Sunday, March 24, 2019

آپ جب تک اپنا دل کھلا نہیں کرتے

ہمارے سامنے ذہنی معذور نوجوان بیٹھا تھا‘ وہ نوجوان ہوش اور حواس سے بہت دور دنیا کے ہر تقاضے سے محروم تھا‘ چاولوں کی پلیٹ اس کے سامنے پڑی تھی اور وہ جانوروں کی طرح دونوں ہاتھوں سے چاول پھانک رہا تھا‘ آدھے چاول اس کے منہ سے واپس پلیٹ میں گر جاتے تھے اور آدھے وہ چپڑ چپڑ نگل جاتا تھا‘ اس کے منہ سے رال بھی ٹپک رہی تھی اور ناک کے ایک سوراخ سے سیاہ گندی رطوبت سرک کر ہونٹ پر آ کر ٹھہر گئی تھی اور اس کے منہ چلانے کے ساتھ ہر بار یوں محسوس ہوتا تھا یہ رطوبت اس کے منہ میں چلی جائے گی‘

اس کے سر پر کھمبیوں جیسے بڑے بڑے پھوڑے تھے اور ان پھوڑوں سے پیلے رنگ کی گاڑھی پیپ نکل رہی تھی اور پیپ پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں‘ وہ بھنبھناہٹ سے تنگ آ کر مکھیاں اڑاتا تھا تو یہ کمرے کا چکر لگا کر دوبارہ اس کے سر پر بیٹھ جاتی تھیں‘ اس کی گردن پر میل تارکول کی طرح جمی تھی اور کپڑوں سے بُوکے بھبھوکے اٹھ رہے تھے‘ اس کے ناخن لمبے اور ناتراشیدہ تھے اور ان میں میل جمی تھی‘ اس کی ایڑھیاں پھٹی تھیں‘ پاؤں پر کیچڑ کی تہیں جمی تھیں اور رہ گیا اس کا جسم تو شائد اسے نہائے کئی برس ہو چکے تھے۔ غرض وہ ہر لحاظ سے بدبو‘ کراہت اور بدصورتی کا خوفناک نمونہ تھا‘ ہم صاف ستھرے‘ پڑھے لکھے اور جمالیاتی حسوں سے لبریز لوگ تھے اور بابا جی کے پاس روح کی گتھیاں سلجھانے کیلئے آئے تھے‘ بابا جی ہمارے درمیان موجودتھے‘ ہم نرم اونی قالین پر گاؤ تکیوں کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے‘ ہمارے سامنے چائے کے کپ پڑے تھے‘ درمیان میں مٹھائی کی طشتری تھی اور ہم روح کی باریکیوں پر گفتگو کر رہے تھے۔ہمارے ساتھ نفسیات کے ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر بھی تھے‘ یہ تصوف پر ریسرچ کر رہے تھے اور یہ اس ریسرچ کے سلسلے میں دنیا جہاں کی سیر کر چکے تھے‘ وہ ہمیں بتا رہے تھے روح کا وزن 21 یا 67 گرام ہوتا ہے‘ یہ جب انسان کے جسم سے نکلتی ہے تو انسان کا وزن 21 یا 67 گرام کم ہو جاتا ہے‘ بابا جی بڑے غور سے یہ گفتگو سن رہے تھے لیکن ڈاکٹر کی گفتگو میں تسلسل نہیں آ رہا تھا‘ ہم سننے والے بھی ڈسٹرب تھے۔

آپ خود اندازا کیجئے آپ خوبصورت علمی ماحول میں بیٹھے ہوں اور آپ کے اردگرد سکالر لوگ جمع ہوں لیکن ان سکالرز کے عین درمیان ایک پاگل نوجوان بیٹھا ہو اور یہ نوجوان دونوں ہاتھوں سے چاول پھانک رہا ہو اور مکھیاں اڑاتا ہو اور اس کے بدن سے بو کے بھبھوکے اٹھتے ہوں اور اس کے سر سے پیپ بہہ بہہ کر ماتھے پر گر رہی ہو اور ناک کی رطوبت ہونٹوں پر آ کر رک گئی ہو اور گردن پر جی ہاں گردن پر میل کی لکیریں کھدی ہوں اور ان لکیروں کے درمیان سے اس کی خارش زدہ سرخ جلد نظر آتی ہو تو کیا آپ روح اور روحانیت جیسے حساس موضوع پر گفتگو کر سکیں گے‘ کیا آپ ڈسٹرب نہیں ہوں گے‘

آپ بھی یقینا ڈسٹرب ہوں گے لہٰذا ہم بھی پریشان تھے اور ہماری یہ پریشانی باربار ہماری گفتگو کا ربط توڑ رہی تھی اور ہم بے چینی میں بار بار کروٹیں بدلتے تھے‘ بابا جی ہماری پریشانی بھانپ گئے‘ انہوں نے خادم کو اشارہ کیا‘ خادم گرم پانی کی بالٹی لے آیا‘ اس نے وہ بالٹی پاگل نوجوان کے قریب رکھ دی‘ وہ اس کے بعد سٹیل کی ایک خالی پرات لایا‘ صاف ستھرا تولیا لایا‘ باریک ململ کا ایک تھان لایا اور یہ سارا سامان بھی پاگل نوجوان کے قریب رکھ دیا‘

اس کے بعد بابا جی اپنی جگہ سے اٹھے‘ نوجوان کے پاس آئے‘ خادم سے اس کے سامنے سے چاولوں کی پلیٹ اٹھوائی‘ نوجوان کے منہ پر پیار سے ہاتھ پھیرا‘ تھان سے ململ کا بڑا سا ٹکڑا پھاڑا‘ اس کا گولہ بنایا‘ بالٹی میں ڈبویا اور ململ سے نوجوان کا سر اور منہ صاف کرنے لگے‘ وہ ململ پانی میں ڈبوتے تھے‘ اس کے سر اور منہ پر پھیرتے تھے اور اس کے بعد پرات میں نچوڑ دیتے تھے۔ پانی میں شائد لیموں اور شیمپو گھلا ہوا تھا‘ ہمیں دور سے شیمپو اور لیموں کی خوشبو آ رہی تھی‘

یہ منظر پہلے منظر سے زیادہ عجیب تھا۔ آپ خود اندازا کیجئے‘ ایک نہایت ہی معزز اور پڑھا لکھا صوفی بزرگ اپنی نشست گاہ میں قالین پر ایک مجذوب نوجوان کا منہ دھو رہا تھا اور وہ نوجوان خوشی سے دانت نکال رہا تھا۔ باباجی نے اسے گردن تک صاف کیا‘ اس کے بعد اس کے ہاتھ اور پاؤں دھوئے اور اس کے بعد خادموں کو اشارہ کیا‘ خادم بالٹی‘ پرات‘ ململ کا تھان اور اس نوجوان کو اٹھا کر باہر لے گئے‘ بابا جی نے تولئے سے ہاتھ صاف کئے اور دوبارہ ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔

ہم حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہے تھے‘ وہ مسکرائے اور ہماری طرف دیکھ کر بولے ”یہ پاگل‘ پاگل نہیں‘ یہ میرا اللہ سے براہ راست رابطہ ہے‘ یہ میری روحانیت‘ میرا تصوف ہے“ ہم نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا‘ وہ بولے ”ہمارے دل اور روح کے درمیان ایک راستہ ہوتا ہے‘ یہ ہدایت‘ سلوک اور مسرت کا راستہ ہے‘ آپ جب اس راستے پر پاؤں رکھ دیتے ہیں تو آپ اللہ کے نور اور خوشبو کو اپنے ارد گرد محسوس کرتے ہیں‘ یہ خوشبو اور نور آپ کو وہ مسرت دیتا ہے جو آپ کو زندگی کی کوئی دوسری کامیابی‘ دنیا کی کسی دوسری لذت میں نہیں ملتی چنانچہ آپ دنیا اور اس کے تقاضوں سے لا تعلق ہو جاتے ہیں‘

تصوف دنیا کی مکروہات سے لاتعلقی کا نام ہے‘ صوفی موم کے اس کاغذ کی طرح ہوتا ہے جسے آپ رنگوں کے ڈرم میں ڈبو دیتے ہیں لیکن آپ اسے جونہی باہر نکالتے ہیں اس کے جسم پر کسی رنگ کا چھینٹا تک نہیں ہوتا‘ صوفی رنگوں کی اس دنیا میں رہتا ہے لیکن موم کے کاغذ کی طرح اس پر بھی دنیا کا کوئی رنگ نہیں چڑھتا لیکن موم بننے کیلئے دل کا وہ راستہ کھولنا پڑتا ہے جو روح کی طرف نکلتا ہے“ ہم نے پوچھا ”یہ راستہ کہاں ہوتا ہے“

وہ بولے ”یہ راستہ دل کی اتھاہ گہرائیوں میں ہوتا ہے اور انسان اس وقت تک اس راستے تک نہیں پہنچ پاتا جب تک یہ اپنا دل کھلا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ کی وسعت کی کوئی انتہا نہیں‘ یہ اپنے بدترین دشمنوں کو بھی رزق‘ صحت‘ زندگی‘ عزت‘ شہرت اور دولت دیتا ہے‘ یہ خدائی کے دعوے داروں کو بھی کسی چیز کی کمی نہیں آنے دیتا‘ یہ ہرن کو بھی بڑے پیار سے پالتا ہے اور خنزیر کو بھی خوراک‘ پانی‘ پناہ اور زندگی دیتا ہے‘ یہ آپ پر بھی مہربان ہے اور یہ اس پاگل نوجوان کی ضرورتوں سے بھی واقف ہے‘

یہ مائیکرو سکوپک جرثوموں سے لے کر وہیل مچھلیوں تک سب پر کرم اور رحم کرتاہے اور یہ اپنے بڑے سے بڑے گستاخ پر بھی زندگی کی رسی دراز رکھتا ہے‘ اللہ تعالیٰ وسیع القلب ہے اور یہ وسیع القلب لوگوں کو پسند کرتا ہے چنانچہ آپ جب اپنا دل کھولنے لگتے ہیں‘ آپ دل میں وسعت پیدا کر لیتے ہیں تو آپ کے دل میں چھپا وہ راستہ کھل جاتا ہے جو آپ کو روح کی طرف لے جاتا ہے اور آپ اس کے بعد روح کے اس گلستان میں اتر جاتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا نور اور خوشبو دونوں ہیں“۔ ہم حیرت سے ان کی طرف دیکھتے رہے۔

بابا جی نے فرمایا ”آپ جب تک اپنا دل کھلا نہیں کرتے‘ آپ کے پہلو میں پہنچ کر جب تک ہندو‘ سکھ‘ عیسائی‘ بودھ‘ ملزم‘ مجرم‘ گناہگار اور دنیادارسب سکون محسوس نہیں کرتے‘ یہ خود کو محفوظ نہیں سمجھتے‘ آپ پر اس وقت تک روحانیت کے دروازے نہیں کھل سکتے“ بابا جی بولے ”آپ کی نظر میں یہ نوجوان پاگل یا مجذوب تھا لیکن یہ میرے لئے روحانی سکون‘ روحانی وظیفہ اور روحانی منزل تھا‘ یہ میرے دل کی وسعت کا امتحان تھا‘ میں اگراس سے نفرت کرتا‘

اس سے پرہیز کرتا یا میرے دل میں کراہت پیدا ہو جاتی تو شائد اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جاتا اور مجھ سے اپنا نور اور اپنی خوشبو چھین لیتا‘ یہ نوجوان جب تک میرے پاس بیٹھا رہا میں اپنا دل ٹٹول ٹٹول کر دیکھتا رہا اور مجھے محسوس ہوا میرے دل میں کسی جگہ اس کے بارے میں کوئی کراہت نہیں‘ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اس شکر کے بدلے میں نے اپنے ہاتھ سے اس کا سر‘ منہ‘ ہاتھ اور پاؤں دھوئے‘ میرے ملازم اب اسے نہلا رہے ہیں‘ یہ نہلا نے کے بعد اسے میرے کپڑے پہنائیں گے اور میں اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤں گا‘

یہ اللہ کے کرم کا چھوٹا سا شکر ہوگا“ باباجی نے لمبی سانس لی اور آہستہ سے بولے ”آپ کو اولیائے کرام کے ڈیروں‘ مزاروں اور گدیوں پر ایسے درجنوں مجذوب ملیں گے‘ یہ مجذوب ان کے ولی ہونے کی نشانی ہوتے ہیں‘ ولی کا دل کھلا ہوتا ہے‘ یہ کبھی ان سے کراہت محسوس نہیں کرتا چنانچہ مجذوب لشکروں کی شکل میں ان کے ڈیروں پر آتے رہتے ہیں جبکہ آپ ان مجذوبوں کو کبھی کسی دنیادار کی دہلیز پر نہیں دیکھیں گے کیوں؟ کیونکہ دنیادار کا دل تنگ ہوتا ہے‘

یہ ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کرتا چنانچہ دنیا دار اللہ کے نور اور خوشبو سے بھی دور ہوتے ہیں اور روحانی منازل سے بھی“ بابا جی رکے‘ لمبا سانس لیا اور بولے ”روح کے دروازے کی چابی اکثر ان لوگوں کے پاس ہوتی ہے جن سے دنیا کو کراہت آتی ہے‘ آپ اگر روح کے سمندر میں ڈوبنا چاہتے ہیں تو اپنا دل کھلا کریں اور ان لوگوں کا منہ دھوئیں جو خود اپنا منہ نہیں دھو سکتے‘ آپ کو اللہ تعالیٰ مل جائے گاورنہ آپ عبادات کی گلیوں میں پھرتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ آپ سے دور‘ دور اور دور ہوتا جائے گا یہاں تک کہ آپ اللہ کی الف تک نہیں پا سکیں گے۔

The post آپ جب تک اپنا دل کھلا نہیں کرتے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/24/562260

Friday, March 22, 2019

میکس طیارے نہیں میکس سوچ بدلیں

ولیم ایڈورڈ بوئنگ 1881ءمیں مشی گن میں پیدا ہوا‘ والد جرمن تھا اور والدہ آسٹرین تھی‘ والد جنگلات کا ٹھیکیدار تھا‘ وہ جنگل خریدتا تھا‘ درخت کٹواتا تھا اور لکڑی فروخت کر دیتا تھا‘ ولیم آٹھ سال کی عمر میں یتیم ہو گیا‘ مشکل سے تعلیم مکمل کی اور والد کا کاروبار سنبھال لیا‘ وہ کشتی رانی اور سمندروں میں گھومنے کا شوقین تھا‘ اس نے لگژری کشتیاں ڈیزائن کرنا شروع کر دیں‘ زندگی مزے سے گزرنے لگی‘ 1909ءمیں وہ سیاٹل گیا‘ زندگی میں پہلی مرتبہ ہوائی جہاز دیکھا اور اس پر عاشق ہو گیا۔

مارٹن کمپنی اس وقت رائٹ برادرز کے ڈیزائن کردہ جہاز بناتی تھی‘ ولیم ایڈورڈ نے دو نشستوں کا مارٹن جہاز خرید لیا‘ ہوا بازی کی صنعت ابھی ابتدائی مراحل میں تھی چنانچہ ولیم ایڈورڈ کے جہاز کو حادثہ پیش آگیا‘ ولیم نے مارٹن کمپنی سے رابطہ کیا‘ کمپنی نے بتایا سپیئر پارٹس کی کمی ہے‘ ہم فوری طور پرآپ کا جہاز مرمت نہیں کر سکیں گے‘ ولیم ایڈورڈ کو یہ جواب برا لگا چنانچہ اس نے دوست کمانڈر جارج کونریڈ سے کہا ”کمانڈر ہم کشتیاں بنا لیتے ہیں‘ ہم اگر کوشش کریں تو ہم مارٹن سے بہتر اور اچھے جہاز بھی بنا سکتے ہیں“ میں کہانی آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بتاتا چلوں دنیا کے تمام کامیاب بزنس گروپس کا آغاز دوستوں سے ہوا‘ بل گیٹس کے ذہن میں آئیڈیا آیا‘ اس نے اپنے دوست پال ایلن سے ذکر کیا‘ اس نے آئیڈیا کی تعریف کی اور مائیکرو سافٹ وجود میں آگئی‘ سٹیوجابز کے ذہن میں ٹچ سکرین کا آئیڈیا آیا‘ اس نے اپنے دو دوستوں سٹیووزنائیک اور رونلڈ وینی سے ذکر کیا‘دونوں نے آئیڈیا سراہا اور ایپل کمپنی نے جنم لے لیا‘ آپ دنیا کی کسی بھی بڑی کمپنی کے ماضی میں جھانک لیں آپ کو اس کی بنیاد میں کوئی نہ کوئی دوست ملے گا‘ آپ اسی طرح ناکام لوگوں کے ناکام منصوبوں کی تاریخ بھی کھنگال لیں‘ آپ کو اس کی جڑ میں بھی کوئی نہ کوئی دوست ملے گا‘ منفی دوست آئیڈیا اور دوست دونوں کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں چنانچہ آپ کے ذہن میں جب بھی کوئی اچھا آئیڈیا آئے‘ آپ وہ آئیڈیا کسی نان سیریس‘ منفی اور ناکام شخص کے ساتھ ڈسکس نہ کریں‘ وہ شخص آپ اور آپ کے آئیڈیا دونوں کو قتل کر دے گا۔

ہم ولیم ایڈورڈ کی کہانی کی طرف واپس آتے ہیں‘ ولیم نے کمانڈر جارج کونریڈ سے ڈسکس کیا‘کونریڈ نیوی میں کمانڈر تھااور وہ اس کے پوٹینشل سے واقف تھا چنانچہ اس نے آئیڈیا کو قابل عمل قرار دے دیا‘ ولیم ایڈورڈ نے اپنی کشتیاں اور جنگلات کی کمپنیاں بیچیں اور جہاز بنانا شروع کر دیئے‘ اس نے 1915ءمیں ”بی اینڈ ڈبلیو سی پلین“ کے نام سے پہلا ہوائی جہاز بنایا‘ پورا سال وہ جہاز اڑایا اور پھر 1916ءمیں پیسفک ایرو پروڈکشنز کے نام سے کمپنی بنالی‘ گروپ نے ”بی اینڈ ڈبلیو سی پلین“ تجارتی پیمانے پر بنانا شروع کر دیئے۔

جنگ عظیم اول شروع ہوئی‘ حکومت نے ولیم ایڈورڈ کو 50 جنگی جہاز بنانے کا آرڈر دیا‘ یہ 50 جہاز کمپنی کا ٹیک آف ثابت ہوئے‘ جنگ ختم ہوئی تو کمپنی کا کام بند ہو گیا اور یہاں سے ایک نئی کہانی شروع ہوگئی۔ولیم ایڈورڈ نے 1926ءمیں کمرشل فلائیٹس چلانے کا فیصلہ کر لیا‘ یونائیٹڈ ائیرلائینز بنائی اور کمرشل فلائیٹس شروع کر دیں‘ کمرشل فلائیٹس کےلئے بڑے جہاز درکار تھے‘ ولیم نے اپنے خاندانی نام سے بوئنگ کمپنی کی بنیاد رکھی اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

وہ 1956ءمیں 74 سال کی عمر میں انتقال کر گیا لیکن بوئنگ کمپنی آج بھی زندہ ہے‘ یہ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طیارہ ساز کمپنی ہے‘ یہ کمرشل جہاز بھی بناتی ہے‘ ہیلی کاپٹرزبھی‘بین البراعظمی میزائل بھی‘ مصنوعی سیارے بھی اور خلاءمیں بھیجے جانے والے راکٹس بھی ‘ یہ دنیا کی پانچویں بڑی دفاعی اور یہ امریکا کی سب سے بڑی برآمدی کمپنی بھی ہے‘بوئنگ کے اثاثے 118 بلین ڈالر کے برابر ہیں اور آمدنی 102 بلین ڈالر ہے‘ یہ کمپنی دو سیٹلائٹس‘ 96 ملٹری ائیر کرافٹس اور 806 کمرشل طیاروں کی مالک ہے۔

بوئنگ نے 1964ءمیں دنیا کا پہلا نیرو باڈی جہاز متعارف کرایا‘ طیارے کی دونوں سائیڈوں پر سیٹیں اور درمیان میں راستہ تھا‘ یہ سنگل آئزل طیارہ تھا‘ 1967ءمیں اس کا سائز بڑا کر کے پہلا بوئنگ 100-737 طیارہ مارکیٹ کیا گیا اور پھر سول ایوی ایشن کی پوری مارکیٹ تبدیل ہو گئی‘ بوئنگ نے اس کے بعد 200-737 اور پھر 300 متعارف کرا دیا‘ یہ کلاسک جنریشن کہلاتا ہے‘ پاکستان نے 1985 میں یہ طیارے خریدے تھے اور یہ 2016ءتک پی آئی اے کے استعمال میں رہے۔

کلاسک کی 400 اور 500 کی سیریز بھی آئیں اور پھر نیکسٹ جنریشن کے نام سے 600‘700 اور800 کی سیریز مارکیٹ ہوئی‘ بوئنگ نے 2017ءمیں میکس کے نام سے اپنی تیسری سیریز شروع کی‘ یہ سیریز 737 میکس کہلاتی ہے‘ اس میں پانچ قسم کے طیارے ہیں‘ میکس سادہ کی قیمت سو ملین ڈالر ہے‘ میکس آٹھ کی قیمت 122 ملین ڈالر‘ میکس 200 کا ریٹ 125 ملین ڈالر‘ میکس 9 کی قیمت 129 ملین ڈالر اور میکس 10 کی قیمت 135 ملین ڈالر ہے۔

یہ بوئنگ کے جدید ترین طیارے ہیں‘ کمپنی کو دنیا بھر سے پانچ ہزار چھ طیاروں کے آرڈر ملے‘ بوئنگ نے 376 طیارے ڈیلیور کر دیئے ہیں جبکہ 4630 طیارے پائپ لائین میں ہیں‘ چین نے بوئنگ سے 90 طیارے‘ امریکن ائیرلائینز اور ائیر کینیڈا نے 24 اور ساﺅتھ ویسٹ ائیر لائینز نے 31 طیارے خریدے‘ باقی طیارے سنگا پور‘ انڈونیشیا اور ملائیشیا نے خریدے‘ طیارے خریدنے والے ملکوں میں ایتھوپیا بھی شامل تھا‘ ایتھوپیا نے 30 طیارے بک کرائے‘ بوئنگ نے 5 طیارے ڈیلیور کر دیئے۔

یہ تمام ائیرلائینز طیاروں کی پرفارمنس اور سہولتوں سے مطمئن تھیں لیکن پھر 29اکتوبر 2018ءآ گیا‘ انڈونیشیا کی لائین ائیر کی فلائیٹ جے ٹی 610 جکارتہ شہر سے پینگ کال پنینگ کےلئے روانہ ہوئی لیکن یہ ٹیک آف کے 12منٹ بعد سمندرمیں گر کر تباہ ہو گئی‘میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں دنیا میں جہازوں کے 90 فیصد حادثات ٹیک آف اور لینڈنگ کے درمیان ہوتے ہیں‘ فلائیٹس میں اڑنا اور اترنا دونوں مشکل ترین مراحل ہوتے ہیں‘ انڈونیشیا کا طیارہ بھی اڑتے وقت گرا اور اس میں 189 لوگ ہلاک ہوگئے۔

یہ بوئنگ میکس کا پہلا حادثہ تھا‘ دوسرا حادثہ 10 مارچ 2019ءکو ایتھوپیا میں پیش آیا‘ ایتھوپین ائیر لائین کی فلائیٹ عدیس ابابا سے نیروبی جا رہی تھی‘ جہاز میں عملے سمیت 157 لوگ سوار تھے‘ طیارہ صبح آٹھ بج کر 44 منٹ پر اڑا اور ائیر پورٹ سے 60 کلو میٹر کے فاصلے پر بیشوفٹو کے علاقے میں گر گیا‘ طیارے کے تمام مسافر ہلاک ہو گئے‘ بس ان دو حادثوں کی دیر تھی اور دنیا کی سب سے بڑی طیارہ ساز کمپنی اور سو سال پرانی کارپوریشن کا جنازہ نکل گیا‘ ملائیشیا‘ انڈونیشیا‘ سنگا پور‘ اومان‘ آسٹریلیا اور یورپ نے اپنی فضائی حدود میں میکس طیاروں کے داخلے پر پابندی لگا دی۔

چین‘ سنگا پور‘ انڈونیشیا اور ایتھوپیا نے تمام میکس طیارے گراﺅنڈ کر دیئے اور13 مارچ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی میکس طیارے گراﺅنڈ کرنے اور ان کی پرواز پر پابندی لگا دی اور یوں صرف دو حادثوں کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گئی‘ بوئنگ اگر چند دنوں میں طیاروں کا فالٹ تلاش نہیں کرتی اور یہ وہ نقص دور کر کے طیاروں کو محفوظ اور قابل استعمال نہیں بناتی تو امریکا کی سب سے زیادہ ایکسپورٹ ریونیو دینے والی کمپنی دم توڑ جائے گی۔

آپ اگر ان دونوں حادثوں اور دنیا کے ردعمل کا تجزیہ کریں تو آپ کو محسوس ہو گا دنیا انسانیت کو تمام دنیاوی مفادات پر فوقیت دیتی ہے‘ بوئنگ میکس کا پہلا حادثہ محض حادثہ تھا لیکن جب دوسرا حادثہ پیش آ یا اور دونوںمیں مماثلت دکھائی دی تو دنیا نے ایک لمحے کےلئے تجارتی اور مالی مفادات کے بارے میں نہیں سوچا اور دنیا کی سب سے بڑی طیارہ ساز کمپنی کا جنازہ نکال دیا‘ بوئنگ کارپوریشن امریکی انتخابات میں بے شمار چندہ دیتی ہے‘ کانگریس اور سینٹ میں اس کے درجن بھر ارکان موجود ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی کابینہ کے وزراءبھی بوئنگ کے بارے میں سافٹ کارنر رکھتے ہیں لیکن امریکی صدر‘ وزرائ‘ سینیٹرز اور کانگریس مین بھی بوئنگ کی کوئی مدد نہ کر سکے‘ یہ بھی کمپنی کو نہ بچا سکے‘ کیوں؟ کیونکہ ایشو انسانیت تھا اور انسانیت کا تحفظ دنیا کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے چنانچہ انسانیت میکس طیاروں پر پابندی لگانے والے تمام حکمرانوں کی مشکور ہے‘ انسانیت نیوزی لینڈ کے ان شہریوں کی بھی شکرگزار ہے جو مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کےلئے نماز کے دوران مسجدوں میں ان کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔

جو النور مسجد کے سامنے پھول‘ موم بتیاں اور کارڈز رکھ رہے ہیں اور جو 50 مظلوم مسلمانوں کے قتل پر آنسو بھی بہا رہے ہیں‘ یہ بڑے قدم ہیں‘ یہ قدم ثابت کرتے ہیں عالمی ضمیر ابھی مرا نہیں‘ انسانوں کے اندر انسانیت آج بھی زندہ ہے‘میں جب بھی یہ دیکھتا ہوں تو میرا سینہ فخر سے پھول جاتا ہے مگر جب میں افغانستان‘ عراق اور شام کے مسلمانوں کے ساتھ عالمی برادری کا رویہ دیکھتا ہوں یا فلسطین اور کشمیر کے بے گناہ شہریوں کا خون ابلتا دیکھتا ہوں تو میں بے اختیار سوچتا ہوں کیا یہ انسان نہیں ہیں؟ کیا دنیا کو ان کے بارے میں بھی نہیں سوچنا چاہیے؟

دنیا میں کروڑوں بے گناہ لوگ اب تک سفید اور براﺅن اور عیسائی اور مسلمان کی غلط جنگ کا رزق بن چکے ہیں‘ آدھی دنیا اس وقت تک قبرستان ہو چکی ہے اور اس قبرستان کے پیچھے صرف دو عزائم ہیں‘ اسلحے کی فروخت اور نسلی نفرت‘ یہ دونوں عزائم انسانیت کو نگلتے چلے جا رہے ہیں‘ کاش کوئی عالمی لیڈر اس پر بھی آواز اٹھائے‘ یہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی جیسے لوگوں کو بتائے لوگوں کو بوئنگ میکس سے اتنا خطرہ نہیں جتنا خطرہ میکس نفرت سے ہے۔

دنیا آج نیوزی لینڈ کے شہریوں کی طرح پرامن مسلمانوں کے پیچھے کھڑی ہو جائے مسلمان خود اپنے ہاتھوں سے اپنی صفوں میں چھپے دہشت گردوں کو قتل کر دیں گے لیکن آپ میکس طیاروں کو روک لیتے ہیں مگر نسل پرستی اور مذہبی نفرت کے سیارے فضا میں اڑاتے چلے جا رہے ہیںاور یہ وہ غلط پالیسی ہے جو زمین جیسی جنت کو دوزخ بنا رہی ہے‘ اہل مغرب کو اب اس میکس سوچ کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا ورنہ آج مسلمان مر رہے ہیں اور کل پوری انسانیت مر جائے گی۔

The post میکس طیارے نہیں میکس سوچ بدلیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/22/561663

Thursday, March 21, 2019

خدا خوفی کریں

شوکت عزیزکا دور تھا‘ چین کے صدر ہوجن تاﺅپاکستان کے دورے پر آئے‘ شوکت عزیز چینی صدر کو بلیو ایریا کے راستے ایوان صدر لائے‘ وزیراعظم نے صدر کو بتایا‘ بلیو ایریا اسلام آباد کاکمرشل ڈسٹرکٹ ہے‘ اس کے پلاٹس بیجنگ اور شنگھائی سے زیادہ مہنگے ہیں‘ ہمارا سی ڈی اے ایک پلاٹ بیچ کر اپنے ملازمین کی سالانہ تنخواہیں پوری کر لیتا ہے وغیرہ وغیرہ‘ ہوجن تاﺅنے بات مکمل ہونے کے بعد پوچھا ”پرائم منسٹر یہ بتائیے اسلام آباد کا میئر کون ہے“۔

شوکت عزیز نے بتایا ”دارالحکومت میں میئر نہیں ‘تمام انتظامات ایک سول سرونٹ چلا رہا ہے“ چینی صدر نے مسکرا کر کہا ”یہ شخص اگر چین میں ہوتا تو ہم اسے پھانسی دے دیتے“ وزیراعظم نے حیرت سے پوچھا ”سر وہ کیوں؟“ ہوجن تاﺅنے جواب دیا ”اسلام آباد اگر ہمارے پاس ہوتا اور اس کے کمرشل ڈسٹرکٹ کی دو سائیڈوں پر بڑی بڑی لفٹیں نہ لگی ہوتیں اور دائیں اور بائیں سو سو منزل کی عمارتیں نہ کھڑی ہوتیں تو ہم اپنے میئر کو عبرت کی نشانی بنا دیتے‘ آپ بھی اس شہر کے باس کو پھانسی دے دیں اور یہ اس شخص کے حوالے کریں جو آپ کے بلیو ایریا کو بیجنگ اور شنگھائی کی طرح کا کمرشل ڈسٹرکٹ بنا دے“ شوکت عزیز مسکرا کر رہ گئے‘ چینی صدر دورے کے بعد واپس چلے گئے لیکن ان کا فقرہ شوکت عزیز کے دل میں چبھتا رہا‘ ہو جن تاﺅ کے بعد وزیراعظم نے چیئرمین سی ڈی اے کو بلوایا‘ سارا واقعہ سنایا اور اس سے کہا” مجھے بلیو ایریا کی دونوں سائیڈ پر بڑی بڑی کنسٹرکشن لفٹیں اوپر نیچے جاتی نظر آنی چاہئیں‘ پلاٹس ہیں تو نیلام کر دو‘ پلازے بنے ہیں تو انہیں نئی منزلیں بنانے کی اجازت دے دو‘ یہ شہر اب بیجنگ یا شنگھائی نظر آنا چاہیے اور آپ نے اگر یہ نہ کیا تو میں وہی کروں گا جس کا مشورہ چینی صدر نے دیا تھا“ چیئرمین نے اثبات میں سر ہلایا اور بلیو ایریا کو شنگھائی اور بیجنگ بنانا شروع کر دیا‘ آپ اگر آج بلیو ایریا میں نکلیں تو آپ کو نصف درجن اونچی عمارتیں نظر آتی ہیں‘ یہ تمام عمارتیں اس چیئرمین کا کمال ہے۔

وہ آیا‘ کام کیا اور پورا شہر بدل دیا لیکن آپ ستم ظریفی دیکھئے ‘وہ اس وقت کنسٹرکشن لفٹیں لگوا کر پھانسی سے بچ گیا مگر وہ پرفارم کرنے‘ کام کرنے اور ڈیلیور کرنے کے جرم میں پچھلے 11 سال سے پھانسی پر لٹک رہا ہے‘ یہ اس شخص کی ہمت ہے یہ 11 برس پھانسی گھاٹ پر لٹکنے کے باوجود ابھی تک زندہ ہے ورنہ یہ بریگیڈیئر اسد منیر سے کہیں پہلے مرکھپ گیا ہوتا ۔وہ شخص کون ہے‘ وہ کامران لاشاری ہے‘ میں دل سے سمجھتا ہوں پاکستان کی بیورو کریسی نے کامران لاشاری جیسے بہت کم لوگ پیدا کئے ہیں۔

یہ شخص صرف شخص نہیں یہ حسن ذوق‘ ڈیلیوری اور پرفارمنس کا ہمالیہ ہے‘ آپ پاکستان میں کسی سائیڈ پر نکل جائیں آپ کو اگر وہاں خوبصورتی اور سہولت دونوں اکٹھے مل جائیں تو آپ آنکھیں بند کر کے اعلان کر دیں یہ جگہ‘ یہ محکمہ کبھی نہ کبھی کامران لاشاری کے اختیار میں رہا ہو گا‘ مجھے اس شخص کی صلاحیتیں اور کام کرنے کی استطاعت حیران کر دیتی ہے اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں انسان اگر کچھ کرنا چاہے تو یہ اس چھوٹی سی زندگی میں بھی نسلوں کا کام کر جاتا ہے لیکن جب میں اس شخص کے ساتھ ہونے والا سلوک دیکھتا ہوں تو میری آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔

ہم جانتے ہی نہیں ہیں ہم نے کتنا بڑا شخص سسٹم کی تنگ اور تاریک گلیوں میں روند دیااور یہ شخص اگر اکیلا ہوتا تو بھی شاید زیادہ خرابی نہ ہوتی لیکن یہ سول بیورو کریسی کا ہیرو تھا‘ آپ آج سے بیس سال پہلے ڈی ایم جی کے جس افسر سے بھی پوچھتے تھے تم سروس میں کیا بننا چاہتے ہو تو وہ فوراً جواب دیتا تھا کامران لاشاری لیکن آپ آج کسی نوجوان افسر سے پوچھ لیں وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر جواب دے گا میں صرف نوکری کرنا چاہتا ہوں‘ میں لاشاری بن کر عبرت کی نشانی نہیں بننا چاہتا۔

کیا یہ زیادتی نہیں!کامران لاشاری2003ءسے 2008ءتک سی ڈی اے کے چیئرمین رہے‘ یہ 11سال سے چارج چھوڑ چکے ہیں‘ یہ 2012ءمیں ریٹائر بھی ہو گئے لیکن احتساب نے آج تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑا‘ یہ آج بھی فائلیں اٹھا اٹھا کر پھر رہے ہیں‘ ان کی زندگی کے 11قیمتی سال بریگیڈیئر اسد منیر کی طرح خود کو بے گناہ ثابت کرتے گزر گئے مگر مسائل کا دور ختم نہیں ہو رہا‘ ان کے خلاف چھ سو موٹو نوٹس ہوئے اور 12 کیس بنے‘ زندگی کا مشکل ترین سوموٹو ایف نائین پارک میں کنٹری کلب اور میکڈونلڈ کا آﺅٹ لیٹ تھا۔

افتخار محمد چودھری ان دنوں ملک کے ایماندار ترین‘ محب وطن ترین اور عقل مند ترین شخص تھے‘ کامران لاشاری ان کی عقل مندی‘ حب الوطنی اور ایمانداری کی زد میں آگئے‘ میں آج بھی ایف نائین پارک میں کنٹری کلب کی ادھوری عمارت کے قریب سے گزرتا ہوں تورک کر قوم کی عقل پر فاتحہ پڑھتا ہوں‘ ملک کے اربوں روپے افتخار محمد چودھری کی انا کی نذر ہو گئے‘ کلب بنانے والے بھی قبروں میں پہنچ گئے‘ زمین بھی برباد ہوئی‘ عمارت بھی اور الٹا عمارت کی حفاظت پر ہر مہینے لاکھوں روپے بھی خرچ ہو رہے ہیں۔

یہ عمارت کسی دن استعمال کے بغیر ہی گر جائے گی اور ذمہ دار کون ہو گا؟ آپ کمال دیکھئے‘ عمارت بنانے والے پھنس گئے اور جن کی وجہ سے اربوں روپے برباد ہو گئے وہ مزے کر رہے ہیں اور اب کامران لاشاری کے خلاف ایک تازہ ریفرنس تیار ہو رہا ہے اور یہ اس شخص کےلئے ذلت کی انتہا ہے۔یہ ذلت کیا ہے؟ آپ ملاحظہ کیجئے‘ جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی شروع ہوئی‘ سفارت خانے دہشت گردوں کا خصوصی نشانہ تھے‘ حکومت نے سفارتی علاقے کے گرد حفاظتی دیوار بنا دی اور یہ علاقہ عام لوگوں کےلئے ممنوعہ قرار دے دیا‘ ملک بھر سے سینکڑوں لوگ ویزے کےلئے آتے تھے۔

یہ لوگ ڈپلومیٹک انکلیو میں اپنی گاڑیاں لے جا سکتے تھے اور نہ ہی پیدل جا سکتے تھے‘ پولیس نے ایک پرائیویٹ شخص محمد حسین کو سیکورٹی کلیئرنس کے بعد شٹل ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دے دی‘ اس کے پاس صرف دو ہائی روف گاڑیاں تھیں‘ ایک گاڑی مسافروں کو چھوڑنے جاتی تھی اور دوسری واپس لے کر آتی تھی‘ درمیان کے وقفے میں لوگ خاندان سمیت کھلے آسمان کے نیچے انتظار کرتے تھے اور یہ ان لوگوں کی تذلیل تھی‘ چیئرمین سی ڈی اے ایک دن اس سائیڈ سے گزرے۔

لوگوں کو سڑک کے کنارے کھڑے دیکھا‘ پوچھا ‘ پتہ چلا یہ بے چارے ویزوں کےلئے آئے ہیں‘ کامران لاشاری کو دکھ ہوا‘ یہ دنیا دیکھ چکے ہیں‘ ان کا خیال تھا دنیا کے برے سے برے ملک میں بھی سفارت خانوں کے وزیٹرز کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوتا‘سی ڈی اے بورڈ کی میٹنگ میں ایشو لایا گیا‘ آج جہاں چین کی ایمبیسی ہے اس کے سامنے جنگل میں ایک ویران سی جگہ تلاش کی گئی‘ سی ڈی اے نے ٹریکٹر چلا کر وہ زمین سیدھی کی‘ اشتہار دیا اور یہ زمین سات سال کےلئے شٹل سروس کےلئے الاٹ کر دی۔

الاٹی کو اپنی جیب سے ویٹنگ روم تیار کرنے کی اجازت دے دی گئی‘ سی ڈی اے کا ایک پیسہ خرچ نہیں ہوا‘ یہ جگہ سات سال بعد سی ڈی اے کو واپس مل گئی‘ کمرشل ایکٹویٹی کی وجہ سے جگہ کی مالیت بڑھ گئی‘ یہ اربوں روپے کی ہو چکی ہے‘ سی ڈی اے اگر آج نیلام کرے تو اسے ایک سے دو ارب روپے مل جائیں گے‘ یہ جگہ اب کامران لاشاری اور اس کی بنائی کمیٹی کے گلے پڑ گئی ہے‘ کمیٹی کے دو ارکان سابق ممبر پلاننگ بریگیڈیئر نصرت اللہ اورڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پلاننگ غلام سرور سندھواس وقت جیل میں ہیں جبکہ نیب کامران لاشاری کے خلاف ریفرنس تیار کر رہا ہے۔

نیب کا خیال ہے یہ ٹھیکہ غلط دیا گیا تھا‘ یہ کم از کم آٹھ دس کروڑ روپے میں ہونا چاہیے تھا‘ لاشاری صاحب بار بار اپنی پوزیشن واضح کررہے ہیں‘ یہ بتارہے ہیں شہر میں اس وقت ویزے کےلئے آنے والے لوگوں کےلئے کوئی انتظار گاہ نہیں تھی‘ یہ زمین بھی ویرانہ تھی اور کوئی پارٹی اس ویرانے پر کروڑ روپے خرچ کرنے کےلئے تیار نہیں تھی‘ ملزم محمد حسین پہلے سے شٹل سروس چلا رہا تھا‘ یہ سیکورٹی کلیئرڈ بھی تھا چنانچہ ہم نے ”خود بناﺅ اور خود چلاﺅ“ کی بنیاد پر یہ زمین اسے لیز کر دی۔

سی ڈی اے کا اس پر ایک پیسہ خرچ نہیں ہوا لیکن ملک کا سینئر ترین بیورو کریٹ جونیئر ترین تفتیشی افسر کو یہ بات سمجھا نہیں پا رہا‘ وہ ان کا موقف سننے اور سمجھنے کےلئے تیار نہیں‘ کمیٹی کے ارکان بریگیڈیئر نصرت اللہ اورغلام سرورسندھو جیسے سینئر افسر تھے‘ یہ اس وقت جیل میں پڑے ہیں اور کامران لاشاری اپنی گردن کا ناپ لے رہے ہیں۔آپ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے کامران لاشاری کا بیٹا بلال لاشاری فلمیں بناتا ہے‘ اس کے بیڈروم میں ایوارڈز کی الماری ہے جبکہ کامران لاشاری کے کمرے میں مقدموں اور ریفرنسز کی الماری پڑی ہے۔

بیٹا ایوارڈز دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا ہے جبکہ یہ مقدموں کی فائلوں کے درمیان سوتے ہیں اور درمیان میں اٹھتے ہیں‘ یہ کہتے ہیں میں نے زندگی میں صرف دو مواقع پر محنت کی‘ میں جب سی ایس ایس کررہا تھا اور میں نے جب مقدمے بھگتنا شروع کئے اور یہ وہ حالات ہیں جن میں بریگیڈیئر اسد منیر خودکشی کر چکے ہیں اور بریگیڈیئر نصرت اور کامران لاشاری ڈپریشن کے اس لیول پر پہنچ چکے ہیں جس پر اگر یہ خودکشی نہیں کرتے تو یہ فوت ضرور ہو جائیں گے۔

کیا کام کرنے والوں کے ساتھ یہ سلوک ہونا چاہیے‘ کیا ہم انہیں یہ ایوارڈ دیتے ہیں؟ آج کامران لاشاری‘ احد چیمہ اور فواد حسن فواد کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اور جس سلوک سے تنگ آ کر اسد منیر نے خودکشی کر لی اس سے پوری بیورو کریسی ڈی مورلائزڈ ہو چکی ہے‘ آج افسر فائل کو ہاتھ لگانے کےلئے تیار نہیں ہیں‘حکومت کو آدھے سے زیادہ اداروں کے سربراہ نہیں مل رہے اور جو ہیں وہ کام نہیں کر رہے‘ ہم نے اگر حالات کی اس سنگینی کا ادراک نہ کیا تو یہ حکومت سرکاری مشینری کی سست روی کا شکار ہو جائے گی۔

نیب پچھلی دو حکومتوں کو کھا گیا اور یہ اب تیسری کو بھی نگل جائے گا چنانچہ خدا خوفی کریں‘ لوگوں پر رحم کریں‘ آپ کو مزید کتنی لاشیں چاہئیں!کیا اس ملک میں اب ہر شخص کو خود کو بے گناہ اور ایماندار ثابت کرنے کےلئے بریگیڈیئر اسد منیر کی طرح مرنا پڑے گا‘ کیا اب صرف لاشوں کے ذریعے فائلیں بند ہوں گی‘ خدا خوفی کریں!۔

The post خدا خوفی کریں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/21/561347

Tuesday, March 19, 2019

فیل سٹیٹس

وہ کچھ بھی نہیں تھا‘ وہ بس ایک عام شخص تھا‘ غریب‘ ناکام اور بے نام‘ باپ روڈنی درمیانے درجے کا ایتھلیٹ تھا‘ وہ بھی زندگی میں کوئی بڑا میڈل حاصل نہیں کر سکا‘ ماں سکول ٹیچر تھی‘ وہ بھی کوئی کمال نہ کر سکی‘ بہن بھی ایک عام سی آسٹریلین لڑکی تھی‘ وہ چاروں نیو ساﺅتھ ویلز کے درمیانے درجے کے شہر گرافٹن کے مضافات میں رہتے تھے‘ گاﺅں بھی گم نام تھا‘ وہ سکول میں بھی اوسط درجے کا طالب علم تھا‘ کبھی اچھے نمبر لے سکا اور نہ کسی نے اس کےلئے تالی بجائی‘

تعلیم سکول سے آگے نہ بڑھ سکی‘ وہ یونیورسٹی تک بھی نہیں پہنچ سکا‘ روزگار کا وقت آیا تو اسے صرف ایک کام آتا تھا‘ وہ ورزش کا ایکسپرٹ تھا‘ جم انسٹرکٹر کا کورس کیا اور گاﺅں کے جم ”بگ ریور“ میں بھرتی ہو گیا‘ وہ 2009ءسے 2011ءتک جم میں کام کرتا رہا‘ والد روڈنی ٹیرنٹ کو کینسر ہوا اور وہ 2010ءمیں فوت ہو گیا‘ والد کی وفات نے اس کی زندگی کی بے مقصدیت بڑھا دی‘ جمع پونجی اکٹھی کی اور وہ ورلڈ ٹور پر نکل گیا‘ وہ یورپ گیا‘ شمالی کوریا‘ بھارت اور جاپان کے وزٹ کئے اور وہ پاکستان بھی آیا‘ پاکستان میں ہنزہ اورنگر کے علاقے اسے بہت پسند آئے‘ وہ پاکستانیوں کی سادگی‘ مہمان نوازی اور گرم جوشی سے بہت متاثر ہوا‘ اس کی زندگی ٹھیک چل رہی تھی لیکن پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ سٹاک ہوم میں 7 اپریل 2017ءکو ازبکستان کے شہری رحمت ایکیو لوف نے کوئین سٹریٹ میں سیاحوں پر ٹرک چڑھا دیا‘ پانچ لوگ ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے‘ مرنے والوں میں گیارہ سال کی بچی ایبا بھی شامل تھی‘ رحمت ایکیو لوف نے سویڈن میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی تھی‘ اس کی درخواست مسترد ہو گئی‘ اسے غصہ آ گیا‘ ٹرک اغواءکیا اور سیاحوں پر چڑھا دیا‘ یورپ کے میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘ یہ بار بار 11 سال کی بچی ایبا کو دکھاتا تھا‘ میڈیا مسلمان دہشت گردوں کا حوالہ بھی دیتا تھا اور لوگوں کو مسلمانوں سے ہوشیار رہنے کے مشورے بھی دیتا تھا‘ وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح یہ خبر بار بار دیکھتا رہا‘

یہ واقعہ اسے دہشت گردی کی تحقیق کی طرف لے گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا دنیا میں بے شمار ایسے گورے موجود ہیں جو عام اور گم نام تھے لیکن پھر انہوں نے مسلمانوں سے بدلہ لیا اور وہ تاریخ کا حصہ بن گئے‘ وہ ریسرچ کرتا چلا گیا اور ویانا کے 1683ءکے آسٹرین جوان اس کے سامنے آتے چلے گئے جنہوں نے عثمانی فوجوں کو دوسری بار شکست دی تھی‘ وہ چارلس مارٹل سے بھی واقف ہو گیا جس نے سپین میں مسلمانوں کو ہرایا‘

وہ اس انتونیو بریگیڈن کو بھی جان گیا جس نے وینس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ترک مغویوں کو قتل کر دیا‘ وہ خلافت عثمانیہ کے البانوی باغی سکندر برگ کو بھی جان گیا‘ وہ اس الیگزینڈر بیسونیٹ سے بھی واقف ہو گیا جس نے 2017ءمیں کینیڈا کی مسجد پر حملہ کیا اور 6 مسلمان نمازیوں کو شہید کر دیا اور وہ اس اینٹون لنڈن پیٹرسن کو بھی جان گیا جس نے سویڈن میں دو مہاجر بچے قتل کر دیئے تھے‘ یہ تمام لوگ اس کی طرح گم نام‘ ناکام اور غیر تعلیم یافتہ تھے‘

دنیا ان کے خاندانوں‘ شہروں اور بیک گراﺅنڈ سے واقف نہیں تھی لیکن پھر یہ لوگ باہر نکلے‘ مسلمانوں پر حملے کئے اور پوری دنیا میں مشہور ہو گئے‘ اس تحقیق نے اسے دو نئے راستے دکھا ئے‘ مسلمانوں سے نفرت اور پوری دنیا میں مشہور ہونے کا آسان ترین طریقہ‘ یہ دونوں راستے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پوری شخصیت کو نگل گئے۔آپ جان چکے ہوں گے یہ برینٹن ٹیرنٹ کی کہانی ہے‘ وہ برینٹن ٹیرنٹ جس نے جمعہ 15مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں نمازیوں پر حملہ کیا اور 50 لوگوں کو شہیداور48 کوزخمی کر دیا‘

شہداءمیں 9 پاکستانی اور دو سال‘ چار سال اور 13 سال کے بچے بھی شامل تھے‘ یہ شقی القلب شخص آسٹریلیا سے نیوزی لینڈ آیا‘ کرائسٹ چرچ میں مسجدوں کی ریکی کی‘ گاڑی میں پانچ مشین گنز رکھیں‘ سوشل میڈیا پر اپنا منشور چڑھایا‘ سر پر کیمرہ لگایا‘لائیو کوریج شروع کی اور مسجد کے نہتے اور بے گناہ مسلمانوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں‘ نمازیوں نے جان بچانے کےلئے باہر کی طرف دوڑ لگائی ‘ یہ پیچھا کرتا ہوا پارکنگ تک آیا‘ یہ تین بار مسجد میں گیا اور تین بار نمازیوں پر گولیاں برسائیں‘

ٹیرنٹ نے ایک نمازی کو قریب پہنچ کر بھی گولیوں سے چھلنی کیا‘ یہ النور مسجد کے بعد لن ووڈ کی مسجد میں پہنچا اور اس نے 8 نمازیوں کو وہاں بھی گولی مار دی‘ یہ ہولناک واقعہ تھا اور اس واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا‘ پوری دنیا سکتے میں چلی گئی‘ یہ واقعہ ہونا تھا اور ہو گیا لیکن یہ اپنے پیچھے بے شمار نکتے چھوڑ گیا‘ میرا خیال ہے دنیا بالخصوص مغربی دنیا کو اب ان نکتوں کے بارے میں سوچنا چاہیے‘ یہ سوچ دنیا کو بچا سکے گی ورنہ برینٹن ٹیرنٹ جیسے لوگ جنت جیسی اس دنیا کو دوزخ بنا دیں گے‘

وہ نکتے کیا ہیں‘ آئیے ہم ان پر غور کرتے ہیں‘ پہلا نکتہ دہشت گردی ہے‘ دنیا کا خیال تھا مسلمان دہشت گرد ہیں‘ یہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور افغانستان‘ عراق اور پاکستان ان دہشت گردوں کی نرسریاں ہیں لیکن برینٹن ٹیرنٹ نے ثابت کر دیا دہشت گرد گورے بھی ہو سکتے ہیں‘ یہ آسٹریلیا جیسے جدید ترین ملکوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ نیوزی لینڈ جیسے ملکوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں‘ اس شخص نے ثابت کر دیا دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا شہریت نہیں ہوتی‘

یہ لوگ کہیں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں‘ دوسرا نکتہ دہشت گردوں کا کھوج ہے‘ مغربی دنیا ہمیشہ پاکستان جیسے ملکوں پرالزام لگاتی تھی تم اپنی صفوں میں چھپے دہشت گردوں کا اندازہ نہیں لگا پاتے‘ یہ پاکستانیوں کے ای میل اور سوشل میڈیا اکاﺅنٹ تک کھنگال لیتے تھے لیکن برینٹن ٹیرنٹ سال بھر دہشت گردی کا ڈیٹاسرچ کرتا رہا‘ اس نے 5 رائفلیں خریدیں‘ گولیاں لیں اور وہ رائفلوں پر اپنے دہشت گرد ہیروز کے نام بھی لکھتا رہا لیکن آسٹریلیا جیسے جدید ترین ملک کی خفیہ ایجنسیاں اس کے عزائم سے واقف نہ ہو سکیں‘ وہ کسی ادارے کی نظر میں نہیں آیا‘

یہ نکتہ ثابت کرتا ہے پاکستان ہو یا آسٹریلیا دنیا کا کوئی ملک دہشت گردوں کا اندازہ نہیں کرپاتا‘ برینٹن ٹیرنٹ نے یہ واردات فیس بک پر لائیو آ کر کی‘ وہ20منٹ لائیو رہا اور پوری دنیا اسے مسلمانوں کو قتل کرتے دیکھتی رہی لیکن وہ فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے کسی الرٹ سسٹم میں نہیں آسکا‘ وہ لائیو بھی رہا اور لوگ گھنٹوں اس کی فوٹیج ایک دوسرے کو بھجواتے بھی رہے لیکن سوشل میڈیا کمپنیاں فوٹیج روک سکیں اور نہ ہی لائیو کوریج‘ اس نکتے نے سوشل میڈیا کے حفاظتی اقدامات کی قلعی بھی کھول دی‘

تیسرا نکتہ ہم ہمیشہ یورپ کے سسٹم کی مثال دیتے ہیں‘ میں خود بھی یورپی نظام کا بہت بڑا وکیل ہوںلیکن کرائسٹ چرچ کے واقعے نے اس سسٹم کا ملمع بھی اتار دیا‘ برینٹن ٹیرنٹ نے جس وقت النور مسجد میں گولیاں چلانا شروع کیں‘ پاکستانی شہری سردار فیصل عباس اس وقت وضو کر رہا تھا‘ وہ فوری طور پر وضو خانے سے نکلا اور اس نے ٹیلی فون پر پولیس سٹیشن کو اطلاع دی‘ پولیس سٹیشن مسجد سے تین چار منٹ کے فاصلے پر تھا‘ ترقی یافتہ ملکوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے پولیس تین سے چار منٹ میں موقع واردات پر پہنچ جاتی ہے لیکن برینٹن ٹیرنٹ مسجد میں گولیاں برساتا رہا‘ وہ تین بار مسجد کے اندر اور باہر گیا‘

وہ پورے اطمینان کے بعد گاڑی میں بیٹھا اور دوسری مسجد کی طرف نکل گیا‘ اس نے وہاں بھی فائرنگ کی لیکن پولیس نہیں پہنچی‘ پولیس واقعے کے 20منٹ بعد موقع واردات پر آئی چنانچہ ثابت ہو گیا دہشت گردی کے بعد تیسری دنیا اور پہلی دنیا کی پولیس میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘یہ دونوں جوتے تلاش کرتے رہتے ہیں‘ چوتھا نکتہ جدید دنیا ہم جیسے ملکوں کو غیر محفوظ قرار دیتی تھی‘ یہ ملک اپنے شہریوں کو پاکستان‘ افغانستان‘ عراق اور شام کے دوروں سے روکتے تھے‘

نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کر دیا نیوزی لینڈ ہو‘ آسٹریلیا ہو یا پھر پاکستان ہو دنیا کا کوئی ملک اب محفوظ نہیں‘ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور مسلمان ہوں یا عیسائی دنیا کے تمام لوگ غیر محفوظ ہیں اور آخری نکتہ دنیا کو اب مسلمانوں سے اتنا خطرہ نہیں جتنا خطرہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی جیسے لوگوں سے ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کو جہنم بنا رہے ہیں‘ڈونلڈ ٹرمپ اگرمسلمانوں کے خلاف بات کریں گے یا نریند مودی کشمیریوں کی لاشوں کو گلیوں میں گھسیٹے گا تو پھر دنیا میں امن کیسے قائم ہو گا؟۔

دنیا کو اب شدت پسند لوگوں سے نبٹنا ہوگاوہ شدت پسند گورے ہوں‘ کالے ہوں یا پھر ہماری طرح براﺅن ہوں‘دنیا کو اب مذہب‘شہریت اور رنگ ونسل سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے مکالمہ کرنا ہوگا‘یہ مکالمہ اگر نہ ہوا اور دنیا نے اگر رنگ ونسل سے بالاتر ہو کر دہشت گرد کو دہشت گرد نہ سمجھا تو انسانیت فیل ہو جائے گی‘پوری دنیا فیل سٹیٹ بن جائے گی‘ ہمیں اب یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی انسانیت اس وقت فیل سٹیٹس کے درمیان کھڑی ہے‘ دنیا میں اب افغانستان اور نیوزی لینڈ میں کوئی فرق نہیں رہا‘ برینٹن ٹیرنٹ اور اسامہ بن لادن دونوں ایک ہیں۔

The post فیل سٹیٹس appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/19/560713

Sunday, March 17, 2019

شاید آپ کے پاس ہو

آرش درم بخش کے والدین ایران سے تعلق رکھتے تھے‘ ایران میں انقلاب شروع ہوا تو یہ لوگ فرانس بھاگ آئے‘ آرش 25 جولائی 1979ء کو پیرس میں پیدا ہوا‘ یہ پیدائشی فرنچ تھا‘ ہجرت یا نقل مقانی بے شمار نفسیاتی‘ سماجی اور تہذیبی مسائل لے کر آتی ہے‘ آرش درم بھی بچپن میں ان مسائل کا شکار رہا‘ والدین نے بے روزگاری بھی بھگتی‘ بیماریاں بھی دیکھیں اور بھوک بھی سہی‘ آرش نے بچپن میں بار ہا دیکھا یہ لوگ بھوکے سو رہے تھے جبکہ ہمسائے تیار خوراک کچرہ گھروں میں پھینک رہے تھے۔

آرش کا والد بعض اوقات بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے بھیک مانگنے پر بھی مجبور ہو جاتا تھا جبکہ والدہ کو دوسروں کے گھروں میں صفائی بھی کرنا پڑ جاتی تھی‘ آرش نے بھی بچپن ہی میں کام شروع کر دیا تھا‘ یہ محنتی تھا چنانچہ یہ زندگی میں ترقی کرتا چلا گیا‘ یہ وکیل بنا‘ وکالت میں نام پیدا کیا اور یہ بعد ازاں سیاست میں آگیا‘ یہ پیرس کا سٹی کونسلر منتخب ہو گیا‘ آرش کا بچپن محرومی میں گزرا تھا لہٰذا یہ جب پیرس میں خوراک ضائع ہوتے دیکھتا تھا تو اسے بہت افسوس ہوتا تھا‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہوگی 2015ء تک فرانس تیار خوراک ضائع کرنے والے ملکوں میں پہلے نمبر پر تھا‘کیوں؟وجوہات بہت دلچسپ تھیں‘ فرنچ کھانے میں دنیا کے محتاط ترین اور صاف ترین لوگ ہیں‘آپ ان کی نفاست ملاحظہ کیجئے‘ کٹلری کا لفظ بھی فرنچ زبان سے نکلا‘ کٹلری (چھری‘ کانٹا‘ چمچ) کا استعمال مصر میں شروع ہوا‘ بازنطینی حکمرانوں نے استنبول میں اسے اشرافیہ کی زندگی کا حصہ بنایا اور یہ بعد ازاں یونان کے ذریعے یورپ میں داخل ہو گئی‘ برطانیہ میں سترہویں صدی میں کٹلری کا پہلا کارخانہ لگا اور یوں دنیا میں ”ٹیبل مینرز“ شروع ہو گئے‘ ٹیبل مینرز (کھانے کے آداب) کے بے شمار فوائد سامنے آئے لیکن اس کا ایک نقصان بھی ہوا اور وہ نقصان کھانے کا زیاں تھا‘ یورپ میں لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کھانا اگر ایک بار میز پر آ گیا تو یہ دوسری بار استعمال کے قابل نہیں رہتا لہٰذا یہ لوگ بچ جانے والا کھانا ضائع کردیتے تھے‘ فرانس اس معاملے میں پورے یورپ سے آگے تھا۔

فرنچ لوگ ہر سال 8 ملین ٹن تیار کھانا ضائع کرتے تھے‘ پورے یورپ میں 89 ملین ٹن جبکہ دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ ٹن تیار خوراک ضائع کر دی جاتی تھی‘ فرانس میں روایت تھی ریستوران میں جو کھانا میز پر سرو کر دیا گیا‘ گاہک نے اگر وہ نہیں کھایا یا اس کا کوئی حصہ بچ گیا تو عملہ گاہک کے اٹھنے کے بعد وہ کھانا کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیتا تھا‘ سٹورز میں بھی زائد معیاد خوراک ضائع کر دی جاتی تھی‘ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس ٹرینڈ میں تھوڑی سی تبدیلی آئی۔

لوگ ریستوران سے اپنا بچا ہوا کھانا پالتو جانوروں کیلئے پیک کرانے لگے‘ وہ پیکنگ اس زمانے میں ”ڈاگی بیگ“ کہلاتی تھی‘ یہ ٹرینڈ 1980ء کی دہائی تک چلتا رہا مگر پھر لوگوں نے یہ بھی ترک کر دیا‘ ان کا خیال تھا یہ ”چیپ“ لگتا ہے آپ اپنا بچا ہوا کھانا پیک کرائیں اور ساتھ ساتھ لے کر پھرتے رہیں‘ آرش درم بخش خوراک کا یہ زیاں بچپن سے دیکھ رہا تھا‘ وہ حیران ہوتا تھا فرانس میں 35 لاکھ لوگ خوراک کیلئے حکومت کے محتاج ہیں‘ لوگ کچرے کی ٹوکریوں سے خوراک نکال کر کھاتے ہیں اور دوسری طرف ٹنوں کے حساب سے تیار خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔

یہ ظلم ہے‘ یہ زیادتی ہے چنانچہ اس نے جنوری 2015ء میں خوراک کا زیاں رکوانے کیلئے دستخطی مہم شروع کی اور چارماہ میں دو لاکھ دستخط حاصل کر لئے‘ یہ ایشو اس کے بعد اسمبلی میں گیا اور اسمبلی نے 22مئی 2015ء کو بل پاس کر دیا‘فروری 2016ء میں فرانس کی سینٹ نے بھی بل متفقہ طور پرمنظور کرلیا‘ بل کے مطابق ملک بھر کی کوئی بھی ایسی سپر مارکیٹ جس کا رقبہ 400 مربع میٹر سے زائد ہو گا وہ کسی قسم کی خوراک ضائع نہیں کرے گی۔

سپر مارکیٹ اضافی خوراک مستحق لوگوں تک پہنچائے گی‘جانوروں کے استعمال میں دے گی یا پھر یہ کھاد بنانے والے اداروں کے حوالے کرے گی لیکن یہ اسے ضائع نہیں کرے گی‘ حکومت نے قانون بنا دیا تعلیمی اداروں میں بچوں کو خوراک کے بہتر استعمال اور خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کے طریقے بھی سکھائے جائیں گے تاکہ یہ بچے بڑے ہو کر خوراک کو محفوظ رکھیں‘ یہ اسے ضائع نہ کریں‘ یہ بل ایک انقلاب ثابت ہوااور فرانس میں خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کی باقاعدہ تحریک چل پڑی۔

فارن پالیسی میگزین نے اس سوشل اوئیرنیس کا سارا کریڈٹ آرش کو دیا اور اسے ”ہنڈرڈ تھنکر آف دی ورلڈ“ میں شامل کر لیا‘ آرش کی اس معمولی سی کوشش سے فرانس دنیا میں سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکل کر کم کھانا ضائع کرنے والے ملکوں میں آگیا‘ ایک شخص کی سوچ بہت بڑا انقلاب بن گئی‘ یہ انقلاب اب پوری دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے‘ یورپ کے بے شمار ملکوں کے ریستوران اب گاہک کو اس کی ضرورت سے زیادہ کھانا سرو ہی نہیں کرتے‘ گاہک اگر میز پر کھانا چھوڑ دے تو دیکھنے والے بھی ناراض ہو جاتے ہیں اور تین یورپی ملکوں میں گاہکوں کو اضافی کھانے پر جرمانہ بھی ہو جاتا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

آرش درم بخش کی کہانی اور کنٹری بیوشن یہاں ختم ہو گیا اور یہاں سے ایک نئی تحریک شروع ہوتی ہے‘ فرانس میں کھانے کے بعد اب فالتو کپڑوں کے بچاؤ کی تحریک بھی چل رہی ہے‘ فرانس فیشن کے تین بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے‘ یہاں ہر سال کھربوں روپے کا کپڑا اور لباس مارکیٹ میں آتا ہے‘ سٹورز میں جگہ محدود ہوتی ہے چنانچہ سٹور مالکان فالتو بچ جانے والا کپڑا ضائع کر دیتے ہیں‘ یہ اسے کچرہ گھروں میں پھینک دیتے ہیں یا پھر یہ جلا دیا جاتا ہے یوں فرانس میں ہر سال 7 لاکھ ٹن کپڑا ضائع ہوتا ہے۔

یہ ضائع ہونے والے کپڑے صرف کپڑے نہیں ہوتے یہ قدرتی وسائل کا وسیع زیاں بھی ہوتے ہیں‘ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کاٹن کی ایک شرٹ پرکسان سے گاہک تک دو ہزار 700 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے چنانچہ پانچ سات سو روپے کی شرٹ صرف پانچ سات سو کانقصان نہیں ہوتا یہ پونے تین ہزار لیٹر پانی کا زیاں بھی ہوتا ہے‘ کپڑے کی تیاری‘ تراش خراش اور سلائی کے دوران وسیع پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی پیدا ہوتی ہے اور یہ پوری دنیا کے ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ایک پتلون اور ایک شرٹ پر 14 سو لوگوں کی محنت بھی خرچ ہوتی ہے اور یہ اپنی طبعی زندگی میں کم از کم 21 لوگوں کے کام آتی ہے چنانچہ ہم جب کوئی کپڑا ضائع کر دیتے ہیں تو ہم 21 لوگوں کو ان کی بنیادی ضرورت سے بھی محروم کرتے ہیں‘ ہم 14 سو لوگوں کی محنت بھی برباد کرتے ہیں‘ ہم دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیدائش کا راستہ بھی ہموار کرتے ہیں اور ہم پونے تین ہزار لیٹر پانی بھی ضائع کر دیتے ہیں‘ فرانس میں آرش جیسے لوگوں کا خیال ہے ہمیں خوراک کی طرح کپڑے اور لباس کو بھی ضائع ہونے سے بچانا چاہیے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آ سکے‘ یہ تحریک بڑی تیزی سے زور پکڑ رہی ہے‘ فرنچ پارلیمنٹ بہت جلد اس پر بھی قانون سازی کر دے گی۔

آپ اگر کسی دن ریسرچ کریں تو آپ کو دنیا کے مختلف کونوں میں آرش جیسے بے شمار لوگ ملیں گے‘ یہ لوگ دنیا کو خوبصورت اور قابل رہائش بنا رہے ہیں‘ آپ فائیو سٹار ہوٹلوں میں جائیں‘ آپ کو پانی کی ٹونٹی کے قریب لکھا ہواملے گا دنیا پانی کی شدید قلت کا شکار ہے‘ ہم پانی کی بچت کر رہے ہیں‘ آپ ہمارا ساتھ دیں‘ یہ عبارت صرف عبارت نہیں‘ یہ ایک تحریک ہے اور یہ تحریک بھی آرش جیسے لوگوں نے شروع کی اور یہ اب دنیا بھر کے فائیو سٹار ہوٹلوں کے ”ایس او پیز“ کا حصہ ہے۔

آپ ریسرچ کریں گے تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے دنیا کے بے شمار لوگ افریقہ میں خوراک‘ پانی اور رہائش کے مسائل پر بھی کام کر رہے ہیں‘ آرش جیسے لوگوں نے ایسے ”سٹرا“ بنا لئے ہیں آپ جن کے ذریعے گندے نالوں اور جوہڑوں کا پانی بھی پی سکتے ہیں‘ یہ سٹرا مٹی‘ جراثیم اور گند آپ کے جسم میں نہیں جانے دیتے‘ دنیا میں بے شمار لوگوں نے ادویات بینک بھی بنا رکھے ہیں‘ یہ لوگ مختلف گھروں سے فالتو ادویات جمع کرتے ہیں‘ انہیں ”ری پیک“ کرتے ہیں اور مریضوں تک پہنچا دیتے ہیں۔

مجھے آئر لینڈ میں چند لوگوں سے ملاقات کاموقع ملا‘ یہ لوگ معذوروں کے انتقال کے بعد ان کے لواحقین سے ان کی ویل چیئرز‘ باتھ روم کے آلات اور کپڑے حاصل کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ضرورت مند معذوروں کو پہنچا دیتے ہیں‘ یہ میڈیکل شوز بھی جمع کرتے ہیں اور پاؤں کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو دے دیتے ہیں‘ برطانیہ میں ایک این جی او پرانی کتابیں اکٹھی کرتی ہے اور یہ کتابیں بعد ازاں غریب ملکوں میں پہنچا دیتی ہے‘ میں نے نیوزی لینڈ میں بے شمار موبائل لائبریریاں دیکھیں‘ یہ لائبریریاں لوگوں کی ملکیت ہیں۔

یہ کسی فارغ دن کسی محلے میں چلے جاتے ہیں اور موبائل لائبریری سجا کر بیٹھ جاتے ہیں‘ لوگ آتے ہیں‘ کتابیں لیتے ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں‘ عام لوگ موبائل لائبریریوں میں پرانی کتابیں رکھ کر اپنی ضرورت کی کتاب لے جاتے ہیں‘ یہ علم کی ترسیل کا شاندار طریقہ ہے اور یہ طریقہ اب تک ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدل چکا ہے۔
میں جب بھی آرش جیسے لوگوں کی جدوجہد اور ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے ان کی پذیرائی دیکھتا ہوں تو میں جیلس ہو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں نیکی کے یہ سارے کام صرف یورپ میں کیوں ہوتے ہیں‘ ہم مسلمان ان میدانوں میں کیوں مار کھا رہے ہیں‘ ہم کب جاگیں گے‘ ہم کب انسان ہونے کا ثبوت دیں گے اور ہم کب آرش کی طرح لوگوں کیلئے مفید ثابت ہوں گے؟ میرے پاس اس کب کا کوئی جواب نہیں‘ شاید آپ کے پاس ہو!

The post شاید آپ کے پاس ہو appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/17/559955

Friday, March 15, 2019

تنگ جوتے کی تکلیف

گورنر صاحب نیچے آئے‘ مونچھوں کو تاﺅ دیا اور بھاری آواز میں بولے ”کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے خواہ آپ کو جلوس روکنے کےلئے گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“ ایس ایس پی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا‘ وہ گھبرا کر جیب میں رومال ٹٹولنے لگا‘ گورنر صاحب اپنے دفتر کی طرف چل پڑے‘ ایس ایس پی لپک کر ان کے پیچھے دوڑا اور سانس سنبھالتے سنبھالتے بولا ”سر لیکن مجھے اس کےلئے آپ کا تحریری حکم چاہیے ہو گا“ ۔

گورنر صاحب غصے سے دھاڑے ”کیا میرا زبانی حکم کافی نہیں“ ایس ایس پی کی گردن تک پسینے سے بھیگ گئی‘ وہ رک رک کر بولا ”سر ہم تحریری حکم کے بغیر گولی نہیں چلا سکتے“ گورنر نے غصے سے گردن ہلائی اور زور سے آواز لگائی ”سیکرٹری کہاں ہے!“ گورنر کی آواز پورے گورنر ہاﺅس میں گونجی‘ دھڑا دھڑ دروازے کھلے اور ہر قسم کا سیکرٹری پیش ہو گیا‘ گورنر نے سب کی طرف دیکھا اور اونچی آواز میں کہا ”میں نے ایس ایس پی کو سٹوڈنٹس پر گولی چلانے کا حکم دے دیا ہے‘ یہ جو کاغذ‘ جو تحریری حکم مانگیں آپ انہیں دے دیں لیکن مجھے کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے اور جو آئے اسے زندہ واپس نہیں جانا چاہیے“ کوریڈور میں سراسیمگی‘ خوف اور پریشانی کے ڈھیر لگ گئے اور تمام افسر خوف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔یہ گورنر نواب آف کالا باغ تھے‘ یہ 1960ءسے 1966ءتک پنجاب کے گورنر رہے‘ پاکستان اس وقت مغربی پاکستان ہوتا تھا اور نواب صاحب اس پورے مغربی پاکستان کے واحد گورنر تھے‘ یہ صرف چھ سال گورنر رہے لیکن پنجاب میں آج بھی ان کی انتظامی گرفت کی مثالیں دی جاتی ہیں‘ لوگ آج بھی کہتے ہیں پنجاب کی تاریخ میں حکمران صرف ایک ہی گزرا ہے اور وہ تھا نواب آف کالاباغ‘ نواب صاحب نڈر شخص تھے‘ ان کا ہر حکم کلیئر اور ڈائریکٹ ہوتا تھا اور وہ بعد ازاں اس کی ساری ذمہ داری بھی قبول کرتے تھے۔

یہ بھی مشہور تھا وہ حکم جاری کرنے کے بعد واپس نہیں لیتے تھے خواہ انہیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے‘ بیورو کریسی ان کی اس خو سے واقف تھی چنانچہ نواب صاحب نے جب طالب علموں پر گولی چلانے کا حکم دیا تو گورنر ہاﺅس سے لے کر سیکرٹریٹ تک سراسیمگی پھیل گئی‘ مال روڈ پر طالب علموں پر گولی چلانا اور پھر لاشیں اٹھانا کوئی آسان کام نہیں تھا‘ یہ سانحہ ملک کی بنیادیں تک ہلا سکتا تھا لیکن نواب صاحب کو سمجھانا ممکن نہیں تھا لہٰذا تمام افسر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔

افسروں نے اس ایشو کا کیا حل نکالا؟ ہم آپ کو یہ بتائیں گے لیکن آپ پہلے اس واقعے کا پس منظر ملاحظہ کیجئے‘ یہ ایوب خان کا دور تھا‘ ملک میں طالب علموں نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کر رکھی تھی‘ یہ سڑکوں پر نکلتے تھے‘ ایوب خان کے خلاف نعرے لگاتے تھے اور پولیس روکتی تھی تو یہ پتھراﺅ کر کے بھاگ جاتے تھے‘ یہ سلسلہ چلتے چلتے لاہور پہنچ گیا‘ گورنمنٹ کالج کے طالب علموں نے مال روڈ پر جلوس نکالنے کا اعلان کیااور لاہور کے تمام کالجوں کے طالب علم ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

حکومت پریشان ہو گئی‘ گورنر صاحب نے جلوس سے ایک دن پہلے ایس ایس پی کو بلا لیا‘ یہ صبح رہائشی کمرے سے نکلے تو ایس ایس پی سیڑھیوں کے نیچے کھڑا تھا‘ گورنر نے اسے دیکھا اور حکم جاری کر دیا”جلوس نہیں نکلنا چاہیے خواہ طالب علموں پر گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“ اور آپ باقی کہانی پڑھ چکے ہیں۔بیورو کریسی نے گورنر کو نتائج سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ نواب صاحب کو ذاتی ملازمین کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی گئی‘ نواب صاحب نے صاف انکار کر دیا۔

چیف سیکرٹری نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا لیکن جھاڑ کھا کر واپس آ گیا اور نواب صاحب کے صاحبزادے نے سمجھانے کی ہمت کی لیکن وہ بھی گالیاں کھا کر باہرآ گیا‘ گورنر صاحب نے شام کے وقت گولی چلانے کا تحریری حکم بھی جاری کر دیا اور یہ حکم اخبارات اور پورے صوبے کی بیورو کریسی تک بھی پہنچ گیا‘ اگلی صبح لاہور کی بیورو کریسی کےلئے مشکل ترین دن تھا‘ پولیس نے مال روڈ گھیر لیا‘ طالب علم کالجوں میں اکٹھے ہوئے‘ نعرے لگانا شروع کئے۔

پولیس نے رائفلیں سیدھی کر لیں اور پھر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا‘ طالب علم نعرے لگانے کے بعد اپنی اپنی کلاسز میں واپس چلے گئے‘ ان میں سے کوئی مال روڈ پر نہیں نکلا‘ پولیس شام تک سڑک پر کھڑی رہی‘ صدر ایوب خان راولپنڈی میں بیٹھ کر لاہور کی صورت حال واچ کر رہے تھے‘ وہ طالب علموں کی پسپائی پر حیران رہ گئے اور انہوں نے گورنر صاحب کو ٹیلی فون کر کے پوچھا ”نواب صاحب میں آپ کو مان گیا لیکن آپ نے یہ کیا کیسے؟“۔

نواب صاحب مونچھوں کو تاﺅ دیا کرتے تھے۔وہ بائیں مونچھ کو چٹکی میں دبا کر بولے ”صدر صاحب میں جانتا ہوں لاہور کے تمام بیورو کریٹس کے بچے‘ بھانجے اور بھتیجے کالجوں میں پڑھتے ہیں‘ یہ افسر میری فطرت سے بھی واقف ہیں‘ یہ جانتے ہیں میں نے اگر گولی کا حکم دیا ہے تو پھر گولی ضرور چلے گی چنانچہ میں نے ان کی نفسیات سے کھیلنے کا فیصلہ کیا‘ میں نے حکم دے دیا‘ مجھے یقین تھا یہ لوگ کل اپنے بچوں کو کالج نہیں جانے دیں گے۔

ان کے بچے اپنے دوستوں کوبھی صورت حال کی نزاکت سے آگاہ کر دیں گے اور یوں کوئی طالب علم مال روڈ پر نہیں نکلے گا“ صدر ایوب خاموشی سے سنتے رہے‘ نواب آف کالا باغ نے اس کے بعد یہ تاریخی فقرہ کہا”صدر صاحب! انسان کی فطرت ہے یہ دوسروں کےلئے سخت اور اپنے لئے نرم فیصلے کرتا ہے اور میں ہمیشہ انسان کی اس خامی کا فائدہ اٹھاتا ہوں‘ میں اپنے فیصلوں میں فیصلہ کرنے والوں کا سٹیک شامل کر دیتا ہوں چنانچہ رزلٹ فوراً اور نرم آتا ہے“۔

نواب آف کالا باغ کی بات درست تھی‘ ہم انسان اپنی ذات سے متعلق فیصلے ہمیشہ اچھے اور جلدی کرتے ہیں جبکہ دوسروں کے فیصلے دہائیوں تک میز کی درازوں میں پڑے رہتے ہیں‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پنجاب اسمبلی کا تازہ ترین فیصلہ دیکھ لیجئے‘پنجاب اسمبلی نے 15 اگست2018ءکو حلف اٹھایا‘ 368 ارکان میں سات ماہ میں کسی ایک ایشو پر اتفاق رائے نظر نہیں آیا‘ عوام نے جب بھی دیکھا یہ لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن نظر آئے لیکن 12 مارچ کو اسمبلی کے تمام اراکین میں اتفاق رائے ہو گیا۔

اسمبلی میں ایک بل پیش ہوا‘ کوئی بحث ہوئی اور نہ کسی نے اعتراض اٹھایا‘ سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی میں بھجوایا‘ کمیٹی نے ایک دن میں منظوری دے دی‘ یہ تیسرے دن اسمبلی میں پیش ہوا اور اسمبلی نے دس منٹ میں بل پاس کر دیا ‘یہ پنجاب اسمبلی کے ارکان‘ ڈپٹی سپیکر‘ سپیکر‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کا مقدس ترین بل تھا اور اس بل کے ذریعے وزیراعلیٰ چار لاکھ 25 ہزار‘ سپیکر دو لاکھ60 ہزار‘ ڈپٹی سپیکردو لاکھ 45 ہزار‘ وزراءدو لاکھ 75 ہزار اوراراکین اسمبلی ایک لاکھ 95 ہزار ماہانہ تنخواہ اور مراعات وصول کریں گے۔

ارکان اسمبلی‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کے ڈیلی الاﺅنس‘ ہاﺅس رینٹ‘ یوٹیلٹی الاﺅنس اور مہمانداری الاﺅنس میں بھی دو‘ تین اور چار گنا اضافہ کر دیا گیا‘ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں ارکان‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کی تنخواہیں کم تھیں‘ یہ اضافے کے بعد بھی تسلی بخش نہیں ہیں‘ آج کے دور میں اس آمدنی میں اچھا لائف سٹائل برقرار رکھنا ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کیا ارکان اسمبلی اور وزراءغریب ہیں؟ کیا یہ صرف تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں؟ جی نہیں! 99 فیصد ارکان کا روزانہ کا خرچ ان کی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ ہے۔

ملک کے غرباءتو رہے دور مڈل کلاس کا کوئی شخص بھی الیکشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا یہ تمام لوگ رئیس ہوتے ہیں لیکن آپ ان رئیس لوگوں کی حرص بھی ملاحظہ کیجئے‘ یہ اپنی مراعات اور تنخواہوں کےلئے چند لمحوں میں اپنے تمام اختلافات بھلا کر اکٹھے ہو گئے‘ بل آیا اور دو دن میں تمام مراحل طے کر کے پاس ہو گیا‘ اس پر اس ماہ سے عمل درآمد بھی شروع ہو جائے گا‘ یہ سپیڈ ثابت کرتی ہے ہمارے ارکان اسمبلی اپنے ذاتی ایشوز پر یک جان ہیں لیکن یہ عوامی ایشوز پر منقسم ہیں۔

یہ لوگ عوام کے ایشوز پر کبھی اکٹھے ہوئے اور نہ ہوں گے‘ کیوں؟کیونکہ عوامی ایشوز میں ان کا کوئی سٹیک شامل نہیں ہوتا چنانچہ یہ ان ایشوز پر اکٹھے ہوتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی آتے ہیں‘ میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے یہ چند ماہ کےلئے نواب آف کالاباغ بن جائیں‘ یہ عوامی ایشوز میں ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کو سٹیک ہولڈر بنا دیں‘ یہ اعلان کر دیں سرکاری افسروں اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں مڈل کلاس کے برابر ہوں گی‘ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے‘ یہ سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں سے علاج کرائیں گے۔

پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں گے‘ یہ اپنے ہاتھ سے ٹیکس ریٹرنز سمیت تمام فارم پر کریں گے اور تمام یوٹیلٹی بلز بھی خود دیں گے‘ آپ اس کے بعد کھلی آنکھوں سے تمام فارم آسان‘تمام ہسپتال‘ سکول اور ٹرانسپورٹ ٹھیک اور ساری مہنگائی کنٹرول ہوتے دیکھیں گے‘ہمارے پالیسی سازکیونکہ خود اس پالیسی سے باہر ہوتے ہیں چنانچہ یہ پوری زندگی تنگ جوتے کی تکلیف سے لا علم رہتے ہیں‘ آپ انہیں ایک بار وہ تنگ جوتا پہنا دیں جو عوام روز پہنتے ہیں تو پھرآپ کمال دیکھئے‘یہ پرانا پاکستان نیا پاکستان بنتے دیر نہیں لگائے گا‘آپ انہیںایک بار عوام بنا دیں ‘ یہ پوری عوام کے مسئلے حل کر دیں گے۔

The post تنگ جوتے کی تکلیف appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/15/559484

Thursday, March 14, 2019

دوستوں سے بچ کر رہیں

میں پچھلے کمرے میں بیٹھ گیا‘ درمیان میں شیشے کی دیوار تھی‘ میں دیوار کے پیچھے سے لوگوں کو دیکھ اور سن سکتا تھا‘ یہ میرے دوست کا دفتر تھا‘ وہ کسٹم انٹیلی جینس آفیسر تھا‘ میں ملنے کےلئے آیا تھا‘ اچانک اسے ایک ٹیلی فون آیا‘ اس نے مجھے پچھلے کمرے میں بٹھا دیا اور ملاقاتی کا انتظار کرنے لگا‘ میں بھی اشتیاق سے شیشے کے پار دیکھنے لگا‘ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان اندرداخل ہوا اور میرے دوست کے سامنے بیٹھ گیا‘ میں دونوں کو دیکھ بھی سکتا تھا اور سن بھی‘

نوجوان نے کوٹ کی جیب سے تین تصویریں نکالیں اور کسٹم انٹیلی جینس آفیسر کے سامنے رکھ دیں‘ یہ سفید رنگ کی جیپ کی تصویریں تھیں‘ نوجوان تصویر پر انگلی رکھ کر بولا ”سر یہ سمگلڈ اورٹمپرڈ ہے اور ڈیفنس کے وائے بلاک میں کھڑی ہے‘ میں آپ کو ایڈریس دے دیتا ہوں آپ یہ پکڑ لیں“ میرے دوست نے غور سے تصویریں دیکھیں اور تھوڑا سا سوچ کر بولا ”ہم کسی کے گھر چھاپہ نہیں مار سکتے ہاں البتہ یہ گاڑی اگر سڑک پر ہو تو ہم اسے کسٹڈی میں لے سکتے ہیں“ نوجوان نے بھی تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولا” میں گاڑی کے مالک کے ساتھ شام چار بجے جوس پینے کےلئے گھر سے نکلوں گا‘ میں آپ کو ایس ایم ایس بھی کر دوں گا اور جوس کارنر کا ایڈریس بھی بھجوا دوں گا‘ آپ وہاں چھاپہ مار کر گاڑی قبضے میں لے لیں لیکن بس ایک شرط ہے!“۔ وہ خاموش ہو گیا‘ میرا دوست خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ تھوڑی دیر رک کر بولا ”گاڑی کا مالک میرا دوست ہے‘ آپ کسی قیمت پر کسی کو میرا نام نہیں بتائیں گے اور دوسرا جب آپ کی ٹیم چھاپہ مارے گی تو میں شور کروں گا‘ میں ٹیم کے ساتھ لڑوں گا بھی لیکن آپ نے اسے زیادہ سیریس نہیں لینا‘ آپ گاڑی لے کر نکل جائیے گا“ میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور ڈن کر دیا‘ نوجوان تھوڑی دیر مزید بیٹھا‘ چائے پی اور چلا گیا‘ میں باہر آ گیا اور میں نے اپنے دوست سے اس ڈیل کے بارے میں پوچھا‘

میرے دوست نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”یہ لاہور کے ایک امیر زادے کا دوست ہے‘ امیر زادے نے نان کسٹم پیڈ سمگلڈ گاڑی خریدی ہے‘ گاڑی کی مالیت چار کروڑ روپے ہے اور یہ دوست اپنے عزیز ترین دوست کی مخبری کےلئے ہمارے پاس آیا ہے“ میں نے پوچھا ”اور اب کیا ہوگا؟“ میرے دوست نے جواب دیا ”یہ اپنے دوست کو جوس پلانے کےلئے باہر لائے گا اور ہم گاڑی اور گاڑی کے مالک کو پکڑ لیں گے“ میں نے حیرت سے پوچھا ”لیکن اس مخبر کو کیا فائدہ ہو گا“ میرے دوست نے ہنس کر جواب دیا ”اس کے حسد کا کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے گا‘ یہ امیر زادے کا حاسد دوست ہے‘دوست کی گاڑی اس سے ہضم نہیں ہو رہی چنانچہ یہ اسے اس سے محروم بھی دیکھنا چاہتا ہے اور پریشان بھی اور اس کا یہ جذبہ اسے ہمارے پاس لے آیا ہے“۔

یہ تمام باتیں میرے لئے حیران کن تھیں‘میں نے اس سے پوچھا ”کیا تمہارے زیادہ مخبر ایسے لوگ ہوتے ہیں“ میرے دوست نے جواب دیا ”ہمارے 98 فیصد مخبر یہ لوگ ہوتے ہیں‘ دوست عزیز ترین دوست کی مخبری کرتے ہیں‘ بھائی بھائی کے خلاف انفارمیشن دیتا ہے‘ بہو ساس کے بارے میں بتاتی ہے اور سالہ بہنوئی اور بہنوئی سالے کا مخبر بن جاتا ہے“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ”ہمارے پاس دوست اور ملازمین زیادہ آتے ہیں‘دوست پہلے دوست کو سمگلڈ گاڑی خرید کر دیتے ہیں اور پھر مخبری کر دیتے ہیں‘

یہ دوستوں کو ٹیکس چوری کا طریقہ بھی بتاتے ہیں اور دوست جب ٹیکس چوری کر لیتے ہیں تو یہ اس کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں‘ یہ مخبر لوگ یوں دوستوں کو دہرا نقصان پہنچاتے ہیں‘ پہلے گاڑی کی خریداری کے ذریعے دوست کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر وہ گاڑی پکڑوا کر اسے ذلیل کراتے ہیں‘ ہمارے پاس مختلف کمپنیوں کے ملازمین بھی آتے ہیں‘ یہ ہمیں اپنے مالکان کے خلاف ٹھوس ثبوت دیتے ہیں‘ یہ عموماً پرانے اور اعتباری ملازمین ہوتے ہیں‘

مالکان ان کو مخلص سمجھتے ہیں لیکن یہ اندر سے مالکان کے خلاف ہوتے ہیں‘ ان کے سینوں میں کینہ‘ حسد اور بغض بھرا ہوتا ہے چنانچہ یہ ہمیں مالکان کے خلاف وہ ثبوت بھی دے دیتے ہیں جو مالکان کے پاس بھی نہیں ہوتے“ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا ”یہ ملازمین کس کیٹگری کے ہوتے ہیں“ وہ بولا” یہ لوگ دو کیٹگری کے ہوتے ہیں‘ پہلی کیٹگری سیلف میڈ لوگوں کے ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے‘ یہ لوگ ملازمین کے سامنے ترقی کرتے ہیں‘

ملازمین بیس تیس ہزار روپے کے ملازم رہ جاتے ہیں جبکہ مالک کروڑوں روپے میں پہنچ جاتے ہیں چنانچہ یہ لوگ مالکان کے حاسد بن جاتے ہیں اور دوسری کیٹگری میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن پر مالکان دوسرے ملازمین کو فوقیت دے دیتے ہیں‘ مثلاً مالکان نے نئے ملازمین کو پروموٹ کر دیا اور یہ نئے ملازمین کو پرانوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ اور مراعات دینے لگے تو پرانے ملازمین اندر سے زخمی ہو جاتے ہیں اور یہ مالکان کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں“

میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے اپنی نوکری کے دوران مخبری کا سب سے افسوس ناک واقعہ کیا دیکھا“ وہ رکا‘ مسکرایا اور بولا ”بے شمار واقعات ہیں لیکن مجھے ایک واقعہ نہیں بھولتا‘ کراچی میں ایک بزرگ خاتون نے اپنے اکلوتے بیٹے کے خلاف مخبری کر دی‘ والدہ سے اپنی بہو کی آسائش ہضم نہیں ہوتی تھی چنانچہ اس نے بیٹے کی مخبری کی‘ ہم نے گودام پر چھاپہ مارا اور بیٹا تین دن میں سڑک پر آ گیا“ وہ رکا اور پھر بولا ”میرے پاس جگری دوستوں کے حسد کی بے شمار مثالیں بھی ہیں‘

میں کراچی کی ایک فیملی کو جانتا ہوں‘ ان کا بیٹا اکلوتا تھا‘ بیٹے نے سمگلڈ سپورٹس کار خرید لی‘ جگری دوست نے مخبری کر دی‘ ہم نے کار قبضے میں لے لی‘ بیٹے کو کار بہت عزیز تھی چنانچہ والد نے وہ گاڑی آکشن میں خریدی‘ زیادہ ٹیکس اور زیادہ ڈیوٹی دی اور گاڑی بیٹے کو گفٹ کر دی‘ بیٹا دوبارہ گاڑی چلانے لگا‘ جگری دوست کو دوست کی یہ خوشی بھی نہ بھائی‘ اس نے گاڑی ادھار لی اور بریک آئل کے چیمبر میں چھوٹا سا سوراخ کرا دیا‘ گاڑی کا مالک گاڑی چلاتا رہا‘

گاڑی اسے بریک آئل کے بارے میں وارننگ دیتی رہی لیکن دوست اسے حوصلہ دیتا تھا‘ تم فکر نہ کرو‘ بریک آئل پورا ہے‘ گاڑی کا سافٹ ویئر خراب ہو گیا ہے‘ لڑکا اپنے دوست کی ہر بات پر یقین کرتا تھا چنانچہ وہ گاڑی چلاتا رہا‘ وہ ایک دن گاڑی لے کر نکلا‘ ہائی وے پر آیا‘ گاڑی کے بریک فیل ہوئے اور گاڑی آئل ٹینکر سے ٹکراگئی‘ لڑکا ایٹ دی سپاٹ مر گیا‘ باپ نے تحقیقات کرائیں تو کہانی کھل کر سامنے آ گئی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا‘ جانے والا جا چکا تھا“۔میں افسوس سے سنتا رہا‘

میرے دوست نے بتایا ”آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے خلاف مخبری بھی ان کے قریبی دوستوں نے کی تھی‘ یہ دوست آج بھی ان کے ساتھ نظر آتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی آستینوں میں چھپے ان سانپوں کے وجود تک سے واقف نہیں ہیں‘ یہ انہیں اپنا مخلص دوست‘ اپنا وفادار ساتھی سمجھ رہے ہیں جبکہ یہ ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ میرا دوست آخر میں بولا ”تم اگر دوستی کا تماشہ دیکھنا چاہتے ہو تو چار بجے میرے ساتھ چلو‘ ہم تمہارے سامنے وہ گاڑی پکڑیں گے اور پھرتم اپنی آنکھوں سے دیکھنا حاسد دوست دوستوں کو کس طرح ذلیل کرتے ہیں“ میں نے ہامی بھر لی۔

میں چار بجے تک اس کے پاس بیٹھا رہا‘ چھاپہ مارنے کےلئے سکواڈ تیار ہوا‘ پونے چار بجے مخبر نے اطلاع دی میں ٹارگٹ کے گھر پہنچ گیا ہوں‘ پانچ منٹ بعد پیغام آیا ہم سمگلڈ گاڑی میں جوس پینے کےلئے نکل رہے ہیں‘ ہم گلبرگ میں فوارہ چوک کے قریب فلاں جوس کارنر پر جا رہے ہیں‘ آپ چار بج کر پانچ منٹ تک پہنچ جائیں‘ میرے دوست نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور ہم گلبرگ پہنچ گئے‘ نان کسٹم پیڈ ٹمپرڈ گاڑی سامنے کھڑی تھی‘ دونوں دوست گاڑی میں بیٹھ کر جوس پی رہے تھے‘

کسٹم کے اہلکار گاڑی کے پاس پہنچے‘ گاڑی کا شیشہ بجایا اور مالک سے گاڑی کے کاغذات مانگ لئے‘ مالک نے پورے اعتماد کے ساتھ کاغذات نکال کر کسٹم کے حوالے کر دیئے‘ اہلکاروں نے کاغذات دیکھے‘ بونٹ کھلوایا اور گاڑی کا انجن اور چیسز نمبر چیک کرنے لگے‘ گاڑی ظاہر ہے ٹمپرڈ تھی ‘ کسٹم حکام نے گاڑی قبضے میں لے لی‘ مالک کا دوست گاڑی سے اترا اور پلان کے مطابق کسٹم حکام کے گلے پڑ گیا‘ سڑک پر ٹھیک ٹھاک تماشہ لگ گیا‘ گاڑی کا مالک دوست کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن وہ بار بار اہلکاروں کے گلے پڑتا تھا‘ میں اور میرا دوست گاڑی میں بیٹھ کر یہ منظر دیکھتے رہے‘

مخبر نے ایک آدھ بار لڑتے لڑتے میرے دوست کو آنکھ بھی ماری‘ یہ کھیل چند منٹ چلتا رہا یہاں تک کہ کسٹم حکام نے گاڑی کا چارج لے لیا‘ میں نے دیکھا مخبر نے چیخ بھی ماری اور جوس کارنر کے تھڑے پر لیٹ کر بے ہوشی کا ناٹک بھی کیا‘ گاڑی کا مالک اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا‘ ہم واپس چل پڑے‘ میں راستہ بھر اداس رہا‘ میرا خیال تھا دوست کو کم از کم دوستوں کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ میرا دوست مزے سے گنگنا رہا تھا ‘ ہم دفتر واپس پہنچ گئے‘

میں نے اجازت مانگی‘ میرا دوست باہر آیا‘ مجھے گلے لگایا اور آہستہ سے میرے کان میں کہا ”ہمارے آدھے سے زائد دوست بروٹس ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب تک جولیس سیزر کو قبر تک نہ پہنچا لیں اس وقت تک ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے‘ ہم لوگ دشمنوں کے تیروں سے نہیں مرتے‘ دوستوں کے ہاتھوں سے مرتے ہیں اور اگر ہمیں ہمارا دشمن بھی مارے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے چنانچہ ہمیں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے بچ کر رہنا چاہیے‘ انسان اگر دوستوں سے بچ جائے تو دشمن اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے اور یہ انسان کی تاریخ بھی ہے اور جغرافیہ بھی“۔

The post دوستوں سے بچ کر رہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/14/559137