Tuesday, March 19, 2019

فیل سٹیٹس

وہ کچھ بھی نہیں تھا‘ وہ بس ایک عام شخص تھا‘ غریب‘ ناکام اور بے نام‘ باپ روڈنی درمیانے درجے کا ایتھلیٹ تھا‘ وہ بھی زندگی میں کوئی بڑا میڈل حاصل نہیں کر سکا‘ ماں سکول ٹیچر تھی‘ وہ بھی کوئی کمال نہ کر سکی‘ بہن بھی ایک عام سی آسٹریلین لڑکی تھی‘ وہ چاروں نیو ساﺅتھ ویلز کے درمیانے درجے کے شہر گرافٹن کے مضافات میں رہتے تھے‘ گاﺅں بھی گم نام تھا‘ وہ سکول میں بھی اوسط درجے کا طالب علم تھا‘ کبھی اچھے نمبر لے سکا اور نہ کسی نے اس کےلئے تالی بجائی‘

تعلیم سکول سے آگے نہ بڑھ سکی‘ وہ یونیورسٹی تک بھی نہیں پہنچ سکا‘ روزگار کا وقت آیا تو اسے صرف ایک کام آتا تھا‘ وہ ورزش کا ایکسپرٹ تھا‘ جم انسٹرکٹر کا کورس کیا اور گاﺅں کے جم ”بگ ریور“ میں بھرتی ہو گیا‘ وہ 2009ءسے 2011ءتک جم میں کام کرتا رہا‘ والد روڈنی ٹیرنٹ کو کینسر ہوا اور وہ 2010ءمیں فوت ہو گیا‘ والد کی وفات نے اس کی زندگی کی بے مقصدیت بڑھا دی‘ جمع پونجی اکٹھی کی اور وہ ورلڈ ٹور پر نکل گیا‘ وہ یورپ گیا‘ شمالی کوریا‘ بھارت اور جاپان کے وزٹ کئے اور وہ پاکستان بھی آیا‘ پاکستان میں ہنزہ اورنگر کے علاقے اسے بہت پسند آئے‘ وہ پاکستانیوں کی سادگی‘ مہمان نوازی اور گرم جوشی سے بہت متاثر ہوا‘ اس کی زندگی ٹھیک چل رہی تھی لیکن پھر ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ سٹاک ہوم میں 7 اپریل 2017ءکو ازبکستان کے شہری رحمت ایکیو لوف نے کوئین سٹریٹ میں سیاحوں پر ٹرک چڑھا دیا‘ پانچ لوگ ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے‘ مرنے والوں میں گیارہ سال کی بچی ایبا بھی شامل تھی‘ رحمت ایکیو لوف نے سویڈن میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی تھی‘ اس کی درخواست مسترد ہو گئی‘ اسے غصہ آ گیا‘ ٹرک اغواءکیا اور سیاحوں پر چڑھا دیا‘ یورپ کے میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘ یہ بار بار 11 سال کی بچی ایبا کو دکھاتا تھا‘ میڈیا مسلمان دہشت گردوں کا حوالہ بھی دیتا تھا اور لوگوں کو مسلمانوں سے ہوشیار رہنے کے مشورے بھی دیتا تھا‘ وہ بھی دوسرے لوگوں کی طرح یہ خبر بار بار دیکھتا رہا‘

یہ واقعہ اسے دہشت گردی کی تحقیق کی طرف لے گیا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا دنیا میں بے شمار ایسے گورے موجود ہیں جو عام اور گم نام تھے لیکن پھر انہوں نے مسلمانوں سے بدلہ لیا اور وہ تاریخ کا حصہ بن گئے‘ وہ ریسرچ کرتا چلا گیا اور ویانا کے 1683ءکے آسٹرین جوان اس کے سامنے آتے چلے گئے جنہوں نے عثمانی فوجوں کو دوسری بار شکست دی تھی‘ وہ چارلس مارٹل سے بھی واقف ہو گیا جس نے سپین میں مسلمانوں کو ہرایا‘

وہ اس انتونیو بریگیڈن کو بھی جان گیا جس نے وینس معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ترک مغویوں کو قتل کر دیا‘ وہ خلافت عثمانیہ کے البانوی باغی سکندر برگ کو بھی جان گیا‘ وہ اس الیگزینڈر بیسونیٹ سے بھی واقف ہو گیا جس نے 2017ءمیں کینیڈا کی مسجد پر حملہ کیا اور 6 مسلمان نمازیوں کو شہید کر دیا اور وہ اس اینٹون لنڈن پیٹرسن کو بھی جان گیا جس نے سویڈن میں دو مہاجر بچے قتل کر دیئے تھے‘ یہ تمام لوگ اس کی طرح گم نام‘ ناکام اور غیر تعلیم یافتہ تھے‘

دنیا ان کے خاندانوں‘ شہروں اور بیک گراﺅنڈ سے واقف نہیں تھی لیکن پھر یہ لوگ باہر نکلے‘ مسلمانوں پر حملے کئے اور پوری دنیا میں مشہور ہو گئے‘ اس تحقیق نے اسے دو نئے راستے دکھا ئے‘ مسلمانوں سے نفرت اور پوری دنیا میں مشہور ہونے کا آسان ترین طریقہ‘ یہ دونوں راستے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پوری شخصیت کو نگل گئے۔آپ جان چکے ہوں گے یہ برینٹن ٹیرنٹ کی کہانی ہے‘ وہ برینٹن ٹیرنٹ جس نے جمعہ 15مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مسجدوں میں نمازیوں پر حملہ کیا اور 50 لوگوں کو شہیداور48 کوزخمی کر دیا‘

شہداءمیں 9 پاکستانی اور دو سال‘ چار سال اور 13 سال کے بچے بھی شامل تھے‘ یہ شقی القلب شخص آسٹریلیا سے نیوزی لینڈ آیا‘ کرائسٹ چرچ میں مسجدوں کی ریکی کی‘ گاڑی میں پانچ مشین گنز رکھیں‘ سوشل میڈیا پر اپنا منشور چڑھایا‘ سر پر کیمرہ لگایا‘لائیو کوریج شروع کی اور مسجد کے نہتے اور بے گناہ مسلمانوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں‘ نمازیوں نے جان بچانے کےلئے باہر کی طرف دوڑ لگائی ‘ یہ پیچھا کرتا ہوا پارکنگ تک آیا‘ یہ تین بار مسجد میں گیا اور تین بار نمازیوں پر گولیاں برسائیں‘

ٹیرنٹ نے ایک نمازی کو قریب پہنچ کر بھی گولیوں سے چھلنی کیا‘ یہ النور مسجد کے بعد لن ووڈ کی مسجد میں پہنچا اور اس نے 8 نمازیوں کو وہاں بھی گولی مار دی‘ یہ ہولناک واقعہ تھا اور اس واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا‘ پوری دنیا سکتے میں چلی گئی‘ یہ واقعہ ہونا تھا اور ہو گیا لیکن یہ اپنے پیچھے بے شمار نکتے چھوڑ گیا‘ میرا خیال ہے دنیا بالخصوص مغربی دنیا کو اب ان نکتوں کے بارے میں سوچنا چاہیے‘ یہ سوچ دنیا کو بچا سکے گی ورنہ برینٹن ٹیرنٹ جیسے لوگ جنت جیسی اس دنیا کو دوزخ بنا دیں گے‘

وہ نکتے کیا ہیں‘ آئیے ہم ان پر غور کرتے ہیں‘ پہلا نکتہ دہشت گردی ہے‘ دنیا کا خیال تھا مسلمان دہشت گرد ہیں‘ یہ معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور افغانستان‘ عراق اور پاکستان ان دہشت گردوں کی نرسریاں ہیں لیکن برینٹن ٹیرنٹ نے ثابت کر دیا دہشت گرد گورے بھی ہو سکتے ہیں‘ یہ آسٹریلیا جیسے جدید ترین ملکوں میں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ نیوزی لینڈ جیسے ملکوں کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں‘ اس شخص نے ثابت کر دیا دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا شہریت نہیں ہوتی‘

یہ لوگ کہیں بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور یہ کہیں بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں‘ دوسرا نکتہ دہشت گردوں کا کھوج ہے‘ مغربی دنیا ہمیشہ پاکستان جیسے ملکوں پرالزام لگاتی تھی تم اپنی صفوں میں چھپے دہشت گردوں کا اندازہ نہیں لگا پاتے‘ یہ پاکستانیوں کے ای میل اور سوشل میڈیا اکاﺅنٹ تک کھنگال لیتے تھے لیکن برینٹن ٹیرنٹ سال بھر دہشت گردی کا ڈیٹاسرچ کرتا رہا‘ اس نے 5 رائفلیں خریدیں‘ گولیاں لیں اور وہ رائفلوں پر اپنے دہشت گرد ہیروز کے نام بھی لکھتا رہا لیکن آسٹریلیا جیسے جدید ترین ملک کی خفیہ ایجنسیاں اس کے عزائم سے واقف نہ ہو سکیں‘ وہ کسی ادارے کی نظر میں نہیں آیا‘

یہ نکتہ ثابت کرتا ہے پاکستان ہو یا آسٹریلیا دنیا کا کوئی ملک دہشت گردوں کا اندازہ نہیں کرپاتا‘ برینٹن ٹیرنٹ نے یہ واردات فیس بک پر لائیو آ کر کی‘ وہ20منٹ لائیو رہا اور پوری دنیا اسے مسلمانوں کو قتل کرتے دیکھتی رہی لیکن وہ فیس بک اور ٹویٹر سمیت سوشل میڈیا کے کسی الرٹ سسٹم میں نہیں آسکا‘ وہ لائیو بھی رہا اور لوگ گھنٹوں اس کی فوٹیج ایک دوسرے کو بھجواتے بھی رہے لیکن سوشل میڈیا کمپنیاں فوٹیج روک سکیں اور نہ ہی لائیو کوریج‘ اس نکتے نے سوشل میڈیا کے حفاظتی اقدامات کی قلعی بھی کھول دی‘

تیسرا نکتہ ہم ہمیشہ یورپ کے سسٹم کی مثال دیتے ہیں‘ میں خود بھی یورپی نظام کا بہت بڑا وکیل ہوںلیکن کرائسٹ چرچ کے واقعے نے اس سسٹم کا ملمع بھی اتار دیا‘ برینٹن ٹیرنٹ نے جس وقت النور مسجد میں گولیاں چلانا شروع کیں‘ پاکستانی شہری سردار فیصل عباس اس وقت وضو کر رہا تھا‘ وہ فوری طور پر وضو خانے سے نکلا اور اس نے ٹیلی فون پر پولیس سٹیشن کو اطلاع دی‘ پولیس سٹیشن مسجد سے تین چار منٹ کے فاصلے پر تھا‘ ترقی یافتہ ملکوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے پولیس تین سے چار منٹ میں موقع واردات پر پہنچ جاتی ہے لیکن برینٹن ٹیرنٹ مسجد میں گولیاں برساتا رہا‘ وہ تین بار مسجد کے اندر اور باہر گیا‘

وہ پورے اطمینان کے بعد گاڑی میں بیٹھا اور دوسری مسجد کی طرف نکل گیا‘ اس نے وہاں بھی فائرنگ کی لیکن پولیس نہیں پہنچی‘ پولیس واقعے کے 20منٹ بعد موقع واردات پر آئی چنانچہ ثابت ہو گیا دہشت گردی کے بعد تیسری دنیا اور پہلی دنیا کی پولیس میں کوئی فرق نہیں ہوتا‘یہ دونوں جوتے تلاش کرتے رہتے ہیں‘ چوتھا نکتہ جدید دنیا ہم جیسے ملکوں کو غیر محفوظ قرار دیتی تھی‘ یہ ملک اپنے شہریوں کو پاکستان‘ افغانستان‘ عراق اور شام کے دوروں سے روکتے تھے‘

نیوزی لینڈ کے واقعے نے ثابت کر دیا نیوزی لینڈ ہو‘ آسٹریلیا ہو یا پھر پاکستان ہو دنیا کا کوئی ملک اب محفوظ نہیں‘ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور مسلمان ہوں یا عیسائی دنیا کے تمام لوگ غیر محفوظ ہیں اور آخری نکتہ دنیا کو اب مسلمانوں سے اتنا خطرہ نہیں جتنا خطرہ اسے ڈونلڈ ٹرمپ اور نریندر مودی جیسے لوگوں سے ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کو جہنم بنا رہے ہیں‘ڈونلڈ ٹرمپ اگرمسلمانوں کے خلاف بات کریں گے یا نریند مودی کشمیریوں کی لاشوں کو گلیوں میں گھسیٹے گا تو پھر دنیا میں امن کیسے قائم ہو گا؟۔

دنیا کو اب شدت پسند لوگوں سے نبٹنا ہوگاوہ شدت پسند گورے ہوں‘ کالے ہوں یا پھر ہماری طرح براﺅن ہوں‘دنیا کو اب مذہب‘شہریت اور رنگ ونسل سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے مکالمہ کرنا ہوگا‘یہ مکالمہ اگر نہ ہوا اور دنیا نے اگر رنگ ونسل سے بالاتر ہو کر دہشت گرد کو دہشت گرد نہ سمجھا تو انسانیت فیل ہو جائے گی‘پوری دنیا فیل سٹیٹ بن جائے گی‘ ہمیں اب یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی انسانیت اس وقت فیل سٹیٹس کے درمیان کھڑی ہے‘ دنیا میں اب افغانستان اور نیوزی لینڈ میں کوئی فرق نہیں رہا‘ برینٹن ٹیرنٹ اور اسامہ بن لادن دونوں ایک ہیں۔

The post فیل سٹیٹس appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/19/560713

Sunday, March 17, 2019

شاید آپ کے پاس ہو

آرش درم بخش کے والدین ایران سے تعلق رکھتے تھے‘ ایران میں انقلاب شروع ہوا تو یہ لوگ فرانس بھاگ آئے‘ آرش 25 جولائی 1979ء کو پیرس میں پیدا ہوا‘ یہ پیدائشی فرنچ تھا‘ ہجرت یا نقل مقانی بے شمار نفسیاتی‘ سماجی اور تہذیبی مسائل لے کر آتی ہے‘ آرش درم بھی بچپن میں ان مسائل کا شکار رہا‘ والدین نے بے روزگاری بھی بھگتی‘ بیماریاں بھی دیکھیں اور بھوک بھی سہی‘ آرش نے بچپن میں بار ہا دیکھا یہ لوگ بھوکے سو رہے تھے جبکہ ہمسائے تیار خوراک کچرہ گھروں میں پھینک رہے تھے۔

آرش کا والد بعض اوقات بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے بھیک مانگنے پر بھی مجبور ہو جاتا تھا جبکہ والدہ کو دوسروں کے گھروں میں صفائی بھی کرنا پڑ جاتی تھی‘ آرش نے بھی بچپن ہی میں کام شروع کر دیا تھا‘ یہ محنتی تھا چنانچہ یہ زندگی میں ترقی کرتا چلا گیا‘ یہ وکیل بنا‘ وکالت میں نام پیدا کیا اور یہ بعد ازاں سیاست میں آگیا‘ یہ پیرس کا سٹی کونسلر منتخب ہو گیا‘ آرش کا بچپن محرومی میں گزرا تھا لہٰذا یہ جب پیرس میں خوراک ضائع ہوتے دیکھتا تھا تو اسے بہت افسوس ہوتا تھا‘ آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہوگی 2015ء تک فرانس تیار خوراک ضائع کرنے والے ملکوں میں پہلے نمبر پر تھا‘کیوں؟وجوہات بہت دلچسپ تھیں‘ فرنچ کھانے میں دنیا کے محتاط ترین اور صاف ترین لوگ ہیں‘آپ ان کی نفاست ملاحظہ کیجئے‘ کٹلری کا لفظ بھی فرنچ زبان سے نکلا‘ کٹلری (چھری‘ کانٹا‘ چمچ) کا استعمال مصر میں شروع ہوا‘ بازنطینی حکمرانوں نے استنبول میں اسے اشرافیہ کی زندگی کا حصہ بنایا اور یہ بعد ازاں یونان کے ذریعے یورپ میں داخل ہو گئی‘ برطانیہ میں سترہویں صدی میں کٹلری کا پہلا کارخانہ لگا اور یوں دنیا میں ”ٹیبل مینرز“ شروع ہو گئے‘ ٹیبل مینرز (کھانے کے آداب) کے بے شمار فوائد سامنے آئے لیکن اس کا ایک نقصان بھی ہوا اور وہ نقصان کھانے کا زیاں تھا‘ یورپ میں لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کھانا اگر ایک بار میز پر آ گیا تو یہ دوسری بار استعمال کے قابل نہیں رہتا لہٰذا یہ لوگ بچ جانے والا کھانا ضائع کردیتے تھے‘ فرانس اس معاملے میں پورے یورپ سے آگے تھا۔

فرنچ لوگ ہر سال 8 ملین ٹن تیار کھانا ضائع کرتے تھے‘ پورے یورپ میں 89 ملین ٹن جبکہ دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ ٹن تیار خوراک ضائع کر دی جاتی تھی‘ فرانس میں روایت تھی ریستوران میں جو کھانا میز پر سرو کر دیا گیا‘ گاہک نے اگر وہ نہیں کھایا یا اس کا کوئی حصہ بچ گیا تو عملہ گاہک کے اٹھنے کے بعد وہ کھانا کچرے کی ٹوکری میں ڈال دیتا تھا‘ سٹورز میں بھی زائد معیاد خوراک ضائع کر دی جاتی تھی‘ دوسری جنگ عظیم کے دوران اس ٹرینڈ میں تھوڑی سی تبدیلی آئی۔

لوگ ریستوران سے اپنا بچا ہوا کھانا پالتو جانوروں کیلئے پیک کرانے لگے‘ وہ پیکنگ اس زمانے میں ”ڈاگی بیگ“ کہلاتی تھی‘ یہ ٹرینڈ 1980ء کی دہائی تک چلتا رہا مگر پھر لوگوں نے یہ بھی ترک کر دیا‘ ان کا خیال تھا یہ ”چیپ“ لگتا ہے آپ اپنا بچا ہوا کھانا پیک کرائیں اور ساتھ ساتھ لے کر پھرتے رہیں‘ آرش درم بخش خوراک کا یہ زیاں بچپن سے دیکھ رہا تھا‘ وہ حیران ہوتا تھا فرانس میں 35 لاکھ لوگ خوراک کیلئے حکومت کے محتاج ہیں‘ لوگ کچرے کی ٹوکریوں سے خوراک نکال کر کھاتے ہیں اور دوسری طرف ٹنوں کے حساب سے تیار خوراک ضائع کر دی جاتی ہے۔

یہ ظلم ہے‘ یہ زیادتی ہے چنانچہ اس نے جنوری 2015ء میں خوراک کا زیاں رکوانے کیلئے دستخطی مہم شروع کی اور چارماہ میں دو لاکھ دستخط حاصل کر لئے‘ یہ ایشو اس کے بعد اسمبلی میں گیا اور اسمبلی نے 22مئی 2015ء کو بل پاس کر دیا‘فروری 2016ء میں فرانس کی سینٹ نے بھی بل متفقہ طور پرمنظور کرلیا‘ بل کے مطابق ملک بھر کی کوئی بھی ایسی سپر مارکیٹ جس کا رقبہ 400 مربع میٹر سے زائد ہو گا وہ کسی قسم کی خوراک ضائع نہیں کرے گی۔

سپر مارکیٹ اضافی خوراک مستحق لوگوں تک پہنچائے گی‘جانوروں کے استعمال میں دے گی یا پھر یہ کھاد بنانے والے اداروں کے حوالے کرے گی لیکن یہ اسے ضائع نہیں کرے گی‘ حکومت نے قانون بنا دیا تعلیمی اداروں میں بچوں کو خوراک کے بہتر استعمال اور خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کے طریقے بھی سکھائے جائیں گے تاکہ یہ بچے بڑے ہو کر خوراک کو محفوظ رکھیں‘ یہ اسے ضائع نہ کریں‘ یہ بل ایک انقلاب ثابت ہوااور فرانس میں خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کی باقاعدہ تحریک چل پڑی۔

فارن پالیسی میگزین نے اس سوشل اوئیرنیس کا سارا کریڈٹ آرش کو دیا اور اسے ”ہنڈرڈ تھنکر آف دی ورلڈ“ میں شامل کر لیا‘ آرش کی اس معمولی سی کوشش سے فرانس دنیا میں سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والے ملکوں کی فہرست سے نکل کر کم کھانا ضائع کرنے والے ملکوں میں آگیا‘ ایک شخص کی سوچ بہت بڑا انقلاب بن گئی‘ یہ انقلاب اب پوری دنیا میں پھیلتا جا رہا ہے‘ یورپ کے بے شمار ملکوں کے ریستوران اب گاہک کو اس کی ضرورت سے زیادہ کھانا سرو ہی نہیں کرتے‘ گاہک اگر میز پر کھانا چھوڑ دے تو دیکھنے والے بھی ناراض ہو جاتے ہیں اور تین یورپی ملکوں میں گاہکوں کو اضافی کھانے پر جرمانہ بھی ہو جاتا ہے اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔

آرش درم بخش کی کہانی اور کنٹری بیوشن یہاں ختم ہو گیا اور یہاں سے ایک نئی تحریک شروع ہوتی ہے‘ فرانس میں کھانے کے بعد اب فالتو کپڑوں کے بچاؤ کی تحریک بھی چل رہی ہے‘ فرانس فیشن کے تین بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے‘ یہاں ہر سال کھربوں روپے کا کپڑا اور لباس مارکیٹ میں آتا ہے‘ سٹورز میں جگہ محدود ہوتی ہے چنانچہ سٹور مالکان فالتو بچ جانے والا کپڑا ضائع کر دیتے ہیں‘ یہ اسے کچرہ گھروں میں پھینک دیتے ہیں یا پھر یہ جلا دیا جاتا ہے یوں فرانس میں ہر سال 7 لاکھ ٹن کپڑا ضائع ہوتا ہے۔

یہ ضائع ہونے والے کپڑے صرف کپڑے نہیں ہوتے یہ قدرتی وسائل کا وسیع زیاں بھی ہوتے ہیں‘ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کاٹن کی ایک شرٹ پرکسان سے گاہک تک دو ہزار 700 لیٹر پانی استعمال ہوتا ہے چنانچہ پانچ سات سو روپے کی شرٹ صرف پانچ سات سو کانقصان نہیں ہوتا یہ پونے تین ہزار لیٹر پانی کا زیاں بھی ہوتا ہے‘ کپڑے کی تیاری‘ تراش خراش اور سلائی کے دوران وسیع پیمانے پر کاربن ڈائی آکسائیڈ بھی پیدا ہوتی ہے اور یہ پوری دنیا کے ماحول پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ایک پتلون اور ایک شرٹ پر 14 سو لوگوں کی محنت بھی خرچ ہوتی ہے اور یہ اپنی طبعی زندگی میں کم از کم 21 لوگوں کے کام آتی ہے چنانچہ ہم جب کوئی کپڑا ضائع کر دیتے ہیں تو ہم 21 لوگوں کو ان کی بنیادی ضرورت سے بھی محروم کرتے ہیں‘ ہم 14 سو لوگوں کی محنت بھی برباد کرتے ہیں‘ ہم دنیا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی پیدائش کا راستہ بھی ہموار کرتے ہیں اور ہم پونے تین ہزار لیٹر پانی بھی ضائع کر دیتے ہیں‘ فرانس میں آرش جیسے لوگوں کا خیال ہے ہمیں خوراک کی طرح کپڑے اور لباس کو بھی ضائع ہونے سے بچانا چاہیے تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے کام آ سکے‘ یہ تحریک بڑی تیزی سے زور پکڑ رہی ہے‘ فرنچ پارلیمنٹ بہت جلد اس پر بھی قانون سازی کر دے گی۔

آپ اگر کسی دن ریسرچ کریں تو آپ کو دنیا کے مختلف کونوں میں آرش جیسے بے شمار لوگ ملیں گے‘ یہ لوگ دنیا کو خوبصورت اور قابل رہائش بنا رہے ہیں‘ آپ فائیو سٹار ہوٹلوں میں جائیں‘ آپ کو پانی کی ٹونٹی کے قریب لکھا ہواملے گا دنیا پانی کی شدید قلت کا شکار ہے‘ ہم پانی کی بچت کر رہے ہیں‘ آپ ہمارا ساتھ دیں‘ یہ عبارت صرف عبارت نہیں‘ یہ ایک تحریک ہے اور یہ تحریک بھی آرش جیسے لوگوں نے شروع کی اور یہ اب دنیا بھر کے فائیو سٹار ہوٹلوں کے ”ایس او پیز“ کا حصہ ہے۔

آپ ریسرچ کریں گے تو آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے دنیا کے بے شمار لوگ افریقہ میں خوراک‘ پانی اور رہائش کے مسائل پر بھی کام کر رہے ہیں‘ آرش جیسے لوگوں نے ایسے ”سٹرا“ بنا لئے ہیں آپ جن کے ذریعے گندے نالوں اور جوہڑوں کا پانی بھی پی سکتے ہیں‘ یہ سٹرا مٹی‘ جراثیم اور گند آپ کے جسم میں نہیں جانے دیتے‘ دنیا میں بے شمار لوگوں نے ادویات بینک بھی بنا رکھے ہیں‘ یہ لوگ مختلف گھروں سے فالتو ادویات جمع کرتے ہیں‘ انہیں ”ری پیک“ کرتے ہیں اور مریضوں تک پہنچا دیتے ہیں۔

مجھے آئر لینڈ میں چند لوگوں سے ملاقات کاموقع ملا‘ یہ لوگ معذوروں کے انتقال کے بعد ان کے لواحقین سے ان کی ویل چیئرز‘ باتھ روم کے آلات اور کپڑے حاصل کرتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں موجود ضرورت مند معذوروں کو پہنچا دیتے ہیں‘ یہ میڈیکل شوز بھی جمع کرتے ہیں اور پاؤں کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو دے دیتے ہیں‘ برطانیہ میں ایک این جی او پرانی کتابیں اکٹھی کرتی ہے اور یہ کتابیں بعد ازاں غریب ملکوں میں پہنچا دیتی ہے‘ میں نے نیوزی لینڈ میں بے شمار موبائل لائبریریاں دیکھیں‘ یہ لائبریریاں لوگوں کی ملکیت ہیں۔

یہ کسی فارغ دن کسی محلے میں چلے جاتے ہیں اور موبائل لائبریری سجا کر بیٹھ جاتے ہیں‘ لوگ آتے ہیں‘ کتابیں لیتے ہیں اور پڑھتے رہتے ہیں‘ عام لوگ موبائل لائبریریوں میں پرانی کتابیں رکھ کر اپنی ضرورت کی کتاب لے جاتے ہیں‘ یہ علم کی ترسیل کا شاندار طریقہ ہے اور یہ طریقہ اب تک ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدل چکا ہے۔
میں جب بھی آرش جیسے لوگوں کی جدوجہد اور ترقی یافتہ ملکوں کی طرف سے ان کی پذیرائی دیکھتا ہوں تو میں جیلس ہو جاتا ہوں اور سوچتا ہوں نیکی کے یہ سارے کام صرف یورپ میں کیوں ہوتے ہیں‘ ہم مسلمان ان میدانوں میں کیوں مار کھا رہے ہیں‘ ہم کب جاگیں گے‘ ہم کب انسان ہونے کا ثبوت دیں گے اور ہم کب آرش کی طرح لوگوں کیلئے مفید ثابت ہوں گے؟ میرے پاس اس کب کا کوئی جواب نہیں‘ شاید آپ کے پاس ہو!

The post شاید آپ کے پاس ہو appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/17/559955

Friday, March 15, 2019

تنگ جوتے کی تکلیف

گورنر صاحب نیچے آئے‘ مونچھوں کو تاﺅ دیا اور بھاری آواز میں بولے ”کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے خواہ آپ کو جلوس روکنے کےلئے گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“ ایس ایس پی کے ماتھے پر پسینہ آ گیا‘ وہ گھبرا کر جیب میں رومال ٹٹولنے لگا‘ گورنر صاحب اپنے دفتر کی طرف چل پڑے‘ ایس ایس پی لپک کر ان کے پیچھے دوڑا اور سانس سنبھالتے سنبھالتے بولا ”سر لیکن مجھے اس کےلئے آپ کا تحریری حکم چاہیے ہو گا“ ۔

گورنر صاحب غصے سے دھاڑے ”کیا میرا زبانی حکم کافی نہیں“ ایس ایس پی کی گردن تک پسینے سے بھیگ گئی‘ وہ رک رک کر بولا ”سر ہم تحریری حکم کے بغیر گولی نہیں چلا سکتے“ گورنر نے غصے سے گردن ہلائی اور زور سے آواز لگائی ”سیکرٹری کہاں ہے!“ گورنر کی آواز پورے گورنر ہاﺅس میں گونجی‘ دھڑا دھڑ دروازے کھلے اور ہر قسم کا سیکرٹری پیش ہو گیا‘ گورنر نے سب کی طرف دیکھا اور اونچی آواز میں کہا ”میں نے ایس ایس پی کو سٹوڈنٹس پر گولی چلانے کا حکم دے دیا ہے‘ یہ جو کاغذ‘ جو تحریری حکم مانگیں آپ انہیں دے دیں لیکن مجھے کل مال روڈ پر کوئی طالب علم نظر نہیں آنا چاہیے اور جو آئے اسے زندہ واپس نہیں جانا چاہیے“ کوریڈور میں سراسیمگی‘ خوف اور پریشانی کے ڈھیر لگ گئے اور تمام افسر خوف سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔یہ گورنر نواب آف کالا باغ تھے‘ یہ 1960ءسے 1966ءتک پنجاب کے گورنر رہے‘ پاکستان اس وقت مغربی پاکستان ہوتا تھا اور نواب صاحب اس پورے مغربی پاکستان کے واحد گورنر تھے‘ یہ صرف چھ سال گورنر رہے لیکن پنجاب میں آج بھی ان کی انتظامی گرفت کی مثالیں دی جاتی ہیں‘ لوگ آج بھی کہتے ہیں پنجاب کی تاریخ میں حکمران صرف ایک ہی گزرا ہے اور وہ تھا نواب آف کالاباغ‘ نواب صاحب نڈر شخص تھے‘ ان کا ہر حکم کلیئر اور ڈائریکٹ ہوتا تھا اور وہ بعد ازاں اس کی ساری ذمہ داری بھی قبول کرتے تھے۔

یہ بھی مشہور تھا وہ حکم جاری کرنے کے بعد واپس نہیں لیتے تھے خواہ انہیں اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے‘ بیورو کریسی ان کی اس خو سے واقف تھی چنانچہ نواب صاحب نے جب طالب علموں پر گولی چلانے کا حکم دیا تو گورنر ہاﺅس سے لے کر سیکرٹریٹ تک سراسیمگی پھیل گئی‘ مال روڈ پر طالب علموں پر گولی چلانا اور پھر لاشیں اٹھانا کوئی آسان کام نہیں تھا‘ یہ سانحہ ملک کی بنیادیں تک ہلا سکتا تھا لیکن نواب صاحب کو سمجھانا ممکن نہیں تھا لہٰذا تمام افسر ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔

افسروں نے اس ایشو کا کیا حل نکالا؟ ہم آپ کو یہ بتائیں گے لیکن آپ پہلے اس واقعے کا پس منظر ملاحظہ کیجئے‘ یہ ایوب خان کا دور تھا‘ ملک میں طالب علموں نے حکومت کے خلاف تحریک شروع کر رکھی تھی‘ یہ سڑکوں پر نکلتے تھے‘ ایوب خان کے خلاف نعرے لگاتے تھے اور پولیس روکتی تھی تو یہ پتھراﺅ کر کے بھاگ جاتے تھے‘ یہ سلسلہ چلتے چلتے لاہور پہنچ گیا‘ گورنمنٹ کالج کے طالب علموں نے مال روڈ پر جلوس نکالنے کا اعلان کیااور لاہور کے تمام کالجوں کے طالب علم ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

حکومت پریشان ہو گئی‘ گورنر صاحب نے جلوس سے ایک دن پہلے ایس ایس پی کو بلا لیا‘ یہ صبح رہائشی کمرے سے نکلے تو ایس ایس پی سیڑھیوں کے نیچے کھڑا تھا‘ گورنر نے اسے دیکھا اور حکم جاری کر دیا”جلوس نہیں نکلنا چاہیے خواہ طالب علموں پر گولی ہی کیوں نہ چلانی پڑ جائے“ اور آپ باقی کہانی پڑھ چکے ہیں۔بیورو کریسی نے گورنر کو نتائج سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ نواب صاحب کو ذاتی ملازمین کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی گئی‘ نواب صاحب نے صاف انکار کر دیا۔

چیف سیکرٹری نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا لیکن جھاڑ کھا کر واپس آ گیا اور نواب صاحب کے صاحبزادے نے سمجھانے کی ہمت کی لیکن وہ بھی گالیاں کھا کر باہرآ گیا‘ گورنر صاحب نے شام کے وقت گولی چلانے کا تحریری حکم بھی جاری کر دیا اور یہ حکم اخبارات اور پورے صوبے کی بیورو کریسی تک بھی پہنچ گیا‘ اگلی صبح لاہور کی بیورو کریسی کےلئے مشکل ترین دن تھا‘ پولیس نے مال روڈ گھیر لیا‘ طالب علم کالجوں میں اکٹھے ہوئے‘ نعرے لگانا شروع کئے۔

پولیس نے رائفلیں سیدھی کر لیں اور پھر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا‘ طالب علم نعرے لگانے کے بعد اپنی اپنی کلاسز میں واپس چلے گئے‘ ان میں سے کوئی مال روڈ پر نہیں نکلا‘ پولیس شام تک سڑک پر کھڑی رہی‘ صدر ایوب خان راولپنڈی میں بیٹھ کر لاہور کی صورت حال واچ کر رہے تھے‘ وہ طالب علموں کی پسپائی پر حیران رہ گئے اور انہوں نے گورنر صاحب کو ٹیلی فون کر کے پوچھا ”نواب صاحب میں آپ کو مان گیا لیکن آپ نے یہ کیا کیسے؟“۔

نواب صاحب مونچھوں کو تاﺅ دیا کرتے تھے۔وہ بائیں مونچھ کو چٹکی میں دبا کر بولے ”صدر صاحب میں جانتا ہوں لاہور کے تمام بیورو کریٹس کے بچے‘ بھانجے اور بھتیجے کالجوں میں پڑھتے ہیں‘ یہ افسر میری فطرت سے بھی واقف ہیں‘ یہ جانتے ہیں میں نے اگر گولی کا حکم دیا ہے تو پھر گولی ضرور چلے گی چنانچہ میں نے ان کی نفسیات سے کھیلنے کا فیصلہ کیا‘ میں نے حکم دے دیا‘ مجھے یقین تھا یہ لوگ کل اپنے بچوں کو کالج نہیں جانے دیں گے۔

ان کے بچے اپنے دوستوں کوبھی صورت حال کی نزاکت سے آگاہ کر دیں گے اور یوں کوئی طالب علم مال روڈ پر نہیں نکلے گا“ صدر ایوب خاموشی سے سنتے رہے‘ نواب آف کالا باغ نے اس کے بعد یہ تاریخی فقرہ کہا”صدر صاحب! انسان کی فطرت ہے یہ دوسروں کےلئے سخت اور اپنے لئے نرم فیصلے کرتا ہے اور میں ہمیشہ انسان کی اس خامی کا فائدہ اٹھاتا ہوں‘ میں اپنے فیصلوں میں فیصلہ کرنے والوں کا سٹیک شامل کر دیتا ہوں چنانچہ رزلٹ فوراً اور نرم آتا ہے“۔

نواب آف کالا باغ کی بات درست تھی‘ ہم انسان اپنی ذات سے متعلق فیصلے ہمیشہ اچھے اور جلدی کرتے ہیں جبکہ دوسروں کے فیصلے دہائیوں تک میز کی درازوں میں پڑے رہتے ہیں‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ پنجاب اسمبلی کا تازہ ترین فیصلہ دیکھ لیجئے‘پنجاب اسمبلی نے 15 اگست2018ءکو حلف اٹھایا‘ 368 ارکان میں سات ماہ میں کسی ایک ایشو پر اتفاق رائے نظر نہیں آیا‘ عوام نے جب بھی دیکھا یہ لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن نظر آئے لیکن 12 مارچ کو اسمبلی کے تمام اراکین میں اتفاق رائے ہو گیا۔

اسمبلی میں ایک بل پیش ہوا‘ کوئی بحث ہوئی اور نہ کسی نے اعتراض اٹھایا‘ سپیکر نے بل قائمہ کمیٹی میں بھجوایا‘ کمیٹی نے ایک دن میں منظوری دے دی‘ یہ تیسرے دن اسمبلی میں پیش ہوا اور اسمبلی نے دس منٹ میں بل پاس کر دیا ‘یہ پنجاب اسمبلی کے ارکان‘ ڈپٹی سپیکر‘ سپیکر‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کی تنخواہ اور مراعات میں اضافے کا مقدس ترین بل تھا اور اس بل کے ذریعے وزیراعلیٰ چار لاکھ 25 ہزار‘ سپیکر دو لاکھ60 ہزار‘ ڈپٹی سپیکردو لاکھ 45 ہزار‘ وزراءدو لاکھ 75 ہزار اوراراکین اسمبلی ایک لاکھ 95 ہزار ماہانہ تنخواہ اور مراعات وصول کریں گے۔

ارکان اسمبلی‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کے ڈیلی الاﺅنس‘ ہاﺅس رینٹ‘ یوٹیلٹی الاﺅنس اور مہمانداری الاﺅنس میں بھی دو‘ تین اور چار گنا اضافہ کر دیا گیا‘ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں ارکان‘ وزراءاور وزیراعلیٰ کی تنخواہیں کم تھیں‘ یہ اضافے کے بعد بھی تسلی بخش نہیں ہیں‘ آج کے دور میں اس آمدنی میں اچھا لائف سٹائل برقرار رکھنا ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کیا ارکان اسمبلی اور وزراءغریب ہیں؟ کیا یہ صرف تنخواہ پر گزارہ کر رہے ہیں؟ جی نہیں! 99 فیصد ارکان کا روزانہ کا خرچ ان کی ماہانہ تنخواہ سے زیادہ ہے۔

ملک کے غرباءتو رہے دور مڈل کلاس کا کوئی شخص بھی الیکشن کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا لہٰذا یہ تمام لوگ رئیس ہوتے ہیں لیکن آپ ان رئیس لوگوں کی حرص بھی ملاحظہ کیجئے‘ یہ اپنی مراعات اور تنخواہوں کےلئے چند لمحوں میں اپنے تمام اختلافات بھلا کر اکٹھے ہو گئے‘ بل آیا اور دو دن میں تمام مراحل طے کر کے پاس ہو گیا‘ اس پر اس ماہ سے عمل درآمد بھی شروع ہو جائے گا‘ یہ سپیڈ ثابت کرتی ہے ہمارے ارکان اسمبلی اپنے ذاتی ایشوز پر یک جان ہیں لیکن یہ عوامی ایشوز پر منقسم ہیں۔

یہ لوگ عوام کے ایشوز پر کبھی اکٹھے ہوئے اور نہ ہوں گے‘ کیوں؟کیونکہ عوامی ایشوز میں ان کا کوئی سٹیک شامل نہیں ہوتا چنانچہ یہ ان ایشوز پر اکٹھے ہوتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی آتے ہیں‘ میری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے یہ چند ماہ کےلئے نواب آف کالاباغ بن جائیں‘ یہ عوامی ایشوز میں ارکان اسمبلی اور بیورو کریسی کو سٹیک ہولڈر بنا دیں‘ یہ اعلان کر دیں سرکاری افسروں اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں مڈل کلاس کے برابر ہوں گی‘ بچے سرکاری سکولوں میں پڑھیں گے‘ یہ سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں سے علاج کرائیں گے۔

پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کریں گے‘ یہ اپنے ہاتھ سے ٹیکس ریٹرنز سمیت تمام فارم پر کریں گے اور تمام یوٹیلٹی بلز بھی خود دیں گے‘ آپ اس کے بعد کھلی آنکھوں سے تمام فارم آسان‘تمام ہسپتال‘ سکول اور ٹرانسپورٹ ٹھیک اور ساری مہنگائی کنٹرول ہوتے دیکھیں گے‘ہمارے پالیسی سازکیونکہ خود اس پالیسی سے باہر ہوتے ہیں چنانچہ یہ پوری زندگی تنگ جوتے کی تکلیف سے لا علم رہتے ہیں‘ آپ انہیں ایک بار وہ تنگ جوتا پہنا دیں جو عوام روز پہنتے ہیں تو پھرآپ کمال دیکھئے‘یہ پرانا پاکستان نیا پاکستان بنتے دیر نہیں لگائے گا‘آپ انہیںایک بار عوام بنا دیں ‘ یہ پوری عوام کے مسئلے حل کر دیں گے۔

The post تنگ جوتے کی تکلیف appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/15/559484

Thursday, March 14, 2019

دوستوں سے بچ کر رہیں

میں پچھلے کمرے میں بیٹھ گیا‘ درمیان میں شیشے کی دیوار تھی‘ میں دیوار کے پیچھے سے لوگوں کو دیکھ اور سن سکتا تھا‘ یہ میرے دوست کا دفتر تھا‘ وہ کسٹم انٹیلی جینس آفیسر تھا‘ میں ملنے کےلئے آیا تھا‘ اچانک اسے ایک ٹیلی فون آیا‘ اس نے مجھے پچھلے کمرے میں بٹھا دیا اور ملاقاتی کا انتظار کرنے لگا‘ میں بھی اشتیاق سے شیشے کے پار دیکھنے لگا‘ تھوڑی دیر بعد ایک سوٹڈ بوٹڈ نوجوان اندرداخل ہوا اور میرے دوست کے سامنے بیٹھ گیا‘ میں دونوں کو دیکھ بھی سکتا تھا اور سن بھی‘

نوجوان نے کوٹ کی جیب سے تین تصویریں نکالیں اور کسٹم انٹیلی جینس آفیسر کے سامنے رکھ دیں‘ یہ سفید رنگ کی جیپ کی تصویریں تھیں‘ نوجوان تصویر پر انگلی رکھ کر بولا ”سر یہ سمگلڈ اورٹمپرڈ ہے اور ڈیفنس کے وائے بلاک میں کھڑی ہے‘ میں آپ کو ایڈریس دے دیتا ہوں آپ یہ پکڑ لیں“ میرے دوست نے غور سے تصویریں دیکھیں اور تھوڑا سا سوچ کر بولا ”ہم کسی کے گھر چھاپہ نہیں مار سکتے ہاں البتہ یہ گاڑی اگر سڑک پر ہو تو ہم اسے کسٹڈی میں لے سکتے ہیں“ نوجوان نے بھی تھوڑی دیر سوچا اور پھر بولا” میں گاڑی کے مالک کے ساتھ شام چار بجے جوس پینے کےلئے گھر سے نکلوں گا‘ میں آپ کو ایس ایم ایس بھی کر دوں گا اور جوس کارنر کا ایڈریس بھی بھجوا دوں گا‘ آپ وہاں چھاپہ مار کر گاڑی قبضے میں لے لیں لیکن بس ایک شرط ہے!“۔ وہ خاموش ہو گیا‘ میرا دوست خاموشی سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ تھوڑی دیر رک کر بولا ”گاڑی کا مالک میرا دوست ہے‘ آپ کسی قیمت پر کسی کو میرا نام نہیں بتائیں گے اور دوسرا جب آپ کی ٹیم چھاپہ مارے گی تو میں شور کروں گا‘ میں ٹیم کے ساتھ لڑوں گا بھی لیکن آپ نے اسے زیادہ سیریس نہیں لینا‘ آپ گاڑی لے کر نکل جائیے گا“ میرے دوست نے قہقہہ لگایا اور ڈن کر دیا‘ نوجوان تھوڑی دیر مزید بیٹھا‘ چائے پی اور چلا گیا‘ میں باہر آ گیا اور میں نے اپنے دوست سے اس ڈیل کے بارے میں پوچھا‘

میرے دوست نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”یہ لاہور کے ایک امیر زادے کا دوست ہے‘ امیر زادے نے نان کسٹم پیڈ سمگلڈ گاڑی خریدی ہے‘ گاڑی کی مالیت چار کروڑ روپے ہے اور یہ دوست اپنے عزیز ترین دوست کی مخبری کےلئے ہمارے پاس آیا ہے“ میں نے پوچھا ”اور اب کیا ہوگا؟“ میرے دوست نے جواب دیا ”یہ اپنے دوست کو جوس پلانے کےلئے باہر لائے گا اور ہم گاڑی اور گاڑی کے مالک کو پکڑ لیں گے“ میں نے حیرت سے پوچھا ”لیکن اس مخبر کو کیا فائدہ ہو گا“ میرے دوست نے ہنس کر جواب دیا ”اس کے حسد کا کلیجہ ٹھنڈا ہو جائے گا‘ یہ امیر زادے کا حاسد دوست ہے‘دوست کی گاڑی اس سے ہضم نہیں ہو رہی چنانچہ یہ اسے اس سے محروم بھی دیکھنا چاہتا ہے اور پریشان بھی اور اس کا یہ جذبہ اسے ہمارے پاس لے آیا ہے“۔

یہ تمام باتیں میرے لئے حیران کن تھیں‘میں نے اس سے پوچھا ”کیا تمہارے زیادہ مخبر ایسے لوگ ہوتے ہیں“ میرے دوست نے جواب دیا ”ہمارے 98 فیصد مخبر یہ لوگ ہوتے ہیں‘ دوست عزیز ترین دوست کی مخبری کرتے ہیں‘ بھائی بھائی کے خلاف انفارمیشن دیتا ہے‘ بہو ساس کے بارے میں بتاتی ہے اور سالہ بہنوئی اور بہنوئی سالے کا مخبر بن جاتا ہے“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ وہ بولا ”ہمارے پاس دوست اور ملازمین زیادہ آتے ہیں‘دوست پہلے دوست کو سمگلڈ گاڑی خرید کر دیتے ہیں اور پھر مخبری کر دیتے ہیں‘

یہ دوستوں کو ٹیکس چوری کا طریقہ بھی بتاتے ہیں اور دوست جب ٹیکس چوری کر لیتے ہیں تو یہ اس کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں‘ یہ مخبر لوگ یوں دوستوں کو دہرا نقصان پہنچاتے ہیں‘ پہلے گاڑی کی خریداری کے ذریعے دوست کو مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور پھر وہ گاڑی پکڑوا کر اسے ذلیل کراتے ہیں‘ ہمارے پاس مختلف کمپنیوں کے ملازمین بھی آتے ہیں‘ یہ ہمیں اپنے مالکان کے خلاف ٹھوس ثبوت دیتے ہیں‘ یہ عموماً پرانے اور اعتباری ملازمین ہوتے ہیں‘

مالکان ان کو مخلص سمجھتے ہیں لیکن یہ اندر سے مالکان کے خلاف ہوتے ہیں‘ ان کے سینوں میں کینہ‘ حسد اور بغض بھرا ہوتا ہے چنانچہ یہ ہمیں مالکان کے خلاف وہ ثبوت بھی دے دیتے ہیں جو مالکان کے پاس بھی نہیں ہوتے“ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے پوچھا ”یہ ملازمین کس کیٹگری کے ہوتے ہیں“ وہ بولا” یہ لوگ دو کیٹگری کے ہوتے ہیں‘ پہلی کیٹگری سیلف میڈ لوگوں کے ملازمین پر مشتمل ہوتی ہے‘ یہ لوگ ملازمین کے سامنے ترقی کرتے ہیں‘

ملازمین بیس تیس ہزار روپے کے ملازم رہ جاتے ہیں جبکہ مالک کروڑوں روپے میں پہنچ جاتے ہیں چنانچہ یہ لوگ مالکان کے حاسد بن جاتے ہیں اور دوسری کیٹگری میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جن پر مالکان دوسرے ملازمین کو فوقیت دے دیتے ہیں‘ مثلاً مالکان نے نئے ملازمین کو پروموٹ کر دیا اور یہ نئے ملازمین کو پرانوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ اور مراعات دینے لگے تو پرانے ملازمین اندر سے زخمی ہو جاتے ہیں اور یہ مالکان کے خلاف مخبر بن جاتے ہیں“

میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے اپنی نوکری کے دوران مخبری کا سب سے افسوس ناک واقعہ کیا دیکھا“ وہ رکا‘ مسکرایا اور بولا ”بے شمار واقعات ہیں لیکن مجھے ایک واقعہ نہیں بھولتا‘ کراچی میں ایک بزرگ خاتون نے اپنے اکلوتے بیٹے کے خلاف مخبری کر دی‘ والدہ سے اپنی بہو کی آسائش ہضم نہیں ہوتی تھی چنانچہ اس نے بیٹے کی مخبری کی‘ ہم نے گودام پر چھاپہ مارا اور بیٹا تین دن میں سڑک پر آ گیا“ وہ رکا اور پھر بولا ”میرے پاس جگری دوستوں کے حسد کی بے شمار مثالیں بھی ہیں‘

میں کراچی کی ایک فیملی کو جانتا ہوں‘ ان کا بیٹا اکلوتا تھا‘ بیٹے نے سمگلڈ سپورٹس کار خرید لی‘ جگری دوست نے مخبری کر دی‘ ہم نے کار قبضے میں لے لی‘ بیٹے کو کار بہت عزیز تھی چنانچہ والد نے وہ گاڑی آکشن میں خریدی‘ زیادہ ٹیکس اور زیادہ ڈیوٹی دی اور گاڑی بیٹے کو گفٹ کر دی‘ بیٹا دوبارہ گاڑی چلانے لگا‘ جگری دوست کو دوست کی یہ خوشی بھی نہ بھائی‘ اس نے گاڑی ادھار لی اور بریک آئل کے چیمبر میں چھوٹا سا سوراخ کرا دیا‘ گاڑی کا مالک گاڑی چلاتا رہا‘

گاڑی اسے بریک آئل کے بارے میں وارننگ دیتی رہی لیکن دوست اسے حوصلہ دیتا تھا‘ تم فکر نہ کرو‘ بریک آئل پورا ہے‘ گاڑی کا سافٹ ویئر خراب ہو گیا ہے‘ لڑکا اپنے دوست کی ہر بات پر یقین کرتا تھا چنانچہ وہ گاڑی چلاتا رہا‘ وہ ایک دن گاڑی لے کر نکلا‘ ہائی وے پر آیا‘ گاڑی کے بریک فیل ہوئے اور گاڑی آئل ٹینکر سے ٹکراگئی‘ لڑکا ایٹ دی سپاٹ مر گیا‘ باپ نے تحقیقات کرائیں تو کہانی کھل کر سامنے آ گئی لیکن اب کیا ہو سکتا تھا‘ جانے والا جا چکا تھا“۔میں افسوس سے سنتا رہا‘

میرے دوست نے بتایا ”آپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے خلاف مخبری بھی ان کے قریبی دوستوں نے کی تھی‘ یہ دوست آج بھی ان کے ساتھ نظر آتے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی آستینوں میں چھپے ان سانپوں کے وجود تک سے واقف نہیں ہیں‘ یہ انہیں اپنا مخلص دوست‘ اپنا وفادار ساتھی سمجھ رہے ہیں جبکہ یہ ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں“ میں خاموشی سے سنتا رہا‘ میرا دوست آخر میں بولا ”تم اگر دوستی کا تماشہ دیکھنا چاہتے ہو تو چار بجے میرے ساتھ چلو‘ ہم تمہارے سامنے وہ گاڑی پکڑیں گے اور پھرتم اپنی آنکھوں سے دیکھنا حاسد دوست دوستوں کو کس طرح ذلیل کرتے ہیں“ میں نے ہامی بھر لی۔

میں چار بجے تک اس کے پاس بیٹھا رہا‘ چھاپہ مارنے کےلئے سکواڈ تیار ہوا‘ پونے چار بجے مخبر نے اطلاع دی میں ٹارگٹ کے گھر پہنچ گیا ہوں‘ پانچ منٹ بعد پیغام آیا ہم سمگلڈ گاڑی میں جوس پینے کےلئے نکل رہے ہیں‘ ہم گلبرگ میں فوارہ چوک کے قریب فلاں جوس کارنر پر جا رہے ہیں‘ آپ چار بج کر پانچ منٹ تک پہنچ جائیں‘ میرے دوست نے مجھے گاڑی میں بٹھایا اور ہم گلبرگ پہنچ گئے‘ نان کسٹم پیڈ ٹمپرڈ گاڑی سامنے کھڑی تھی‘ دونوں دوست گاڑی میں بیٹھ کر جوس پی رہے تھے‘

کسٹم کے اہلکار گاڑی کے پاس پہنچے‘ گاڑی کا شیشہ بجایا اور مالک سے گاڑی کے کاغذات مانگ لئے‘ مالک نے پورے اعتماد کے ساتھ کاغذات نکال کر کسٹم کے حوالے کر دیئے‘ اہلکاروں نے کاغذات دیکھے‘ بونٹ کھلوایا اور گاڑی کا انجن اور چیسز نمبر چیک کرنے لگے‘ گاڑی ظاہر ہے ٹمپرڈ تھی ‘ کسٹم حکام نے گاڑی قبضے میں لے لی‘ مالک کا دوست گاڑی سے اترا اور پلان کے مطابق کسٹم حکام کے گلے پڑ گیا‘ سڑک پر ٹھیک ٹھاک تماشہ لگ گیا‘ گاڑی کا مالک دوست کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن وہ بار بار اہلکاروں کے گلے پڑتا تھا‘ میں اور میرا دوست گاڑی میں بیٹھ کر یہ منظر دیکھتے رہے‘

مخبر نے ایک آدھ بار لڑتے لڑتے میرے دوست کو آنکھ بھی ماری‘ یہ کھیل چند منٹ چلتا رہا یہاں تک کہ کسٹم حکام نے گاڑی کا چارج لے لیا‘ میں نے دیکھا مخبر نے چیخ بھی ماری اور جوس کارنر کے تھڑے پر لیٹ کر بے ہوشی کا ناٹک بھی کیا‘ گاڑی کا مالک اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا‘ ہم واپس چل پڑے‘ میں راستہ بھر اداس رہا‘ میرا خیال تھا دوست کو کم از کم دوستوں کے ساتھ یہ نہیں کرنا چاہیے جبکہ میرا دوست مزے سے گنگنا رہا تھا ‘ ہم دفتر واپس پہنچ گئے‘

میں نے اجازت مانگی‘ میرا دوست باہر آیا‘ مجھے گلے لگایا اور آہستہ سے میرے کان میں کہا ”ہمارے آدھے سے زائد دوست بروٹس ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب تک جولیس سیزر کو قبر تک نہ پہنچا لیں اس وقت تک ان کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے‘ ہم لوگ دشمنوں کے تیروں سے نہیں مرتے‘ دوستوں کے ہاتھوں سے مرتے ہیں اور اگر ہمیں ہمارا دشمن بھی مارے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے چنانچہ ہمیں دشمنوں سے نہیں دوستوں سے بچ کر رہنا چاہیے‘ انسان اگر دوستوں سے بچ جائے تو دشمن اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے اور یہ انسان کی تاریخ بھی ہے اور جغرافیہ بھی“۔

The post دوستوں سے بچ کر رہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/14/559137

Tuesday, March 12, 2019

آپ خواہ احرام باندھ دیں

پنجاب پولیس اب اولیوگرین کی بجائے اسلام آباد پولیس کی طرح ڈارک بلیو پتلون اور لائٹ بلیو شرٹ پہنے گی‘یہ دو رنگ واحد خامی تھے جن کی وجہ سے پولیس پرفارم نہیں کر پا رہی تھی‘ بس یہ رنگ ملنے کی دیر ہے اور کاہنہ کا چھاکی پولیس نیویارک پولیس ہو جائے گی۔عثمان بزدار کا یہ فارمولہ دنیا میں میک اپ فلاسفی کہلاتا ہے‘ یہ وہی تکنیک ہے جس کے ذریعے لوگ برے ریستورانوں کی کلر سکیم‘ سائن بورڈ‘ مینو کارڈ اور عملہ تبدیل کر کے سمجھتے ہیں ریستوران اب چل پڑے گا لیکن دس بارہ مرتبہ ناکامی کے بعد پتہ چلتا ہے ریستوران رنگوں اور عملے سے نہیں کھانے کے معیار سے چلتے ہیں

پولیس بھی صرف یونیفارم کا نام نہیں‘ آپ پولیس کی خواہ ہر سال یونیفارم تبدیل کر دیں‘ آپ انہیں بے شک ہیلی کاپٹر لے دیں لیکن آپ جب تک پولیس کے اصل ایشوز حل نہیں کرتے‘ آپ جب تک پولیس کو تھانوں سے تبدیل نہیں کرتے پولیس اس وقت تک ٹھیک نہیں ہو گی‘ عثمان بزدار کو اب یہ سمجھناہو گا ایشو یونیفارم نہیں ایشو پولیس ہے اور آپ جب تک عوام اور پولیس کے رشتے کو نہیں سمجھیں گے آپ یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتے تاہم میں پولیس کے اصل ایشوز کی طرف آنے سے پہلے یونیفارم کا مسئلہ ڈسکس کروں گا‘ انگریز نے ہندوستان میں 1861ءمیں پولیس متعارف کرائی‘انگریز کی پولیس لانگ خاکی نیکراورخاکی شرٹ پہنتی تھی‘ قیام پاکستان کے بعد ایوب خان نے پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کےلئے شرٹ کا رنگ سیاہ کر دیا‘ پولیس59 سال تک یہ یونیفارم پہنتی رہی‘ میاں شہباز شریف نے 21مارچ 2017ءکواس یونیفارم کو پیرا ملٹری یونیفارم میں تبدیل کر دیا‘ اولیوگرین پتلون‘ اولیو گرین شرٹ اور اس کی اوپر اولیو گرین جیکٹ اور پاﺅں میں فوجی بوٹ آ گئے‘ یونیفارم کی تبدیلی کی دو وجوہات تھیں‘ پولیس کے امیج کو بہتر بنانا اور دوسرا پولیس افسروں کےلئے یونیفارم میں بھاگنا دوڑناآسان بنانا ‘ پولیس اور عوام دونوں کو یہ یونیفارم پسند نہ آئی‘ اعتراضات ہوتے رہے لیکن 2019ءتک پہنچ کر لوگوں نے یہ تبدیلی قبول کر لی‘ عثمان بزدار اسے پھر تبدیل کر رہے ہیں‘

یہ تبدیل ہو بھی جائے گی لیکن سوال یہ ہے پولیس جب خاکی اور سیاہ یونیفارم پہنتی تھی تو یہ اس وقت بھی ناانصافی‘ ظلم اور رشوت کی بیوپاری تھی‘ یہ جب اولیو گرین یونیفارم پہننے لگی تو یہ اس وقت بھی بے ایمان اور نالائق رہی اور مجھے یقین ہے یہ ڈارک بلیوپتلون اور لائٹ بلیو شرٹ پہننے کے بعد بھی نالائق‘ رشوت خور اور ظالم رہے گی‘ کیوں؟ کیونکہ یونیفارم تبدیل ہونے سے پولیس تبدیل نہیں ہوتی‘ آپ کو اس کےلئے کام کرنا پڑتا ہے اور ملک میں 1861ءسے پولیس کو بہتر بنانے کےلئے کوئی ٹھوس کام نہیں ہوا‘

ہماری پچھلی حکومتیں بھی میک اپ سے کام چلاتی رہیں اور یہ حکومت بھی ماشاءاللہ پاﺅڈر کا ڈبہ لے کر مارکیٹ میں آ گئی ہے‘ یہ بھی مسئلے کی اصل جڑ پر کام نہیں کر رہی اور مسئلے کی اصل جڑیونیفارم میں نہیں تھانوں میں پیوست ہے‘ عوام کا اصل ایشو تھانہ ہے اور تھانے کی کیا حالت ہے آپ اس کا اندازہ چند حقائق سے لگا لیجئے‘ پنجاب کے کسی تھانے کو کوئی بجٹ نہیں دیا جاتا‘ پولیس کا سارا بجٹ ضلعی ہیڈ کوارٹر تک پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے اور اس سے نیچے تھانوں کی کرسیاں ہوں‘ میزیں ہوں‘ پنکھے‘ ہیٹر اور کولر ہوں یا پھر تفتیش اور حوالات کے خرچے ہوں یہ سارا بوجھ تھانہ خود اٹھاتا ہے اور یہ لوگ یہ بوجھ چپ چاپ شہر کے ان معززین کی طرف شفٹ کر دیتے ہیں جو علاقے کی تمام وارداتوں کے ذمہ دار ہوتے ہیں‘

تھانہ پورے شہر کا مرکز ہوتا ہے‘ شہر کا ہر باسی کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی ایشو میں تھانے ضرور پہنچتا ہے اور اسے وہاں پہنچ کر تھانے کی کوئی نہ کوئی ضرورت ضرور پوری کرنا پڑتی ہے‘ پولیس ایف آئی آر لکھنے کےلئے کاغذ تک مدعی سے منگواتی ہے‘ تفتیش کا سارا مالی بوجھ ملزم پر ڈال دیا جاتا ہے‘ ملزم اگر غریب ہو یا پھر اس کے اہل خانہ کسی چودھری یا وڈیرے سے واقف نہ ہوں تو یہ چالیس چالیس دن حوالات میں سڑتا رہتا ہے اور پولیس سرکاری گاڑی میں پٹرول نہ ہونے کی وجہ سے اسے عدالت یا جیل نہیں پہنچا پاتی‘

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی حکومت تھانے کی گاڑی کو روزانہ دس لیٹر پٹرول دیتی ہے اور گاڑی نے اس دس لیٹر پٹرول میں شہر بھر کا گشت بھی کرنا ہوتا ہے‘ ملزم بھی گرفتار کرنے ہوتے ہیں اور ملزمان کو عدالت اور جیل بھی پہنچانا ہوتا ہے‘ آپ خود فیصلہ کیجئے کیا یہ ممکن ہے؟۔آپ کسی دن وارداتوں کا سائنسی تجزیہ بھی کر لیں‘ چوری اور ڈکیتی کی 80 فیصد وارداتیں جیل سے رہا ہونے والے مجرم کرتے ہیں‘ یہ ڈیٹا ثابت کرتا ہے ہمارا سسٹم جیل سے رہا ہونے والے مجرموں پر نظر نہیں رکھ پاتا

چنانچہ مجرم جیلوں سے واپس آتے ہیں اور آتے ہی دوبارہ دھندہ شروع کر دیتے ہیں‘ آپ کسی ضلع کا ڈیٹا منگوا کر دیکھ لیجئے آپ کو اغواءاور زنا کے 60 فیصد پرچے جعلی ملیں گے اور یہ وہ پرچے ہیں جو نہ صرف تھانوں کا خرچ چلاتے ہیں بلکہ یہ پولیس اہلکاروں کے نان نفقہ بھی ثابت ہوتے ہیں‘ تھانے ان دونوں پرچوں پر پلتے ہیں لیکن مخالفین جس جس شخص کو ان پرچوں کا ہدف بناتے ہیں وہ بے چارے عدالتوں اور جیلوں میں ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں‘ آپ کسی رات پنجاب کے کسی تھانے میں چلے جائیں‘ آپ کو تھانے کی حوالات پیک ملے گی‘

یہ کون لوگ ہیں‘ یہ ایک رات کے ملزم ہوتے ہیں‘ پولیس ان کو گلیوں اور اڈوں سے گرفتار کرتی ہے‘ آوارہ گردی میں حوالات میں پھینکتی ہے اور صبح تک ہر شخص سے دس بیس ہزار روپے بٹور کر اسے رہا کر دیتی ہے‘ حکومت خفیہ سروے بھی کرا لے یہ حیران رہ جائے گی‘ پنجاب کے زیادہ تر ایس ایچ اوز نے پرائیویٹ حوالات بنا رکھی ہیں‘ یہ لوگوں کو اٹھاتے ہیں اور ذاتی حوالات میں پھینک دیتے ہیں‘ جہاں سے نکلنے کےلئے ملزموں کو لاکھوں روپے ادا کرنا پڑتے ہیں اور جو ملزم رقم کا بندوبست نہ کر سکے وہ کسی گمنام قبر کا رزق بن جاتا ہے‘

ہم آج 2019ءمیں بھی فرانزک‘ سوشل میڈیا‘ بینکنگ ٹرانسفر‘ ڈی این اے اور انگلیوں کے نشانوں کو ثبوت نہیں بنا سکے‘ تفتیش آج بھی چھتر سے سٹارٹ ہوتی ہے اور چھتر پر ہی ختم ہوتی ہے‘ آپ پولیس کی توندیں‘ سانسیں اور تعلیم بھی دیکھ لیجئے‘ تھانوں کا آدھے سے زیادہ سٹاف لکھ سکتا ہے‘ پڑھ سکتا ہے اور نہ ہی ایس ایم ایس کر سکتا ہے‘ یہ لوگ کمپیوٹر تک چلانا نہیں جانتے‘ یہ آج بھی اس سال کو امسال لکھتے ہیں اور فدوی آج بھی ان کی رپورٹوں میں موجود ہے‘

پنجاب 11 کروڑ لوگوں کا صوبہ ہے‘ پورے یورپ میں کوئی ملک آبادی میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن ہم آج بھی اتنے بڑے صوبے کو 36 ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹرز کے ذریعے چلا رہے ہیں‘ ہم صوبے کو 36 سے 72 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز میں تبدیل کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں یونیفارم بدلنے سے یہ سارا سسٹم ٹھیک ہو جائے گا‘ آپ کسی دن کانسٹیبل سے لے کر ڈی ایس پی تک پولیس فورس کی تنخواہیں چیک کر لیں اور اس کے بعد ان کے بجلی‘ گیس اور پانی کے بل دیکھ لیں‘

آپ ان کی گاڑیوں کی تعداد‘ پٹرول‘ بچوں کی تعلیم کا خرچ‘ مکانوں کے کرائے اور میڈیکل بل بھی چیک کر لیں اور اس کے بعد فیصلہ کریں کیا یہ لوگ یہ تمام اخراجات ان تنخواہوں میں پورے کر سکتے ہیں؟ آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی چنانچہ سوال یہ ہے یہ لوگ اتنی قلیل آمدنی میں ذاتی اور تھانے کے اخراجات کیسے پورے کرتے ہیں؟ یہ تمام اخراجات عوام کی نسوں سے نکلتے ہیں اور یہ وہ نسیں ہیں جو روز پولیس کے خلاف احتجاج کرتی ہیں‘ جو روز حکومت کو پولیس پر توجہ دینے کی اپیل کرتی ہیں لیکن حکومت ان مسائل پر توجہ دینے کی بجائے پولیس کی یونیفارم بدل رہی ہے‘

میرا دعویٰ ہے آپ اگرموجودہ حالات میں پولیس کو احرام بھی باندھ دیں تو بھی پولیس ٹھیک نہیں ہو گی‘ یہ پھر بھی ظلم سے باز نہیں آئے گی‘ عوام پھر بھی پولیس کے ہاتھوں ذلیل ہوتے رہیں گے چنانچہ میری حکومت سے درخواست ہے آپ یونیفارم کو نہ چھیڑیں‘ یونیفارم ایشو تھا اور نہ یہ ایشو ہے‘ پولیس کا اصل ایشو تھانہ اور تھانے کے اہلکار ہیں‘ آپ ان پر توجہ دیں ملک حقیقتاً تبدیل ہو جائے گا‘ حکومت سائز کے مطابق تھانوں کا بجٹ طے کرے‘ یہ بجٹ وزارت خزانہ سے براہ راست تھانوں کے اکاﺅنٹ میں جائے‘

آپ آئی جی‘ ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز کو تھانوں کا بجٹ نہ بھجوائیں‘ آپ بجٹ کے معاملے میں پورے محکمے کو بائی پاس کر دیں‘ رقم سیدھی تھانوں کے اکاﺅنٹ میں جمع کرا دیں‘تھانے بہتر ہو جائیں گے‘ حکومت اخراجات کی تفصیلات جاننے کےلئے سوشل میڈیا ایپلی کیشن تیار کرسکتی ہے‘ تھانے اپنے بل ایپلی کیشن پر ڈال دیا کریں اور سسٹم خود بخود اخراجات کی ویری فکیشن کر لیا کرے‘ حکومت تھانوں کے عملے کےلئے فیلڈ الاﺅنس بھی جاری کر دے‘ یہ الاﺅنس تنخواہ سے ڈبل ہونا چاہیے‘

یہ رقم اہلکاروں کی ایفی شینسی بھی بڑھا دے گی اور یہ رشوت اور بے ایمانی سے بھی بچ جائیں گے‘ حکومت اسی طرح فرانزک ٹیسٹ‘ سوشل میڈیا‘ بینک‘ یوٹیلٹی بلز‘ ہاتھ کے نشانوں اور ڈی این اے کو تفتیش کا حصہ بنا دے‘ یہ فیصلہ تفتیش کے عمل کو تیز بھی کر دے گا‘ تفتیش تھانوں سے لیبارٹری میں بھی شفٹ ہو جائے گی اور جرم کے خلاف ثبوت بھی زیادہ ٹھوس اور ناقابل تردید ہو جائیں گے اور حکومت جعلی پرچوں کے خلاف کڑی سزا بھی تجویز کر دے‘

جعلی پرچہ دینے اور اس میں معاونت کرنے والے پولیس اہلکاروں کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے‘ یہ قانون بھی بڑی حد تک پولیس کا قبلہ ٹھیک کر دے گا جس کے بعد حکومت کو پولیس کا امیج ٹھیک کرنے کےلئے بار بار یونیفارم نہیں بدلنا پڑے گی ورنہ دوسری صورت میں آپ پولیس کوغلاف کعبہ کی ٹوپی بھی پہنا دیں تو بھی پنجاب میں جرم اور زیادتی نہیں رکے گی‘ پنجاب اسی طرح روتا اور سسکتا رہے گا‘ یہ اسی طرح ظلم ظلم کی دہائیاں دیتا رہے گا۔

آپ یقین کر لیجئے پنجاب پولیس کا ایشو یونیفارم نہیں یونیفارم والا ہے‘ آپ یونیفارم والے کو ٹھیک کر دیں‘ یونیفارم خود بخود ٹھیک ہوجائے گی ورنہ یہ پولیس کسی دن عثمان بزدار کو بھی اٹھا کر حوالات میں پھینک دے گی اور یہ حیرت سے ان کا یونیفارم دیکھتے رہ جائیں گے۔

The post آپ خواہ احرام باندھ دیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/12/558513

Sunday, March 10, 2019

نیپ چینو

محی الدین دنیا کے ان اربوں لوگوں میں شامل ہے جو دن ایک سے دو بجے کے درمیان سست ہو جاتے ہیں‘ جن پر غنودگی طاری ہو جاتی ہے اورجنہیں جہاں سر ٹکانے کا موقع ملتا ہے یہ اپنا سر وہاں ایڈجسٹ کر کے خراٹے لینے لگتے ہیں‘ محی الدین بھی قیلولہ کا عادی ہے‘ اس نے یہ عادت اپنے والد سے حاصل کی اور یہ دفتر کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ایکٹو اور زیادہ کارآمد ہے‘ لوگ اس کے کام کی تعریف کرتے ہیں‘ محی الدین اس کا سارا کریڈٹ قیلولہ کو دیتا ہے۔

ہمارے لئے شاید یہ خبر انکشاف ہو 1950ء کی دہائی تک پوری دنیا میں قیلولہ کیا جاتا تھا‘ سپین‘ اٹلی اور فرانس میں 1990ء کی دہائی تک قیلولہ ہوتا تھا‘ لاطینی امریکا کے 20 ملکوں میں آج بھی لوگ دوپہر کے وقت سستاتے ہیں‘ قیلولہ اس زمانے میں انسان کی مجبوری تھا‘ کیوں؟ اس کا جواب سائنس نے 1960ء کی دہائی میں تلاش کیا‘انسانی رویوں کے ماہرین کے مطابق سرخ خون والے جاندار آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کر سکتے‘ یہ جوں ہی آٹھ گھنٹے کی معیاد پوری کر لیتے ہیں ان کے جسم تھک جاتے ہیں‘اس کے بعد ان کے دل‘ دماغ‘ پھیپھڑوں‘ گردوں اور ہڈیوں کو آرام درکار ہوتا ہے‘ ہمارے جسم کا ایک کیمیکل ایڈ نوسین تھکاوٹ کے سگنل پیدا کرتا ہے‘ ہم جیسے جیسے تھکاوٹ کا شکار ہوتے جاتے ہیں‘ ہمارا جسم توں توں ایڈنوسین پیدا کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ کیمیکل ہمارے پورے دماغ کو کنٹرول کر لیتا ہے‘ یہ ہمیں کام بند کر کے سستانے کے احکامات جاری کر دیتا ہے اور ہم بیٹھے بیٹھے یا بعض اوقات کھڑے کھڑے سو جاتے ہیں‘ ہم سونے کے اس عمل کو سستانا یا نیپ کہتے ہیں‘ نیپ کے دوران ایڈنوسین تحلیل ہو جاتا ہے اور ہم چارج ہو کر دوبارہ چاک وچوبند ہو جاتے ہیں‘ گرمیوں کے موسم میں قیلولہ کی ضرورت بڑھ جاتی ہے‘ آپ نے اکثر دیکھا ہو گا آپ گرمیوں کے موسم میں دن کے وقت سست ہو جاتے ہیں جبکہ سردیوں میں آپ رات تک ایکٹو رہتے ہیں‘ کیوں؟ اس کی دو وجوہات ہیں‘ گرمیوں کے دن لمبے ہوتے ہیں‘

آپ گرمیوں میں جس وقت سستانے کا پروگرام بناتے ہیں سردیوں میں اس وقت تک آپ کے سونے کا وقت ہو چکا ہوتا ہے‘ گرمیوں کے چار بجے اور سردیوں کے چار بجے میں بڑا فرق ہوتا ہے چنانچہ ہم لمبے دنوں کی وجہ سے بھی گرمیوں میں قیلولہ کرتے ہیں‘ دوسری وجہ درجہ حرارت ہے‘ گرمی ایڈنوسین کی پیداوار کو بڑھا دیتی ہے‘ ہم جلدی تھک جاتے ہیں اور ہمیں قیلولہ کی ضرورت پڑ جاتی ہے‘ ان دونوں وجوہات کی بنا پر 1950ء کی دہائی تک قیلولہ ہماری سماجی زندگی کا حصہ تھا‘

سرکاری دفتروں میں صاحب کے کمرے کے پیچھے آرام کا کمرہ ہوتا تھا‘ افسر لنچ کے بعد سستانے کیلئے وہاں چلے جاتے تھے جبکہ عملہ لنچ بریک کے دوران درختوں کے نیچے سو جاتا تھا یا پھر برآمدوں‘ چرچ اور مسجد میں پناہ لے لیتا تھا اور اگر سرکاری کوارٹر قریب ہوتے تھے تو لوگ گھر چلے جاتے تھے‘ دکاندار‘ مل مالکان اور تانگے والے بھی کام روک کر دوپہر کو قیلولہ کرتے تھے لہٰذا دنیا کے اکثر شہروں کی دوپہریں ویران ہو جاتی تھیں لیکن پھر ہماری زندگی میں دو نئی چیزیں متعارف ہوئیں اور یہ قیلولہ کی عادت کو نگل گئیں‘

آج دنیا کے 90 فیصد ملکوں میں قیلولہ نہیں کیا جاتا‘ لوگ نو بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتے ہیں‘ درمیان میں لنچ بریک ضرور ہوتی ہے لیکن اس بریک میں اب قیلولہ شامل نہیں ہوتا‘ وہ دو چیزیں اے سی اور کافی ہیں‘ ائیر کنڈیشنڈ نے دفتروں‘ گھروں‘ ملوں اور دکانوں کا درجہ حرارت کنٹرول کر لیا‘ گرمی کم ہو گئی لہٰذا ایڈنوسین کم پیدا ہونے لگا‘ لوگ زیادہ دیر تک ایکٹو رہنے لگے‘ کافی ایتھوپیا میں دریافت ہوئی‘ ایتھوپیا میں کافا کے نام سے پورا ریجن (صوبہ) ہے‘ جما اس صوبے کا چھوٹا سا شہر ہے‘

کافی یہاں دریافت ہوئی تھی اور ریجن کافا کی وجہ سے اس کا نام کافی رکھا گیا‘ یہ ایتھوپیا سے مکہ پہنچی‘ خانہ کعبہ کے سامنے کافی شاپس کھلیں‘ عرب کافی کو قہوہ کہنے لگے‘ ترکوں نے اسے تجارت بنایا اور یہ تیزی سے پوری دنیا کا مشروب بن گئی‘ یورپ میں 1600ء تک کافی پر پابندی تھی‘ پوپ نے اسے مسلمانوں کی سازش قرار دے کر حرام قرار دے رکھا تھا‘231واں پوپ کلیمنٹ ہشتم لبرل تھا‘ اس نے 1600ء میں کافی کی چسکی لی اور اسے حلال قرار دے کر بیچنے اور پینے سے پابندی اٹھا دی یوں کافی یورپ میں متعارف ہوئی اور چار سو سال میں لوگوں کی زندگی کا حصہ بن گئی‘

جرمن اور برطانوی اتحادیوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں کافی کو فوج میں متعارف کرا دیا اور یہ اس کے بعد تیزی سے پھیلنے لگی‘ 1950ء کی دہائی میں یہ چھ براعظموں کی سماجی زندگی میں شامل ہو چکی تھی‘ کافی بھی ایڈنوسین کو کنٹرول کرتی ہے چنانچہ یہ بھی انسانوں کو چاک وچوبند کر دیتی ہے‘ اے سی اور کافی دونوں نے مل کر قیلولہ کی عادت ختم کر دی لیکن پھر 1980ء کی دہائی میں پتہ چلا قیلولہ ترک کرنے کی وجہ سے انسانوں میں اینگزائٹی‘ ٹینشن اور ڈپریشن جیسے نفسیاتی امراض پیدا ہورہے ہیں‘

لوگ مزاجاً چڑچڑے ہو گئے ہیں‘ چڑچڑے پن پر تحقیق ہوئی تو پتہ چلا یہ ایڈنوسین کے توازن کی خرابی کا نتیجہ ہے‘ یہ نقطہ ایک نئی تحقیق کا آغاز ثابت ہوا‘ 1990ء کی دہائی میں کم خوابی کے مریضوں پر تجربات شروع ہوئے‘ لوگوں کے چند گروپوں کو قیلولہ کرایا گیا اور چند کو کافی پلائی گئی‘ یہ دونوں شروع میں ایکٹو ہوئے لیکن پھر کچھ عرصے بعد چڑچڑے پن کا شکار ہو گئے‘ یہ تجربات 2010ء کے بعد ایک نئے فیز میں داخل ہو گئے‘ سائنس دانوں نے قیلولہ اور کافی دونوں کو اکٹھا کر دیا‘

یہ مریض کو کافی پلاتے اور سلا دیتے‘ یہ تجربہ آٹھ سال جاری رہا‘ بے شمار گروپوں کو کافی پلائی گئی اور سلایا گیا یہاں تک کہ نیا فارمولہ سامنے آ گیا‘ اس فارمولے کو ”نیپ چینو“کا نام دیا گیا‘ سائنس دانوں کے مطابق قیلولہ زیادہ سے زیادہ بیس منٹ کا ہونا چاہیے‘ انسان بیس منٹ بعد گہری نیند میں چلا جاتا ہے اور یوں اس کی اصل نیند خراب ہو جاتی ہے چنانچہ ہم اگر صرف 20 منٹ قیلولہ کریں تو ہم فریش ہو جاتے ہیں‘ کافی کو بھی خون میں تحلیل ہونے اور جسم کو ایکٹو کرنے کیلئے 20 منٹ درکار ہوتے ہیں‘

ہم کافی پینے کے فوراً بعد چاک و چوبند نہیں ہوتے‘ یہ آہستہ آہستہ خون میں شامل ہو کر بیس منٹ میں ہمارے دماغ تک پہنچتی ہے لہٰذا ہم اگر دن میں ایک سے دو بجے کے درمیان کافی کا ایک مگ پئیں اور فوراً قیلولہ کیلئے لیٹ جائیں تو ہم بیس منٹ بعد توانائی کی آخری حد کو چھو رہے ہوں گے‘ ہم اگر اس کو اپنا معمول بنا لیں تو ہم ساٹھ دن میں ٹینشن‘ اینگزائٹی‘ ڈپریشن اور فرسٹریشن جیسے تمام امراض سے بھی جان چھڑا لیں گے اور ہم ایکٹو زندگی بھی گزاریں گے‘ یہ تھیوری جنوری 2019ء میں متعارف ہوئی‘

امریکا کی چار ریاستوں کے دفاتر میں تجربہ کیا گیا اور نتائج شاندار نکلے‘ انسانی رویوں کے ماہرین کا خیال ہے یہ تصور پانچ برسوں میں پوری دنیا تک پھیل جائے گا اور لوگ نیپ چینو کے بھی اسی طرح عادی ہو جائیں گے جس طرح یہ آئس کریم‘ چائے اور جینز کے عادی ہیں۔ہم میں سے اکثر لوگ یہ شکایت کرتے ہیں‘ ہم چائے یا کافی پیتے ہیں تو پھر ہمیں نیند نہیں آتی‘ یہ شکایت بڑی حد تک درست ہے‘ یہ لوگ دراصل ایک تکنیکی غلطی کرتے ہیں‘

یہ چائے اور کافی پینے کے بعد گپ لگانا شروع کر دیتے ہیں اور یوں بیس منٹ گزر جاتے ہیں اور کافی اور چائے خون میں شامل ہو کر ایڈنوسین کو ختم کر دیتی ہے‘ انسان ایکٹو ہو جاتا ہے اور نیند اڑ جاتی ہے‘ ہمارے لئے زیادہ بہتر ہے ہم رات کو چائے یا کافی نہ پئیں اور اگر پئیں تو فوراً سو جائیں‘ نیند کا ایشو پیدا نہیں ہو گا‘ میں نے چند برس قبل اٹلی سے کافی کا ایک چھوٹا سا کورس کیا تھا‘ مجھے اس کورس میں پتہ چلا کافی پینے کا بہترین وقت صبح ساڑھے نو بجے سے ساڑھے گیارہ بجے کے درمیان ہوتا ہے‘

ہماری جسمانی توانائی کاگراف اس وقت ڈاؤن ہوتا ہے‘ کافی اس گراف کو سپورٹ دیتی ہے اور ہماری توانائی بڑھ جاتی ہے‘ دوسرا بہترین وقت شام چار سے چھ بجے کے درمیان ہے‘ ہم اس وقت بھی ڈاؤن محسوس کرتے ہیں‘ اس کی وجہ ہوا میں آکسیجن کی کمی‘ پالوشن کی مقدار میں اضافہ اور ہماری جسمانی تھکاوٹ ہوتی ہے‘ ہم اگر اس وقت چائے یا کافی کے ایک دو کپ لے لیں تو ہم فریش ہو جاتے ہیں‘ آپ اگر چائے یا کافی غسل کے بعد پئیں تو آپ زیادہ اچھا فیل کریں گے اور اب نئی تحقیق کے بعد نیپ چینو جسمانی توانائی برقرار رکھنے کا زیادہ اچھا طریقہ ہے

آپ اگر صبح جلدی جاگتے ہیں تو آپ ڈیڑھ بجے کافی پئیں‘ بیس منٹ کیلئے سو جائیں اور دو بجے دوبارہ کام شروع کر دیں‘ آپ کا دن بھی اچھا گزرے گا اور آپ دوسروں کے مقابلے میں کام بھی زیادہ کریں گے‘ میری ذاتی روٹین میں چائے کافی بہت کم ہے‘ میں دن میں صرف سبز چائے پیتا ہوں‘ دن میں کافی کا صرف ایک کپ لیتا ہوں اور چائے کے دو یا حد تین کپ پیتا ہوں اور اللہ کا لاکھ لاکھ کرم ہے مجھے کبھی تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوا‘ زیادہ چائے یا کافی بھی انسان کو بیمار کرتی ہے‘

آپ اس کو حد سے باہر نہ جانے دیں اور آخری بات آپ کو اگر کافی پسند نہیں تو پھر آپ قیلولہ کو گرین ٹی کے ساتھ بھی ملا سکتے ہیں‘ آپ گرین ٹی پئیں اور بیس منٹ کیلئے سو جائیں‘آپ کو نیپ چینو جیسے اثرات ملیں گے‘ بہرحال گرین ٹی ہو یا کافی یا پھر پانی کا ایک گلاس لیکن قیلولہ ضروری ہے‘ یہ آپ کی زندگی اور معیار زندگی دونوں کو بہتر بنا دے گا ورنہ آپ ٹینشن کا شکار ہو جائیں گے بالکل اس کہانی کے کردار محی الدین کی طرح‘ محی الدین نے بھی جب قیلولہ ترک کیاتویہ بیمار ہوگیا‘ اس کا کام ڈسٹرب ہو گیا‘ یہ اب گرین ٹی پیتا ہے‘ بیس منٹ کا قیلولہ کرتا ہے اور ایک خوشگوار زندگی گزارتا ہے۔

The post نیپ چینو appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/10/557868

Thursday, March 7, 2019

بانس کا جنگل

قائداعظم محمد علی جناح سگریٹ پی رہے تھے‘ سیکرٹری نے عرض کیا ”سر کیا ہم رسک نہیں لے رہے“ قائداعظم نے پورے یقین سے فرمایا ”ہرگز نہیں‘ ہماری حلف برداری کی تقریب کے پہلے کارڈز کراچی کے ہندوﺅں کو ہی جاری ہوں گے“ سیکرٹری نے گھبراکر عرض کیا ”سرپنجاب کے اندر ہزاروں مسلمان خاندان کاٹ دیئے گئے ہیں‘ ہندو مسلمان اور مسلمان ہندوﺅں کو برداشت کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں‘ ہم اگر ان حالات میں حلف برداری کی تقریب میں ہندوﺅں کو دعوت دیں گے تو مسلمان مائینڈ کر جائیں گے“ قائداعظم نے سگریٹ کا کش لیا اور فرمایا ”ملک بن چکا ہے‘ اب پاکستان کا ہر شہری پاکستانی ہے‘ وہ خواہ ہندو ہو‘ سکھ ہو‘ پارسی ہو یا عیسائی ہو‘ آپ بس کارڈ جاری کر دو“ سیکرٹری چپ چاپ باہر نکل گیا۔

یہ قیام پاکستان کے وقت ملک کے پہلے گورنر جنرل کی حلف برداری کی تقریب کا واقعہ تھا‘ قائداعظم نے کراچی میں 15 اگست 1947ءکو حلف لینا تھا‘ جنرل گل حسن مہمانوں کی فہرست لے کر قائداعظم کے دفتر میں حاضر ہوئے‘ قائدنے فہرست دیکھی‘ کراچی کے کسی ہندو کا نام فہرست میں شامل نہیں تھا‘ قائداعظم نے کاغذ سائیڈ پررکھا اور فرمایا ”میری حلف برداری کی تقریب کے پہلے دعوتی کارڈز کراچی کے ہندوﺅں کو جاری ہوں گے“ یہ حکم اے ڈی سی کےلئے حیران کن تھا‘ وہ ڈرتے ڈرتے بولے ”سر یہ فیصلہ مجھے ٹھیک نہیں لگتا“ آپ دونوں کے درمیان باقی بحث پڑھ چکے ہیں بہرحال قصہ مختصر قائداعظم کے حکم پر ان کی حلف برداری کی تقریب کے پہلے کارڈز ہندوﺅں کو جاری ہوئے اور مسلمانوں کو اس کے بعد دعوت دی گئی‘ پہلی کابینہ بنی تو قائداعظم نے مسلمانوں کےلئے قانون بنانے کی ذمہ داری ہندو دانشور جوگندر ناتھ منڈل کو سونپی‘ منڈل پاکستان کے پہلے لیبر اینڈ لاءمنسٹر تھے‘ قائداعظم نے دسمبر میں سر ظفراللہ کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنا یا‘ یہ قادیانی تھے اور پورا ملک ان کے عقائد سے واقف تھا لیکن قائداعظم نے قادیانی ظفراللہ کو وزیر خارجہ اور ہندو جوگندر ناتھ منڈل کو مسلمانوں کا وزیر قانون بناتے وقت ایک لمحے کےلئے تامل نہیں کیا ‘ یہ لوگ کابینہ میں شامل ہوئے اور پاکستانی ہونے کا حق ادا کر دیا‘ قائداعظم کی حیات میں ملک کے اعلیٰ عہدوں پر عیسائی بھی تھے‘ پارسی بھی‘ ہندو بھی اور سکھ بھی‘

کراچی کا زیادہ تر کاروبار یہودیوں‘ پارسیوں اور اینگلو انڈینز کے ہاتھ میں تھا ‘ قائداعظم اپنی ضروریات کی اکثر اشیاءان کے سٹورز سے منگواتے تھے‘ پاکستان کا آرمی چیف تک برطانوی عیسائی تھا اور وہ پاک فوج میں رہ کر اپنی مذہبی عبادات کرتا تھا اور ریاست کو اس کے عقائد پر کوئی اعتراض نہیں تھا‘ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی لاءپریکٹس انگریزو کیل سر جان مولز ورتھ کے چیمبر میں شروع کی اور سیاسی تربیت پارسی دانشور دادابھائی نوروجی سے حاصل کی‘قائد گورنر جنرل تھے تو ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری پارسی پولیس افسر کے پاس تھی‘

آپ اس کی نگرانی میں سفر کرتے تھے اور آپ نے کبھی خود کو اس کی نگرانی میں غیرمحفوظ محسوس نہیں کیا تھا‘ قائداعظم زیارت میں بیمار ہوئے تو آپ کی نرس فلس ڈنہم عیسائی تھی اور آپ اس کی اصول پسندی اور پروفیشنل ازم کی ہمیشہ تعریف کرتے تھے لیکن آج قائداعظم کے اس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ آج ہم نے اس ملک کو ملک نہیں رہنے دیا‘ ہم نے اسے مذہبی تعصب کا میدان جنگ بنا دیا ہے‘ ہم اس ملک میں عیسائیوں‘ ہندوﺅں‘ پارسیوں‘ سکھوں اور کیلاشی اقلیتوں کو برداشت کرنے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں‘یہ قائداعظم کے اس ملک کے ساتھ ظلم ہے‘ ظلم عظیم!

ہم پاکستانی مذہبی منافرت میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں لیکن پنجاب کے سابق وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اعتدال کی ساری حدیں پھلانگ دیں‘ یہ چار مارچ کولاہور میں ہندوﺅں کے عقائد کا مذاق اڑاتے رہے اور یہ زبان درازی کے جوہڑ میں چھلانگ لگاتے وقت یہ تک بھول گئے قائداعظم کے پاکستان میں اس وقت بھی چالیس لاکھ ہندو رہتے ہیں اور یہ فیاض الحسن چوہان سے زیادہ پاکستانی ہیں‘ چوہان صاحب حکومت کے ان وزراءاور ارکان اسمبلی میں شامل ہیں جو جب بھی بولتے ہیں اپنی زبان سے پوری دنیا کو بتا دیتے ہم اس رتبے‘ اس اعزاز اور اس عزت کے قابل نہیں ہیں‘

یہ لوگ اپنے منہ سے ثابت کرتے ہیں زبان اگر کنٹرول میں نہ ہو تو انسان کو تخت سے روڑی پر آتے دیر نہیں لگتی اور چوہان صاحب آٹھ ماہ کے اقتدار میں روز تخت سے نالی میں چھلانگ لگاتے رہے یہاں تک کہ عمران خان اپنے غلط فیصلے کو ٹھیک کرنے پر مجبور ہو گئے‘یہ بھی مان گئے اگر انسان کی اوقات نہ ہوتو اسے عزت نہیں ملنی چاہیے‘ عمران خان نے فیاض الحسن چوہان سے استعفیٰ لے کر بہت اچھا فیصلہ کیا‘ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے عمران خان نے اپنی فلاسفی تبدیل کر لی ہے‘

یہ اب میرٹ پر جا رہے ہیں اور یہ بہت خوش آئند بات ہے‘ پاکستان میں کسی شخص کو مذہبی منافرت کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘ یہ قائداعظم کا ملک ہے اور قائداعظم نماز کے دوران بھی فرقے کی نمائش کے خلاف تھے‘ قائد کا خاندان شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا تھا لیکن قائداعظم نے پوری زندگی خود کو صرف مسلمان کہا اور یہ صرف مسلمان رہے ‘دنیا کا کوئی مسلمان کسی دوسرے کے مذہب اور عقائد کا مذاق نہیں اڑاتا‘ ہمیں یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے‘ ہمارے جھنڈے کا ایک تہائی حصہ سفید رنگ پر مشتمل ہے‘

یہ سفید حصہ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے‘ ہمارے ملک میں اگر اقلیتوں کے حقوق محفوظ نہیں ہیں تو پھر ہمیں اس سفید کو بھی سبز کر لینا چاہیے اور فیاض الحسن چوہان جیسے لوگوں کو کھل کھیلنے کا موقع دے دینا چاہیے‘ یہ اٹھیں اور پاکستان کے بال ٹھاکرے اور نریندر مودی بن جائیں‘ یہ پہلے اقلیتوں کو ماریں اور اس کے بعد مخالف فرقوں کو اڑا دیں تاکہ یہ ملک جہنم بن جائے‘ عمران خان نے بروقت اور قطعی فیصلہ کر کے ہم جیسے معتدل پاکستانیوں کا دل موہ لیا چنانچہ میں اپنے دونوں ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے اٹھا کر انہیں ویل ڈن کہتا ہوں۔

عمران خان کا دوسرا بڑا فیصلہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن ہے‘ حکومت نے جیش محمداور جماعت الدعوة کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کر دیا ہے‘ مولانا مسعود اظہر کے صاحبزادے حماد اظہر اور بھائی مفتی عبدالرﺅف بھی گرفتار کر لئے گئے ہیں‘ حکومت نے کالعدم تنظیموں کے دفاتر‘ مدارس اور پراپرٹی بھی ضبط کرلی ہے‘ یہ اقدامات بھارت کی طرف سے پلوامہ حملے کے ڈوزیئر کے بعد اٹھائے گئے‘ حکومت کے اپنے لوگوں کا کہنا ہے بھارت اور پاکستان کے درمیان صلح کی کوشش کرنے والے ملکوں نے بھی یہ مطالبہ کیا تھا‘

حکومت اگر یہ مطالبہ نہیں مانتی تو ملک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں چلا جائے گا اور یوں ہم دیوالیہ ہو جائیں گے‘ہمارے پاس اب اس کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا‘حکومت کا جواز درست ہو سکتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں عمران خان نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن کر کے اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا رسک لیا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ وہ کام ہے جو جنرل پرویز مشرف کر سکے‘ آصف علی زرداری اور نہ میاں نواز شریف‘ بھارت مولانا مسعود اظہر کے بھائی مفتی عبدالرﺅف کو ائیر انڈیا کے طیارے کے اغواءکا مرکزی ملزم سمجھتا ہے‘

یہ طیارہ 24 دسمبر 1999ءکو کھٹمنڈو سے اغواءہوا تھا‘ اس میں 176مسافر سوار تھے اور یہ افغانستان کے شہر قندہار میں اتارا گیا تھا‘ ہائی جیکرز نے طیارے کے مسافروں کے بدلے بھارت سے مولانا مسعود اظہر ‘ عمرسعید شیخ اور مشتاق احمد زرگر رہا کرائے تھے‘ یہ لوگ کوٹ بھلوال جموں اور دہلی کی تہاڑ جیل میں قید تھے‘ بھارت نے اپنے اتحادیوں کے ذریعے جنرل پرویز مشرف پر بھرپور دباﺅ ڈالا تھا لیکن جنرل مشرف نے جیش محمد پر کریک ڈاﺅن کیا اور نہ مفتی عبدالرﺅف کو گرفتار کیا‘

بھارت نے 13 دسمبر 2001ءکو پارلیمنٹ پر حملے کے بعد بھی مفتی عبدالرﺅف کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا لیکن جنرل مشرف خواہش کے باوجود یہ کام نہ کر سکے‘ 2008ءمیں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی‘ شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے‘ ممبئی اٹیکس ہوئے اور اجمل قصاب اور اس کے 9ساتھیوں نے بھارت کی سماجی‘ معاشی اور سفارتی ہڈیاں توڑ دیں‘ بھارت نے اس وقت بھی حافظ سعید کے ساتھ ساتھ مولانا مسعود اظہر اور مفتی عبدالرﺅف کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا لیکن آصف علی زرداری بھی خواہش کے باوجود یہ مطالبہ پورا نہ کر سکے‘ میاں نواز شریف کے دور میں یہ مطالبہ بار بار دہرایا گیا‘

دو جنوری 2016ءکو پٹھان کوٹ کا واقعہ پیش آیا‘ نواز شریف4 جنوری کو سری لنکا کے دورے پرتھے‘ نواز شریف نے سری لنکا سے نریندر مودی کو فون کیا اور پٹھان کوٹ واقعے پر تحقیقات کی یقین دہانی کرائی‘نریندر مودی نے مولانا مسعود اظہر اور مفتی عبدالرﺅف کی گرفتاری اور کھلا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا‘ میاں نواز شریف نے وعدہ کر لیا لیکن یہ بھی یہ کام نہ کر سکے‘ عمران خان 20 برسوں میں کالعدم تنظیموں کے خلاف میدان میں اترنے والے پہلے وزیراعظم ہیں‘

یہ فیصلہ اچھا ہے یا برا یہ وقت ثابت کرے گا تاہم وزیراعظم کو مستقبل میں دو دریاﺅں کا سامنا کرنا پڑے گا‘ بھارت حافظ سعید‘ مولانا مسعود اظہر اور مفتی عبدالرﺅف کا نام بار بار لیتا ہے لیکن یہ ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہیں کرتا‘ حکومت ثبوتوں کے بغیر ان لوگوں کو زیادہ دیر تک حراست میں نہیں رکھ سکے گی اور دوسرا یہ تمام لوگ ریاست کے پچاس سال پرانے بیانیے اور ستر سال پرانے مسئلہ کشمیر کی پیداوار ہیں‘ آپ کچھ بھی کر لیں آپ مسئلہ کشمیر کے حل اور ریاستی بیانیہ تبدیل کئے بغیر ان لوگوں کو معاشرے میں تحلیل نہیں کر سکیں گے‘

یہ لوگ ہمیشہ معاشرے میں موجود رہیں گے بس ان کے نام‘ شکلیں اورپتے تبدیل ہو جائیں گے‘ بے نظیر بھٹو اس لڑائی میں شہید ہو چکی ہیں‘ میاں نواز شریف جیل میں ہیں اور عمران خان اپنے لئے خطرات پیدا کر لیں گے چنانچہ یہ اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ پھر ریاست کا بیانیہ تبدیل کریں اور کشمیر کے مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تلاش کریں‘ حکومت کو کسی کریک ڈاﺅن کی ضرورت نہیں رہے گی ورنہ دوسری صورت میں بانس کے جنگل میں نئے بانس اگ آئیں گے اور آپ بانس کاٹتے کاٹتے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔

The post بانس کا جنگل appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/03/07/556875