Tuesday, October 23, 2018

کنگ سنگ بنیں مائیکل نہیں

یہ دو مختلف بادشاہوں کی داستان ہے‘ پہلے بادشاہ کا نام مائیکل سوم تھا‘ وہ بازنطینی بادشاہ تھا‘ عین جوانی میں بادشاہ بنا اوراقتدار سنبھالتے ہی اپنے تمام اختیارات عزیز ترین دوست اور منہ بولے بھائی بیسیلیس  کے حوالے کر دیئے‘ بیسیلیس ایک دلچسپ کردار تھا‘ وہ شاہی اصطبل میں گھوڑے سدھاتا تھا‘ مائیکل ولی عہد تھا تو وہ ایک دن اصطبل کے معائنے کےلئے گیا‘ ایک جنگلی گھوڑا کھل گیا‘ شہزادے کے تمام گارڈز بھاگ گئے‘ بیسیلیس نے یہ دیکھا تو اس نے گھوڑے پر چھلانگ لگا دی اوراس کی گردن سے لپٹ گیا‘

گھوڑے نے اسے گرانے کی بے شمار کوششیں کیں لیکن وہ ناکام ہو گیا‘ شہزادہ یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ وہ نوجوان کسان کی ہمت اور جرات سے متاثر ہوا اور اس نے اسے اصطبل کا سربراہ بنا دیا‘یہ دونوں کے درمیان دوستی کا آغاز تھا‘ مائیکل سوم نے اس کا وظیفہ لگایا اور اسے شاہی سکول میں داخل کرا دیا‘ بیسیلیس ذہین انسان تھا‘ وہ چند ماہ میں شاہی آداب سیکھ گیا‘ مائیکل سوم بادشاہ بنا تو اس نے اسے اپنا منہ بولا بھائی ڈکلیئر کر دیا اور اسے اپنے تخت کے ساتھ بٹھانے لگا‘بیسیلیس آہستہ آہستہ شاہی اختیارات استعمال کرنے لگا‘ بادشاہ اس پر اندھا اعتماد کرتا تھا‘ وہ اسے اختیارات دیتا چلا گیا‘ شاہی خاندان اور پرانے درباری بادشاہ کو سمجھاتے رہے لیکن وہ اپنے دوست کے خلاف کوئی بات سننے کےلئے تیار نہیں تھا‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ بیسیلیس سرکاری خزانے پر بھی قابض ہو گیا‘ وہ پوری سلطنت کے عمائدین کی تنخواہیں اور مراعات بھی طے کرتا تھاا ور سرکاری اہلکاروں کے تقرر اور تبادلے کا فیصلہ بھی‘ بادشاہ نے اس کی شادی بھی شاہی خاندان میں کر دی یوں وہ کسان زادہ جس کا بچپن گھوڑوں کی لید صاف کرتے گزرا تھا وہ شاہی خاندان کا حصہ بن گیا‘ بیسیلیس اب تقریباً بادشاہ تھا بس اس کے سامنے ایک رکاوٹ تھی اور اس رکاوٹ کا نام بارڈس  تھا‘ بارڈس مائیکل سوم کا سپہ سالار تھا‘ وہ ایک بہادر‘ وفادار اور سمجھ دار کمانڈر تھا‘ وہ وقتاً فوقتاً اشارے کنایوں میں بادشاہ کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتا تھا لیکن انسان کو جب اعتماد اندھا کرتا ہے تو پھر اسے دیوار پر لکھا ہوا بھی نظر نہیں آتا‘

مائیکل کی مت بھی ماری گئی تھی‘ وہ بیسیلیس کے خلاف ہر بات مسترد کر دیتا تھا‘ بادشاہ کے منہ بولے بھائی نے آخر میں بارڈس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں‘ وہ کمانڈر انچیف کے خلاف بادشاہ کے کان بھرنے لگا یہاں تک کہ مائیکل سوم کو یقین آگیا سپہ سالار اسے قتل کر کے اقتدار پر قابض ہونا چاہتا ہے‘ بیسیلیس نے بادشاہ کو اعتماد میں لیا اور ایک دن بارڈس کو قتل کرا دیا‘ بادشاہ نے فوج بھی اپنے منہ بولے بھائی کے حوالے کر دی‘ وہ اب سپہ سالار بھی تھا جس کے بعد پوری بازنطینی سلطنت اس کے کنٹرول میں آ گئی‘

نام مائیکل سوم کا چلتا تھا لیکن احکامات بیسیلیس جاری کرتا تھا‘ بادشاہ نے ایک دن خزانچی سے رقم طلب کی‘ بیسیلیس نے انکار کر دیا‘ یہ انکار بادشاہ کی آنکھیں کھولنے کےلئے کافی ہونا چاہیے تھا لیکن وہ انکار کو دوست کی ادا سمجھ کر خاموش ہو گیا مگر پھر ایک رات بادشاہ کی آنکھیں واقعی کھل گئیں‘ وہ شراب کے نشے میں دھت تھا‘ بیسیلیس گارڈز کے ساتھ شاہی خواب گاہ میں آیا‘ بادشاہ کو گھسیٹ کر محل کے فرش پر پھینکا اور تلوار سونت کر سر پر کھڑا ہو گیا‘ بادشاہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا‘

وہ بار بار سوچتا تھا ایک ایسا انسان جسے وہ اصطبل سے اٹھا کر تخت تک لایا تھا وہ یہ نمک حرامی کیسے کر سکتا ہے لیکن بیسیلیس نمک حرام ثابت ہو چکا تھا‘ تاریخ بتاتی ہے بیسیلیس نے اس رات مائیکل سوم کا سر کاٹا‘ نیزے پر پرویا اور اگلے دن وہ نیزہ اٹھا کر شہر کی گلیوں میں گھوڑا دوڑاتا رہا‘ بیسیلیس اس کے بعد بازنطینی سلطنت کا بادشاہ بن گیا جبکہ مائیکل سوم اپنے دوست کا شکار ہو کر تاریخ کی ٹریجڈی بن گیا۔ہم اب دوسرے بادشاہ کی طرف آتے ہیں‘ دوسرے بادشاہ کا نام چاﺅ کے یونگ ین  تھا‘

وہ تاریخ میں شہنشاہ سنگ  کے نام سے مشہور ہوا‘ چین میں اس زمانے میں عجیب روایت تھی‘ فوج مضبوط ترین ادارہ ہوتا تھا‘ جوان فوج میں بھرتی ہوتا تھا‘ جرات اور بہادری کے ساتھ لڑتا لڑتا جنرل بن جاتا تھا‘ طاقتور جرنیل کمزور جرنیلوں کو قتل کرا دیتے تھے‘ فوج کی مختلف یونٹیں اور رجمنٹس اپنے وفاداروں میں تقسیم کرتے تھے اور آخر میں بادشاہ کو قتل کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیتے تھے‘ شہنشاہ سنگ نے بھی یہی کیا تھا‘ وہ فوج کا سپہ سالار تھا اور وہ بادشاہ کو قتل کر کے بادشاہ بن گیا تھا‘

وہ اچھی طرح جانتا تھا وہ چند برسوں کا بادشاہ ہے‘ کوئی نہ کوئی جنرل طاقت پکڑے گا‘ وہ قتل ہو گا اور اس کے تخت پر کوئی دوسرا قابض ہو جائے گا‘ سنگ اس انجام سے بچنا چاہتا تھا چنانچہ اس نے دو حیران کن کام کئے‘ اس نے ایک رات اپنے تمام جرنیلوں کو کھانے پر بلایا‘ انہیں خوب کھلایا پلایا اور وہ جب بری طرح مدہوش ہو گئے تو اس نے اپنے گارڈز کے ذریعے جرنیلوں کے محافظوں کو محل سے نکال دیا‘ جرنیلوں کو اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی‘

شہنشاہ سنگ نے اس کے بعد ان سے کہا‘ سلطنت میں دو سو سال سے خونی کھیل کھیلا جا رہا ہے‘ میں آج آپ لوگوں کو چھوڑدیتا ہوں تو کل آپ میں کوئی اٹھے گا اور مجھے اور آپ سب کو مار دے گا اور اس تخت پر قابض ہو جائے گا‘ پھر کوئی اسے مار دے گا اور اس کی جگہ تخت پر بیٹھ جائے گا‘ میں یہ کھیل ختم کرنا چاہتا ہوں‘ آپ میرا ساتھ دیں ‘ جرنیلوں نے حیرت سے پوچھا‘ کیسے؟ بادشاہ نے کہا‘میں تم سب کو بادشاہ بنادیتا ہوں‘ جرنیلوں نے پوچھا‘کیسے؟ وہ بولا‘ تم سب لوگ ریٹائرمنٹ لے لو‘ میں تمہیں محل‘ جاگیریں اور کنیزیں دے دیتا ہوں‘ تم بادشاہوں کی طرح عیش و عشرت کے ساتھ زندگی گزارو اور طبعی موت مرو‘

جرنیلوں کو یہ پیشکش موت سے بہتر لگی چنانچہ انہوں نے ہاں کر دی‘ شہنشاہ سنگ نے ان سے استعفے لئے‘ انہیں جاگیریں دیں اور وہ عیش کے ساتھ زندگی گزارنے لگے‘ سنگ اس کے بعد اپنے دشمنوں کی طرف متوجہ ہوا‘ چین اس وقت تین حصوں میں تقسیم تھا‘ سنگ نے سب سے پہلے جنوبی حصے کے کنگ لیو کو فتح کیا‘ گرفتار کیا‘ محل میں اپنے برابر بٹھایا اور اسے اس کی سلطنت واپس کر کے اسے اپنا دوست بنا لیا‘ شمالی چین پر چین زو  کی حکومت تھی‘

وہ سنگ کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا‘ بادشاہ سنگ نے اسے ملاقات کی دعوت دی‘ میزبانی اور محبت کی انتہا کر دی اور آخر میں رخصت کرتے ہوئے ایک صندوق اس کے حوالے کر دیا اور کہا ”تم اسے آدھے راستے میں کھولو گے“ چین زو نے آدھے راستے میں صندوق کھولا تو وہ ان خطوط سے بھرا ہوا تھا جو اس نے شاہی غلاموں کو بادشاہ کے قتل پر اکسانے کےلئے لکھے تھے‘ بادشاہ کے ظرف نے اسے اپنا گرویدہ بنا لیا چنانچہ وہ بھی اس کا جگری دوست بن گیا‘ سنگ نے ”دشمن کو دوست بنا لو“ کی اس تکنیک کے ذریعے چین میں ہن سلطنت کی بنیاد رکھی اور وہ اور اس کا خاندان سینکڑوں سال حکومت کرتا رہا۔

ہم اب دونوں بادشاہوں کی کہانیوں کے نتیجے کی طرف آتے ہیں‘ انسان نے دس ہزار سال کی ریکارڈڈہسٹری سے طاقت کے 48 اصول وضع کئے ہیں‘ سلطنتیں خواہ حضرت داﺅد ؑ یا حضرت سلیمان ؑ کی ہوں یا پھر آج کا سنگا پور اور ملائیشیا ہو یہ ان 48 میں سے کسی ایک‘ دو یا پانچ چھ اصولوں پر قائم رہتی ہیں‘ یہ اس دائرے سے باہر نہیں جاتیں اور طاقت کے ان 48 میں سے دوسرا اصول ہے ”اپنے دوستوں کو زیادہ اختیارات نہ دو‘ اپنے دشمنوں کو استعمال کرنے کا گُر سیکھو“

تاریخ میں آج تک جس شخص نے بھی مائیکل سوم کی طرح اپنے دوستوں کو دوستی کی بنیاد پر اختیارات دیئے وہ خود بھی ڈوب گیا اور اس کی سلطنت‘ جاگیر اور کمپنی بھی اور جس نے شہنشاہ سنگ کی طرح اپنے دشمنوں کو دوست بنانے کا گُر سیکھ لیا وہ اور اس کی سلطنت دونوں بچ گئے‘ انسان کی فطرت ہے اس کے دوست صرف اس وقت تک اس سے مخلص اور وفادار رہتے ہیں جب تک وہ صرف دوست ہوتے ہیں‘ ہم جس دن انہیں اپنا پارٹنر‘ اپنا وزیر یا اپنا مشیر بنا دیتے ہیں وہ اس دن ہمارے شریک بن جاتے ہیں اور شریک اس وقت تک شریک رہتے ہیں جب تک وہ اپنے شریک کا سرنیزے پر نہ پرو لیں اور عمران خان یہ غلطی کر رہے ہیں‘

یہ اپنے ناتجربہ کار دوستوں میں عہدے تقسیم کرتے جا رہے ہیں‘یہ پراپرٹی کے بروکروں کو وزیر بنا رہے ہیں اور استعمال شدہ گاڑیوں کے امپورٹرز کو گورنر لگا رہے ہیں چنانچہ مجھے محسوس ہوتا ہے عمران خان کا اصل چیلنج ان کے دشمن نواز شریف اور آصف علی زرداری نہیں ہیں‘ یہ جب بھی مار کھائیں گے یہ بیسیلیس جیسے دوستوں سے کھائیں گے‘ ان کے دوست ان کے مینڈیٹ اور سیاست دونوں کا جنازہ نکال دیں گے لہٰذا یہ اگر آج اپنے دوستوں کو صرف دوستی کے سٹیٹس پر لے آئیں

اور اپنے دشمنوں کے ساتھ ڈائیلاگ‘ جائز نرمی اور ہمدردی کا رویہ اختیار کریں تو یہ ملک اور خان دونوں کےلئے بہتر ہوگا‘یہ کنگ سنگ بنیں یہ مائیکل سوم بننے کی غلطی نہ کریں کیونکہ تاریخ اور اس کے نتائج ہمیشہ یکساں رہتے ہیں‘ کوفہ اگر امام حسینؓ کا نہیں ہو تا تو پھریہ کسی کا نہیں ہوتا‘تاریخ جب بھی دو میں دو جمع کر تی ہے نتیجہ ہمیشہ چارنکلتا ہے ‘آپ بھی دو میں دو جمع کر کے نتیجہ چھ نکالنے کی کوشش نہ کریں‘ آپ خسارے میں رہیں گے۔

The post کنگ سنگ بنیں مائیکل نہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/10/23/514711

Friday, October 19, 2018

کلین اینڈ گرین پاکستان

لندن کی آبادی 1750ءسے 1810ءکے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے یہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ شہرمیں ان دنوں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں کا دباﺅ برداشت نہیں کر پا رہی تھیں‘ لندن میں سیوریج سسٹم نہیں تھا‘ ہر گھر کے سامنے سپٹک ٹینک ہوتا تھا‘ڈیٹا کے مطابق شہر میں دو لاکھ گٹڑ تھے اور یہ گٹڑ صبح شام ابلتے رہتے تھے‘ گندا پانی لندن کی گلیوں میں بہتا تھا‘

بارش اس غلیظ پانی کو بہا کر دریائے تھیمز میں لے جاتی تھی‘ میٹرو پولیٹن بعدازاں دریا کا پانی پمپ کر کے گھروں کو سپلائی کر دیتی تھی اور یوں شہری اپنا سیوریج پیتے تھے‘ شہر کے غرباءعموماً تہہ خانوں میں رہتے تھے‘ گھروں کے یہ حصے اکثر اوقات سیوریج کے پانی سے بھرے رہتے تھے یا پھر وہاں گندے پانی کی سیلن ہوتی تھی‘ یہ گندگی بیماری میں تبدیل ہوئی اور1831ءمیں لندن میں ہیضے کی خوفناک وباءپھوٹ پڑی‘ 55 ہزار لوگ مارے گئے‘ یہ وبائ‘ گندگی اور بدبو سفر کرتے کرتے ہاﺅس آف کامنز کے اندر تک پہنچ گئی‘ 1858ءمیں سیلن کے اثرات برطانوی پارلیمنٹ کے فرش‘ دیواروں اور ستونوں میں بھی دکھائی دینے لگے‘ ہاﺅس آف کامنز کے پردے تک بدبودار پانی میں بھیگ گئے اور ارکان پارلیمنٹ ناک پر رومال رکھ کر اسمبلی آنے پر مجبور ہو گئے‘ یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ گورنمنٹ نے اس کے تدارک کا فیصلہ کیا‘ حکومت کو مختلف ماہرین نے مختلف تجاویز دیں لیکن یہ تمام علاج عارضی تھے‘ حکومت اس کا کوئی مستقل حل نکالنا چاہتی تھی‘حکومت نے یہ ذمہ داری جوزف بازل گیٹ  کو دے دی‘ وہ اس وقت میٹرو پولیٹن کا چیف انجینئر تھا‘ وہ ذہین‘ معاملہ فہم اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا ماہر تھا‘ جوزف نے پورے لندن کا سروے کرایا‘تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیااور ہر شخص سے پوچھا وہ کتنی بار واش روم استعمال کرتا ہے‘ استعمال اور تعداد کو بعد ازاں آپس میں ضرب دی‘ اسے تین سے ضرب دی اور پھر اس ڈیٹا کو پائپوں سے ضرب دے کر لندن میں سیوریج کا سسٹم بچھانا شروع کر دیا‘ جوزف نے پورے شہر کو سیوریج سے جوڑا‘

شہر سے دس کلو میٹر دور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا‘ سیوریج لائین کو اس پلانٹ سے منسلک کیا‘ سیوریج کا پانی صاف کیا اور پھروہ صاف پانی دریا میں ڈال دیا‘ لندن کا سیوریج ایشو ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو گیا‘ جوزف کا سسٹم کس قدر مکمل اور شاندار تھا حکومت کو اس کا اندازہ 1960ءکی دہائی میں ہوا‘ لندن میں1960ءمیں پراپرٹی کا بوم آیا‘ اپارٹمنٹس ٹاورز اور ہائی رائز بلڈنگز بنیں اور سیاحوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہو گیا‘ حکومت کا خیال تھا شہر کا سیوریج سسٹم چوک ہو جائے گا اور میٹرو پولیٹن اس کی توسیع پر مجبور ہو جائے گی لیکن میئریہ جان کر حیران رہ گیا جوزف بازل گیٹ کا سسٹم یہ دباﺅ آسانی سے برداشت کر گیا‘

شہر میں کسی جگہ سیوریج چوک ہوا اور نہ ہی بہاﺅ میں رکاوٹ آئی‘ جوزف بازل گیٹ کا یہ سسٹم بعد ازاں پورے برطانیہ اور پھر یورپ کے تمام ملکوں کے تمام بڑے شہروں میں بچھایا گیا‘ فرانس‘ جرمنی اور سپین نے اس سسٹم میں ایک اضافہ کر دیا‘ یہ ملک سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کر کے گھروں میں واپس بھجواتے تھے‘ یہ پانی کموڈز میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے‘ یورپ کے نوے فیصد گھروں میں پانی کی دو لائین بچھائی جاتی ہیں‘ پہلی لائین صاف پانی سپلائی کرتی ہے‘

لوگ یہ پانی پیتے اور اس سے کھانا پکاتے ہیںجبکہ دوسری لائین میں ٹریٹمنٹ شدہ پانی ہوتا ہے‘ یہ پانی باتھ رومز‘ ٹوائلٹس‘ لانڈری‘ لانز اور گیراج میں استعمال ہوتا ہے‘ یورپ میں حکومتیں ہر گھر سے پانی کا بل بھی وصول کرتی ہیں‘ یہ بل پانی میں کفایت شعاری کی عادت بھی ڈالتا ہے اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔آپ مجھ سے اگر پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ پوچھیں تو میں گندگی کو کرپشن‘ ناانصافی اور عدم مساوات سے بھی بڑا مسئلہ کہوں گا‘ ہم من حیث القوم گندے لوگ ہیں‘

معاشرہ کچن سے شروع ہوتا ہے اور واش روم میں ختم ہوتا ہے اور ہماری یہ دونوں جگہیں انتہائی گندی ہوتی ہیں‘ آپ خواہ کروڑ پتی لوگوں کے گھروں میں بھی چلے جائیں‘ آپ خواہ کسی شہر کی کسی گلی میں نکل جائیں‘ آپ کو وہاں گندگی کے ڈھیر ملیں گے‘ ہماری مسجدوں اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں بھی گندگی ہوتی ہے‘ آپ پارلیمنٹ ہاﺅس کے واش رومز دیکھ لیجئے‘ آپ کو وہاں بھی صابن نہیں ملے گا‘ حکومت کے سارے واش رومز گندے ہوتے ہیں‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی میں بھی کچرہ ٹھکانے لگانے کا کوئی ٹھوس بندوبست نہیں‘ اسلام آباد کا آدھا سیوریج نالوں اور ڈیم میں جاتا ہے‘

لاہور کا گند راوی اور کراچی کا کچرہ سیدھا سمندر میں گرتا ہے‘ آپ ملک کے کسی سیاحتی مقام پر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں گند کے ڈھیر ملیں گے‘ ہم 21 ویں صدی میں بھی لوگوں کو واش روم استعمال کرنے کا طریقہ نہیں سکھا سکے‘ ہم لوگوں کو یہ نہیں بتا سکے صابن سے ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے‘ ہم انہیں یہ نہیں سمجھا سکے آپ جو گند سڑکوں پر پھینک رہے ہیں وہ اڑ کر دوبارہ آپ کے گھر آئے گا‘وہ آپ کی سانس کی نالیوں کے ذریعے آپ کے جسم میں جائے گا‘ ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے گٹڑ کا پانی زمین میں موجود پانی میں شامل ہو جاتا ہے‘ یہ غلیظ پانی صاف پانی میں شامل ہوتا ہے‘

ہم اور ہمارے خاندان یہ پانی پیتے ہیں اور یوں ہم مہلک امراض کا نشانہ بن جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو آج تک یہ بھی نہیں بتا سکے ہمارا ملک اگر ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میںساتویںاور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے یا ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو اس کی اصل وجہ گند ہے‘ ہم لوگ گندے ہاتھوں سے گندے برتنوں میں کھاتے اور گندا پانی پیتے ہیں چنانچہ ہم صحت مند کیسے ہو سکتے ہیں؟۔

میں نئی حکومتوں کی حماقتوں کا ناقد ہوں لیکن حماقتوں کے اس انبار میں یہ لوگ کلین اور گرین پاکستان کے نام سے ایک اچھا کام بھی کر رہے ہیں‘ یہ کام ستر سال پہلے شروع ہونا چاہیے تھا تاہم دیر آید‘ درست آید‘ یہ کام اگر آج بھی شروع ہو جائے تو یہ بیمارستان صحت مندستان میں تبدیل ہو جائے گا لیکن آپ کو اس کےلئے جوزف بازل گیٹ کی طرح لمبی پلاننگ کرنا ہوگی‘ گندگی کینسر کی طرح ہوتی ہے‘ آپ زخم پر پٹی باندھ کراس کا علاج نہیں کر سکتے لہٰذا وزیراعظم یا وزراءاعلیٰ صاف سڑک پر صاف جھاڑو پھیر کر پوری قوم کو صاف ستھرا نہیں بنا سکیں گے‘ گند ہماری فطرت‘ ہماری عادت ہے‘

آپ کو یہ عادت بدلنے کےلئے سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا‘ آپ کو پرسنل ہائی جین سے لے کر ماحولیات تک صفائی کا سلیبس بھی بنانا ہوگا اور یہ سلیبس پہلی سے دسویں جماعت تک سکولوں میں بھی متعارف کرانا ہوگا‘ آپ کو پورے پاکستان میں پبلک ٹوائلٹس بھی بنوانے ہوں گے اور عوام کو ان کے استعمال کا طریقہ بھی سکھانا ہوگا‘ ہم آج بھی پینے کا صاف اور میٹھا پانی فلش میں بہاتے ہیں‘ ہمیں یہ ٹرینڈ بھی فوراً بدلنا ہوگا‘ حکومت فوری طور پر نئی تعمیرات کےلئے نئے بائی لاز بھی بنائے‘

فلش اور صاف پانی کی لائین بھی الگ الگ کرے اور یہ ہر گھر میں چھوٹے سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بھی لازمی قرار دے‘ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی صاف کر کے دوبارہ فلش کے ٹینکوں میں ڈالے اور پھر صاف کرے اور پھر مین سیوریج لائین میں ڈالے‘ ہم اگریہ بندوبست پورے ملک میں نہیں کر سکتے تو نہ سہی لیکن ہم یہ قانون ملک کے دس بڑے شہروں میں تو بنا سکتے ہیں‘ ہم ان شہروں کی حالت تو بدل سکتے ہیں‘ حکومت اسی طرح کچرہ اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا طریقہ بھی ٹھیک کرے‘

ہر شہر میں صفائی کے ڈائریکٹوریٹ بنائے جائیں‘ لوگ بھرتی کئے جائیں‘ گھروں سے فیس لی جائے اور پھر اگر کسی شہر کی کسی گلی میں کچرہ نظر آئے تو آپ ذمہ داروں کو الٹا لٹکا دیں‘ دنیا میں کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹس بھی آ چکے ہیں‘ حکومت ہر شہر میں یہ پلانٹس بھی لگوا سکتی ہے یوں بجلی کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور کچرہ بھی ٹھکانے لگ جائے گا اور حکومت ہر کچے اورپکے مکان کےلئے باتھ روم کا سائز اور ڈیزائن بھی فائنل کر دے‘ پلمبرز کو اس ڈیزائن کی ٹریننگ دی جائے اور انہیں پابند بنایا جائے‘

جو پلمبر خلاف ورزی کرے گا اسے سات سال قید بامشقت دے دی جائے گی‘ ریستورانوں اور دکانوں میں بھی باتھ روم لازمی ہوں اور ان کا باقاعدہ سٹینڈرڈ ہو‘ موٹروے پولیس کی طرح سینیٹری پولیس بھی بنائی جائے اور یہ پولیس گند پھیلانے والوں کو بھاری جرمانہ کرے‘ یہ گھروں اور پبلک باتھ رومز کا معائنہ بھی کرے اور اسی طرح ملک میں زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نظر نہیں آنا چاہیے‘ زمین کی ایک ایک انچ پر پودا ہونا چاہیے‘ وہ خواہ پھول ہو‘ گھاس ہو یا پھر درخت ہو‘ پاکستان کے ہر طالب علم‘ ہر ملازم اور ہر کمپنی کےلئے درخت لگانا لازمی قرار دے دیا جائے‘

لوگ ہر سال ٹیکس ریٹرن کی طرح گرین ریٹرن بھی فائل کریں اور حکومت اس کا بھی آڈٹ کرے اور آخری تجویز ‘برادر اسلامی ملک ازبکستان نے دس سال میں ملک کو صاف کر کے کمال کر دیا‘ آپ دس بڑے شہروں کی کارپوریشنز کے دو دو لوگ ازبکستان بھجوائیں‘ یہ لوگ ان سے صفائی کا طریقہ سیکھیں اورکام شروع کرا دیں‘ ہمارا ملک دو تین برسوں میں کلین بھی ہو جائے گا اور گرین بھی ورنہ پھر اسی طرح ہمارے وزیراعظم ہر سال جھاڑو دیتے رہیں گے‘ سڑکوں پر گند میں اضافہ ہوتا رہے گا اور ہم اسی طرح بیمار ہوتے چلے جائیں گے۔

The post کلین اینڈ گرین پاکستان appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/10/19/513415

Thursday, October 18, 2018

چھوٹی چھوٹی کامیابیاں

پال ایلن مائیکرو سافٹ میں بل گیٹس کا پارٹنر تھا‘ بل گیٹس پال سے 12 سال کی عمر میں ملا‘ یہ دونوں اس وقت سکول میں پڑھتے تھے‘ دونوں کمپیوٹر کے نشئی تھے‘پال ایلن1971ءمیں واشنگٹن سٹیٹ یونیورسٹی گئے اور1974ءمیں ڈراپ آﺅٹ ہوگئے جبکہ بل گیٹس 1973 ءسے 1975ءتک ہارورڈ یونیورسٹی میں زیرتعلیم رہے‘ اس دوران پال ایلن نے بل گیٹس کو ہارورڈ یونیورسٹی چھوڑنے پر راضی کیا اور دونوں نے 1975ءمیں مائیکرو سافٹ کی بنیاد رکھی اور پھر اس کمپنی نے پوری دنیا کا مزاج بدل دیا‘

کمپیوٹر آفیشل سے پرسنل بنا اور یہ آخر میں موبائل فون میں تبدیل ہو گیا‘ یہ پال ایلن 15اکتوبر2018ءکوسیاٹل میں انتقال کر گیا‘ یہ خون کے سرطان میں مبتلا تھا‘ دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتا تھا‘ ذاتی دولت 20بلین ڈالر سے زائد تھی‘ اس نے 1982میں مائیکرو سافٹ چھوڑی اور زندگی کے باقی 36سال فلاح و بہبود میں لگا دیئے‘ یہ دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے اپنی دولت انسانیت کےلئے وقف کر گیا‘ دنیا کے تمام نامور چیف ایگزیکٹوز کا دعویٰ ہے مائیکرو سافٹ کے پیچھے دماغ بل گیٹس کا تھا لیکن کمپنی کو دنیا کی سب سے بڑی کارپوریشن پال ایلن نے بنایا‘ یہ قدرتی طور پر بزنس کو سمجھتا تھا اور مشکل سے مشکل ڈیل کو اپنے حق میں استعمال کرلیتا تھا‘ پال ایلن کی بزنس فلاسفی کے صرف دو ستون تھے‘ بڑے فیصلوں سے پہلے چھوٹے چھوٹے فیصلے اور کامیاب مثالوں کو قبول کرنا‘ یہ دونوں فلسفے بظاہر آسان دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ انتہائی مشکل ہیں‘ پال ایلن کا خیال تھا آپ اگر کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ پہلے چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حاصل کریں‘ یہ چھوٹی کامیابیاں آپ اور آپ کے ساتھیوں کے اعتماد میں بھی اضافہ کریں گی اور یہ آپ کو بڑی کامیابی حاصل کرنے کا گُر بھی سکھا دیں گی‘ دوسرا وہ کہتا تھا دنیا میں اس وقت کامیابی کے بے شمار ماڈل موجود ہیں‘ آپ اپنا ماڈل تخلیق کرنے کی بجائے ان میں سے کوئی ماڈل لیں اور کام شروع کر دیں‘ آپ کا وقت اور توانائی دونوں بچ جائیں گی‘ وہ کہتا تھا آپ کامیابی کا ماڈل لیتے وقت ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو جائیں‘ اگر آپ کے دشمن نے بھی کارآمد سسٹم بنایا ہے تو آپ اس سے وہ سسٹم لیں‘ اسے استعمال کریں اور استعمال کے بعد اس کا شکریہ ادا کریں‘ آپ کبھی نقصان میں نہیں رہیں گے۔

پال ایلن کی اس فلاسفی میں عمران خان کےلئے دو شاندار ٹپس چھپی ہیں‘ پہلی ٹپ‘وزیراعظم بڑی سے پہلے چھوٹی کامیابیاں حاصل کریں‘ حکومت نے بدقسمتی سے کرسی پر بیٹھتے ہی مشکل اور بڑے فیصلے شروع کر دیئے ہیں‘ یہ فیصلے حکومت اور اس کی اہلیت دونوں کو بھی لے کر بیٹھ رہے ہیں اور عوام نے بھی سر پر ہاتھ رکھ کر دہائیاں دینا شروع کر دیں‘ یہ سلسلہ اگر اسی طرح چلتا رہا تو یہ ملک کی پہلی حکومت ہو گی جس کے خلاف چھ ماہ میں عوامی احتجاج شروع ہو جائے گا‘

لوگ سڑکوں پر ہوں گے اور حکومت کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی‘ مجھے یہ بھی محسوس ہوتا ہے یہ لوگ جس طرح بیورو کریسی پر غیر ضروری دباﺅ ڈال رہے ہیں اور یہ جس طرح متکبرانہ لہجے میں بات کرتے ہیں‘ سرکاری مشینری اس سے تنگ آ کر کام کرنا بند کر دے گی اور یہ بہت بڑا بحران ہو گا چنانچہ عمران خان کو چاہیے یہ بڑے اور مشکل فیصلوں کو ترجیحات کی فہرست میں دوسرے اور تیسرے نمبر پر لے آئیں اور پہلے چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حاصل کریں مثلاً پاکستان میں ستر سال سے ٹریفک کے مسائل ہیں‘

موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ نہیں پہنتے‘ لوگ کسی بھی جگہ سے سڑک پار کر لیتے ہیں‘ ڈرائیور لائین کی پرواہ نہیں کرتے اور لوگ بلاوجہ ہارن بجاتے رہتے ہیں‘ گاڑیوں کی مینٹیننس اور انشورنس کے قوانین پر بھی آج تک عملدرآمد نہیں ہوا اور پاکستان روڈ سیفٹی میں بھی دنیا کے خطرناک ترین ملکوں میں شمار ہوتا ہے‘ حکومت یہ مسئلہ فوراً حل کر سکتی ہے‘ آپ اعلان کریں ملک میں فلاں تاریخ کے بعد لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والوں کو دو لاکھ روپے جرمانہ ہو گا‘

موٹر سائیکل بنانے والوں کو پابند کیا جائے یہ موٹر سائیکل کے ساتھ دو ہیلمٹ بھی دیں گے اور ہیلمٹ استعمال نہ کرنے والے کا موٹر سائیکل ضبط کر لیا جائے گا‘ آپ اسی طرح گاڑی کی مینٹیننس اور انشورنس کو بھی قانون بنا دیں‘ پاکستان میں کوئی گاڑی انشورنس اور مینٹیننس سرٹیفکیٹ کے بغیر سڑک پر نہیں آنی چاہیے‘ آپ اس کےلئے فائن (جرمانہ) پولیس بنائیں اور یورپ کی طرح فائن کرنے والے ہر اہلکار کو جرمانے کی رقم میں سے 25 فیصد بونس دیں‘ آپ چند ماہ میں یہ کامیابی حاصل کر لیں گے‘

پاکستان میں 80 لاکھ نشئی ہیں‘ ملک میں دنیا کے تمام مہلک نشے بھی عام ملتے ہیں‘ ہماری ائیر ہوسٹس اور پائلٹس تک منشیات کے جرم میں گرفتار ہوئے‘ سعودی عرب کی جیلوں میںسینکڑوں پاکستانی سمگلر بند ہیں‘ ہمارے ائیر پورٹس پر ہر دوسرے دن منشیات پکڑی جاتی ہیں‘ سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں تک اس ذلت کی آماجگاہ ہیں‘ اسلام آباد کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے‘ شہر میں شراب فروشوں کے دو گروپ ہیں‘ پورا شہر ان سے واقف ہے لیکن کوئی ان پر ہاتھ نہیں ڈالتا‘

آپ اے این ایف کو ایکٹو کر کے پاکستان کو منشیات فری بنا سکتے ہیں اور پوری دنیا کےلئے مثال بن سکتے ہیں‘اسی طرح پاکستان کے اڑھائی کروڑ بچے اس وقت بھی سکول کی نعمت سے محروم ہیں‘ آپ اعلان کریں ایک سال بعد ملک کا کوئی بچہ سکول سے محروم نہیں ہو گا‘ پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ میٹرک تک تعلیم ضرور حاصل کرے گا‘ پاکستان ”فوڈ کوالٹی“ میں بدترین ملکوں کی فہرست میں شامل ہے‘ ہمارا وزیراعظم بھی عام لوگوں کے ساتھ دودھ‘ دہی‘ پانی‘ گوشت‘ روٹی اور سبزی کے نام پر زہر کھا رہا ہے‘

آپ ملک میں کم از کم خوراک ہی کو خالص کر دیں‘ آپ فوڈ پولیس بھی بنائیں‘ یہ پولیس جو کیس پکڑے آپ اسے بھی ریکوری کا 20 فیصد ادا کریں‘ یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا‘ آپ اسی طرح سٹریٹ چلڈرن کو بیت المال کے سکولوں میں داخل کریں‘ ملک کے تمام بھکاریوں کو اٹھائیں اور ایدھی فاﺅنڈیشن اور سکل ڈویلپمنٹ کے اداروں کے حوالے کریں‘ آپ ملک کے دس بڑے شہروں کو صاف پانی فراہم کرنا شروع کریں‘ ملک کو بچوں کی سات بیماریوں سے پاک کریں‘

یہ قانون بنا دیں ملک کے تمام بچے ہسپتالوں میں پیدا ہوں گے اور یہ پیدائش کے فوراً بعد رجسٹرڈ ہوں گے اور آپ ملک کو اسلحہ فری بھی کرنا شروع کر دیں‘ یہ تمام کام معمولی بجٹ کے ساتھ بڑی آسانی سے ہو سکتے ہیں‘ یہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں حکومت کے اعتماد میں اضافہ کریں گی اور حکومت اگر اس کے بعد ملک کے تمام کرپٹ لوگوں کو بھی پکڑ لے گی یا یہ بجلی‘ گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں دگنا اضافہ بھی کر دے گی تو لوگ اسے خوشی سے قبول کر لیں گے ورنہ دوسری صورت میں حکومت بڑے اور بھاری پتھر اٹھانے کی کوشش میں کچلی جائے گی۔

ہم اب پال ایلن کی دوسری فلاسفی کی طرف آتے ہیں‘ وہ کہتا تھا آپ کامیابی کا ماڈل دشمن سے لیتے ہوئے بھی نہ گھبرائیں‘حکومت یہ بھی کر سکتی ہے‘ پاکستان میں سب برا نہیں ‘ ہم نے ستر سال میں کامیابی کی بے شمار مثالیں قائم کی ہیں‘ حکومت ان مثالوں کو ماڈل بنا لے‘ قوم تبدیل ہو جائے گی‘ مثلاً پاکستان میں عبدالستار ایدھی جیسے ان پڑھ شخص نے دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس بنائی‘ آپ یہ ماڈل پاکستان کے تمام شہروں میں متعارف کرا دیں‘ پاکستان میں ٹی سی ایس اور لمز یونیورسٹی جیسے بین الاقوامی ادارے بنے‘

عالمی یونیورسٹیوں میں ان کی مثالیں دی جاتی ہیں‘ آپ محکمہ ڈاک میں ٹی سی ایس اور سرکاری یونیورسٹیوں میں لمز کا ماڈل متعارف کرا دیں‘ حکومت سے پی آئی اے نہیں چل رہی لیکن ائیر بلیو منافع میں جا رہی ہے‘ آپ پی آئی اے کو ائیربلیو کے ماڈل پر شفٹ کر دیں‘ ڈاکٹرعبدالباری خان نے کراچی میں انڈس ہسپتال بنا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ آپ یہ ماڈل پاکستان کے بیس بڑے ہسپتالوں میں متعارف کرا دیں‘ میاں شہباز شریف نے دوبار روایتی بیورو کریسی سے کام لے کر پنجاب کی حالت بدل دی‘

آپ گورننس کا یہ ماڈل وفاق اور چاروں صوبوں میں متعارف کرا دیں‘ قصوری فیملی نے30 شہروں میں بیکن ہاﺅس اور50 شہروں میں سٹی سکول کے کیمپس قائم کر کے پاکستان میں سکولوں کی سب سے بڑی پرائیویٹ چین بنائی‘ آپ یہ ماڈل بتدریج سرکاری سکولوں میں نافذ کر دیں‘ ملک میں تیس برسوں میں ہاﺅسنگ کے دو کامیاب ماڈل متعارف ہوئے‘ ڈی ایچ اے اور بحریہ ٹاﺅن‘ آپ دونوں ماڈل لیں اور ملک کے دس بڑے شہروں کی ڈویلپمنٹ اتھارٹیز میں نافذ کر دیں‘

آپ اگر بحریہ ٹاﺅن کے بائی لاز کو ہی قانون بنا دیں تو ملک کے تمام تعمیراتی ایشوز ختم ہو جائیں گے‘ آپ اسی طرح تمام سرکاری دفتروں میں پاک فوج کا احتسابی نظام نافذ کر دیں‘ آپ پوری حکومت میں فوج کا پروموشن سسٹم بھی متعارف کرا دیں‘ آپ تمام سرکاری محکموں میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جیسا سنیارٹی سسٹم بھی بنا دیں اور آپ چپڑاسی سے لے کر سیکرٹری تک حکومت کی تمام تقرریاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے حوالے کر دیں اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن میں نیسلے پاکستان‘ اینگرو اور پاکستان ٹوبیکو کمپنی کا ہائرنگ ماڈل متعارف کرا دیں تو ملک بڑی آسانی سے ٹریک پر آ سکتا ہے‘

کامیابی کے یہ تمام ماڈل پاکستانی ہیں اور ان ماڈلز نے دنیا کو حیران کر دیا ہے‘ نیسلے کمپنی نے اپنا پانی کا برانڈ (پیور لائف) پاکستان سے سٹارٹ کیا تھا‘ یہ برانڈ اب دنیا کے 40ملکوں میں چل رہا ہے‘ نیسلے کمپنی کا دنیا کا دودھ کا سب سے بڑا پلانٹ بھی پاکستان میں ہے‘ پاکستان میں اگر یہ ممکن ہے تو پھر کوئی چیز ناممکن نہیں‘ آپ بس ناکام محکموں میں یہ کامیاب ماڈل متعارف کرا دیں اور پھر پرانے پاکستان کے ملبے سے نیا پاکستان طلوع ہوتا دیکھیں چنانچہ میری درخواست ہے‘ عمران خان عوام کی مانیں یا نہ مانیں یہ پال ایلن کی مان لیں‘ یہ خسارے میں نہیں رہیں گے۔

The post چھوٹی چھوٹی کامیابیاں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/10/18/513117

Tuesday, October 16, 2018

ایان علی جیسی سائنس دان اہم ہیں

وہ 1995ءمیں پنجاب یونیورسٹی میں فزکس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ تھے‘ وہ کانفرنسوں میں شرکت کےلئے یورپ اور امریکا جاتے رہتے تھے‘ وہ گورے طالب علموں سے ملتے تھے تو محسوس کرتے تھے پاکستانی طالب علم صلاحیت اور علم میں ان سے بہت آگے ہیں‘ ہماری یونیورسٹیاں اگر اپنے طالب علموں کو اعتماد دے دیں‘ ان کی زبان اور ابلاغ پر توجہ دیں اور یہ اگر ان کی بین الاقوامی سطح کی گرومنگ کر دیں تو پاکستانی نوجوان دنیا کو حیران کر سکتے ہیں چنانچہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے سکالرشپس کا کرائی ٹیریا منگوایا‘

فزکس ڈیپارٹمنٹ میں خصوصی کلاسز شروع کیں اور وہ طالب علموں کو یورپی سکالر شپس حاصل کرنے کی ٹریننگ دینے لگے‘ یہ کمیونی کیشن‘ پرسنیلٹی‘ نالج اور زبان کی ٹریننگ تھی‘ پروگرام 1999ءمیں شروع ہوا اور کامیاب ہو گیا‘ فزکس ڈیپارٹمنٹ کے 40 طالب علم اب تک اس پروگرام کے ذریعے بین الاقوامی یونیورسٹیوں کی سکالرشپس حاصل کر چکے ہیں‘ یہ سٹوڈنٹس ملک اور بیرون ملک شاندار سائنس دان ثابت ہو رہے ہیں۔یہ پراجیکٹ پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے شروع کیا تھا‘ یہ منصوبہ اتنا کامیاب ہوا‘ 2002ءمیں ملک میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن بنا اور اس نے ملک کو نئے پی ایچ ڈی دینا شروع کر دیئے‘ کنساس سٹیٹ یونیورسٹی کے فزکس ڈیپارٹمنٹ کے بین الاقوامی سکالر ڈاکٹر ٹم بولٹن پروفیسر مجاہد کامران سے اتنے متاثر ہیں یہ انہیں ”گولڈ مائین آف گریجویٹ سٹوڈنٹس“ قرار دیتے ہیں‘ کنساس سٹیٹ یونیورسٹی کا فزکس ڈیپارٹمنٹ انہیں پروفیسر آف پروفیسرزبھی کہتا ہے لیکن ہم انہیں کیا سمجھتے ہیں آپ کو یہ جاننے کےلئے 11 اکتوبر 2008ءکا الیکٹرانک اور سوشل میڈیا دیکھنا ہوگا‘ نیب نے اس دن پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران اور سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چودھری کو باقاعدہ ہتھکڑیاں لگا کر لاہور کی نیب کورٹ میں پیش کیا‘ ان کے ساتھ مزید پانچ پروفیسرزبھی شامل تھے‘یہ پانچوں پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران کے دور میں پنجاب یونیورسٹی کے رجسٹرار رہے تھے‘یہ بھی ہتھکڑیوں میں عدالت میں پیش کئے گئے‘

ڈاکٹر مجاہد کامران پر دس الزامات لگائے گئے‘ نیب کا کہنا تھا وائس چانسلر نے 2013ءسے 2016ءکے دوران ساڑھے پانچ سو لوگوں کو کنٹریکٹ پر ملازمتیں دیں‘ یہ اس کنٹرکیٹ کو ”ری نیو“ بھی کرتے رہے‘ یہ تمام بھرتیاں سیاسی اور غیر قانونی تھیں‘ یہ پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے من پسند ٹھیکے داروں کو ٹھیکے بھی دیتے رہے‘ انہوں نے اپنی دوسری بیگم شازیہ قریشی کو لاءکالج کا پرنسپل بھی بنایا اور یہ اپنے من پسند طالب علموں کو سکالر شپ بھی دیتے رہے‘

یونیورسٹی کے رجسٹرار بھی اس ”خوفناک دھندے“ میں ان کے شریک تھے وغیرہ وغیرہ‘ نیب لاہور نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا اور ڈی آئی جی پولیس (آپریشنز) شہزاد اکبر رانا نے انہیں گرفتار کیا‘ ہتھکڑی پہنائی اور انہیں اسی حالت میں نیب کورٹ لاہور پہنچا دیا‘ یہ مناظر ٹیلی ویژن کے ذریعے پورے ملک نے دیکھے‘ عوام کی طرف سے شدید ردعمل آیا‘ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیب نے نوٹس لیا‘ ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد اور ڈی آئی جی شہزاد اکبر کو عدالت میں طلب کر لیا گیا‘

چیف جسٹس نے سلیم شہزاد کی گوشمالی کی تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ سلیم شہزاد نے بعدازاں عدالت اور پروفیسروں (شاید) سے تحریری معذرت کر لی‘ سپریم کورٹ نے یہ معذرت قبول کر لی اور یوں یہ مسئلہ ختم ہو گیا لیکن سوال یہ ہے کیا اس معافی کے بعد ریاست اور عوام کا اساتذہ کے ساتھ رویہ بھی بدل جائے گا‘ میرا خیال ہے نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ ہم ایک علم اور معلم دشمن معاشرے میں رہ رہے ہیں‘ ہم عالم‘ لکھاری اور استاد کو اچھا معاوضہ دیتے ہیں اور نہ ہی عزت‘ ہماری نظر میں کتابیں لکھنے‘ پڑھنے اور پڑھانے والے تینوں قسم کے لوگ فالتو‘ بے معنی اور کمی کمین ہیں‘

آپ کسی دن ریکارڈ نکال کر دیکھ لیجئے‘ آپ کو بلوچستان کے وہ سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی جن کے گھر سے 65 کروڑ روپے برآمد ہوئے تھے‘ نیب انہیں صاف کپڑے‘ گھر کا کھانا‘ شیو کا سامان بھی فراہم کرتا رہا‘ راﺅ انوار پر 444لوگوں کے قتل کا الزام ہے‘ نقیب اللہ محسودکا قتل تقریباً ثابت ہو چکا ہے لیکن یہ اس کے باوجود نہ صرف پولیس کے پروٹوکول میں عدالت آتے ہیں بلکہ یہ ٹہلتے ہوئے آتے ہیں اور ٹہلتے ہوئے چلے جاتے ہیں‘ یہ 21 مارچ 2018ءکو پہلی بار سپریم کورٹ پیش ہوئے تو یہ ججز گیٹ سے عدالت میں لائے گئے‘

انہیں عزت اور تہذیب کے ساتھ مخاطب بھی کیا گیا اور انہیں جہاز میں کراچی بھی پہنچایا گیا‘ ایان علی پرپانچ لاکھ ڈالر منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنا‘ ایف آئی اے نے انہیں14 مارچ 2015ءکو اسلام آباد ائیرپورٹ پر ڈالرز کے ساتھ گرفتار کیا‘ یہ بھی پورے پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوتی رہیں‘ پولیس اہلکار ان کے ساتھ سیلفیاں بھی بنواتے تھے‘ ڈاکٹر عاصم پر 479ارب روپے کا الزام تھا‘ یہ ہمیشہ عزت کے ساتھ عدالت لے جائے گئے‘ شرجیل میمن پرپونے چھ ارب کا الزام تھا‘

یہ بھی نہ صرف عزت اور احترام کے ساتھ عدالتوں میں پیش کئے جاتے ہیں بلکہ انہیں ہسپتالوں میں صدارتی سویٹ کی سہولت بھی حاصل ہو تی ہے‘ ہسپتالوں میں انہیں شہد اور زیتون کی فراہمی بھی جاری رہتی ہے اور اگر چیف جسٹس ان کے کمرے پر چھاپہ مار لیں تو زیتون واقعی زیتون اور شہد واقعی شہد نکلتا ہے‘ شرجیل میمن کا کیس بہت دلچسپ تھا‘ یہ بواسیر کے مرض میں مبتلا ہیں‘ ڈاکٹروں نے انہیں سختی سے ”زیتون اور شہد“ سے پرہیز کا حکم دے رکھا تھا چنانچہ چیف جسٹس کے حکم پر جب ان کا طبی معائنہ کیا گیا تو ان کا خون واقعی کلیئر نکلا‘ کیوں؟کیونکہ انہوں نے دس دن سے ”شہد“ استعمال کیا تھا اور نہ ہی زیتون‘

ہسپتال سے برآمد ہونے والی دونوں بوتلیں بھی ان کی نہیں تھیں‘ یہ دونوں نعمتیں چھاپے سے پچھلی رات سندھ کے ایک وزیر اور ایک سیاستدان لے کر آئے تھے‘ اس رات ہسپتال کے کمرے میں کچھ اور بھی ہوا تھااور وہ اور کیا تھا‘ آپ پچھلی رات آنے والے مہمانوں کے بارے میں تحقیقات کرا لیں آپ کے سارے طبق روشن ہو جائیں گے لیکن ریاست یہ حقائق جاننے کے باوجود خاموش ہے‘ ہمارے ملک میں این آئی سی ایل کاپانچ ارب روپے کا سکینڈل آیا‘ اوگرا کا 82ارب روپے کا سکینڈل آیا‘وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کا25 کروڑ روپے کا حج سکینڈل اور 7 سے 21ارب روپے کا ایفی ڈرین سکینڈل آیا‘ 1996ءسے اصغر خان کیس بھی چل رہا ہے‘

شیخ رشیدپر بھی زمین چھپانے کا الزام لگا‘ جہانگیر ترین پر ”ان سائیڈر ٹریڈنگ“سکیم میں73 ملین روپے جرمانہ ہوا‘ 124ملزموں پر ماڈل ٹاﺅن میں 14 لوگوں کے قتل کا مقدمہ بنا اور پانامہ سکینڈل میں ساڑھے پانچ سو لوگوں کے نام آئے لیکن ریاست نے ان میں سے کسی کو ہتھکڑی لگائی اور نہ ہی انہیں اس طرح عدالتوں میں رسوا کیا‘ اگر رسوا کیا گیا‘ اگر ہتھکڑی لگائی گئی تو29 اکتوبر 2015ءکو بہاﺅالدین یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خواجہ علقمہ کو لگائی گئی یا پھر 11 اکتوبر کو دو سابق وائس چانسلرز اور پانچ بزرگ پروفیسروں کو لگائی گئی۔

یہ واقعات کیا ثابت کرتے ہیں‘ یہ ہماری علم اور معلم دشمنی کو ظاہر کرتے ہیں‘ یہ ثابت کرتے ہیں ہماری ویلیوز میں پروفیسروں‘ اساتذہ اور عالموں کی کوئی گنجائش نہیں‘ ہم انہیں کمیوں کے برابر بھی نہیںسمجھتے ‘ آپ مشتاق رئیسانی سے لے کر جہانگیر ترین تک تمام لوگوں کی کوالی فکیشن نکال کر دیکھ لیجئے‘ ایان علی صرف میٹرک اور راﺅ انوارسمپل گریجویٹ ہیں‘ شرجیل میمن نے بھی پوری زندگی سکینڈ کلاس سے زیادہ نمبر نہیں لئے اور یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادوں نے بھی ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر تعلیم مکمل کی لیکن یہ تمام لوگ اربوں روپے کے ٹیکے لگانے کے باوجود معزز ہیں‘

یہ نوٹوں کے بریف کیس اور بوریاں بھر کر لے جاتے رہے لیکن کسی نے انہیں انگلی تک نہ لگائی مگر پروفیسر مجاہد کامران کو یونیورسٹی میں لیکچررز اور ٹیکنیکل سٹاف کو کنٹریکٹ پر نوکریاں دینے کے جرم میں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں‘ کیا یہ لوگ ملک سے فرار ہو رہے تھے یا یہ اپنی عظیم کرپشن کے ثبوت مٹا رہے تھے‘ یہ آخر کیا کر رہے تھے جس کی وجہ سے نیب نے انہیں عبرت کا نشان بنا دیا‘ عوام کی طرف سے جب دباﺅ آیا تو ڈی جی نیب لاہور نے اپنی آنکھیں گیلی کر کے جان چھڑا لی اور قصہ ختم ہو گیا‘ کیا یہ ملک اس طرح چل سکے گا‘ کیا ہم پروفیسروں‘ اساتذہ اور وائس چانسلروں کو ذلیل کر کے ایک باوقار قوم بن سکیں گے؟

شاید ہم بن جائیں‘ شاید ہم تاریخ کا دھارا بدل دیں اور شاید ہم تاریخ میں ثابت کر دیں دنیا میں ایک ایسی قوم بھی تھی جو علم اورعالم کی توہین کے باوجود ترقی کرتی رہی‘ جس نے ثابت کر دیا تھا ریاستوں کےلئے مجاہد کامران جیسے پروفیسر ضروری نہیں ہوتے‘ ایان علی جیسی سائنس دان اہم ہوتی ہیں‘ ہمیں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں‘ ہم اگر کامیاب ہو گئے تو ہم تاریخ کےلئے عظیم مثال بن جائیں گے اور اگر ناکام ہو گئے تو پھر میری چیف جسٹس‘ حکومت اور پارلیمنٹ تینوں سے درخواست ہے پاکستان میں یہ قانون بنا دیا جائے ملک میں آج کے بعد کسی استاد کو ڈنڈا لگے گا اور نہ ہی ہتھکڑی۔

The post ایان علی جیسی سائنس دان اہم ہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/10/16/512416

Sunday, October 14, 2018

پوٹلی والیوں

آپ اگر اسلام آباد میں رہتے ہیں تو آپ راول ٹاؤن چوک کو اچھی طرح جانتے ہوں گے‘ یہ چوک کلب روڈ پر سرینا ہوٹل سے فیض آباد کی طرف جاتے ہوئے آتا ہے‘ چوک میں ایک پٹرول پمپ اور ایک پرانی مسجد ہے‘ میں 1993ء میں اسلام آبادآیا تو مسجد کے ساتھ ایک چھوٹا سا گاؤں ہوتا تھا‘ گاؤں کی زمینیں ایکوائر ہو چکی تھیں‘ امیر لوگ زمینوں کی قیمتیں وصول کر کے بڑے بڑے سیکٹروں اور فارم ہاؤسز میں شفٹ ہو چکے تھے لیکن وہ غرباء پیچھے رہ گئے تھے جن کی زمینوں کے پیسے امراء کھا گئے یا پھر وہ جو گاؤں کے کمی کمین تھے اور ان کے نام پر کوئی زمین نہیں تھی‘ حکومت نے انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا‘

دنیا میں ان کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا لہٰذا وہ اپنے ٹوٹے پھوٹے گھروں میں مقیم تھے‘ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے ان کو بے شمار نوٹس دیئے مگر مکینوں کا کہنا تھا ”ہم کہاں جائیں‘ آپ ہمیں بتا دیں ہم وہاں چلے جاتے ہیں“ حکومت ظاہر ہے ایک ٹھنڈی ٹھار مشین ہوتی ہے‘ اس کا دل ہوتا ہے اور نہ ہی جذبات لہٰذا حکومت جواب میں ایک اور نوٹس بھجوا دیتی تھی‘ نوٹس بازی کے اس عمل کے دوران بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی حکومتیں آتی اور جاتی رہیں‘ ضلعی انتظامیہ نے جب بھی سویلین گورنمنٹ سے آپریشن کی اجازت مانگی حکومت نے اجازت نہ دی‘ انتظامیہ ایک بار مشینری لے کر وہاں پہنچ گئی‘ چودھری شجاعت حسین اس وقت وزیر داخلہ تھے‘ ان کو اطلاع ملی تو وہ فوراً وہاں پہنچے اور ذاتی طور پر آپریشن رکوایا لیکن پھر 1999ء آ گیا اورجنرل پرویز مشرف حکمران بن گئے‘ ان کا قافلہ روز اس چوک سے گزر کر وزیراعظم ہاؤس آتا تھا‘ جنرل مشرف کی طبع نازک پر غریبوں کی وہ جھونپڑیاں ناگوار گزرتی تھیں‘ وہ ایک دن گزرے‘ کھڑکی سے باہر دیکھا اور آپریشن کا حکم جاری کر دیا‘ میں ان دنوں شہزاد ٹاؤن میں رہتا تھا اور روزانہ راول چوک سے گزرتا تھا‘ میں نے دوپہر کو دفتر جاتے ہوئے اپنی آنکھوں سے وہ آپریشن دیکھا‘ وہ لوگ انتہائی غریب تھے‘ ان کے گھروں میں ٹوٹی چار پائیوں‘ پچکے ہوئے برتنوں اور پھٹی رضائیوں کے سوا کچھ نہیں تھا‘ انتظامیہ نے وہ بھی ضبط کر لئے‘ گاؤں چند گھنٹوں میں صاف ہو گیا‘ زمین کو فارم ہاؤسز میں تبدیل کر دیا گیا اور وہ فارم ہاؤسز امراء نے خرید لئے‘

صرف مسجد اور اس کے ساتھ چند قبریں بچ گئیں‘ وہ قبریں بھی اب کم ہوتی چلی جا رہی ہیں‘ یہ کہانی یہاں پر ختم ہو گئی‘ 2007 ء میں اس کہانی کا ایک نیا پہلو میرے سامنے آیا‘ ملک میں اس وقت جنرل پرویز مشرف کے خلاف تحریک چل رہی تھی‘ ایک روز ایک صاحب وہیل چیئر پر میرے پاس تشریف لائے‘ وہ ٹانگوں سے معذور تھے اور چہرے سے بیمار دکھائی دیتے تھے‘ میں انہیں بڑی مشکل سے گھر کے اندر لا سکا‘ وہ مجھے اپنی کہانی سنانا چاہتے تھے‘ ان کا کہنا تھا‘ راول چوک کا وہ آپریشن انہوں نے کیا تھا‘ وہ اسے لیڈ کر رہے تھے‘

میں خاموشی سے ان کی داستان سنتا رہا‘ ان کا کہنا تھا‘ ان کے تین بچے تھے‘ دو لڑکے اور ایک لڑکی‘ شادی پسند کی تھی‘ وہ سی ایس پی آفیسر تھے‘ کیریئر بہت برائیٹ تھا‘ سینئر اس کی کارکردگی سے بہت مطمئن تھے‘ ان کا اپنا خیال بھی تھا وہ بہت اوپر تک جائیں گے‘ وہ رٹ آف دی گورنمنٹ کے بہت بڑے حامی تھے‘ وہ سمجھتے تھے قانون پر سو فیصد عمل ہونا چاہیے اور جو شخص قانون کے راستے میں حائل ہوریاست کو اس کے اوپر بلڈوزر چلا دینا چاہیے چنانچہ جنرل مشرف نے جب راول چوک کے مکانات گرانے کا حکم دیا تو یہ ذمہ داری انہیں سونپی گئی‘ یہ فورس لے کر وہاں پہنچے اور گھر گرانا شروع کر دیئے‘

لوگ مزاحم ہوئے‘ پولیس نے ڈنڈے برسائے‘ لوگوں کو گرفتار بھی کیا اور ایک آدھ موقع پر ہوائی فائرنگ بھی کرنا پڑی‘ بہرحال قصہ مختصر آپریشن مکمل ہو گیا اور انتظامیہ نے ملبہ اٹھانا شروع کر دیا‘وہ رکے اور پھر بھولے‘ آپریشن کے بعد اینٹوں کے ایک ڈھیر پر درمیانی عمر کی ایک خاتون بیٹھی تھی‘ وہ ملبے سے نہیں اٹھ رہی تھی‘ اس کا صرف ایک مطالبہ تھا‘ وہ کہہ رہی تھی وہ بس ایک بار آپریشن کرنے والے صاحب سے ملنا چاہتی ہے‘ انتظامیہ عموماً ایسے مواقع پر خواتین سے زبردستی نہیں کرتی چنانچہ اہلکاروں نے انہیں بتایا اور وہ خاتون کے پاس چلے گئے‘

خاتون نے ان کی طرف دیکھا اور کہا ”صاحب یہ آپریشن آپ نے کیا“ میں نے جواب دیا ”ہاں“ اس نے جھولی پھیلائی‘ آسمان کی طرف دیکھا اور بولی ”یا پروردگار‘ اس شخص نے میرے اور میرے بچوں کے سر سے چھت چھینی‘ یا اللہ اسے اور اس کے بچوں کو برباد کر دے“ میں اس وقت جوان تھا‘ میں نے منہ دوسری طرف پھیر دیا‘ اس خاتون نے اس کے بعد کہا ”یا اللہ ہم سے ہمارے گھر چھیننے والے تمام لوگوں کو برباد کر دے“ اس نے اس کے بعد اپنی پوٹلی اٹھائی‘ اپنے بچے ساتھ لئے اور وہ چلی گئی‘

وہ رکا‘ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور بولا‘ جاوید صاحب آپ یقین کریں وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں بحرانوں سے نہیں نکل سکا‘میں اس پوٹلی والی کی بددعا کا نشانہ بن گیا‘ میرا ایکسیڈنٹ ہوا‘ میری بیوی اور میری بچی مر گئی‘ میری ٹانگیں کٹ گئیں‘ میرے دونوں بیٹے ایک ایک کر کے بیمار ہوئے‘ میں نے اپنی ساری جمع پونجی ان کے علاج پر لگا دی لیکن وہ فوت ہو گئے‘ مجھے سسرال سے گھر ملا تھا‘ وہ بک گیا‘ میں نے اپنا گھر بنایا تھا‘ وہ2005ء کے زلزلے میں گر گیا‘

محکمے نے میرے اوپر الزام لگایا‘ میری انکوائری شروع ہوئی‘ میں ڈس مس ہوا اور میں بے گناہی کے باوجود آج تک بحال نہیں ہو سکا‘ میں مقدمے پر مقدمہ بھگت رہا ہوں‘ میں 38 سال کی عمر میں شوگر‘ بلڈ پریشر اور دل کا مریض بھی بن چکا ہوں اور میرے تمام رشتے دار اور دوست بھی میرا ساتھ چھوڑ چکے ہیں‘ میں دل سے سمجھتا ہوں مجھے اس عورت کی بددعا لگی تھی‘ حکومت‘ میرا محکمہ اور آرڈر دینے والے لوگ تینوں پیچھے رہ گئے لیکن میں برباد ہو گیا‘

میں آج سوچتا ہوں تو میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں‘میں کتنا بے وقوف تھا! میں نے اس جنرل مشرف کے حکم پر غریبوں کے سروں سے چھت چھین لی جو خود تاریخ کے سب سے بڑے قبضہ گیر تھے‘ وہ غریب چند کنال زمین پر قابض تھے جبکہ جنرل مشرف نے 8 لاکھ مربع کلو میٹر کے ملک پر قبضہ کر رکھا تھا‘ وہ رکا اور بولا‘ آپ آج سڑکوں پر جنرل مشرف کے خلاف جلوس دیکھ رہے ہیں‘ آپ یقین کیجئے یہ بھی اب میری طرح اپنی گھر میں نہیں رہ سکیں گے‘ ہم سب کو اس عورت کی آہ کھا جائے گی‘

وہ رکا اور پھر بولا‘ آپ کو میری باتیں عجیب لگیں گی لیکن میں نے تحقیق کی ہے‘ اس آپریشن کا حکم دینے والا ہر شخص میری طرح ذلیل ہوا‘ ان میں سے آج کوئی شخص اپنے گھر میں آباد نہیں‘ وہ سب اولاد اور بیویوں کے بغیر عبرت ناک اور بیمار زندگی گزار رہے ہیں یہاں تک کہ اس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کی ساری پراپرٹی بھی بک گئی اور اس کی اولاد بھی دربدر ہو گئی‘ وہ بھی عبرت کا نشان بن کر آخری سانسیں لے رہا ہے‘ وہ صاحب اپنی کہانی سنا کر چلے گئے‘ میں چند دن اس کہانی کے تاثر میں رہا اور پھر نئے واقعات نے اس واقعے کو یادداشت کے آخری کونے میں دھکیل دیا‘ میں اسے بھول گیا۔

وہ صاحب اور تجاوزات کے خلاف وہ آپریشن مجھے چند دن سے بار بار یاد آ رہا ہے‘ حکومت اس وقت آدھے ملک میں د ھڑا دھڑ لوگوں کے مکان اور دکانیں گرا رہی ہے‘ یہ لوگ یقینا ناجائز قابض ہوں گے اور ریاست کو اپنی رٹ ضرور اسٹیبلش کرنی چاہیے لیکن کیا سرکار کی زمین پر صرف یہ لوگ قابض ہیں اور کیا صرف چار پانچ مرلے کے گھر اور بیس فٹ کے شیڈز ناجائز تجاوزات ہیں؟حکومت ذرا سی تحقیق کرے اسے لاکھوں ایکڑ زمین پر قبضہ ملے گا‘ کیا حکومت اس پر بلڈوزر چلا سکتی ہے‘ جی نہیں‘ عمران خان کبھی یہ غلطی نہیں کریں گے‘

دوسرا‘ عام غریب لوگ سرکاری زمینوں‘ سڑکوں کے ساتھ موجود رقبوں‘ گلیوں‘ بازاروں اور چوکوں پر تھڑے اور چھپر بنا لیتے ہیں‘ کیوں؟ اس کی واحد وجہ ان جگہوں کا خالی اور بے مصرف ہونا ہے‘ آپ جب پارک کی جگہ پارک‘ گرین بیلٹ کی جگہ گرین بیلٹ‘ مسجد کی جگہ مسجد‘ فٹ پاتھ کی جگہ فٹ پاتھ اور نرسری کی جگہ نرسری نہیں بنائیں گے تو اللہ کا کوئی نہ کوئی بندہ اس زمین پر جلد یا بدیر آباد ہو جائے گا‘ کیوں؟کیونکہ یہ زمین اللہ کی ہے اور اللہ کے بندے اس پر لاکھوں سالوں سے آباد ہوتے آ رہے ہیں‘

انسان کی نفسیات ہے یہ خالی جگہ نہیں چھوڑتا لہٰذا حکومت اگر ان زمینوں کو ناجائز قابضین سے بچانا چاہتی ہے تو پھر یہ انہیں خالی نہ چھوڑے‘ یہ انہیں نیلام کر دے‘ الاٹ کر دے یا پھر کرائے پر دے دے‘ سرکار کو آمدن بھی ہو گی اور زمینوں پر ناجائز قبضے بھی نہیں ہوں گے اور تیسرا اور آخری نقطہ‘ اللہ کی ذات ہر چیز‘ ہر ضرورت سے بالاتر ہے لیکن گھر اور تعریف دنیا کی دو واحد چیزیں ہیں جس کی اللہ کو بھی طلب ہوتی ہے‘ پوری زمین پر اللہ کے گھر (عبادت گاہیں) ہیں اور یہ اپنے بندوں سے اپنی حمدو ثناء کی توقع بھی کرتا ہے‘

اللہ جب بھی کسی سے خوش ہوتا ہے تو یہ اسے چھت اور رزق دیتا ہے اور اسے اپنے ذکر کی توفیق بھی عطا کر دیتا ہے چنانچہ میرا تجربہ اور میرا مشاہدہ ہے دنیا کا ہر وہ شخص جو کسی کے سر سے چھت اور اس کا روزگار چھینتا ہے یا پھر کسی معزز شخص کو بے عزت کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے سب کچھ چھین لیتا ہے اور وہ شخص اس کے بعد روز مرتا اور روز جیتا ہے مگر اس کی سزا ختم نہیں ہوتی لہٰذا آپ جو دل چاہے کریں لیکن کسی کی بددعا نہ لیں‘ دنیا کے تمام عہدے‘ کرسیاں اور تکبر عارضی ہوتے ہیں‘ یہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور دنیا اور آخرت دونوں میں صرف پوٹلی والیوں کی دعائیں اور بددعائیں کام آتی ہیں۔

The post پوٹلی والیوں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/10/14/511671

Thursday, October 11, 2018

ڈاکٹر آر یواسد عمر

عمران احمد چنیوٹ کا رہائشی ہے‘ اس کے بقول یہ دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان‘ طبی دنیا کا شاندار ترین دماغ اور کائنات کا سب سے بڑا موجد ہے‘ یہ ڈاکٹر آر یو عمران احمد کہلاتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے یہ دس نوبل انعام اور 40 شاہ فیصل ایوارڈز حاصل کر چکا ہے‘ یہ 100 سائنسی کارنامے اور سائنس کو 361 نئے قوانین دے چکا ہے‘ یہ قوانین نیوٹن اور آئن سٹائن کے قوانین سے بڑے ہیں اور یہ دنیا میں میڈیکل جوڈیشری کا موجد ہے‘ ڈاکٹر عمران احمد کا دعویٰ ہے دنیا جہاں کے ادارے اس کی ذہانت اور سائنسی مہارت کا ٹیسٹ لے چکے ہیں اور یہ قدرت کے اس شاہکار پر حیران ہیں‘

یہ پیچیدہ اور ناقابل علاج امراض کا علاج بھی جانتا ہے‘ اس نے چنیوٹ میں باقاعدہ کلینک کھول رکھا تھا‘ یہ سوشل میڈیا پر کمپیئن چلاتا تھا‘ کینسر اور ہائیپاٹائٹس کے مریضوں سے ساڑھے پانچ ہزار روپے وصول کرتا تھا‘ادویات دیتا تھا اور دعویٰ کرتا تھا مرض دس دن میں ختم ہو جائے گا‘ یہ خود ساختہ ایم بی بی ایس بھی تھا‘ یہ دنیا کے کسی میڈیکل کالج کا طالب علم نہیں رہا‘ یہ فزکس‘ کیمسٹری اور بائیالوجی کی الف ب بھی نہیں جانتا لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کا سب سے بڑا ڈاکٹر بھی تھا‘ یہ ان امراض کا علاج کر رہا تھا جن کی ٹریٹمنٹ دنیا کی کوئی لیبارٹری ایجاد نہیں کر سکی‘ یہ مزید دس نوبل انعام اور 50 شاہ فیصل ایوارڈز بھی حاصل کر سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے 7 اکتوبرکو چنیوٹ پولیس نے اس ”عظیم دماغ“ کو گرفتار کر لیا اور اسے جھوٹ اور دھوکہ دہی میں جیل بھجوا دیا‘یہ جیل میں بھی اپنے دعوے پر قائم ہے‘ اس کا کہنا ہے آپ مجھے چھ مہینے مہلت دیں‘ میں ثابت کر وں گا میں آئن سٹائن سے بڑا سائنس دان ہوں۔میں دل سے سمجھتا ہوں ہمیں ڈاکٹر آریو عمران احمد کو موقع دینا چاہیے‘ ہم اگر اسد عمر کو موقع دے رہے ہیں تو ڈاکٹر آریو میں کیا خرابی ہے؟ڈاکٹرآر یو عمران خود کو دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان سمجھتا ہے اور اسد عمر خود کو دنیا کا سب سے بڑا معاشی دماغ‘دونوں میں کیا فرق ہے؟ڈاکٹر آر یو کا دعویٰ ہے آپ مجھے ساڑھے پانچ ہزار روپے دیں‘ مریض میرے حوالے کریں اور پھر میرا کمال دیکھیں ‘

اسد عمر بھی یہی دعویٰ کرتے تھے‘ آپ ہمیں اقتدار دیں اور پھر پٹرول اور گیس سستی ہوتے ‘ اوورسیز پاکستانیوں کوڈالروں کی بارش کرتے ‘ پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنتے‘ ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھتے‘ مہنگائی اور بے روزگاری کو کم ہوتے اور روپے کی قدر میں اضافہ ہوتے دیکھیں‘آپ دونوں ڈاکٹروں کے دعوے آمنے سامنے رکھیں‘آپ کودونوں میں کوئی فرق نہیں ملے گا لیکن آپ ریاست کی منافقت ملاحظہ کیجئے پولیس نے ڈاکٹر آر یو کو گرفتار کر لیا‘ یہ جیل میں سڑ رہا ہے جبکہ پولیس اسد عمر کو روزانہ سلیوٹ کرتی ہے‘

میں ریاست کے اس دہرے معیار پر حیران ہوں‘ اگر ڈاکٹر آر یو عمران اپنے دعوے ثابت نہیں کر سکا‘ یہ اپنے دس نوبل انعام‘ 40 شاہ فیصل ایوارڈز‘ 100 سائنسی کارنامے اور 360 سائنسی قوانین کے ثبوت نہیں دے سکا تو ڈاکٹرآر یو اسد عمر نے پچھلے 55 دنوں میں کیا کمال کیا؟ حکومت کے 55 دنوں میں سٹاک ایکسچینج میں لوگوں کے 794 ارب روپے ڈوب گئے‘ مارکیٹ صرف اکتوبر کے مہینے میں 500 ارب روپے نیچے آئی‘اگست میں 100 انڈیکس43 ہزار78 پوائنٹس پر تھا‘ یہ آج 38792 پر آ چکا ہے‘

گردشی قرضے 596 ارب روپے تھے‘ یہ 1200 ارب روپے ہو چکے ہیں‘ تجارتی خسارے میں بھی 2 ارب ڈالر اضافہ ہو چکا ہے‘ گیس کے نرخ 147 فیصد بڑھ چکے ہیں‘روٹی دو روپے ‘ نان تین روپے‘ چینی چار روپے‘ گھی10 روپے‘آٹا 5 روپے اور دالیں14 روپے مہنگی ہو چکی ہیں‘ درسی کتب کی قیمتیں بھی 10 فیصد بڑھ گئیں‘ اگست میں ہمارے فارن ایکسچینج ریزروز 16 ارب ڈالر تھے ‘یہ اب 8 ارب ڈالر ہوچکے ہیں اور ڈالر نے 124 سے 138 روپے پرچھلانگ لگا دی لہٰذا پچھلے 55 دنوں میں ملک کومجموعی طور پر 2800 ارب روپے کا نقصان ہوا‘

ہم اگر اس خسارے کو 55 دنوں میں تقسیم کریں تو یہ 51ارب روپے روزانہ بنتا ہے لیکن آپ ہماری منافقت دیکھئے ہم نے 5500 روپے کا نقصان پہنچانے والے ڈاکٹرآر یو عمران کو گرفتار کر لیا لیکن ملک کو روزانہ 51ارب روپے کاٹیکہ لگانے والے ڈاکٹر کےلئے قومی اسمبلی میں ڈیسک بجائے جاتے ہیں‘ کیا یہ کھلا تضاد نہیں! مجھے یہ تضاد پورے معاشرے میں دکھائی دیتا ہے‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے کیا ہم میں ہر شخص کے اندر ایک آر یو اور ایک اسد عمر نہیں بیٹھا ہوا‘

کیا ہم خود کو دنیا کی ذہین ترین‘ عقل مند ترین اور شاندار ترین قوم نہیں سمجھتے‘ ہمیں کیل اور پیچ لگانا نہیں آتا‘ آپ کو پورے ملک میں اچھا ڈرائیور‘ اچھا کک اور اچھا الیکٹریشن نہیں ملتا‘ہماری مسجدوں اور یونیورسٹیوں کے باتھ روم بھی گندے ہوتے ہیں‘ ہم آج تک پارلیمنٹ ہاﺅس کے ٹوائلٹس میں صابن نہیں رکھ سکے اور ہم آج تک قوم کو ہیلمٹ کی عادت نہیں ڈال سکے لیکن ہم اس کے باوجود دنیا کی شاندار اور ذہین ترین قوم ہیں‘ ہم اپنے دعوے دیکھیں تو محسوس ہوگا دنیا ہمارے سینگوں پر کھڑی ہے اور ہم نے جس دن اپنے سینگ نکال لئے یہ دنیا ختم ہو جائے گی لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو ہم میں سے اکثر لوگ ڈاکٹر آریو اسد عمر نکلتے ہیں‘

ہم سب فطرتاً ڈاکٹر آر یو عمران احمد ہیں‘ ہم خود کو دس دس نوبل انعام اور چالیس چالیس شاہ فیصل ایوارڈ دیتے رہتے ہیں ‘ہم خود کو دنیا کا سب سے بڑا موجد اور سب سے بڑا سائنس دان بھی سمجھتے ہیں لیکن عملاً ہم پاگلوں سے بھی کوئی اونچی‘ کوئی بلند قوم ہیں۔میں نواز شریف کا ناقد ہوں‘ میں دل سے سمجھتا ہوں نواز شریف ملک کے موجودہ حالات کے ذمہ دار ہیں‘ یہ ان کی ضد اور یہ ان کی جلد بازی تھی جس نے ان کی پارٹی‘ ان کی حکومت اور ملک تینوں کو نقصان پہنچایا‘

یہ اگر 2014ءکی ضد کو 2019ءتک موخر کر دیتے تو آج ملک مختلف ہوتا لیکن اس تمام تر تنقید کے باوجود ہمیں یہ ماننا ہوگا نواز شریف بالخصوص شہباز شریف نے ملک کو سنبھالے رکھا‘ پنجاب آج نہ صرف تینوں صوبوں سے بہتر ہے بلکہ شہباز شریف نے ملک میں گورننس کی ایک نئی مثال بھی قائم کی چنانچہ ہم نے اسے گرفتار کر کے زیادتی کی‘ آپ دیکھ لیجئے گا نیب آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم میں بھی کرپشن ثابت نہیں کر سکے گا‘ یہ کیس بھی بالآخر ایون فیلڈ ثابت ہو گا‘

ہمیں آج یہ بھی ماننا ہوگا سابق حکومتیں کرپٹ ہوں گی‘ یہ لوگ ظالم اور بے وقوف بھی ہوں گے لیکن یہ لوگ جیسے بھی تھے یہ رو پیٹ کر ملک چلا رہے تھے‘ یہ کہیں نہ کہیں سے مانگ تانگ کر سسٹم کو دھکا لگا لیتے تھے اورملک میں بجلی‘ گیس اور پٹرول کے نرخ بھی کم تھے اور ڈالر بھی 103 روپے پر تھا مگر ہم نے ان کو نکال کر یہ ملک نیک اور ذہین لوگوں کے حوالے کر دیا‘آپ سوچئے عوام کو ان نیک لوگوں کا کیا فائدہ ہوا‘ لوگوں کو نئے پاکستان نے کیا دیا؟

یہ پولیس کو غیر سیاسی اور خودمختار بنانا چاہتے تھے لیکن یہ پنجاب میں ایک ایماندار آئی جی برداشت نہیں کر سکے‘حکومت نے ایک ماہ بعد آئی جی محمد طاہر کو تبدیل کر دیا اور ردعمل میں اس ناصر درانی نے بھی استعفیٰ دے دیا جس نے پنجاب میں پولیس ریفارمز کرنی تھیں‘ کیا یہ نیا پاکستان ہے؟ نئے پاکستان کی نئی حکومت کو بیورو کریسی سے کام لینے میں بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں‘ آپ جب فواد حسن فواد اور احد چیمہ جیسے سینئر بیورو کریٹس کو جیلوں میں رکھیں گے اور شہباز شریف کو خوفناک مثال بنا ئیں گے تو کون سا افسر کام کرے گا‘ کون سا چیف منسٹر صوبے کو تبدیل کرنے کی جرات کرے گا‘

حکومت پاکستانی سرمایہ کاروں کو ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دے رہی ہے‘یہ پاکستانی ماہرین کو بھی واپس بلا رہی ہے لیکن ڈاکٹر سعید اختر اور محمود بھٹی جیسی مثالوں کے بعد کون باہر سے سرمایہ لائے گا اور کون ملک کی خدمت کےلئے یہاں آئے گا‘ یہ تاجروں اور صنعت کاروں کا اعتماد بھی بحال کرنا چاہتے ہیں لیکن ملک ریاض کی مثال کے بعدان کی بات پر کون یقین کرے گا‘ لوگ ترکی‘ مالٹا‘ ملائیشیا‘ مشرقی یورپ‘ برطانیہ اور کینیڈا میں سرمایہ کاری کیوں نہ کریں‘ وہاں سرمایہ بھی محفوظ رہتا ہے‘ فیملی سمیت شہریت بھی مل جاتی ہے اور تعلیم اور صحت کی سہولتیں بھی مفت ہیں‘

ملک ریاض کی ویلیو اس وقت تین ہزار ارب روپے ہے گویا یہ شخص اکیلا ملک کے کل بجٹ کا 60 فیصد ہے ‘ ہم اگر اس کا بھٹہ بٹھا رہے ہیں تو پھر باہر سے کون آئے گا اور ملک کے اندر سے کون ملک ریاض بننے کی غلطی کرے گا‘ یہ واحد آدمی ہے جو حکومت کو 50 لاکھ سستے گھر بنا کر دے سکتا ہے یایہ حکومت کو سستے مکان بنانے کا طریقہ سکھا سکتا ہے لیکن وزیراعظم انیل مسرت کو جہازوں میں لے کر پھر رہے ہیں اور ملک ریاض ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر دھکے کھا رہا ہے

چنانچہ پھر آپ کچھ بھی کر لیں‘ آپ خواہ مارکیٹنگ کے دنیا کے بہترین لوگ ہائیر کر لیں لیکن آپ میاں شہباز شریف‘ گرفتار سینئر بیورو کریٹس‘ ڈاکٹر سعید اختر‘ محمود بھٹی اور ملک ریاض جیسی مثالوں کی موجودگی میں نیا تو کیا پرانا پاکستان بھی نہیں چلا سکیں گے‘ آپ رہی سہی معیشت کا بھی بیڑہ غرق کر دیں گے‘ آپ رحم کریں‘ یہ ملک ڈاکٹرآر یواسد عمر جیسے مزید ماہرین افورڈ نہیں کر سکتا‘آپ سنبھل جائیں ورنہ دنیا اسد عمر کو نوبل انعام یافتہ معیشت دان ڈکلیئر کر کے تاریخ کو ہنسنے پر مجبور کر دے گی۔

The post ڈاکٹر آر یواسد عمر appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/10/11/510599

Tuesday, October 9, 2018

ہم آخر چاہتے کیا ہیں

محمود بھٹی کی داستان میں آنسو بھی ہیں‘ عزم بھی اور کامیابی کا تاج بھی‘ یہ لاہور سمن آباد میں پیدا ہوا‘ والدین ہوش سے قبل فوت ہو گئے‘ بہن بھائی بڑے تھے‘ مصروف تھے اور وہ اسے ’’اون‘‘ نہیں کرتے تھے‘ پانچ چھ سال کی عمر میں محنت مزدوری شروع کی‘ وہ اینٹیں‘ بوریاں اور چھان بورا اٹھا کر بڑا ہوا‘ کھانا داتا دربار سے کھاتا تھا‘ سکول ٹاٹ والا تھا اور یتیم ہونے کی وجہ سے چند آنے کی فیس بھی معاف تھی‘ وہ گلیوں میں خوار‘ خراب اور پریشان ہو کر بی اے کر گیا‘

بی اے کے بعد کیا کرے؟ یہ اس کی زندگی کا مشکل ترین سوال تھا‘ اس کا ایک دوست علی اس دوران پیرس چلا گیا‘ وہ اس سے خط وکتابت کرتا رہتا تھا‘ علی نے محمود بھٹی کو پیرس آنے کی دعوت دے دی‘ پاکستانیوں کو 1970ء کی دہائی میں فرانس کے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی‘ محمود بھٹی نے اپنے تمام عزیزوں‘ رشتے داروں اور دوستوں سے ادھار لیا اور یہ 1977ء میں پیرس چلا گیا‘ اس کی عمر اس وقت صرف 17 سال تھی‘ وہ اٹیچی کیس لے کر دوست کے گھر گیا‘ دوست علی دو لڑکوں کے ساتھ ایک گندے اور بدبودار کمرے میں رہتا تھا‘ اس نے اسے کھانا کھلایا لیکن ساتھ رکھنے سے انکار کر دیا‘ وہ اٹیچی کیس اٹھا کر باہر نکل گیا‘ باہر برف باری ہو رہی تھی‘ درجہ حرارت منفی دس تھا اور محمود بھٹی اس منجمد موسم میں سر پر اٹیچی کیس رکھ کر لنڈے کا ہلکا سا کوٹ پہن کر اجنبی ملک کی ٹھنڈی گلیوں میں پھر رہا تھا‘ مشکلات کا وہ دور انتہائی مشکل تھا‘ وہ ان دنوں کچرہ گھروں سے کھانا نکال کر کھاتا تھا‘ کوئی دروازہ کھلا ملتا تھا تو وہ انگلیوں کو نوالے کی شکل دے کر منہ تک لاتا تھا اور پھر ہاتھ پھیلا دیتا تھا‘ لوگ رحم کھا کر اسے کھانے کی اشیاء دے دیتے تھے‘ وہ میٹرو سٹیشنوں اور پلوں کے نیچے سوتا تھا اور دس دس گھنٹے رو رو کر خدا سے مدد مانگتا تھا‘ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ایک پاکستانی نے اسے فرنچ زبان کا ایک فقرہ سکھا دیا‘ وہ فقرہ ’’میں بے روزگار ہوں‘ مجھے کام چاہیے‘‘ تھا‘ وہ ہر دکان‘ ہر ریڑھی اور ہر دروازے پر جا کر یہ فقرہ دہراتا تھا اور جواب میں انکار سن کر آگے بڑھ جاتا تھا‘

وہ کام کی بھیک مانگتے مانگتے درزیوں کی ایک چھوٹی سی دکان پر پہنچ گیا‘ وہ دکان یہودی کی تھی اور یہودی ایک چھوٹا سا فیشن ڈیزائنر تھا‘ یہودی نے اسے ورکشاپ کی صفائی کا کام دے دیا‘ وہ سارا دن سویپر کا کام کرتا تھا‘ شام کو پیکنگ کرتا تھا اور جب تھک جاتا تھا تو ورکشاپ کے ٹھنڈے فرش پر سو جاتا تھا‘ اللہ تعالیٰ نے اسے آگے بڑھنے کا جذبہ دے رکھا تھا چنانچہ وہ ورکشاپ کے فرش اور باتھ روم دھوتے دھوتے فیشن ڈیزائننگ‘ لباس کی تیاری اور لباس کی مارکیٹنگ کا کام سیکھ گیا‘ مالک نے اسے سیل ڈیپارٹمنٹ میں شفٹ کر دیا‘

وہ ٹوٹی پھوٹی فرنچ بھی بول لیتا تھا‘ خوبصورت‘ جوان اور بھولا بھالا تھا لہٰذا وہ بہت جلد گاہکوں میں پاپولر ہو گیا‘ اللہ نے مدد کی‘ کمپنی کے ورکروں اور کمپنی کے مستقل گاہکوں نے اس کا ساتھ دیا اور محمود بھٹی نے 1981ء میں اپنی کمپنی بنا لی‘ وہ فرانس کا پہلا ڈیزائنر تھا جس نے ڈیزائننگ کی کوئی فارمل تعلیم حاصل نہیں کی تھی‘ وہ محنتی تھا‘ لگن تھی‘ ہمت تھی اور غربت کی ایک طویل اذیت تھی چنانچہ وہ ڈٹا رہا اور پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک کامیاب ڈیزائنر بن گیا‘ کمپنی میں چھ سو ملازمین ہو گئے‘

ان میں پیرس کے بہترین ڈریس ڈیزائنر بھی شامل تھے‘ اس نے اس بزنس میں اربوں روپے کمائے‘ دنیا بھر کے میڈیا نے اس کے انٹرویوز کئے‘ اس پر تین فلمیں بنیں‘ کتابیں لکھی گئیں‘ ٹیلی ویژن کے لائیو شوز ہوئے‘ اخبارات میں آرٹیکل چھپے اور وہ فیشن کی دنیا کا سیلبریٹی بن گیا۔محمود بھٹی کامیابی کے اس سفر میں تین خبط میں مبتلا تھا‘ وہ اس پاکستان میں اپنی شناخت چاہتا تھا جس میں اس نے انتہائی غربت دیکھی تھی‘ جس میں اس کی فیملی بھی اسے اون نہیں کرتی تھی اور جس میں وہ سکول کی کتابیں اور یونیفارم بھی لوگوں سے مانگ کر استعمال کرتا تھا چنانچہ وہ جو رقم کماتا تھا اسے پاکستان بھجوا دیتا تھا‘

اس نے پاکستان میں پراپرٹی بھی بنائی‘ سینکڑوں بچیوں کی شادیاں بھی کرائیں‘ طالب علموں کو وظائف بھی دیئے‘ لوگوں کا مفت علاج بھی کرایا اور غریبوں کو گھر بھی بنوا کر دیئے‘ دوسراخبط‘ وہ پاکستان میں ہسپتال بنانا چاہتا تھا‘کیوں؟ وجہ بہت دلچسپ تھی‘ وہ دس سال کی عمر میں شدید بیمار ہو گیا ‘ اسے محلے کے لوگ اٹھا کر میو ہسپتال لائے‘ وہ کئی دن ہسپتال میں رہا‘ان دنوں وارڈ کی چھت ٹپکتی تھی‘ فرش گندے تھے‘ ہسپتال میںادویات موجود نہیں تھیں اور ڈاکٹرز نہ ہونے کے برابر تھے‘ فیملی کے لوگ اسے ہسپتال میں پھینک کر بھول چکے تھے‘ کوئی اس سے ملنے نہیں آتا تھا‘ وہ عید کے دن بھی ہسپتال میں اپنے گھر والوں کا انتظار کرتا رہا‘

اس نے اس وقت اپنے آپ سے وعدہ کیا اگر اللہ تعالیٰ نے ہمت دی تو وہ پاکستان میں ایک اچھا ہسپتال بنائے گا اور تیسرا خبط‘ وہ پاکستان کی پہلی فیشن یونیورسٹی بنانا چاہتا تھا‘ اس کا خیال تھا وہ فارمل ایجوکیشن کے بغیر ایک اچھا ڈیزائنر بن گیا‘ اگر پاکستان کے بچوں کو فیشن کی تعلیم دی جائے تو وہ محمود بھٹی سے اچھے ڈیزائنر بن سکتے ہیں‘ محمود بھٹی اپنی پیرس کی کمائی پاکستان شفٹ کرتا رہا‘ اس نے تین ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر 1997ء میں ڈی ایچ اے لاہور میں نیشنل ہسپتال کی بنیاد رکھی‘

یہ ہسپتال چل پڑا‘ اس میں اس وقت 275 بیڈز اور135 سپیشلائزڈڈاکٹرز ہیں‘ ملک کے بے شمار نامور ڈاکٹر یہاں کام کرتے ہیں‘ محمود بھٹی نے بیدیاں روڈ پر جگہ خرید کر فیشن یونیورسٹی کی بنیاد بھی رکھ دی‘ یہ یونیورسٹی ابھی شروع نہیں ہوئی‘ یہ اسے ڈیزائن کرا رہا تھا‘ یہ 2007ء میں مکمل طور پر پاکستان شفٹ ہو گیا‘ اپنی ساری دولت باقاعدہ بینکوں کے ذریعے پاکستان منتقل کی اور باقی زندگی اس ملک میں گزارنے کا فیصلہ کر لیا تاہم اس کے بچے امریکا میں رہتے ہیں‘ اس نے ہسپتال پر بہت سرمایہ اور وقت لگایا‘ یہ پاکستان کے چند پرائیویٹ ہسپتالوں میں شامل ہے جس میں 6 کنال کا پارکنگ پلازہ ہے اور اس پلازے کی تعمیر پر 18 کروڑ روپے خرچ ہوئے لیکن پھر 30ستمبر2018ء کا دن آگیا‘

اس کے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘30 ستمبر کو محمود بھٹی کے ساتھ کیا ہوا ؟وہ کلپ اب تک پوری دنیا دیکھ چکی ہے‘ محمود بھٹی نے دو اکتوبر کی رات مجھے فون کیا اور ہچکیوں کے ساتھ رونا شروع کر دیا‘ وہ بار بار کہہ رہا تھا یہ میرا ملک تھا‘ میں پوری دنیا سے پیسہ کما کر یہاں لایا‘ میں اپنی آخری زندگی یہاں گزارنا چاہتا تھا لیکن مجھے آج پتہ چلا یہ ملک میرا نہیں‘ میں یہاں صرف پیدا ہوا تھا‘ میرا اصل ملک وہ فرانس یا امریکا ہے جس نے مجھے رزق بھی دیا‘ شناخت بھی اور عزت بھی‘ میں فرانس میں جب سویپر تھا اور فرش پر سوتا تھا تو اس وقت بھی کسی نے میری عزت نفس اپنے پائوں میں نہیں روندی تھی‘

لوگ اس وقت بھی میری عزت کرتے تھے‘ وہ کہہ رہا تھا میں ڈاکٹر نہیں ہوں‘ میں نے صرف یہ ہسپتال بنایا اور میں اس کی مینجمنٹ دیکھتا ہوں‘ یہ ایک پرائیویٹ ہسپتال ہے‘ ہم نے اس پر دو ارب روپے سے زیادہ سرمایہ لگایا‘ آپ صرف اس کی ہیٹنگ اور کولنگ کے بل اور لوئر سٹاف کی تنخواہیں نکال کر دیکھ لیں‘ ہم پٹی‘ سرنج اور پانی تک بازار سے خریدتے ہیں‘ہم اگر افورڈ کرنے والوں سے پیسے نہیں لیں گے تو یہ ہسپتال کیسے چلے گا؟ مریض یہاں اپنی مرضی سے آتے ہیں‘ہماری فیسیں طے ہیں‘ جو نہیں آنا چاہتا وہ نہ آئے‘ ہم اسے زبردستی نہیں لاتے‘ یہ ہسپتال ملکی قوانین کے مطابق ریاست کی مرضی سے بنا‘

اگر ریاست کو پسند نہیں تھا تو ریاست ہمیں اجازت نہ دیتی‘ ہم ہسپتال نہ بناتے‘ ریاست کو اگر آج بھی یہ ہسپتال نہیں چاہیے تو یہ بند کر دے‘ دوسرا اگر ہسپتال کا معیار ٹھیک نہیں یا ہم زیادہ چارج کر رہے ہیں تو آپ اسے سیل کر دیں لیکن آپ کو میری بے عزتی کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ میں نے کس رنگ اور کس قسم کے کپڑے پہننے ہیں‘ دنیا کا کوئی شخص یہ اعتراض نہیں کر سکتااور وہ بار بار کہہ رہا تھا ’’میں کل فرانس واپس جا رہا ہوں‘ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اپنے ملک جا رہا ہوں‘‘۔میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانا‘ مجھے اگلے دن پتہ چلا محمود بھٹی نے اپنے تمام پراجیکٹس بند کر دیئے ہیں‘

وکلاء کواپنی پراپرٹی اونے پونے بیچنے کا اختیار دے دیا ہے اور وہ پیرس واپس چلا گیاہے‘ میری کل اس سے دوبارہ بات ہوئی‘ وہ پیرس پہنچ چکا تھا‘ اس نے روتے ہوئے کہا‘ میں پاکستان کو چھوڑ آیا ہوں‘ میں اپنے ملک آ گیا ہوں اور اب میری زندگی کا صرف ایک مقصد ہے میں پوری دنیا میں بکھرے ہوئے سابق پاکستانیوں کو بتائوں گا پاکستان آپ کا ملک نہیں‘ آپ کے ملک وہ ہیں جو آپ کو روزگار‘ شناخت اور عزت دے ر ہے ہیں‘ محمود بھٹی کی بات سن کر میرا دل لرز گیا ۔میری اس مملکت کے تمام صاحبان اقتدار سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر یہ فیصلہ کر لیں کیا آپ کو واقعی محمود بھٹی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے!

ہم کیا لوگ ہیں‘ ہم ایک طرف کشکول اٹھا اٹھا کر پوری دنیا میں پھر رہے ہیں‘ ہمارے وزیراعظم ڈیم کیلئے لوگوں کی منتیں کر رہے ہیں اور ہم دوسری طرف محمود بھٹی جیسے لوگوں کو ذلیل کر کے نکال رہے ہیں‘ ہم خود سکول‘ کالج اور یونیورسٹیاں نہیں بنا پاتے‘ ہم سے ہسپتال بھی نہیں بنتے اور اگر بن جائیں تو ہم چلا نہیں سکتے لیکن اگر محمود بھٹی جیسا کوئی مقدر کا مارا آ جائے تو ہم پہلے اسے سسٹم کے ہاتھوں ذلیل کرتے ہیں اور پھر آخر میں اسے رلا کرباہر نکال دیتے ہیں‘ ہم آخر چاہتے کیا ہیں؟۔

The post ہم آخر چاہتے کیا ہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/10/09/510293