس نہیں ہو جاتی‘ ملک کے تمام سرکاری اور پرائیویٹ ادارے بھی اپنے ملازمین کی ہیلتھ انشورنس کے ذمہ دار ہوں اور یہ ادارے جب تک بینکوں کو انشورنس سر ٹیفکیٹ نہ دے دیں بینک ان کے ملازمین کو تنخواہ ٹرانسفر نہ کریں‘ یہ ہیلتھ انشورنس آگے چل کر ملک کے ہر شہری کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرے گی‘ یہ لوگ اضافی رقم کے بغیر پرائیویٹ کلینکس اور ہسپتالوں میں اپنا علاج کرا سکیں گے‘

حکومت بڑی آسانی سے ادویات ساز اداروں کا معیار بھی بڑھا سکتی ہے‘ ملک کی تمام ادویات ساز کمپنیاں دوا سازی کیلئے لیبارٹریاں بناتی ہیں‘ ان کے بجٹ کا ستر اسی فیصد حصہ ان لیبارٹریوں پر خرچ ہو جاتا ہے‘اگر چاروں صوبوں کی حکومتیں سرکاری سطح پر انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کی لیبارٹریاں بنا دیں اور فارماسوٹیکل انڈسٹری ان لیبارٹریوں سے فائدہ اٹھا لے تو حکومت اور فارما سوٹیکل انڈسٹری دونوں کو فائدہ ہو گا‘ ادویات کی کوالٹی کا ایشو بھی حل ہو جائے گا اور حکومت بھی معیار پر نظر رکھ سکے گی۔

انصاف کا مسئلہ بھی اسی طرح حل کیا جا سکتا ہے‘ ملک میں خاندانی لڑائیاں یا شخصی انا‘ پولیس کی غلط رپورٹنگ‘ وکلاء کے تاخیری حربے اور عدالتوں کی کمی یہ چار وجوہات ہیں جن سے انصاف کا عمل متاثر ہو رہا ہے لیکن ہم بڑی آسانی سے یہ چاروں مسئلے حل کر سکتے ہیں‘ حکومت ملک کے تمام علاقوں میں ثالثی عدالتیں بنا دے‘ یہ علاقے کے معزز لوگوں پر مشتمل ہوں اور پولیس باہمی جھگڑوں کے تمام مقدمے ان کے حوالے کر دے‘ یہ لوگ دونوں فریقین کو سنیں اور ان کے درمیان صلح کروا دیں‘

قوانین میں تبدیلی کی جائے‘ قانون میں سے شک کی بنیاد پر گرفتاری کی تمام دفعات نکال دی جائیں‘ پولیس کے اندر لاء برانچ بنائی جائے‘ اس برانچ میں وکلاء بھرتی کئے جائیں‘ یہ برانچ مقدمات اور ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ذمہ دار ہو تا کہ عام پولیس کچہری کے عمل سے باہر ہو جائے اور یہ صرف لاء اینڈ آرڈر اور تفتیش پر توجہ دے سکے‘ عدالت جس مقدمے میں ملزمان کو بری کر دے پولیس ڈیپارٹمنٹ وہ مقدمات بنانے اور تفتیش کرنے والے پولیس افسروں کی اے سی آر روک لے اور اس کا ان کی پروموشن پر اثر ہو‘

ملک میں وکلاء عدالتیں بنائی جائیں‘ عدالتیں سماعت سے قبل مقدمے وکلاء عدالتوں میں بھجوا دیں‘ وہاں دونوں فریقین کے وکلاء بیٹھ کر سمجھوتے کی کوشش کریں‘ اگر دونوں میں صلح ہو جائے تو وکلاء مقدمہ واپس لے لیں‘ اس سے عدالت‘ موکل اور وکلاء تینوں کا وقت بچے گا‘ عدالت ہر مقدمے کی ”کاسٹ“ طے کرے اور جو فریق مقدمہ ہار جائے یہ کاسٹ اس سے وصول کی جائے‘ اس سے مقدمے بازی کے رجحان میں کمی آ جائے گی‘ مقدمات کی مدت طے کر دی جائے‘

عدالتوں کو پابند بنایا جائے یہ ایک سے چھ ماہ کے اندر مقدمے کا فیصلہ کریں‘ ملک میں سینکڑوں کی تعداد میں آنریری جج تعینات کئے جائیں‘ یہ جج تنخواہ اور دفتر کے بغیر ہوں‘ یہ وکیل ہوں یا ریٹائر جج ہوں‘ عدالتیں معمولی نوعیت کے مقدمات ان کو ”ریفر“ کر دیں‘ جیلوں کے اندر سول اور سیشن جج تعینات کئے جائیں‘ یہ جیل جج کہلائیں اور یہ جیلوں میں بند ملزموں اور مجرموں کے بارے میں فیصلے کریں‘ یہ معمولی جرائم میں بند مجرموں کو رہا کر سکیں‘

یہ مجرموں کی سزا میں کمی اور اضافہ کر سکیں اور یہ طویل مدت سے جیل میں بند مجرموں کی ضمانت لے سکیں‘ جیلوں کے اندر سکول‘ ووکیشنل ادارے اور زبانیں سکھانے کے ادارے بنائے جائیں‘ یہ ادارے ملزموں اور مجرموں کو تعلیم دیں‘ فرانس کی بڑی کمپنیوں نے جیلوں میں اپنے گودام اور چھوٹی ورکشاپس بنا رکھی ہیں‘ یہ کمپنیاں اپنی مصنوعات جیل بھجوا دیتی ہیں‘ قیدی یہ مصنوعات پیک کرتے ہیں اور یہ مصنوعات جیل سے براہ راست مارکیٹ چلی جاتی ہیں‘

اس سے قیدیوں کو روزگار مل جاتا ہے‘ کمپنیوں کو سستا ہیومین ریسورس دستیاب ہو جاتا ہے اور جیل کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے‘ حکومت پاکستان بار کونسل کے ساتھ مل کر وکلاء کی فیس بھی طے کر دے‘ وکلاء کو بھی ون سے فائیو تک سٹار میں تقسیم کیا جائے اور ان کی فیسیں ان سٹارز کے مطابق طے کی جائیں کیونکہ ملک میں اس وقت مظلوم کو انصاف حاصل کرنے کیلئے اپنا رہا سہا اثاثہ وکیل کے نام کرنا پڑتا ہے اور یہ معاشی مجبوری بھی انصاف کے راستے کی بہت بڑی رکاوٹ ہے‘

ہمیں ملک میں سزاؤں کو بھی ”ری وزٹ“ کرنا چاہیے‘ ہمیں جیلوں کی بجائے جیبوں پر دباؤ بڑھانا ہو گا‘ یورپ میں مجرموں کو جیل بھجوانے کی بجائے بھاری جرمانے کئے جاتے ہیں‘ ہم بھی جرمانے پر جا سکتے ہیں‘ ہم قتل‘ آبروریزی‘ ڈکیتی اور فراڈ کے علاوہ باقی جرائم کو جرمانے پر شفٹ کر دیں‘ عدالت مجرموں کو لاکھوں روپے جرمانے کرے‘ ان کی جائیداد ضبط کر لے اور ان کے دو تین سال کیلئے شناختی کارڈ‘ پاسپورٹ اور ڈگریاں ضبط کر لے‘ یورپ میں چھوٹے جرائم پر سوشل سروس لی جاتی ہے‘

ہم بھی چھوٹے مجرموں کو بس سٹاپ‘ ریلوے سٹیشن‘ پبلک باتھ رومز کی صفائی‘ ٹریفک پولیس‘ بچوں کو پڑھانے‘ سڑکوں پر جھاڑو دینے‘ اولڈ پیپل ہوم میں کام کرنے یا ایدھی فاؤنڈیشن میں خدمات سرانجام دینے کی سزا دے سکتے ہیں اور ہم بے گناہوں کے قاتلوں کو اس وقت تک مظلوم خاندان کی مالی مدد کرنے کی سزا دے سکتے ہیں جب تک یہ خاندان اپنے قدموں پر کھڑا نہیں ہو جاتا اور ہم مصر کی طرح پولیس سٹیشنز میں پولیس ہسپتال بھی بنا سکتے ہیں تا کہ پولیس کو ان تمام کیسز میں ہسپتالوں کے دھکے نہ کھانا پڑیں جن میں انہیں میڈیکل رپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے‘ یہ تمام تجاویز پریکٹیکل ہیں۔

The post صحت اور انصاف کاحل appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/11/16/522977

Thursday, November 15, 2018

ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی حل ہو سکتاہے

ٹرانسپورٹ ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ ہے‘ یہ مسئلہ ملک میں توانائی کا بحران بھی پیدا کر رہا ہے‘ ہم دنیا میں فی کس پٹرول خرچ کرنے والی بڑی قوموں میں شمار ہوتے ہیں‘ دنیا کے بے شمار ممالک نے معمولی تردد سے اس مسئلے پر قابو پا لیا مثلاً آپ ایران کی مثال لے لیجئے‘ تہران شہر میں 30 لاکھ گاڑیاں ہیں‘ یہ گاڑیاں صبح اور شام کے وقت پورے شہر کی ٹریفک جام کر دیتی تھیں‘ تہران کی کارپوریشن نے اس کا بہت دلچسپ حل نکالا‘ اس نے شہر کی تمام گاڑیوں کو دو حصوں میں (اے اور بی یا آڈ اور ایون) نمبروں میں تقسیم کیا اور پابندی لگا دی‘

ایک دن میں صرف اے نمبر کی گاڑیاں سڑک پر آئیں گی اور دوسرے دن بی نمبر کی گاڑیاں‘ اس اقدام سے تہران کی ٹریفک یک لخت آدھی رہ گئی اور ٹریفک کا مسئلہ بھی حل ہو گیا‘ پٹرول اور سی این جی کی کھپت بھی آدھی ہو گئی اور پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کا رجحان بھی بڑھ گیا اور لوگوں نے آمدو رفت کیلئے ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بھی ٹھیک کر لئے۔آپ یورپ کے 25 ممالک کی مثال بھی لیجئے‘ یورپ میں صبح آٹھ بجے ٹریفک جام رہتی تھی کیونکہ سڑک پر سکول اور دفتروں دونوں کا رش ہو جاتا تھا‘ 25 ممالک کی حکومتوں نے سکولوں اور دفاتر کی ٹائمنگ میں بتدریج ایک گھنٹے کا فرق پیدا کر دیا اور یوں سڑکوں پر ٹریفک کا رش کم ہو گیا‘ ہم بھی یہ مسائل اسی آسانی سے حل کر سکتے ہیں‘ ملک میں ٹرانسپورٹ قطعی کوئی مسئلہ نہیں‘ ہمارے ملک میں صبح آٹھ سے دس بجے کے دوران چار کروڑ لوگ سڑکوں پر آتے ہیں اور یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اپنی اپنی منزلوں پر بھی پہنچتے ہیں‘ اس کا یہ مطلب ہوا ملک میں ٹرانسپورٹ موجود ہے‘ ہم نے بس اس میں ترتیب پیدا کرنی ہے تا کہ عام شہریوں کی تکالیف کم ہو سکیں۔ہم اس سلسلے میں چند اقدامات کر سکتے ہیں‘ ہمارے ملک میں ذاتی سواری جنون کی شکل اختیار کر چکی ہے‘ ہم چپڑاسی سے لے کر سیٹھ تک سب اپنی گاڑی خریدنا چاہتے ہیں‘ یہ جنون اگر ایک گاڑی تک محدود ہوتا تو درست تھا کیونکہ سواری ترقی اور خوشحالی کا سمبل ہوتی ہے لیکن اب ملک میں ہر شخص کو دوسری اور تیسری گاڑی کی ضرورت پڑگئی ہے‘ ایک اپنے لئے‘ دوسری بچوں کیلئے اور تیسری مہمانوں یا ایمرجنسی کیلئے‘

ہم اگر دوسری اور تیسری گاڑی پر ٹیکس بڑھا دیں اور یہ آمدنی ماحولیات پر خرچ کریں تو اس سے گاڑیوں کا جنون بھی کم ہو جائے گا‘ ماحولیاتی آلودگی بھی کم ہو جائے گی اور ٹریفک بھی کنٹرول ہونے لگے گی‘ ملک کے سرکاری اور پرائیویٹ ادارے (پولیس‘ ہسپتال اور فائر بریگیڈ کے علاوہ) ملازمین کو گاڑیاں دینا بند کر دیں‘ ٹرانسپورٹ پول میں پانچ گاڑیاں موجود ہوں‘ یہ صرف ایمرجنسی میں استعمال ہوں‘ تمام ادارے ملازمین کو پک اینڈ ڈراپ سروس دیں‘ اس کیلئے اچھی کوچز‘ بسیں اور وینز خریدی جائیں اور چپڑاسی سے سیکرٹری تک ان کوچز میں دفتر آئیں‘ اس سے دفتروں کے اندر ڈسپلن قائم ہو گا‘

دفتر وقت پر لگیں گے‘ وقت پر بند ہوں گے اور سڑکوں سے پریشر بھی کم ہو جائے گا‘ تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو سٹوڈنٹس کی پک اینڈ ڈراپ سروس پر مجبور کیا جائے‘ پرائیویٹ سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں بینکوں کے ذریعے بسیں اور کوچز لیں یا پھر پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کریں اور ان کے طالب علم صرف اور صرف ان گاڑیوں پر تعلیمی ادارے آئیں‘ اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ سکول کے گیٹ پر روزانہ اڑھائی ہزار گاڑیاں آتی ہیں‘ یہ اڑھائی ہزار گاڑیاں ٹریفک کے مسائل بھی پیدا کرتی ہیں اور پٹرول بھی ضائع ہوتا ہے‘

ان کی جگہ اگر بسیں ہوں گی تو پچاس بسیں بڑی آسانی سے سکول کی ٹرانسپورٹ کا بوجھ اٹھا لیں گی‘ اس سے بچوں کی سیکورٹی کا ایشو بھی حل ہو جائے گا‘ والدین کی مشقت بھی کم ہو جائے گی اور ٹرانسپورٹ اور توانائی کی بچت بھی ہو گی‘ ملک میں ٹیکسیوں کے رجحان میں بھی اضافہ کیا جائے‘ ملک میں ریڈیو کیب کے بزنس کو دس سال کیلئے ٹیکس فری کر دیا جائے‘ کیب کمپنیاں تین قسم کی ٹیکسیاں متعارف کروائیں‘ سستی‘ درمیانی اور مہنگی‘ حکومت ٹیکسیوں کو آدھی قیمت میں پٹرول فراہم کرے‘

اس سے کرائے بھی کنٹرول ہو جائیں گے اور لوگ ذاتی سواری کی دوڑ سے بھی نکل جائیں گے‘ آپ اس سلسلے میں دوبئی‘ لندن اور نیویارک کی مثال لے سکتے ہیں‘ ان تینوں شہروں میں ٹیکسیاں ٹرانسپورٹ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور ہزاروں پڑھے لکھے اور امیر لوگ فالتو وقت میں ٹیکسیاں چلاتے ہیں‘ حکومت کو پبلک ٹرانسپورٹ مثلاً انڈر گراؤنڈ میٹرو‘ میٹرو بس اور مانوریل کو فوری اہمیت دینی چاہیے لیکن جب تک یہ منصوبے شروع نہیں ہوتے حکومت اس وقت تک شہروں میں موجود وینوں اور بسوں کو ”سٹریم لائین“ کر لے۔

آپ راولپنڈی کی مثال لیجئے‘ راولپنڈی شہر میں دو ہزار پرائیویٹ ویگنیں ہیں‘ حکومت چھوٹا سا ادارہ بنائے‘ ان ویگنوں کو روٹس کے لحاظ سے دوتین قسم کے رنگ کروائے‘ ان کے ایک سے لے کر دو ہزار تک نمبر لگوائے‘ ان کے ڈرائیوروں اور کنڈیکٹرز کیلئے یونیفارم لازم قرار دے‘ ہر ایک کلومیٹر کے بعد بس سٹاپ بنائے‘ ان بس سٹاپوں پر ایسی ڈیجیٹل سکرین لگائے جس پر اگلی ویگن کا نمبر اور وقت ڈسپلے ہو رہا ہو‘ بس سٹاپوں پر ٹکٹ مشین لگا دے‘

مسافر بس سٹاپ سے ٹکٹ لیں‘ یہ ٹکٹ کنڈیکٹر کو دے دیں اور کنڈیکٹر شام کے وقت دن بھر کے ٹکٹ واپس کر کے سنٹرل پوائنٹ سے رقم لے لے‘ ویگن کی صفائی‘ سیٹوں کے کشن‘ دروازوں اور کھڑکیوں کی روزانہ دیکھ بھال لازم قرار دے دی جائے اور ویگن میں سیٹوں سے زیادہ مسافر نہ بٹھائے جائیں تو یہ مسئلہ بڑی آسانی سے حل ہو جائے گا‘ ویگن جب اپنے نمبر اور وقت پر چلے گی‘ مسافر ڈیجیٹل سکرین پر دیکھ رہا ہو گا اگلی وین صرف ایک منٹ بعد سٹاپ پر پہنچ جائے گی اور دو وینوں کے درمیان صرف ایک منٹ کا فاصلہ ہے تو مسافروں اور ڈرائیوروں دونوں کی افراتفری ختم ہو جائے گی‘

ٹکٹ کی وجہ سے کنڈیکٹر مالک کی رقم نہیں مار سکے گا‘ ڈسپلن کی وجہ سے ویگنوں کے پھیروں میں اضافہ ہو جائے گا اور ویگنوں کی صفائی ستھرائی اور ٹائمنگ کی وجہ سے مڈل کلاس اور شریف لوگ بھی ویگنوں میں بیٹھ سکیں گے‘ ملک سے منہ مانگے کرایوں کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور حکومت آسانی سے کرایوں میں ردوبدل بھی کر سکے گی‘ حکومت اس ماڈل کو ملک کے دیگر بڑے شہروں فیصل آباد‘ سیالکوٹ‘ ملتان‘حیدرآباد‘ سکھر‘ کوئٹہ اور پشاور تک پھیلا سکتی ہے‘ ان تمام شہروں میں ویگنوں کو اسی ماڈل پر لایا جا سکتا ہے‘اس اقدام سے ٹریفک کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔

دنیا میں ریل سب سے بڑا اور محفوظ ترین سفر ہے لیکن یہ ذریعہ بدقسمتی سے پاکستان میں شرمناک حد تک زوال پذیر ہے اور ہمارے پاس ریل کو پاؤں پر دوبارہ کھڑا کرنے کیلئے سرمایہ بھی نہیں مگر ہم اس کے باوجود سرمائے کے بغیر اسے ازسر نو استوار کر سکتے ہیں‘ ہم ریل کے مختلف سیکشن پرائیویٹائز کر دیں‘ ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں ریل کے مختلف سیکشنز میں سرمایہ کاری کریں‘ حکومت صرف ٹکٹ پر سولہ فیصد سیلز ٹیکس وصول کرے تو یوں ریل دوبارہ ٹریک پر آجائے گی‘

ہم بتدریج اجناس‘ کھانے پینے کی اشیاء اور پٹرول کی نقل و حمل ریلوے پر شفٹ کر سکتے ہیں‘ ہم اگر صرف پٹرول اور ڈیزل کی نقل و حمل ریلوے پر شفٹ کر دیں تو اس سے بھی ریلوے اپنے قدموں پر کھڑا ہو جائے گا‘ ہم بھارت کی طرح یہ قانون بھی بنا سکتے ہیں کوئی کمپنی ایک خاص وزن سے زیادہ کا سامان ٹرک کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر نہیں لے جا سکتی‘ یہ قانون بھی تجارتی کمپنیوں کو ریلوے پر انحصار کیلئے مجبور کر دے گا‘

میں نے چیک ری پبلک میں سٹوڈنٹس ٹرین دیکھی‘ یہ ٹرین چیک کے ایک عام بزنس مین نے چلائی تھی‘ اس نے عدالت میں طویل مقدمہ لڑ کر اس ٹرین کی اجازت لی‘ نوجوان بالخصوص سٹوڈنٹس کیلئے ٹرین چلائی اور یہ ٹرین آہستہ آہستہ پورے چیک ریلوے کو ٹریک پر لے آئی‘ ہم بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔میں اکتوبر2017ء میں دمشق گیا تھا‘میں نے وہاں ایک دلچسپ مشاہدہ کیا‘ دمشق کے لوگ مصروف وقت میں مصروف بازاروں اور مصروف شاہراؤں پر کسی بھی جگہ کسی بھی گاڑی کے پیچھے اپنی گاڑی پارک کر دیتے ہیں لیکن اپنا موبائل نمبرونڈسکرین پرلگا جاتے ہیں‘

اگلی گاڑی کا مالک آتا ہے‘ پچھلی گاڑی کے ڈرائیور کو فون کرتا ہے اور وہ آ کر اپنی گاڑی ہٹا لیتا ہے اور یوں دونوں کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے‘ یہ بھی ایک دلچسپ تجربہ ہے‘ اس سے پارکنگ کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو سکتا ہے کیونکہ دمشق شہر میں پارکنگ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے‘ میں پچھلے ہفتے کینیڈا گیا تھا‘ میں نے ٹورنٹو شہر میں ایک دلچسپ چیز دیکھی‘ٹورنٹو شہرمیں فرسٹ لین کے اوپر دواور اس سے اوپر لکھا ہوا تھا‘اس کا مطلب ہے اگر گاڑی کے اندر دو یا اس سے زیادہ مسافر ہیں تو وہ فرسٹ لین استعمال کرسکتے ہیں اور اگرگاڑی میں صرف ایک شخص ہے تووہ فرسٹ لین استعمال نہیں کر سکتا‘

ہم بھی فرسٹ لین زیادہ مسافروں کیلئے مختص کر دیں‘جس گاڑی میں تین یااس سے زیادہ مسافر ہوں وہ فرسٹ لین استعمال کریں اور جس گاڑی میں ایک یا دو لوگ ہوں وہ دوسری یا تیسری لین استعمال کریں‘اس سے بھی ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے‘یورپ کے مختلف ملکوں کے مختلف شہروں میں ہر سال ٹرانسپورٹ لیس ڈے منایا جاتا ہے‘ اس دن کوئی گاڑی سڑک پر نہیں آتی‘ اس سے پولوشن میں بھی کمی ہوتی ہے اور اوئیرنیس میں بھی اضافہ ہوتا ہے‘ہم بھی اگر سال میں تین چار مرتبہ ٹریفک فری ڈے منانا شروع کر دیں تو اس سے بھی پولوشن اور ٹرانسپورٹ میں نمایاں فرق پڑے گا۔

The post ٹرانسپورٹ کا مسئلہ بھی حل ہو سکتاہے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/11/15/522662

Tuesday, November 13, 2018

غربت کاحل

یورپ کے اکثر قصبوں میں دلچسپ روایت چلی آ رہی ہے‘ قصبوں کی کافی شاپس اور ریستورانوں میں دیوار پر وائیٹ بورڈ نصب ہوتا ہے‘ ریستوران اور کافی شاپ کے گاہک اپنے لئے چائے‘ کافی اور کھانا منگواتے ہوئے ویٹر کو ایک چائے وائیٹ بورڈ کیلئے‘ ایک کافی وائیٹ بورڈ کیلئے یا فلاں کھانا وائیٹ بورڈ کیلئے بھی آرڈر کر دیتے ہیں‘ ویٹر ان کا آرڈر انہیں سرو کر دیتا ہے اور اضافی کھانے‘ چائے یا کافی کی ”سلپ“ وائیٹ بورڈ پر چپکا دیتا ہے‘لوگ کھانا کھاتے ہیں‘

چائے کافی پیتے ہیں اور آخر میں بل کے ساتھ اس کھانے‘ چائے اور کافی کی ادائیگی بھی کر دیتے ہیں‘ کھانے‘ کافی اور چائے کی یہ چٹیں قصبے کے ان لوگوں کیلئے ہوتی ہیں جو چائے‘ کافی یا کھانا ”افورڈ“ نہیں کر سکتے‘ یہ غریب لوگ بھی عام گاہک کی طرح ریستوران یا کافی شاپ میں آتے ہیں‘ وائیٹ بورڈ کے پاس رکتے ہیں‘ اپنی مرضی کی چٹ اتارتے ہیں‘ میز پر آ کر بیٹھتے ہیں‘ ویٹرکو وہ چٹ تھما دیتے ہیں اور ویٹر عام گاہکوں کی طرح انہیں بھی احترام کے ساتھ کھانا‘ چائے اور کافی سرو کر دیتے ہیں‘ یہ لوگ اگر وائیٹ بورڈ سے خود چٹ نہ اتارنا چاہیں تو یہ ویٹر کے کان میں سرگوشی کر دیتے ہیں ”مجھے وائیٹ بورڈ کی ایک کافی دے دو“ اور ویٹر وائیٹ بورڈ سے خود چٹ اتارکر انہیں کافی‘ چائے اور کھانا دے دیتے ہیں‘ یہ بھوکوں کو کھانا‘ چائے اور کافی پلانے کا مہذب ترین طریقہ ہے‘ ہم بھی ملک میں یہ طریقہ رائج کر سکتے ہیں۔پاکستان کی 60 فیصد آبادی غریب ہے‘ ان میں سے نصف انتہائی غربت کا شکار ہے‘ یہ لوگ کھانے پینے‘ دواء دارو اور کپڑوں جوتوں تک سے محروم ہیں‘ یہ لوگ صرف غریب نہیں ہیں یہ مسکین بھی ہیں‘ غربت اور مسکینی میں فرق ہوتا ہے‘ مسکین گزارہ نہیں کر سکتا جبکہ غریب رو دھو کر گزارہ کر لیتے ہیں‘ ہم بحیثیت معاشرہ ان مسکینوں کے ذمہ دار ہیں اور ہم میں سے ہر صاحب استطاعت شخص کسی نہ کسی حد تک ان مسکینوں اور غریبوں کی مدد بھی کرتا ہے‘

پاکستان چیریٹی کرنے والے دنیا کے پانچ بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں مسکینوں اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے‘ اس کی وجہ سسٹم ہے‘ ہم لوگ چیریٹی کرتے ہیں لیکن یہ چیریٹی آرگنائزڈ نہیں ہوتی چنانچہ ملک سے غربت اور مسکینی ختم نہیں ہو رہی‘ ہمیں اس کیلئے دو سطح پر کام کرنا ہو گا‘ پہلی سطح فوری امداد ہے‘ ہمیں مسکینوں کیلئے کھانے پینے‘ سودا سلف‘ ادویات اور کپڑوں کا فوری بندوبست کرنا چاہیے‘ ہم اس سلسلے میں یورپ کے ماڈل کی مدد لے سکتے ہیں‘

ہم ملک کے تمام چھوٹے بڑے ریستورانوں‘ چائے خانوں‘ پرچون کی دکانوں‘ جوتوں کی شاپس‘ کپڑوں‘ درزی خانوں اور سبزی کے ٹھیلوں پر وائیٹ بورڈ لگوا دیں‘ ہم میں سے خریداری کیلئے جانے والے لوگ اپنی استطاعت کے مطابق وہاں اضافی رقم جمع کروا دیں‘ دکاندار وائیٹ بورڈ پر اضافی رقم کی چٹ لگا دے‘ مسکین اور غریب لوگ آئیں اور دکاندار سے ایک دن کی ضرورت کا سامان لے جائیں‘ یہ دکانیں اور ٹھیلے محلوں میں ہوں گے‘ دکاندارضرورت مندوں کو ذاتی طور پر جانتے ہوں گے‘

اس سے فراڈ کے امکان کم ہو جائیں گے ہاں البتہ چائے اور کھانا کوئی بھی شخص کھا سکے گا‘ کھانے اور چائے کیلئے ریستوران کے ملازمین ایک خصوصی اہتمام کریں‘ یہ مسکینوں اور غریبوں کو واش روم لے کر جائیں‘ ان کے ہاتھ اور منہ دھلوائیں‘ کنگھی کروائیں اور اس کے بعد انہیں ڈائننگ ٹیبل پر بٹھا کر کھانا کھلائیں‘ اس سے ان لوگوں کو ہاتھ‘ منہ دھونے‘ صاف ستھرا رہنے اور میز پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی عادت بھی ہو جائے گی اور یہ بہت بڑا انقلاب ہو گا‘

مخیر حضرات ادویات کی دکانوں پر بھی اضافی پے منٹ کر سکتے ہیں‘ کیمسٹ حضرات ضرورت مندوں کو اس پے منٹ سے مفت ادویات دے سکتے ہیں تاہم یہ خصوصی اہتمام کریں‘ یہ ضرورت مند مریضوں کو صرف ایک یا دو دن کی دوا دیں‘ سیرپ‘ انجیکشن‘ کیپسول اور گولی کی پیکنگ پھاڑ دیں یا ڈھکن کی سیل توڑ دیں تا کہ مریض یا جعلی مریض یہ ادویات بازار میں فروخت نہ کر سکیں‘ اس سے مسکین مریضوں کو ادویات بھی مل جائیں گی اور مخیر حضرات کی امداد بھی صحیح جگہ پر لگ جائے گی‘

کپڑوں کے معاملے میں اہل خیر کپڑا خرید کر درزیوں کے حوالے کر دیں یا پھر بوتیکس کو امدادی رقم دے دیں‘ درزی مسکینوں کے ناپ کے مطابق کپڑے سی کر دیں اور بوتیکس کے مالکان ضرورت مندوں کو لیبل اتار کر کپڑے دیں‘ اس سے بھی فراڈ کم ہو جائے گا اور ضرورت مندوں کی باقاعدہ مدد بھی ہو جائے گی۔ہمیں دوسری سٹیج پر مسکینوں کو غریبوں کی فہرست اور غریبوں کو لوئر مڈل کلاس میں لانے کیلئے کام کرنا ہو گا‘ ملک کے تمام قصبوں اور شہروں کے مخیر حضرات اپنی اپنی سطح پر روزگار سکیمیں بنا سکتے ہیں‘

یہ فنڈ جمع کریں‘ سروے کریں‘ علاقے میں کتنے لوگ مسکین اور غریب ہیں‘ یہ سٹڈی کریں ان لوگوں کا خاندانی پیشہ کیا تھا کیونکہ غربت اور مسکینی کا پیشوں کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے‘ معاشرے میں جب بھی کوئی پیشہ دم توڑتا ہے تو یہ بیسیوں خاندانوں کو غریب کر جاتا ہے‘ مثلاً آج سے چوبیس سال پہلے پاکستان کے ہرشہر میں تانگے ہوتے تھے‘ یہ تانگے شہروں کے بیسیوں خاندانوں کا ذریعہ روزگار تھے‘ یہ ختم ہوئے تو یہ سینکڑوں ہزاروں خاندانوں کو غریب اور مسکین بنا گئے‘

ملک میں اسی طرح موچیوں‘ نائیوں اور ترکھانوں کا فن زوال پذیر ہوا‘ قصبوں میں ڈھول اور باجوں والے ہوتے تھے‘ سٹریٹ تھیٹرز‘ مداری اور سٹریٹ سرکس سے بھی ہزاروں لوگ وابستہ ہوتے تھے‘ گلیوں اور محلوں میں چائے خانے ہوتے تھے‘ یہ چائے خانے بھی ختم ہو گئے‘ شہروں سے کھوتی ریڑھی بھی ختم ہو گئی اور چنے اور بھٹے والے بھی بے روزگار ہو گئے‘ سوئیاں بنانے‘ اچار چٹنی اور مربے والے بھی بے روزگار ہوگئے اور تنور والے بھی غربت میں چلے گئے‘

یہ تمام فن شہر بھر کا روزگار ہوتے تھے‘ قصبوں اور شہروں کے مخیر حضرات یہ فن دوبارہ زندہ کر سکتے ہیں‘ ہم سب کے گھروں میں روٹی پکتی ہے‘ ہم اگر ایک روٹی پر خرچ ہونے والی توانائی‘ وقت اور سرمائے کا تخمینہ لگائیں تو یہ بازار سے ملنے والی روٹی سے دوگنی اور تین گنا مہنگی نکلے گی‘ ہمارے مخیر حضرات اگر ہر محلے میں تنور لگوائیں‘ یہ تنور مسکین فیملیوں کو دے دیں اور یہ فیصلہ کر لیں تمام لوگ ان تنوروں سے روٹی خریدیں گے تو چند ماہ میں قصبے کے سینکڑوں لوگ مسکینی سے نکل آئیں گے‘

ہم ان تنوروں پر چولہے رکھوا کر چپاتی بھی بنوا سکتے ہیں‘ پراٹھے بھی‘ نان بھی اور مولی اور ساگ والی روٹیاں بھی۔ مخیر حضرات شہر میں موچیوں کی گلی آباد کرا سکتے ہیں یا چھوٹا سا موچی بازار بنوا سکتے ہیں اور یہ فیصلہ کر لیں قصبے کا ہر خاندان ہر مہینے ان سے ایک جوتا خریدے گا‘ بڑے شہروں اور بیرون ملک سے آنے والے لوگ جوتوں کے نئے ڈیزائن لے آئیں اور موچیوں کو یہ ڈیزائن کاپی کیلئے دے دیں‘ قصبے کے لوگ فیصلہ کر لیں قصبے کی ہر شادی اور ہر تقریب میں صرف اور صرف مقامی ڈھولچی ہی ڈھول بجائیں گے‘

قصبے یا شہر میں ہر ہفتے کی شام سٹریٹ تھیٹرز کا بندوبست کیا جائے‘ یہ تھیٹر سرکس‘ مداری تماشا‘ گانے بجانے اور جمناسٹک کے کھیلوں پر مشتمل ہو‘ اس سے قصبے اور شہر بھر کو تفریح بھی ملے گی اور ان پیشوں سے وابستہ لوگوں کے چولہے بھی جلنے لگیں گے‘ پاکستان میں صدیوں سے چائے خانوں کی روایت چلی آ رہی تھی‘ ملک کے تمام شہروں اور قصبوں میں درجنوں چائے خانے ہوتے تھے‘ لوگ شام کے وقت ان چائے خانوں میں بیٹھ جاتے تھے‘ گپ لگاتے تھے‘

ریڈیو سنتے تھے اور تاش اور شطرنج کھیلتے تھے‘ یہ چائے خانے تفریحی اور سوشل گیدرنگ کا بہت بڑا ذریعہ بھی ہوتے تھے اور شہر کے غریبوں کی آمدنی کا بھی‘ یہ چائے خانے اب ختم ہو گئے ہیں‘ شہر کے مخیر حضرات کو ہر گلی‘ ہر محلے میں ایسے چائے خانے بنوانے چاہئیں‘ میونسپل کمیٹیاں اور سیاستدان بھی یہ ”اینی شیٹو“ لے سکتے ہیں‘ مخیر حضرات قصبوں کے انتہائی غریب خاندانوں کے بچوں کیلئے ووکیشنل ٹریننگ کا بندوبست بھی کر سکتے ہیں‘

یہ اس سلسلے میں سرکاری سکولوں کی مدد لے سکتے ہیں‘ ہمارے سرکاری سکول دو بجے کے بعد بند ہو جاتے ہیں‘ مخیر حضرات ان سکولوں میں شام چار بجے سے آٹھ بجے تک ووکیشنل کلاسز شروع کرا دیں‘ ان کلاسز میں مسکین اور غریب خاندانوں کے بچوں اور خواتین کو مختلف کام سکھائے جائیں‘ مخیر حضرات ”اخوت“ کی طرح چھوٹے قرضوں کی سکیمیں بھی شروع کر سکتے ہیں‘ یہ قرضے صرف علاقے کے لوگوں کو دیئے جائیں‘ ان کو چھوٹے چھوٹے کاروبار کرائے جائیں تاکہ یہ اپنے قدموں پر کھڑے ہو سکیں‘ شہر کے مزدوروں‘ ترکھانوں‘ لوہاروں اور مستریوں کو دس‘ دس پندرہ پندرہ دنوں کی جدید ٹریننگ دلائی جائے اور یہ فیصلہ کیا جائے شہر یا قصبے کی تمام تعمیرات انہیں لوگوں سے کرائی جائے گی

تاہم شہر بھر کیلئے ان کے ریٹس ضرور طے کر دیئے جائیں‘ شہر اور قصبے کے اندر بگھی یا جدید طرز کے تانگے چلائے جائیں‘ اس سے پلوشن بھی کنٹرول ہو گا‘ تیل اور گیس کی بچت بھی ہو گی اور روزگار کے نئے ذرائع بھی پیدا ہوں گے‘ اگر یورپ کے شہروں میں تانگے اور بگھیاں چل سکتی ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے اور شہر کے تمام مخیر حضرات اپنی دکانوں‘ گھروں اور ورکشاپس پر غریب اور مسکین خاندانوں کے بچوں کو نوکری دیں‘ یہ ان کی تعلیم کا بندوبست بھی کریں‘ انہیں کوئی ہنر بھی سکھائیں اور ان کی تنخواہ کا بندوبست بھی کریں‘ اس سے بھی غربت کم ہو جائے گی۔

The post غربت کاحل appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/11/13/521791

Sunday, November 11, 2018

تعلیم کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے

بھارت میں منموہن سنگھ کی حکومت نے ایک دلچسپ کام کیا‘ حکومت نے پرائیویٹ سکولوں میں انتہائی غریب بچوں کا کوٹہ طے کر دیا‘ یہ کوٹہ25فیصد ہے جس کے بعد بھارت کے تمام پرائیویٹ سکول غریب بچوں کو امیر بچوں کے ساتھ کوالٹی ایجوکیشن دینے پر مجبور ہوگئے‘ یہ ایک قدم بھارت کے لاکھوں غریب خاندانوں کو جہالت اور غربت سے باہر لے آیا‘ اگر بھارت یہ انقلاب لا سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں لا سکتے چنانچہ میں سمجھتا ہوں ہم اگر کوشش کریں تو ہم پاکستان کے نظام تعلیم میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔

روزگار کے بعد تعلیم ہمارا دوسرا بڑا مسئلہ ہے‘ ہمیں اس مسئلے کے حل کیلئے سب سے پہلے کھلے دل سے یہ تسلیم کرنا ہو گاحکومت اب سرکاری سکول اور کالج نہیں چلا سکتی‘ ہمارا سرکاری سلیبس‘ سرکاری استاد‘سکولوں کی سرکاری عمارتیں اور سرکاری سوچ پرانی ہو چکی ہے‘ حکومت اگر آج سکولوں کی عمارتوں کی مرمت کرنا چاہے‘ یہ سکولوں میں واش رومز‘ پلے گراؤنڈز‘ لائبریریاں‘ لیبارٹریاں اور کلاس رومز بنانا چاہے توہمیں دو سال کا پوراقومی بجٹ چاہئے‘ ہمیں صرف عمارتوں کی مرمت کیلئے فوجی بجٹ کے برابر رقم درکار ہے اور یہ ظاہر ہے ممکن نہیں۔ دوسرا‘ ہمارے سرکاری سکول روایتی لحاظ سے 1960ء کی دہائی سے آگے نہیں نکل سکے جبکہ زمانہ بل گیٹس اور سیٹو جابز کے دور میں داخل ہو چکا ہے‘ آج کمپیوٹر‘ آئی پیڈ اور آئی فون‘ ڈیجیٹل لائبریری‘ ملٹی میڈیااور ای لائبریری کے بغیرتعلیم ممکن نہیں اور ہمارے قصباتی اور دیہاتی سکول ان سہولتوں سے صدیوں دور ہیں‘ ہم دنیا بھر سے سالانہ پانچ ارب ڈالر لے لیں تو بھی ہم ملک کے تمام سرکاری سکولوں کو یہ سہولتیں فراہم نہیں کر سکتے۔ تیسرا‘ سرکاری سکولوں سے جنم لینے والے بچوں اور پرائیویٹ اداروں سے فارغ ہونے والے سٹوڈنٹس میں کلچر‘ سوچ‘ اعتماد اور علم کا دس ہزار کلومیٹر طویل فرق ہے‘ یہ دونوں صدیوں کی دوری پر ہیں‘

اس دوری کے دو نقصان ہو رہے ہیں‘ ہمارے سرکاری سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے نکلنے والے نوجوان ڈگریوں کے باوجود بے روزگار رہتے ہیں جبکہ پرائیوٹ اداروں سے جدید تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو یورپ‘ امریکا اور عرب ریاستیں بھاری تنخواہوں پر لے جاتی ہیں اور یوں ملک میں خلا پیدا ہو رہا ہے۔ دو‘ یہ نام نہاد پڑھے لکھے‘مایوس غریب نوجوان نوکریاں چاہتے ہیں لیکن ان میں جدید زمانے کی نوکریوں کی اہلیت نہیں ہوتی اور ان کی یہ مایوسی ملک کو خانہ جنگی کی طرف لے جا رہی ہے

چنانچہ ہمیں کھلے سے دل سے ماننا پڑے گا ہمارے ملک میں اب کوئی حکومت سرکاری سکول نہیں چلا سکے گی اور کوئی حکومت پرائیویٹ ادارے بھی بند نہیں کر سکے گی مگر اب سوال یہ ہے اس صورتحال کا حل کیا ہے‘ اس کا حل بہت سیدھا اور آسان ہے۔ حکومت کو چاہئے یہ فوری طور پر پرائمری سے یونیورسٹی تک تمام تعلیم پرائیویٹائز کر دے‘ ملک میں پانچ ہزار تعلیمی کمپنیاں بنائی جائیں‘ یہ کمپنیاں سرمایہ جمع کریں اور پورے ملک میں سکول اور کالج کھولیں‘

حکومت پورے ملک یا پورے صوبے کیلئے جدید ترین یکساں تعلیمی سلیبس بنوائے اور پورے ملک یا پورے صوبے کے تمام پرائیویٹ سکولوں میں صرف اور صرف یہ سلیبس پڑھایا جائے‘ تعلیمی کمپنیاں ہر محلے میں‘ ہر گاؤں میں یا پھرہر اس علاقے میں جہاں پانچ سو بچے موجود ہیں وہاں سکول کھولیں‘ سکول کی عمارت اور سہولتیں پورے ملک میں ایک جیسی ہوں اور محلے اور گاؤں کے بچے صرف اپنے محلے کے سکول میں داخلہ لے سکیں‘ یہ دوسرے محلے یا گاؤں کے دوسرے سکول میں داخل نہ ہو سکیں۔ یہ سکول پچاس فیصد طالب علموں سے پوری فیس لیں‘

پچیس فیصد طالب علموں سے آدھی فیس لی جائے اور پچیس فیصد ایسے طالب علم جو فیس ادا نہیں کر سکتے‘ ان کی تعلیم مفت ہو۔ اس اقدام سے پورے ملک کے بچے ایک ہی قسم کی تعلیم حاصل کریں گے جس سے طبقاتی نظام تعلیم ختم ہو جائے گا‘ بچے محلے کے سکول میں پیدل جائیں گے جس سے والدین بچوں کو سکول چھوڑنے کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے اور ٹریفک اور پٹرول کا خرچ بھی کم ہو جائے گا اور غریب طالب علم بھی جدید تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ حکومت سرکاری اساتذہ کو پرائیویٹ سکولوں میں شفٹ کر سکتی ہے جس سے اساتذہ کی نوکریاں بھی بچ جائیں گی۔

ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے حکومت تعلیمی بجٹ کا کیا کرے؟ حکومت فوری طور پر تعلیم اور سپورٹس کا بجٹ ایک جگہ اکٹھا کرے‘ اس بجٹ سے انڈومنٹ فنڈ قائم کر لے‘ اس فنڈ میں ہر سال تعلیم اور سپورٹس کا بجٹ ڈال دیا جائے یوں اس فنڈ میں ہر سال اضافہ ہوتا رہے گا‘ حکومت اس فنڈ سے سلیبس پر ریسرچ کرائے‘ پورے صوبے کے ٹیچرز کو جدید ٹریننگ دے‘ مفت تعلیم پانے والے بچوں کو یونیفارم‘ جوتے اور کتابیں فراہم کرے‘ ملک میں سستے آئی پیڈ‘ لیپ ٹاپ‘ ڈیجیٹل لائبریریاں اور ای لائبریریاں تیار کروائے اور طالب علموں کو فراہم کرے‘

دنیا کی مشہور کتابیں بڑے پیمانے پر شائع کروا کر طالب علموں میں تقسیم کرے‘ پانچ سو گھروں کے درمیان ایک چھوٹا سپورٹس سٹیڈیم‘ چھوٹا سا پارک اور چھوٹی سی لائبریری بنوائے‘ حکومت امتحانات کا سسٹم اپنے ہاتھ میں رکھے‘ پورے ملک یا پورے صوبے میں ایک مضمون کا امتحان ایک ہی دن ہو اور یہ دن کسی بھی صورتحال میں تبدیل نہ کیا جائے‘ اس سے ملک یا صوبے بھر کے والدین کو بھی اپنا شیڈول تیار کرنے میں سہولت ہو جائے گی اور بچے بھی داخلے سے قبل امتحان کے دنوں سے واقف ہوں گے۔

حکومت اس فنڈ سے دیہاتی علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو مکان بنوا کر دے اور انہیں دو‘دو ایکڑ مفت زمین بھی دے یوں استاد خوشی سے شہروں سے دیہات میں چلے جائیں گے‘ کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم کو لیپ ٹاپ پر شفٹ کر دیا جائے‘ کوئی طالب علم اس وقت تک کالج میں داخل نہ ہو سکے جب تک اس کے پاس لیپ ٹاپ نہ ہو‘ اس اقدام سے ملک میں تعلیم کے معیار میں بھی اضافہ ہو گا اور ملک میں لیپ ٹاپ انڈسٹری بھی ڈویلپ ہو گی اور اس سے نئی جابز کھلیں گی۔

میں ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں جاتا رہتا ہوں‘ میں وہاں طالب علموں کی ذہنی اور علمی صورتحال دیکھ کر شدید افسوس کا شکارہوتاہوں‘ ہمیں یہ ماننا پڑے گا ہمارا یونیورسٹی طالب علم نالج‘ ٹیکنالوجی اور اعتماد میں یورپ کے پرائمری نوجوان تک کا مقابلہ نہیں کر سکتا‘ میں ہر کلاس سے پوچھتا ہوں ”آپ میں کتنے لوگ کتاب اور اخبار پڑھتے ہیں“ پوری کلا س سے بمشکل ایک آدھ ہاتھ اٹھتا ہے اور اس کا مطالعہ بھی چند سطحی ناولوں تک محدود ہوتا ہے‘ یہ لوگ کورس میں شامل کتابیں تک نہیں پڑھتے‘

ان کا کورس نالج نوٹس تک محدود ہوتاہے اور یہ نوٹس بھی یونیورسٹیوں میں دس دس‘ پندرہ پندرہ سالوں سے فوٹو سٹیٹ ہو رہے ہیں‘ حکومت کو فوری طور پر گریجوایشن اور پوسٹ گریجوایشن کا معیار بڑھا دینا چاہئے‘ گریجوایشن کے کورس اور امتحانات اتنے سخت ہونے چاہئیں کہ کالج میں داخل ہونے والے صرف تیس فیصد طالب علم گریجوایشن کر سکیں باقی طالب علم ایف اے یا ایف ایس سی کے بعد کام یا کاروبار کریں‘ یونیورسٹیوں کا پورا سلیبس ریسرچ پر شفٹ کر دیا جائے‘

یونیورسٹی میں کسی طالب علم کا امتحان نہ ہو‘ یہ پی ایچ ڈی سٹوڈنٹس کی طرح کسی ایک موضوع پر ریسرچ کریں‘ ملک کے اعلیٰ ترین دماغ ان کا طویل انٹرویو لیں‘ ان کی ریسرچ کی پڑتال کریں اور جس کی محنت اور کام سے مطمئن ہوں صرف اسے ڈگری دی جائے‘یونیورسٹی کو یونیورسٹی ہونا چاہئے ڈگریاں تقسیم کرنے اور بے روزگاری پھیلانے کی فیکٹری نہیں۔ ملک کی تمام یونیورسٹیوں کے انڈومنٹ فنڈز ہونے چاہئیں اوریونیورسٹیوں کو اپنے اخراجات ان فنڈز سے پورے کرنے چاہئیں۔

یونیورسٹیوں کی تعلیم مہنگی بھی ہونی چاہئے تاہم جو طالب علم اپنی ذہانت اور محنت ثابت کرتا جائے اس کی فیس معاف ہوتی جائے اور آخر میں اسے حکومت یا یونیورسٹی کی طرف سے رول ماڈل سکالر شپ دیا جائے۔ یونیورسٹی میں بھی سکولوں اور کالجوں کی طرح پچاس فیصد طالبعلم بھاری فیس ادا کریں‘ پچیس فیصد کی فیس آدھی ہو جبکہ باقی پچیس فیصد غریب مگر ذہین طالب علموں کی فیس معاف کر دی جائے۔ یونیورسٹیوں میں کسی ڈیپارٹمنٹ کے کسی سیشن میں تیس سے زائد طالب علم نہ لئے جائیں اور یونیورسٹی میں داخلے کیلئے عمر کی حدبھی ختم کر دی جائے‘

کوئی بھی شخص مرنے تک یونیورسٹی میں داخل ہو سکے‘ اس سے بھی صرف اہل لوگ یونیورسٹی آ سکیں گے‘ حکومت پرائمری سے لے کر یونیورسٹی تک ہر کلاس کیلئے لٹریچر‘ نان فکشن‘ آٹو بائیو گرافی اور سائنس کی دس کتابیں لازم قرار دے دے‘ پہلی جماعت سے لے کر دسویں جماعت تک دنیا کا قدیم لٹریچر پڑھایا جائے اور دسویں کے بعد یونیورسٹی تک جدید ترین بیسٹ سیلر کتابیں پڑھائی جائیں‘ ان کتابوں کا بے شک امتحان نہ ہو لیکن طالب علموں کیلئے یہ کتابیں پڑھنا ضروری ہوں‘

سکولوں میں سپورٹس لازم ہو‘ تمام طالب علم کوئی نہ کوئی کھیل کھیلیں اور ہر سال کھیلوں کے میلے ضرور ہوں اور ان میں تمام تعلیمی ادارے حصہ لیں‘ تمام سرکاری سکولوں کو ووکیشنل اداروں میں تبدیل کر دیا جائے‘ یہ سکول چیمبر آف کامرس‘ شہر کے تاجروں اور انڈسٹریل زونز کے حوالے کر دئیے جائیں‘ حکومت جدید ترین ووکیشنل سلیبس بنوائے اور شہروں کے تاجر سکولوں کی عمارت میں بے کار نوجوانوں کو ووکیشنل تعلیم دلوانا شروع کر دیں‘

ہائی سکول کے طالب علموں کیلئے بھی ان اداروں میں دو گھنٹے ٹریننگ لازمی ہو‘ طالب علم ان اداروں میں صرف سائیکل پر آ سکیں‘ اس سے کلاس ڈیفرنس بھی ختم ہو گا‘ طالب علموں کی ورزش بھی ہو جائے گی‘ ملک میں سائیکل کی انڈسٹری بھی فروغ پائے گی اور پٹرول کی بچت بھی ہو گی‘ ہر ووکیشنل سنٹر کوئی ایک انڈسٹری بھی پروان چڑھائے‘ اس سے طالب علموں کو ٹیکنیکل نالج بھی ملے گا‘ سپیشلائزیشن بھی ہو گی اور انڈسٹری بھی ترقی کرے گی۔

The post تعلیم کا مسئلہ بھی حل ہو سکتا ہے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/11/11/521408

Friday, November 9, 2018

معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں

میرے ایک دوست ہر قسم کے حالات میں سروائیو کر جاتے ہیں‘ ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال جیسی بھی ہو میں نے انہیں کبھی غیر مطمئن یا پریشان نہیں دیکھا‘ میں نے ان سے ایک دن وجہ پوچھی تو وہ مسکرا کر بولے ”معیشت“ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ بولے ”معاشرت معیشت کے بغیر ممکن نہیں‘ آپ اگر معاشی لحاظ سے مضبوط ہیں تو پھر بڑے سے بڑا مسئلہ بھی مسئلہ نہیں رہتا‘ ہمارا کنبہ سات افراد پر مشتمل ہے‘ ہم تمام لوگ کماتے ہیں چنانچہ ہم ہر قسم کے حالات میں سروائیو کر جاتے ہیں“

وہ رکے اور بولے ”ہماری حکومتیں عوام کو اگر معیشت کی تربیت دے دیں تو یہ ملک مطمئن ممالک کی فہرست میں آ جائے‘ یہ لوگوں کو ٹرینڈ کریں گھر کے ہر فرد کو کمانا چاہیے اور ہنر مند بھی ہونا چاہیے‘ ہمارے سارے مسئلے ختم ہو جائیں گے“ یہ بظاہر چھوٹی سی ٹپ تھی لیکن اس میں پوری دنیا کی کامیابی چھپی ہے۔پاکستان اس وقت بے شمار مسائل میں گھرا ہوا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا یہ مسائل ناقابل حل ہیں؟ جی نہیں! دنیا کے سو سے زائد ممالک نے یہ مسائل حل کر لئے ہیں‘ ہم بھی اگر کوشش کریں تو ہم بھی ان مسائل سے نکل سکتے ہیں‘ میں آج سے پاکستان کے مسائل اور ان کے حل پر ایک سیریز شروع کر رہا ہوں‘ ہو سکتا ہے ارباب اختیار اس سیریز سے کچھ سیکھ لیں‘ ہم سب سے پہلے معیشت کی طرف آتے ہیں۔معیشت کے بغیر فرد چل سکتا ہے اور نہ ہی معاشرہ لہٰذا معاشی خوشحالی ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے‘ خوش حالی کیلئے ہمیں انفرادی اور قومی دونوں سطحوں پر کام کرنا ہوگا‘ میں پہلے انفرادی حل تجویز کرتا ہوں۔آپ یورپ‘ امریکا اور مشرق بعید کے ترقی یافتہ ممالک کو سٹڈی کر لیجئے‘ وہاں والدین اس وقت تک بچے کے نان نفقے کے ذمہ دار ہوتے ہیں جب تک اس کی جیب میں شناختی کارڈ نہیں آ جاتا‘ امریکا اور یورپ میں ٹیکسی ڈرائیور کا بچہ ہو یا پھر وہ کسی ارب پتی شاہی خاندان سے تعلق رکھتا ہو‘ وہ جانتا ہے میں جس دن جوان ہو جاؤں گا مجھے اپنی پاکٹ منی‘ اپنی رہائش اور اپنی سواری کا خود بندوبست کرنا ہو گا چنانچہ یہ بچے جوان ہونے سے پہلے ہی پارٹ ٹائم کام شروع کر دیتے ہیں‘

میں یورپ کے ایسے بے شمارگھروں میں گیا جن میں جوان بچے اپنے ہی والدین کے پے اینگ گیسٹ تھے‘ وہ والدین کے گھر میں رہتے تھے لیکن وہ کمرے کا کرایہ اور کھانے کا بل ادا کرتے تھے‘ یورپ کے تمام بچے جوان ہونے کے بعد جاب کرتے ہیں اور جاب کیلئے ظاہر ہے ہنر درکار ہوتا ہے چنانچہ یہ بچپن ہی سے کوئی نہ کوئی ہنر سیکھ لیتے ہیں اور اس عمل میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں برابر ہوتے ہیں‘ہم بھی آج سے فیصلہ کر لیں‘ ہم اپنے بچوں کا بوجھ صرف اٹھارہ برس تک اٹھائیں گے‘

یہ اس کے بعد خود کمائیں گے‘ بچیاں گھروں میں رہ کر کوئی نہ کوئی ایسا کام کریں جس سے یہ اپنا اور خاندان کا معاشی بوجھ اٹھا سکیں اور بچے پڑھائی کے ساتھ ساتھ کوئی ہلکی پھلکی جاب کریں یا کوئی چھوٹا موٹا بزنس کریں‘ اس سے بچوں میں اعتماد بھی پیدا ہو گا‘ انہیں جاب کرنے کی ٹریننگ بھی ملے گی‘ انہیں پیسے کی اہمیت کا اندازہ بھی ہو گا‘ خاندان پر معاشی دباؤ بھی کم ہو گا اور معاشرے میں نئی جابز بھی نکلیں گی۔دو‘ ہم اور ہمارے بچے صرف جاب کیلئے تعلیم حاصل کرتے ہیں‘

ہم سمجھتے ہیں ہم پڑھیں لکھیں گے اور پھر بڑے عہدیدار بن جائیں گے‘ اس سوچ کے نتیجے میں ملک میں دو کروڑ بے روزگار ڈگری ہولڈر موجود ہیں اور ان میں ہر سال دس لاکھ لوگوں کا اضافہ ہو جاتا ہے‘ ہمیں فوری طور پر اس اپروچ کو تبدیل کرنا ہو گا‘ ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا تعلیم روزگار کیلئے نہیں‘ شعور کیلئے ہوتی ہے اور ہم نوکری کی بجائے کاروبار کریں گے‘ ہم پانچ دس ہزار روپے سے کوئی معمولی کام شروع کریں گے اور اپنی محنت سے اس کام کو لاکھوں کروڑوں روپے کے اثاثوں تک لے جائیں گے۔

آپ فرض کیجئے ایک شہر میں لاکھ لوگ رہتے ہیں‘ یہ لاکھ لوگ صرف لوگ نہیں ہیں‘ یہ ایک لاکھ گاہک یا صارف بھی ہیں اور آپ کو اگر ان میں سے ایک ہزار گاہک مل جائیں اور آپ ہر گاہک سے صرف ایک روپیہ کمائیں تو آپ روزانہ ہزار روپے کما سکتے ہیں اور 20‘ 25 سال کے نوجوان کیلئے یہ اچھی خاصی رقم ہے‘ بس آپ کو ایک اچھا بزنس آئیڈیاچاہئے اور آپ تعلیم کی بدولت یہ آئیڈیا چند دنوں میں حاصل کر سکتے ہیں‘ کاروبار سنت بھی ہے اور ترقی کی چابی بھی۔

آپ ملازمت میں دس لاکھ روپے تنخواہ لے لیں تو بھی آپ ملازم ہی رہتے ہیں چنانچہ ہمیں پڑھے لکھے بچوں کا دماغ ملازمت سے کاروبار کی طرف شفٹ کرنا ہو گا‘ اس سے ہمارے بچے بھی خوشحال ہو جائیں گے‘ ملک میں ان پڑھ اور بے ہنر لوگوں کیلئے نوکریاں بھی نکلیں گی اور حکومت پر جابز کا دباؤ بھی کم ہو جائے گا اور تین‘ ہم میں سے ہر شخص کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر ہونا چاہئے‘ ہم خواہ پی ایچ ڈی ہوں‘ ہم خواہ ارب پتی ہوں اور ہم خواہ وزیراعظم ہوں‘ ہمیں کوئی نہ کوئی کام‘ کوئی نہ کوئی ہنر ضرور سیکھنا چاہئے‘ اس سے ہم کام کی عظمت سے بھی آگاہ ہوں گے اور ہمارے دل میں کام کرنے والوں کااحترام بھی پیدا ہوگا‘

امریکا میں ہر شخص کے پاس اپنا ”ٹول باکس‘ ہوتا ہے اور یہ عموماً گھر کے نلکے سے لے کر چھتوں کی مرمت تک خود کرتا ہے‘ اس وجہ سے امریکا میں موچی‘ نائی‘ ترکھان‘ لوہار اور سویپر کو بھی عزت دی جاتی ہے کیونکہ وہاں جارج بش اور باراک حسین اوبامہ بھی یہ کام جانتے ہیں۔ آپ اب آئیے سٹیٹ کی طرف۔ حکومت کو فوری طور پر تمام سرکاری سکولوں کو ووکیشنل اداروں میں تبدیل کر دینا چاہئے۔(میں عام تعلیم کیلئے اگلے کالم میں حل تجویز کروں گا‘ عام تعلیم کیلئے حکومت کو نئے سکول بنانا پڑیں گے اور نہ ہی بجٹ دینا پڑے گا)اور پاکستان میں ہاتھ سے کام کرنے والے ہر پیشے کیلئے کم از کم چار سال کا کورس لازمی قرار دے دیا جائے۔

ہم اس ضمن میں جرمنی کی مثال لے سکتے ہیں‘ جرمنی میں کوئی شخص اس وقت تک ترکھان‘ لوہار‘ درزی‘ موچی اور نائی کا کام نہیں کر سکتا جب تک وہ چار پانچ سال کا کورس نہ کر لے اور جرمنی کی وزارت تعلیم اسے باقاعدہ سر ٹیفکیٹ جاری نہ کر دے۔ جرمنی میں ہر بچے کیلئے روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی ایک پیشے کی تعلیم ضروری ہے چنانچہ جرمنی کا چانسلر اور وزیراعظم سیاسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ترکھان‘ موچی‘ نائی یا پھر لوہار بھی ہوتا ہے۔

اگر جرمنی یہ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟ حکومت پاکستان آج سے قانون بنا دے ملک میں تمام پیشوں سے منسلک 35 سال سے کم عمر ہنر مند ووکیشنل اداروں سے تعلیم حاصل کریں گے‘ ان لوگوں کو پانچ سال دئیے جائیں‘ ان میں سے جو شخص کورس کر لے اسے کام جاری رکھنے کی اجازت دی جائے اور جونہ کرے اس پر پابندی بھی لگا دی جائے اور اسے سخت ترین سزا بھی دی جائے۔ حکومت بے روزگار نوجوانوں اور بچوں کو دن کے وقت ووکیشنل ٹریننگ دے اور برسرروزگار لوگوں کیلئے شام اور رات کی کلاسیں شروع کی جائیں‘

انہیں ووکیشنل ٹریننگ کے ساتھ ساتھ انگریزی‘ اردو اور ریاضی کی ابتدائی تعلیم بھی دی جائے‘ حکومت سکول نہ جانے والے تمام بچوں کیلئے ووکیشنل تعلیم ضروری قرار دے دے‘ اس سے تعلیم کو غیر ضروری سمجھنے والے والدین بھی مطمئن ہو جائیں گے اور بے کار بچوں کو بھی اپنا مستقبل روشن دکھائی دینے لگے گا۔ حکومت دنیا بھر سے ہنرمندوں کیلئے معاہدے کرے اور ان ووکیشنل اداروں کے کوالیفائیڈ بچوں کو باقاعدہ سرکاری سرپرستی میں ملک سے باہر بھجوایا جائے‘ حکومت اس سلسلے میں بینکنگ سیکٹر کی مدد لے سکتی ہے‘

بینک ووکیشنل اداروں کے طالب علموں کو آسان قرضے دیں‘ یہ ووکیشنل اداروں کے طالب علموں کی فیسیں براہ راست جمع کرا دیں اور یہ لوگ تعلیم سے فراغت کے بعد کما کر بینکوں کو ادائیگی کر دیں‘ اس سے ملک میں معاشی تبدیلی بھی آجائے گی اور کام کے بارے میں ہمارا رویہ بھی بدل جائے گا۔حکومت ملک میں پانچ سال بعد مکان بنانے پر پابندی لگا دے‘ ملک میں تعمیرات کی ہزاروں چھوٹی بڑی کمپنیاں رجسٹرڈ کی جائیں‘ حکومت انہیں ایسے گھر ڈیزائن کروا کر دے جو سردیوں میں گرم اور گرمیوں میں ٹھنڈے رہیں اور جن میں روشنی اور ہوا کا بندوبست بھی ہو‘

اس سے انرجی کامسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور تعمیراتی کمپنیوں کی شکل میں نیا شعبہ بھی کھل جائے گا‘ یہ کمپنیاں ووکیشنل اداروں سے فارغ التحصیل بچوں کو جاب بھی دیں گی اور عام شہریوں کو سستے اور اچھے گھر بھی مل جائیں گے اور یوں ملک میں ساٹھ کے قریب انڈسٹریز چلنے لگیں گی۔ حکومت تمام شہروں میں چھوٹے انڈسٹریل زون بنا دے‘ مقامی ایم پی اے اور ایم این اے کو ان زونز کا سرپرست بنا دیا جائے‘ ان زونز میں زمین مفت الاٹ کی جائے‘ یہ زمین لیز پر ہو‘ یہ لیز نان ٹرانسفر ایبل ہو‘ نوجوانوں کو چھوٹے چھوٹے یونٹ لگانے کا موقع دیا جائے اوران یونٹس میں ووکیشنل اداروں سے فارغ التحصیل بچوں کو جاب دی جائے‘

ایک انڈسٹریل زون میں ایک ہی قسم کی پراڈکٹ بنائی جائیں‘ اس سے ہر علاقہ کسی ایک فن میں ماہر ہو جائے گا‘ اس سے کساد بازاری بھی کم ہو گی اور دوسرے علاقوں کی انڈسٹری بھی پروان چڑھے گی۔ مثلاً آپ فرض کیجئے‘ قصور میں دھاگا بن رہا ہے‘ پاکپتن میں بٹن بن رہے ہیں‘ بہاولپور میں بکرم بن رہی ہے‘ ملتان میں کپڑے کے رنگ تیار ہو رہے ہیں‘ سکھر میں گارمنٹس فیکٹریاں لگی ہیں اور حیدرآباد میں پیکنگ کی انڈسٹری کام کر رہی ہے‘ اس سے شہروں میں سپیشلائزیشن کا رجحان بھی بڑھے گا‘

خریدار کی سردردی بھی کم ہو جائے گی‘ ٹرانسپورٹیشن کی فیلڈ بھی ترقی کرے گی اور صنعت کار کی مناپلی بھی ٹوٹ جائے گی‘ سیاسی جماعتیں ارکان اسمبلی کی کارکردگی کو ووکیشنل اداروں اور انڈسٹریل زون سے ”لنک“ کر دیں جس رکن اسمبلی کی انڈسٹریل زون اور ووکیشنل ادارے زیادہ پیداوار دیں گے سیاسی جماعت اس رکن اسمبلی کے درجے میں بھی اضافہ کر دے اور اس کا ٹکٹ بھی پکا ہو جائے بصورت دیگر اس کا سیاسی کیریئر ختم ہو جائے۔ شہر کی نالیاں‘ سڑکیں‘ گلیاں‘ پارکس‘ لائبریریاں‘ گراؤنڈز‘ سیوریج اور ٹریفک انڈسٹریل زون کے حوالے کر دی جائیں‘

یہ لوگ انہیں خود تعمیر کروائیں‘ خود ان کی حفاظت کریں‘ ان پر خود ٹکٹ لگائیں اور انہیں خود چلائیں‘ اس سے شہر میں ”سینس آف اونر شپ“ بھی ڈویلپ ہو گی‘ کرپشن بھی کم ہو جائے گی‘ حکومت کا ترقیاتی بجٹ بھی بچے گا‘ انفراسٹرکچر بھی بہتر ہو گا اور تعمیرات کا معیار بھی اچھا ہو جائے گا۔ حکومت اس خدمت کے بدلے صنعت کاروں کو ٹیکس میں چھوٹ دے دے۔

The post معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/11/09/520702