Tuesday, January 22, 2019

دوسرا رخ

ساہیوال کے واقعے نے پورے ملک کو اداس کر دیا‘ میڈیا بار بار دو معصوم بچیاں اور خوف کے شکار 10سال کے بچے عمیر کو دکھا رہا ہے‘ سوشل میڈیا پر پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے ذیشان‘ خلیل احمد‘ خاتون نبیلہ اور تیرہ سال کی بچی اریبہ کی لاشیں بھی ہر حساس شخص کو خون کے آنسو رلا رہی ہیں‘ جان دینا اور جان لینا دونوں اللہ تعالیٰ کے کام ہیں‘ ہم انسان جب بھی کسی نئے انسان کو جنم دینے کا فیصلہ کریں یا ہم کسی منصب پر بیٹھ کر کسی کی جان لے رہے ہوں تو ہمیں قلم اور رائفل چلاتے ہوئے دس مرتبہ سوچنا چاہیے‘

ہم اگر کسی بچے کو جنم دے کر اس کی پرورش کی ذمہ داری پوری نہیں کرتے یا پھر ہماری غفلت سے کسی کی جان چلی جاتی ہے تو ہم اللہ تعالیٰ کے غضب سے نہیں بچ پاتے‘ خدا ہمیں معاف نہیں کرتا‘ ساہیوال میں بھی یہی ہوا‘ کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی فائرنگ سے تین بے گناہوں کی جان بھی گئی اور تین معصوم بچوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے والدین کو بھی مرتے دیکھا‘ یہ دیکھنے سے بہترتھا یہ بچے بھی دنیا سے رخصت ہو جاتے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ اب نارمل زندگی نہیں گزار سکیں گے‘ ان بچوں کی تکلیف اور بے گناہوں کا خون بھی پوری زندگی مارنے والوں کا پیچھا کرتا رہے گا‘ یہ بھی اب نارمل زندگی کو ترستے رہیں گے‘ ہم فرض کر لیتے ہیں پولیس کے مطابق خلیل احمد کا دوست ذیشان دہشت گردوں کا ساتھی تھا لیکن پولیس کے پاس اس کو گرفتار کرنے کے بے شمار طریقے موجود تھے‘ یہ سڑک پر گاڑی رکوا کر اسے گرفتار کر سکتے تھے‘ یہ اسے ٹول پلازے پر بھی روک سکتے تھے اور پولیس نے جب ٹائروں پر گولی مار کر گاڑی روک لی تھی تو یہ اس وقت بھی اسے زندہ پکڑ سکتی تھی یوں سڑک پر سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں گاڑی کو چھلنی کر دینا یہ کہاں کا انصاف‘ یہ کہاں کی انسانیت اور یہ کہاں کا پروفیشنل ازم ہے؟ ہم اس کی جتنی بھی مذمت کریں کم ہو گی‘ بہرحال یہ واقعہ ہو گیا اور یہ حقیقت ہے انسان کچھ بھی کر لے وہ ایسے واقعات کو ”ری ورس“ نہیں کر سکتا‘ ہم سب مل کر بھی ان بچوں کو ان کے والدین واپس کر سکتے ہیں اور نہ زندگی کی سرحد پار کرنے والوں کو واپس لا سکتے ہیں لیکن ہم اس واقعے سے سیکھ بہت کچھ سکتے ہیں۔

ساہیوال کے واقعے سے پہلا لیسن ریاست کو سیکھنا چاہیے‘ حکومت قانون بنا دے فائر کا حکم ہمیشہ اوپر سے دیا جائے گا اور وہ آرڈر واضح اور قانونی ہو گا اور کوئی بے گناہ اس حکم کی زد میں نہیں آئے گا‘ دوسرا‘ دنیا کے تمام جدید ملکوں میں پولیس کے پاس مہلک اسلحہ نہیں ہوتا‘ یہ زیادہ تر شارٹ گن یا پستول کی ہلکی گولی استعمال کرتے ہیں‘ اس سے ملزم عموماً زخمی ہوتے ہیں‘ ہلاک نہیں ہوتے‘ مہلک اسلحہ صرف سپیشل فورسز کے پاس ہوتا ہے اور وہ لوگ انتہائی ماہر نشانہ باز ہوتے ہیں‘

وہ ٹارگٹ کے علاوہ چیونٹی تک کو نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ ہم نے عام پولیس کو بھی کلاشنکوف اور تھری ناٹ تھری دے رکھی ہیں چنانچہ یہ جب بھی فائر کرتے ہیں یہ بے گناہوں کو بھی زندگی کی سرحد سے باہر دھکیل دیتے ہیں‘ہمارے ملک میں بے شمار نوجوان ناکوں پر موجود پولیس کی فائرنگ سے قتل ہو چکے ہیں لہٰذا حکومت کو پولیس کا اسلحہ بھی تبدیل کر دینا چاہیے‘ یہ اگر ممکن نہ ہو تو آپ انہیں ہلکی گولیاں دے دیں تاکہ یہ ملزموں کو صرف زخمی کر سکیں‘

یہ ان کی جان نہ لے سکیں اور تیسرا‘ پوری دنیا کی پولیس ملزموں کو گرفتار کرنے کی ایکسپرٹ ہوتی ہے‘ پولیس اہلکار چند لمحوں میں ملزم کو نیچے گرا لیتے ہیں اور اس کی کلائیاں پیچھے لے جا کر باندھ دیتے ہیں‘یہ ملزموں کو ”ٹیزر“ کے ذریعے کرنٹ دے کر بھی بے ہوش کر دیتے ہیں اور اب دنیا میں لیزر گنز بھی آ چکی ہیں‘ پولیس دور سے لیزر مار کر ملزم کو گرا لیتی ہے جبکہ ہمارے ملک میں آج بھی ملزموں کو گرفتار کرنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے‘ منت یا گولی‘

ہماری پولیس ملزم کے پیچھے بھاگ سکتی ہے اور نہ اسے دبوچ سکتی ہے چنانچہ اہلکار سارے کام رائفل سے لیتے ہیں‘ یہ لوگ اچھے نشانچی بھی نہیں ہیں‘ یہ گولی دائیں چلاتے ہیں اور بندہ بائیں مر جاتا ہے یا پھر یہ گولیوں کی اتنی بوچھاڑ کر دیتے ہیں کہ ملزم کے ساتھ ساتھ ہمسائے بھی مارے جاتے ہیں‘ ریاست کو پولیس کی اس کمزوری پر بھی توجہ دینی چاہیے اور چوتھا اور آخری سبق ہم عوام کےلئے ہے‘ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی تحقیقات کے مطابق ذیشان جاوید کا تعلق دہشت گرد گروپ کے ساتھ تھا‘

یہ لوگ یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کے اغواءکے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کے بے شمار افسروں کے قتل میں بھی ملوث تھے‘ یہ موبائل فونز اور انٹرنیٹ کے آئی پی تک تبدیل کر لیتے تھے‘ پولیس اور خفیہ ادارے آٹھ سال سے ان کا پیچھا کر رہے ہیں‘ یہ 2018ءکے آخر میں ان کے ریڈار میں آ گئے‘ بظاہر عام‘ نیک اور غریب دکھائی دینے والے یہ لوگ اندر سے برگد کی جڑوں کی طرح دور تک پھیلے ہوئے ہیں‘ پولیس اور ایجنسیوں سے بچنے کےلئے یہ ہمیشہ بچوں‘ خواتین اور فیملیز کو استعمال کرتے ہیں‘

لوگوں سے ذاتی تعلقات استوار کرتے ہیں اور پھر ان سے لفٹ لے کر یا انہیں لفٹ دے کر ان کے خاندانوں کے ساتھ سفر کرتے ہیں اور بارود ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیتے ہیں‘ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ذیشان جاوید بھی ایک ایسا ہی دہشت گرد یا سہولت کار تھا‘ یہ تحقیقات کے بعد ہی ثابت ہو سکے گا تاہم پولیس اور خفیہ اداروں کا دعویٰ ہے ذیشان سہولت کار تھا‘ 19 جنوری کو گوجرانوالہ میں مارے جانے والے دو دہشت گرد لاہور میں اس کے گھر میں پناہ گزین رہے تھے‘

اس کا رابطہ 15 جنوری کو فیصل آباد میں مارے جانے والے دہشت گردوں کے ساتھ بھی تھا‘ یہ اپنی گاڑی میں خلیل احمد کی فیملی کو بورے والا لے جا رہا تھا اور ساہیوال میں مارا گیا‘ ہم عوام کو اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے‘ کسی بھی شخص کو خواہ وہ ہمارا کتنا ہی پرانا اور قریبی دوست کیوں نہ ہو ہم اسے فیملی کے ساتھ سفر نہ کرائیں‘ ہم بس یا ٹرین میں سفر کر لیں‘ ہم اپنے مہمان کو کرائے پر گاڑی لے دیں لیکن ہم اسے ساتھ نہ لے کر جائیں‘ کیوں؟ کیونکہ کچھ پتہ نہیں کون کب ہمارے بچوں کو ہیومن شیلڈ بنا لے لہٰذا ہمیں بھی بہرحال چوکنا رہنا ہوگا اور یہ ساہیوال کے واقعے کا وہ دوسرا رخ تھا جو معصوم بچوں اور تین بے گناہ لوگوں کے قتل کی وجہ سے پورے ملک کی نظروں سے اوجھل ہو گیا‘ ذیشان جاوید فراموش ہو گیا اورخلیل احمد کی فیملی اور تین بے گناہوں کے قتل نے اصل کہانی پر پردہ ڈال دیا۔

ہماری زندگی میں دوسرا رخ بہت اہم ہوتا ہے‘ ہمیں چاہیے ہم جب بھی پہلے رخ کو دیکھیں‘ ہم کوشش کریں ہم دوسرا رخ بھی تلاش کریں کیونکہ یہ عین ممکن ہے اصل حقیقت دوسرا رخ ہو‘ مجھے یہ تجربہ جمعہ 18 جنوری ہی کو ہوا‘ سی پی این ای (کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز) نے جمعہ کو اسلام آباد میں میڈیا اینڈ ڈیموکریسی پر کنونشن منعقد کیا‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا ایسا میڈیا کنونشن تھا جس میں ملک بھر کے پریس کلب بھی شریک تھے‘ صحافیوں کی تنظیمیں بھی‘ ملک کے نامور صحافی‘ ایڈیٹر‘ میڈیا مالکان‘ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے سی ای او اور اینکر پرسنز بھی اور حکومت اور اپوزیشن کے نمائندے بھی‘

ملک میں پہلی بار جمہوریت اور میڈیا پر کھل کر بات ہوئی‘ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی‘ وزیر اطلاعات فواد چودھری‘ مریم اورنگزیب اور نیئر بخاری نے بھی کنونشن میں کھل کر بات کی‘ میڈیا کے تمام سٹیک ہولڈرز ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے اور بے لاگ بات چیت کی‘ میں نے کنونشن میں مالکان کے کاروباری مفادات اور سیاسی ایجنڈے پر بات کی‘ میرے دوست اور گروپ ایڈیٹر ایاز خان نے اس کا بہت خوبصورت جواب دیا‘ ان کا کہنا تھا بے شک میڈیا کی انڈسٹری میں سرمایہ کار‘ صنعت کار اور تاجر آئے لیکن یہ فیلڈ آج جس خوشحالی کو انجوائے کر رہی ہے یہ صرف اور صرف ان لوگوں کی مرہون منت ہے‘

یہ لوگ صحافت میں نہ آتے تو ہم آج بھی ہونڈا سی ڈی 70 پر ہوتے‘ میں نے ان سے اتفاق کیا‘ یہ حقیقت ہے 2000ءتک صحافت صرف تین گروپوں تک محدود تھی‘ یہ لوگ خود ارب پتی تھے لیکن صحافی خون تھوک رہے تھے پھر بڑے صنعتی گروپ آئے اور صحافیوں کے دن پھرنا شروع ہو گئے‘ ٹیلی ویژن نے خوشحالی کے اس سفر کو مزید بہتر کر دیا‘ ایکسپریس کے سی ای او اعجاز الحق نے کہا‘ 2000ءتک صحافتی مالکان صحافت سے کما کر دوسرے شعبوں میں لگاتے تھے لیکن پھر ایسے لوگ آئے جنہوں نے دوسرے شعبوں سے کمایا اور صحافت میں لگا دیا‘

یہ ایک ایسا دوسرا رخ تھا جس سے زیادہ تر لوگ ناواقف تھے‘ کنونشن میں حکومت کو صحافتی برادری اور صحافتی برادری کو حکومت کا موقف سمجھنے کا موقع بھی ملا‘ شرکاءنے تسلیم کیا صحافت کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے‘ ملک میں ایک ان دیکھا خوف موجود ہے‘ ہر شخص پریشان ہے اور یہ پریشانی صحافت کے ذریعے پورے ملک میں پھیل رہی ہے‘ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میڈیا کے کندھوں پر بیٹھ کر ایوان اقتدار میں داخل ہوئی‘ میڈیا نے جتنی عمران خان کو سپورٹ دی اتنی سپورٹ آج تک کسی دوسرے لیڈر کو نہیں ملی لیکن عمران خان نے حکومت میں آ کر سب سے پہلے میڈیا کو ٹارگٹ کیا‘

میڈیا نے حکومت کی تشکیل کے ساتھ ہی سسکنا شروع کیا اور یہ اب ایڑیاں رگڑ رہا ہے‘ اخبارات بند ہو رہے ہیں اور ٹیلی ویژن چینلز ڈاﺅن سائزنگ کے عمل سے گزر رہے ہیں‘ یہ سلسلہ اگر چلتا رہا تو میڈیا کےلئے سانس لینا مشکل ہو جائے گا اور یہ حقیقت ہے میڈیا اور جمہوریت دونوں ایک دوسرے کےلئے لازم و ملزوم ہیں‘ صحافت نہیں رہے گی تو پھر جمہوریت بھی ممکن نہیں ہو گی‘ اس کنونشن میں فیصلہ ہوا تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر میڈیا کو بچانا ہوگا ورنہ پھر ہمیں جمہوریت کا جنازہ پڑھ لینا چاہیے اور یہ وہ دوسرا رخ تھا جس سے سانحہ ساہیوال کی طرح زیادہ تر لوگ ناواقف تھے‘ یہ میڈیا کے بحران کو صرف میڈیا کا بحران سمجھ رہے تھے۔

The post دوسرا رخ appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/22/543612

Sunday, January 20, 2019

کنجوس فرشتہ

چک فینی 1931ء میں نیو جرسی کے شہر الزبتھ میں پیدا ہوا‘ گریجوایشن کی اور ائیرفورس میں بھرتی ہو گیا‘ وہ پہلے شمالی کوریا بھجوایاگیا اور پھر جنوبی کوریا میں پوسٹنگ ہو گئی‘ وہ جنگوں کا زمانہ تھا‘ وہ لڑتا رہا‘ لڑتے لڑتے وہ ائیرفورس میں ریڈیو آپریٹر بن گیا‘ وہ 1950ء کا سن تھا‘ چک فینی نے ڈیوٹی فری شراب لی اور وہ یہ شراب لے کر آفیسر میس میں آ گیا‘ میس میں اس دن شراب کم پڑ گئی‘ ساتھیوں کو جشن کیلئے شراب چاہیے تھی‘ چک فینی کے پاس فالتو تھی چنانچہ اس نے اضافی بوتلیں ساتھیوں کو فروخت کر دیں‘

یہ ایک سودا اسے ملازمت سے کاروبار میں لے آیا‘ اس نے ڈیوٹی فری شراب سپلائی کرنا شروع کردی‘ کاروبار چل نکلا اور وہ دنوں میں امیر ہو گیا‘ وہ کوریا سے واپس آیا‘ ائیرفورس ترک کی اور کارنیل یونیورسٹی کے سکول آف ہوٹل ایڈمنسٹریشن میں داخلہ لے لیا‘ ہوٹل مینجمنٹ میں ڈگری لی اور کاروبار شروع کر دیا‘ اس نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈیوٹی فری شاپرز گروپ (ڈی ایف ایس) بنایا‘ یہ گروپ امریکا کے مختلف ائیرپورٹس پر ڈیوٹی فری تمباکو‘ شراب اور گاڑیاں سپلائی کرتا تھا‘یہ کاروبار چل نکلا اور چک فینی کی امریکا کے زیادہ تر ائیرپورٹس پر اجارہ داری قائم ہو گئی‘ یہ اس کے بعد یورپ اور مشرقی بعید گیا اور وہاں بھی چھا گیا‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ڈی ایف ایس دنیا بھر کے مسافروں کا پسندیدہ ریٹیلر برانڈ بن گیا‘ 1990ء آیا تو تین پارٹنرز کو تین تین سو ملین ڈالر منافع ہو گیا‘ یہ 1990ء کی دہائی میں ایک بڑی رقم تھی‘ چک فینی اور اس کی کمپنی آنے والے دنوں میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرتی رہی۔ ہم یہاں یہ کہانی روکتے ہیں اور چک فینی کی ایک دلچسپ عادت بلکہ فطرت کا ذکر کرتے ہیں‘ چک فینی امریکا کے انتہائی کنجوس لوگوں میں شمار ہوتا ہے‘ یہ بچپن سے کنجوس تھا‘ یہ جوانی تک رات کا بچا ہوا برگر صبح کھاتا تھا‘ یہ کوک کی بوتل بھی دو دو دن تک پیتا رہتا تھا‘ اس نے دو شادیاں کیں‘ پہلی بیوی ڈینئل فرنچ تھی‘ اس سے چار بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا لیکن اس نے کنجوسی کی وجہ سے اس سے طلاق لے لی‘

اس نے دوسری شادی اپنی سابق سیکرٹری سے کی‘ یہ بھی پوری زندگی اس کی فطرت کی وجہ سے پریشان رہی‘ آپ اس کی کنجوسی ملاحظہ کیجئے‘ یہ امریکا کے ارب پتیوں میں شمار ہوتا ہے‘ اس نے 2016ء میں دو بلین ڈالر منافع کمایا تھا‘ یہ اس وقت بھی اربوں ڈالرز کے شیئرز کا مالک ہے لیکن یہ آج سان فرانسسکو میں کرائے کے فلیٹ میں رہتا ہے‘ یہ 75 سال سے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہا ہے‘ ذاتی گاڑی موجود ہے لیکن یہ پٹرول کی وجہ سے گاڑی گیراج سے نہیں نکالتا‘ کتابیں‘ میگزین اور اخبارات پلاسٹک کے شاپنگ بیگز میں رکھتا ہے‘

اس نے پوری زندگی بڑے ریستوران میں کھانا نہیں کھایا‘ یہ فائیو سٹار ہوٹل میں مقیم ہو تو یہ کھانے کے وقت ہوٹل سے نکل کر چھوٹے ہٹس ریستورانوں میں جاتا ہے اور دو اڑھائی ڈالر کا برگر لے کر کھا لیتا ہے‘ منرل واٹر نہیں خریدتا‘ ٹونٹی کا پانی پی لیتا ہے‘ یہ ان ایک فیصد امریکیوں میں بھی شامل ہے جو تلوے گھس جانے کے بعد جوتوں کے سول تبدیل کراتے ہیں‘ چک فینی کے پاس صرف تین سوٹ ہیں‘ یہ شرٹس‘ پتلون اور جرابیں بھی دو دو سال چلاتا ہے‘ یہ شراب خانوں‘ مہنگی کافی شاپس اور برانڈڈ شاپنگ سنٹرز میں بھی نہیں جاتا‘

یہ ہوائی سفر کے دوران ہمیشہ اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے‘ اس نے پوری زندگی کسی بھکاری کو بھیک نہیں دی‘ یہ کسی کو کھانے کی دعوت نہیں دیتا‘ اس سے ملنے والوں کو اپنی کافی‘ اپنا پانی اور اپنا برگر خود خریدنا پڑتا ہے اور یہ گراسری خریدنے کیلئے بھی ہمیشہ سیل کا انتظار کرتا ہے‘ یہ ایک ڈالر بچانے کیلئے تین تین کلو میٹر پیدل سفر بھی کر لے گا چنانچہ یہ ہر طرف سے امریکا کا کنجوس ترین ارب پتی ہے‘ یہ ایک اذیت ناک شخص ہے لیکن یہ اس اذیت ناک کنجوسی کے باوجود بل گیٹس اور وارن بفٹ جیسے لوگوں کا ہیرو کہلاتا ہے‘

یہ لوگ ہمیشہ اٹھ کر اس کا استقبال کرتے ہیں اور اپنی ہر تقریر میں اس کا حوالہ دیتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں‘ کاش آپ اور ہم چک فینی کا مقابلہ کر سکتے‘ یہ لوگ چک فینی کو اپنا ہیرو کیوں سمجھتے ہیں؟ یہ ایک اور دلچسپ داستان ہے اور اس دلچسپ داستان کا آغاز 1996ء میں ہوا۔1996ء میں فرانس کے ایک گروپ نے چک فینی کی کمپنی کے شیئرز خرید لئے‘ شیئرز کا سودا ہو گیا تو پتہ چلا چک فینی نے اپنے 37اعشاریہ 75 فیصد شیئرز خیرات کر دیئے ہیں‘

یہ رقم اس وقت پونے دو ارب ڈالر بنتی تھی اور یہ اس وقت امریکا کی سب سے بڑی خیرات تھی‘ کمپنی نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا چک فینی کا بزنس جب ترقی کرنے لگا تھا تو اس نے 1982ء میں ”اٹلانٹک فلنتھراپیز“ کے نام سے ایک خیراتی ادارہ بنایا اور نہایت خاموشی سے اپنی کمپنی کے پونے 38 فیصد شیئرز اس ادارے کو دے دیئے‘ چک فینی کی اس خدمت کی 1996ء تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی‘ یہ راز مزید بھی راز رہ سکتا تھا اگر فرنچ کمپنی ڈی ایف ایس کے شیئرز نہ خریدتی‘

دنیا کو اس ڈیل کے دوران پتہ چلا وہ جس شخص کو امریکا کا کنجوس ترین شخص سمجھتی ہے وہ دنیا کا سخی ترین شخص ہے‘ اس نے اپنی دولت دکھی اور بے بس انسانیت کیلئے وقف کر رکھی ہے‘ چک فینی اب تک کارنیل یونیورسٹی کو ایک بلین ڈالر کا عطیہ دے چکا ہے‘ اس نے نیویارک میں کارنیل یونیورسٹی کا سٹی ٹیک کیمپس بھی بنوایا‘ اس پر اس کے ساڑھے تین سو ملین ڈالر خرچ ہوئے‘ اس کے والدین آئر لینڈ سے نقل مکانی کر کے امریکا آئے تھے‘

اس نے آئر لینڈ میں تعلیم کے فروغ کیلئے ایک بلین ڈالر کا عطیہ دیا اور وہ ویتنام کی جنگ میں بھی شریک ہوا تھا‘ اس نے ویتنام کو صحت کے شعبے میں آٹھ بلین ڈالر امداد دی‘ بل گیٹس اور وارن بفٹ نے 2010ء میں دی گیونگ پلیج  کی تحریک شروع کی‘ یہ لوگ اس تحریک کے ذریعے دنیا کے امیر ترین لوگوں‘ صنعت کاروں‘ تاجروں‘ سرمایہ کاروں اور ارب پتی شہزادوں سے وعدہ لیتے ہیں یہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنی دولت کا بڑا حصہ انسانی فلاح کیلئے وقف کر دیں گے‘

یہ تحریک بل گیٹس اور وارن بفٹ نے شروع کی‘ بل گیٹس اپنی دولت کا 95فیصد جبکہ وارن بفٹ اپنی دولت کا 99فیصدغریبوں کیلئے وقف کر چکے ہیں اور یہ دونوں اس کے بعد ارب پتیوں کے پیچھے لگ گئے‘ یہ اب تک 22 ملکوں کے 187 ارب پتیوں سے دستخط اور وعدہ لے چکے ہیں‘ یہ لوگ اپنی کمائی کا نصف سے زائد حصہ فلاح انسانی کیلئے وقف کر جائیں گے‘ چک فینی بھی 2011ء میں دی گیونگ پلیج کا حصہ بن گیا اور یہ اپنی دولت کا خطیرحصہ وقف کر چکا ہے‘

وارن بفٹ اسے اپنا اور بل گیٹس کا ہیرو قرار دے چکا ہے‘ اس کا کہنا ہے ہم سب لوگ بتا کر اللہ کے نام پر خیرات کرتے رہے لیکن چک فینی نے اپنا سب کچھ انسانیت کیلئے وقف کر دیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی‘ یہ ہم سے بہت آگے‘ بہت بہتر ہے‘ چک فینی کا خود کہنا ہے ”میں نے زندگی میں بے شمار خیالات‘ بے شمار آئیڈیاز تبدیل کئے لیکن میرا ایک آئیڈیا مستقل تھا اور مستقل رہے گا اور وہ آئیڈیا اپنی دولت کو دوسرے لوگوں کی فلاح کیلئے خرچ کرنا ہے“

اس کا کہنا ہے‘ وہ لوگ بدنصیب ہوتے ہیں جو یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں ان کی دولت کسی شخص کا دکھ‘ کسی کا درد بھی کم کر سکتی ہے‘ اس کا کہنا ہے‘ لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں تمہاری نظر میں خوشی کیا ہے تو میں ان کو جواب دیتا ہوں‘ میں اگر کوئی کام کر رہا ہوں اور میرے اس کام سے دوسرے لوگوں کی مدد ہو رہی ہے‘ ان کی زندگی تبدیل ہو رہی ہے تو میں خود کو خوش اور خوش نصیب سمجھنے لگتا ہوں لیکن اگر میرے کام سے لوگوں کو کچھ حاصل نہیں ہو رہا‘

ان کی لائف میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہو رہا تو پھر میں اداس ہو جاتا ہوں چنانچہ لوگ میری خوشی ہیں اور اس کاکہنا ہے‘ دنیا کا ہر شخص اپنے اور اپنے خاندان کیلئے دولت کماتا ہے لیکن آپ اگر دوسروں کیلئے کما رہے ہیں‘ آپ اگر دوسروں کی مدد کر رہے ہیں تو یہ کمال ہو گا‘ آپ کو پھر اشرف المخلوقات کہلانے کا مزا آئے گا۔آپ دیکھئے دنیا میں ایک ایسا ارب پتی بھی موجود ہے جو دوسروں کیلئے کنجوسی کر رہا ہے‘ جو اس لئے فائیو سٹار ہوٹلوں اور کافی شاپس سے کھانا نہیں کھاتا کہ وہ دو تین ڈالر بچا سکے اور یہ ڈالرز بعد ازاں کسی ضرورت مند کے کام آ سکیں

اور جس نے ارب پتی ہونے کے باوجود آج تک گھر اور مہنگی گاڑی نہیں خریدی اور جو اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے‘ بسوں اور ٹرینوں میں دھکے کھاتا ہے اور گراسری کیلئے دو دو میل پیدل چلتا ہے اور یہ رقم بچا کر تیسری دنیا کے ان طالب علموں کے حوالے کر دیتا ہے جو صرف پیسے کی کمی سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے یا جو غربت کی وجہ سے دل‘ معدے اور ہڈیوں کا علاج نہیں کر پاتے اور جو بستر مرگ پر لیٹ کر اللہ کی مدد کا انتظار کرتے رہتے ہیں‘

یہ بھی کیا شخص ہے جو دو ڈالر کا برگر کھائے گا اور تیسرا ڈالر اس شخص کیلئے بچا لے گا جسے یہ جانتا ہے اور نہ یہ اسے جاننے کی خواہش رکھتا ہے‘ یہ پوری زندگی دو تین سے زیادہ سوٹ نہ خرید سکا تاکہ اس کی کمائی ہوئی رقم کسی بے بس کا تن ڈھانپ سکے‘ یہ کسی بیمار کی شفاء کا ذریعہ بن سکے‘ یہ بھی کیا کنجوس فرشتہ ہے‘ یہ اپنے بچوں کو بھوکا رکھ کر دوسرے کے بھوکے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے‘ یہ خود کرائے کے فلیٹ میں رہتا ہے لیکن دوسروں کے سروں پر علم کی چھت تان رہا ہے‘

کاش میں امریکا جا کر چک فینی کے ہاتھ چوم سکوں اور اس سے یہ کہہ سکوں‘دنیا میں اگر کوئی شخص جنت کا حق دار ہے تو وہ تم جیسے لوگ ہیں‘ وہ لوگ جو مصیبتوں کے اس گھر کو سکھی اور رہنے کے قابل بنا رہے ہیں‘ جو خود تنگدست رہ کر دوسروں پر زندگی کا دائرہ وسیع کر رہے ہیں‘ تم لوگ فرشتے ہو۔

The post کنجوس فرشتہ appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/20/542888

Friday, January 18, 2019

ڈونکی پراجیکٹ

ایلزبتھ ڈورین 1930ءمیں یارک شائر میں پیدا ہوئی‘ وہ جوانی میں محکمہ تعلیم سے وابستہ ہو ئی‘شادی کی‘ چار بچے پیدا کئے اورپڑھانا چھوڑ دیا‘ میاں بیوی نے ڈرائیر خریدا اور بچوں کے پیمپر دھونے اور خشک کرنے کا کام شروع کر دیا‘ یہ کاروبار چل نکلا لیکن یہ بہت جلد اس سے اکتا گئے‘ ڈرائیر بیچا اور رقم سے چھوٹا سا ہوٹل خرید لیا‘ یہ کاروبار بھی چل نکلا لیکن ہوٹل چلاتے چلاتے میاں بیوی میں اختلافات پیدا ہوئے اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی‘ ایلزبتھ اس زمانے میں بدترین جذباتی دور سے گزر رہی تھی‘ وہ شدید ٹینشن میں تھی‘

وہ خریداری کےلئے مارکیٹ گئی‘ راستے میں اسے ایک زخمی گدھا نظر آیا‘ گدھے کا مالک اسے زخمی حالت میں چھوڑ گیا تھا اور وہ بری طرح کراہ رہا تھا‘ ایلزبتھ کو گدھے پر ترس آیا‘ وہ اسے اپنے گھر لے آئی اور اس کا علاج معالجہ شروع کر دیا‘ گدھا صحت مند ہو گیا‘ اس گدھے نے ایلزبتھ ڈورین کی زندگی کا دھارا بدل دیا‘ اس نے باقی زندگی گدھوں کےلئے وقف کر دی‘ اس نے اس محسن گدھے کا نام ”ناٹی فیس“ رکھا اور دی ڈونکی سینچوری  کے نام سے گھر پر گدھوں کی سینچوری بنا لی ‘ وہ بیمار‘ زخمی اور بوڑھے گدھوں کو اپنے گھر لے آتی تھی اور ان کی خدمت کرتی تھی‘وہ 2011ءمیں انتقال تک ساڑھے چودہ ہزار گدھوں کی دیکھ بھال کر چکی تھی‘ برطانیہ نے اس کی خدمات کے اعتراف میں اسے موسٹ ایکسلینٹ آرڈر آف دی برٹش ایمپائر (ایم بی ای) ایوارڈ دیا‘ یہ اعزاز کسی اہم شعبے میں اعلیٰ ترین خدمات سرانجام دینے پر دیا جاتا ہے‘ ایلزبتھ کے انتقال کے بعد اس کا ادارہ این جی او میں تبدیل ہوگیا اور اس این جی او نے پوری دنیا میں گدھوں کی نگہداشت اور ان کے حقوق پر کام شروع کر دیا‘ گدھوں کی این جی او کا دائرہ اس وقت پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے‘ اس میں پانچ سو ملازمین ہیں ‘ یہ ملازمین پوری دنیا میں گدھوں کی خدمت کر رہے ہیں‘صرف ایتھوپیا میں 20 لاکھ گدھوں کو طبی امداد دی گئی‘ ایلزبتھ کی این جی او 2020ءتک اپنی خدمت کا دائرہ پوری دنیا تک پھیلانا چاہتی ہے‘ یہ لوگ سات براعظموں کے 245 ملکوں میں گدھوں کے ہسپتال بنانا چاہتے ہیں۔

ایلزبتھ ڈورین دنیا میں نہیں رہی ورنہ وہ آج پاکستان کا دورہ بھی کرتی اور پاکستان کی ترقی پر فخر بھی کرتی‘ کیوں؟ کیونکہ ایلزبتھ کے بعد ہم پاکستانی دنیا میں گدھوں کے سب سے بڑے محسن ہیں‘ پاکستان ماشاءاللہ اس سال گدھوں میں دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا‘ ایتھوپیا میں اس وقت 74 لاکھ 28 ہزار 73 گدھے ہیں‘ یہ اس لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے‘ چین میں 60 لاکھ 33 ہزار 500 گدھے ہیں اور یہ خر پروری میں دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان میں اس وقت 53 لاکھ گدھے ہیں اور یوں یہ گدھوں میں دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے‘

پاکستان میں ایک سال میں گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ اضافہ ہوا‘ ہمارے پاس پچھلے سال 52 لاکھ گدھے تھے اور یہ اب 53 لاکھ ہو گئے ہیں‘ پنجاب میں باقی صوبوں کے مقابلے میں گدھوں کی تعداد زیادہ ہے‘ ملک کے41فیصد گدھے پنجاب میں رہتے ہیں‘ صرف لاہور شہر میں 45 ہزار گدھے ہیں اور یہ اس لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر آتا ہے‘ پاکستان میں گدھوں کی تعداد میں اضافے کا سارا کریڈٹ پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو جاتا ہے‘

وزیراعلیٰ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد گدھوں میں خصوصی دلچسپی لی جس کی وجہ سے پنجاب میں گدھوں کے ہسپتال بھی بنے اور ان کی نگہداشت کےلئے خصوصی پیکج کا بندوبست بھی کیا گیا‘ مثلاً پنجاب ملک کا واحد صوبہ ہے جس میں گدھوں کا علاج مفت ہوتا ہے‘ ڈاکٹرز گھروں میں جا کر گدھوں کو بیماریوں سے بچاﺅ کے ٹیکے بھی لگاتے ہیں‘ مجھے پچھلے دنوں محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے ایک ڈونکی اسپیشلسٹ کی ہدایات پڑھنے کا اتفاق ہوا‘

اسپیشلسٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے تمام گدھا پال حضرات کو مشورہ دیا آپ گدھیوں کو چاندنی سے بچانے کےلئے حمل کے نویں اور دسویں مہینے میں خصوصی ٹیکے ضرور لگوا لیا کریں‘ تشنج کی بیماری زخموں کے ذریعے گدھوں میں داخل ہوتی ہے چنانچہ گدھے اگر زخمی ہو جائیں تو آپ فوری طور پر ان کی مرہم پٹی کرائیں‘ ایکسپرٹ نے یہ انکشاف بھی کیا حکومت نے نہ صرف سرکاری سطح پر گدھوں کے کراس کا بندوبست کر رکھا ہے بلکہ حکومت ”ڈونکی بریڈرز“ کو نو کلو ونڈا اور ایک کلو منرل مکسچر بھی مفت دیتی ہے‘

ایکسپرٹ نے مشورہ دیا گدھے پالنے والے حضرات جانوروں کو چنے اور جو بھی کھلائیں اور ان کی کھرلی میں نمک کا ڈھیلا بھی رکھ دیا کریں تاکہ گدھوں کا ہاضمہ ٹھیک رہے‘ یہ بھی بتایاگیا گدھوں کو ہمیشہ دانے سے پہلے پانی پلانا ضروری ہے‘ یہ بیمار نہیں ہوں گے‘ پنجاب حکومت کی طرف سے گدھوں پر خصوصی توجہ سے گدھوں کے کیئرٹیکر بہت خوش ہیں‘ یہ کہتے ہیں گدھا اللہ تعالیٰ کی شاندار معاشی تخلیق ہے‘ پاکستان میں ایک اچھا صحت مند گدھا 35 سے 55 ہزار روپے میں مل جاتا ہے

اور یہ مالک کو بارہ سال تک روزانہ ہزار روپے کما کر دیتا ہے‘ گدھوں کے کیئر ٹیکر دنیا میں تیسرے نمبر پر آنے پر بھی بہت خوش ہیں‘ یہ چاہتے ہیں حکومت قومی سطح پر اس کامیابی کا جشن بھی منائے اور اگلے سال کا ٹارگٹ بھی طے کرے‘ پاکستانی گدھوں میں بے تحاشہ پوٹینشل ہے‘ یہ حکومت کی تھوڑی سی حوصلہ افزائی سے ملک کو گدھوں کی صنعت میں پہلے نمبر پر لے آئیں گے‘پاکستانی گدھے بڑی آسانی سے چین اور ایتھوپیا کوشکست بھی دے دیں گے اور گدھوں کی صنعت میں پوری دنیا کی ضروریات بھی پوری کردیں گے‘

مالکان چاہتے ہیں پاکستان دنیا میں گدھوں کی پہلی سٹاک ایکسچینج بھی بنائے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اس کا چیئرمین اور اسد عمر کو وائس چیئرمین بنا دے اور مارکیٹنگ کی ذمہ داری عبدالرزاق داﺅد کی کمپنی ڈیسکون کو سونپ دے‘ ہمارے گدھے اپنے ٹیلنٹ سے پوری دنیا کو حیران کر دیں گے۔میں اس تجویز سے اتفاق کرتا ہوں‘ پاکستان میں گدھوں کی صنعت میں واقعی بہت پوٹینشل ہے‘ آپ ملاحظہ کیجئے وزیراعلیٰ پنجاب نے معمولی سی توجہ دی اور ہم پانچ ماہ میں دنیا میں تیسرے نمبر پر آ گئے‘

مجھے یقین ہے ہمارے وزیراعلیٰ اگر اسی لگن‘ محنت اور اخلاص سے کام کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب ہم گدھوں میں پوری دنیا کو لیڈ کریں گے اور امریکا‘ روس‘ یورپین یونین اور چین جیسے ملک ہماری مثال دیا کریں گے‘ یہ پانچ پانچ سو گدھوں کے ساتھ ہمارے وزیراعظم کا استقبال کریں گے‘ یہ ہمارے صدر کو ہزار گدھوں کی سلامی بھی پیش کریں گے اور ہم گدھوں کی تجارت میں پوری دنیا پر اجارہ داری بھی قائم کر لیں گے تاہم ہمیں یہ ٹارگٹ اچیو کرنے کےلئے چند بڑے اقدامات کرنا ہوں گے‘

میری درخواست ہے وزیراعظم مہربانی فرما کر مرغیوں‘ انڈوں اور کٹوں کی فہرست منسوخ کر کے عوام میں صرف اور صرف گدھے تقسیم کرنا شروع کر دیں‘حکومت ملک کے ہر بےروزگار نوجوان اور تنگدست خاندان کو ایک ایک گدھا اور آدھا ٹرک پھک دے دے اور پھر ملکی معیشت کو ٹیک آف کرتے دیکھے اور خوشی سے بغلیں بجائے‘ میری حکومت سے درخواست ہے آپ کو گدھوں کی افزائش اور نگہداشت کو اپنی ترجیحات کی فہرست میں جگہ دینی چاہیے‘

آپ اگر ملک میں گدھوں کی سٹاک ایکسچینج بھی قائم کردیں‘ ان کےلئے ٹیلی ویژن چینل بھی بنادیں‘ گوادر میں ان کےلئے خصوصی پورٹ بھی بنوادیں‘انہیں سی پیک میں بھی حصہ دے دیں‘ ان کے ہوائی اڈے بھی تخلیق کردیں‘ ان کےلئے الگ بینکس‘ ڈیمز‘ ہسپتال‘ موٹرویز‘ میٹروز‘ شاپنگ سنٹرز‘ پبلک ٹوائلٹس‘ پارکنگ لاٹس‘ پٹرول پمپس (پھک پمپس)‘ سروس ایریاز‘ چراہ گاہیں‘ خصوصی عدالتیں‘ خصوصی پولیس اور آپ اگر ان کی حفاظت کےلئے چھوٹی سی فوج بھی بنا دیں تو پھرکمال ہو جائے گا‘

آپ دیکھیں گے ہمارے گدھے کتنی جلدی اقوام عالم میں خصوصی مقام حاصل کرتے ہیں‘ دنیا کی کوئی طاقت پھر ہمیں ترقی کرنے سے نہیں روک سکے گی‘ میری وزیراعظم سے درخواست ہے آپ چند لمحوں کےلئے گدھوں کے پوٹینشل پر غور کریں‘ آپ کو یقین آ جائے گا تاریخ میں آج تک کسی شخص نے طاقت اور معیشت کے اس عظیم خزانے پر توجہ نہیں دی‘ آپ 20 ہزار روپے میں گدھے کا بچہ خریدیں‘ یہ معمولی سی پھک کے ساتھ ایک سال میں جوان ہو جاتا ہے اور یہ اس کے بعد بارہ سے چودہ سال تک مالک کو ہزار روپے کما کر دیتا ہے‘

یہ رقم 30 ہزار روپے ماہانہ اور 3لاکھ 60 ہزار روپے سالانہ بنتی ہے اور ملک میں یہ معاوضہ ایم بی اے کرنے کے بعد بھی کسی نوجوان کو نہیں ملتا‘ وزیراعظم ذرا تصور کریں‘ 20 کروڑ لوگ اور 20 کروڑ ہی گدھے‘ ملک کا ہر شہری روزانہ ہزار روپے کمائے تو یہ کتنی رقم بن جائے گی؟یہ دو کھرب روپے بنیں گے‘ ہم اگر ان دو کھرب روپے کو 30 سے ضرب دیں تو یہ 60 کھرب اور اگر سال سے ضرب دیں تویہ 720کھرب روپے بن جائیں گے‘

آپ سوچئے ہم کتنی آسانی سے پاکستان کے 71 سال کے قرضے اتارنے کے قابل بھی ہو سکتے ہیں اور دنیا کے 40 ملکوں کو سستے قرضے بھی دے سکتے ہیں‘ مجھے یقین ہے ہم اگر تھوڑی سی کوشش کریں تو ہم گدھوں کے ذریعے اپنا آئی ایم ایف تک بناسکتے ہیں۔مجھے اچھی طرح یاد ہے وزیراعظم نے الیکشن سے پہلے قوم سے وعدہ کیا تھا یہ قوم کو وہاں لے آئیں گے جہاں یہ ملک قرضے نہیں لے گا‘ یہ دنیا کو قرضے دے گا اور اللہ کو جان دینی ہے مجھے اس وقت اس ملک میں گدھوں کی انڈسٹری کے علاوہ کسی صنعت‘ کسی شعبے میںاتنی جان نظر نہیں آ تی‘ قوم اب صرف گدھوں کے ذریعے ہی وزیراعظم کا خواب پورا کر سکتی ہے

چنانچہ میری درخواست ہے حکومت فوری طور پر ڈونکی پراجیکٹ لانچ کر دے کیونکہ مجھے خطرہ ہے اگر اس کی بھنک ڈونلڈ ٹرمپ کو پڑگئی تو یہ گدھوں میں ہم سے آگے نکل جائیں گے‘ پوری دنیا میں اس وقت صرف یہ ہمارا مقابلہ کر سکتے ہیں‘ ہم الحمد للہ باقی پوری دنیا سے بہت آگے ہیں چنانچہ وزیراعظم بسم اللہ کریں‘ یہ قدم بڑھائیں‘پوری قوم گدھوں سمیت ان کا ساتھ دے گی‘ یہ بس ایک بار‘ بس ایک بار گدھوں پر اعتماد کر کے دیکھیں‘ گدھے ان کو شرمندہ نہیں ہونے دیںگے‘ یہ اسد عمر اور عثمان بزدار سے بہتر پرفارم کریں گے‘ گدھے ملک کو تیسرے نمبر پر لے آئے ہیں‘ یہ بڑی آسانی سے پاکستان کو نمبرون بنا دیں گے۔

The post ڈونکی پراجیکٹ appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/18/542258

Thursday, January 17, 2019

وزیراعظم دس منٹ دے دیں

سپریم کورٹ نے 31 اکتوبر 2018ءکو آسیہ بی بی کو باعزت بری کردیا اوریکم نومبرکو پورے ملک میں ہنگامے شروع ہو گئے‘ سڑکیں‘ شہر‘ سکول اور مارکیٹیں ہر چیز بند ہو گئی‘ مظاہرین نے موٹروے پر بھی قبضہ کر لیا‘ سینکڑوں گاڑیاں‘ املاک اور عمارتیں توڑ دی گئیں‘ جلا دی گئیں یا تباہ کر دی گئیں‘ ہم نے جی بھر کر عام لوگوں‘ سرکاری پراپرٹی اور سرکاری عمارتوں سے توہین رسالت کا بدلہ لیا‘ ہنگاموں کے دوران 60 سکھ یاتری بھی موٹروے پر پھنس گئے‘ یہ سکھیکی کے قریب تھے‘

موٹروے پولیس انہیں فوراً سکھیکی ریسٹ ایریا میں لے گئی اور ان کی حفاظت کےلئے کمانڈوز تعینات کر دیئے‘ یہ لوگ پاکستان کے مہمان تھے‘ یاترا کےلئے ننکانہ صاحب اور پنجہ صاحب آئے تھے‘یہ موٹروے کے ذریعے لاہور جا رہے تھے کہ اچانک موٹروے میدان جنگ بن گیا جس کے بعد یاتری اسلام آباد لے جائے جا سکتے تھے‘ لاہور اور نہ ہی انہیں واپس ننکانہ صاحب پہنچایا جا سکتا تھا‘ پولیس کے پاس انہیں بچانے اور نکالنے کا صرف ایک طریقہ تھا اور وہ طریقہ تھا ہیلی کاپٹر‘موٹروے پولیس ہیلی کاپٹر کےلئے آدھا دن کوشش کرتی رہی مگر کوئی سنوائی نہ ہوئی یہاں تک کہ آئی جی کو ہیلی کاپٹر کےلئے وزیراعظم تک جانا پڑا‘ وزیراعظم نے ڈائریکٹ آرڈر دیا‘ فوج کی قیادت نے اجازت دی اور یوں وہ 60 یاتری بحفاظت موٹروے سے نکالے گئے‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے اگر آئی جی موٹروے وزیراعظم تک نہ جاتے اور اگر وزیراعظم خود دلچسپی نہ لیتے تو ان یاتریوں کا کیا بنتااور اگر خدانخواستہ ان پر حملہ ہو جاتا اور کسی ایک یاتری کی جان چلی جاتی تو کیا ہوتا؟ بھارت کے ہاتھ ایک اور بہانہ آ جاتا اور یہ دنیا بھر میں دل کھول کر پاکستان کو بدنام کرتا‘ یہاں سوچنے کی ایک اور بات بھی ہے‘ پاکستان کی سب سے اچھی پولیس فورس کے پاس یاتریوں کو بچانے اور نکالنے کےلئے فورس بھی نہیں اور ہیلی کاپٹر بھی نہیں اور یہ اس لحاظ سے دنیا کی کمزورترین موٹروے پولیس ہو گی اور کیا یہ ہم جیسی نیوکلیئر پاور کے منہ پر تھپڑ نہیں؟۔

ہماری موجودہ حکومت شاید فوری طور پر ملک کے تمام بڑے مسائل حل نہ کر سکے لیکن یہ معمولی سی توجہ دے کر ہائی ویز اور موٹرویز کے مسائل ضرور حل کر سکتی ہے اور یہ اس ملک کی بہت بڑی خدمت ہو گی‘ پاکستان دنیا میں ٹریفک حادثوں میں بدترین ممالک میں شمارہوتا ہے‘ ہمارے ملک میں ہر سال اوسطاً 30 ہزارلوگ سڑکوں پر حادثوں کی نذر ہو جاتے ہیں‘ ہم دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہیں جو آج تک ملک میں ہیلمٹ کو لازمی قرار دے سکے‘

ڈرائیونگ لائسنس ‘ گاڑی کی مینٹیننس اور جو نہ ہی پورے ملک کےلئے ایک نمبر پلیٹ کاقانون بنا سکے چنانچہ ہم ٹریفک اور ٹریفک پولیس دونوں شعبوں میں بدترین ہیں‘ حکومت نے 1997ءمیں لاہور سے اسلام آباد چارسو کلو میٹر کےلئے موٹروے پولیس بنائی تھی‘ یہ چار سو کلو میٹر پھیل کر پانچ ہزار چار کلو میٹر ہو چکے ہیں لیکن موٹروے پولیس کے اہلکار اور وسائل آج بھی 1997ءپر کھڑے ہیں‘ ان کے پاس گاڑیاں تک نہیں ہیں اور جتنی ہیں ان کےلئے پٹرول نہیں‘

آپ المیہ دیکھئے فائربریگیڈ اور حادثے کی شکار گاڑیاں اٹھانے کےلئے لفٹر ایف ڈبلیو او کے پاس ہیں‘ موٹروے پولیس حادثے کے بعد فائر بریگیڈ اور لفٹر کےلئے ایف ڈبلیو او سے رابطہ کرتی رہ جاتی ہے اور اس دوران گاڑی اور مسافر دونوں جل کر مر جاتے ہیںاور آئی جی کو یاتری نکالنے کےلئے بھی وزیراعظم سے رابطہ کرنا پڑتا ہے چنانچہ میری وزیراعظم سے درخواست ہے آپ نے ملک کے مختلف شعبوں کی اصلاح کےلئے بے شمار ٹاسک فورسز بنائی ہیں‘ آپ ایک ٹاسک فورس ڈرائیونگ‘ ٹریفک اور ہائی وے پولیس کےلئے بھی بنا دیں‘ آپ کی معمولی سی توجہ سے ہزاروں لوگوں کی جان بچ جائے گی۔

میں حکومت کو چند تجاویز دینا چاہتا ہوں‘ میرا خیال ہے یہ تجاویز زیادہ مہنگی نہیں ہیں‘ ہمیں ان پر عمل کےلئے پیسہ کم اور توجہ زیادہ چاہیے اور ٹریفک کے مسائل ہمیشہ ہمیشہ کےلئے حل ہو جائیں گے‘ حکومت قانون بنا دے موٹر سائیکل بنانے اور بیچنے والی تمام کمپنیاں موٹر سائیکل کے ساتھ دو ہیلمٹ دیں گی‘ موٹر سائیکل کے ساتھ ہیلمٹ کو لاک کرنے کےلئے ہک اورتالا بھی ضرور ہوگا اور یہ لاک موٹر سائیکل کی چابی سے کھلے گا‘ آپ اس کے بعد پورے ملک کےلئے ہیلمٹ لازمی قرار دے دیں

اور اگر فیصل واوڈایا گورنر عمران اسماعیل بھی ہیلمٹ کے بغیر موٹر سائیکل چلاتے نظر آئیں تو انہیں بھی جرمانہ ہو اور یہ جرمانہ موٹر سائیکل اور سوار دونوں کی ویلیو کے مطابق ہو‘ملک میں آج تک ہیلمٹ کے قانون پر اس لئے بھی عمل نہیں ہو سکا کہ موٹر سائیکل پر ہیلمٹ کو لاک کرنے کا سسٹم موجود نہیں‘ آپ لاک لگوا دیں ہیلمٹ کی پابندی شروع ہو جائے گی‘ حکومت پورے ملک کےلئے نمبر پلیٹ ایک کر دے‘ یہ اگر فوری طور پر ممکن نہ ہو تو آپ نادرا کے ذریعے ملک میں موجود تمام گاڑیوں کےلئے بارکوڈ بنوادیں اور یہ بارکوڈز ونڈ سکرین اور نمبر پلیٹ دونوں پر لگوا دیں‘

بارکوڈ میں گاڑی اور مالک کی تمام تفصیلات موجود ہوں اور پولیس اپنے موبائل فون اور کیمروں کے ذریعے یہ بارکوڈز پڑھ سکے‘ نادرا یہ کام بڑی آسانی سے کر سکتا ہے‘ ملک میں موٹروے اور ٹریفک پولیس کی کمی ہے‘ حکومت عدلیہ کے ساتھ مل کر ٹریفک مینجمنٹ کو چھوٹے جرائم کی سزا میں شامل کرادے اوریوں عدلیہ یورپ کی طرح معمولی جرائم میں محبوس نوجوانوں کو دو تین مہینے کےلئے موٹروے یا ٹریفک پولیس کے حوالے کر دے اور پولیس انہیں ٹرینی جیکٹ پہنا کر ٹریفک مینجمنٹ پر لگا دے‘

اس سے جیلوں اور حوالات پر بھی دباﺅ کم ہو جائے گا اور ٹریفک پولیس کو نفری بھی مل جائے گی‘ پاکستان میں آج اڑھائی کروڑ گاڑیاں ہیں جبکہ لائسنس پچاس لاکھ سے زیادہ نہیں ہیں‘ گویا دو کروڑ گاڑیاں ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر سڑکوں پر ہیں‘ یہ گاڑیاں چلتی پھرتی خودکش بمبار ہیں‘ حکومت اگرڈرائیونگ لائسنس کو کالج‘ نوکری (پرائیویٹ یا سرکاری)‘ جائیداد کی خریدو فروخت‘ اکاﺅنٹس اور پاسپورٹ کےلئے لازمی قرار دے دے اور ڈرائیونگ لائسنس کےلئے ڈرائیونگ سکول کی شرط رکھ دے تو ملک کے زیادہ تر لوگ لائسنس ہولڈر ہو جائیں گے‘یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور حکومت کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا‘

ملک میں اسی طرح جہاں جہاں شناختی کارڈ کی ضرورت پڑتی ہے وہاں ڈرائیونگ لائسنس کا نمبر بھی لکھا جائے یوں بھی لائسنس ضروری ہوتا چلا جائے گا‘ حکومت ڈرائیونگ لائسنس کےلئے نادرا جیسی نیشنل لائسنس اتھارٹی بھی بنا دے‘ ملک کے تمام ڈرائیونگ لائسنس یہ اتھارٹی جاری کرے‘ یورپ میں ہر گاڑی میں کراس یا روڈ کون‘ چمکدار جیکٹ‘ ٹارچ اور آگ بجھانے والا سلنڈر لازمی ہوتا ہے‘ یہ تمام اشیاءکار کٹ کہلاتی ہیں‘ گاڑی جہاں بھی خراب ہوتی ہے‘ ڈرائیور فوری طور پر چمکدار پیلی جیکٹ پہن لیتا ہے‘

گاڑی سے دس گز کے فاصلے پر روڈ کون یا کراس رکھ دیتا ہے اور اگر رات ہو تو کون کے ساتھ ٹارچ رکھ دیتا ہے‘ پوری دنیا میں اس وقت فرانس کے یلو جیکٹ مظاہروں کے چرچے ہیں‘ لوگوں نے یہ یلو جیکٹ اپنی گاڑیوں سے نکال کر پہنی تھی اور یوں یہ یلو جیکٹ انقلاب بن گیا‘ ہم بھی کار کٹ لازمی قرار دے دیں‘ ملک میں کوئی گاڑی کارکٹ کے بغیر سڑک پر نہ آ سکے اور اگر آ جائے تو ٹریفک پولیس اسے کم از کم دس ہزار روپے جرمانہ کرے‘ پانچ ہزار ٹریفک پولیس کے کھاتے میں چلے جائیں اور پانچ ہزار کی کٹ لے کر ڈرائیور کو دے دی جائے‘

حکومت کٹ کو کریم‘ اوبر اور میٹرو ٹیکسی کےلئے فوراً لازمی قرار دے دے‘ یہ کمپنیاں ایک ماہ کے اندر اندر یہ کٹ اپنی گاڑیوں میں رکھوا دیں‘ آپ اسی طرح موٹروے اور ہائی وے کے تمام پٹرول پمپس ‘ ریستورانوں اور شاپنگ سنٹروں میں روڈ سیفٹی کارنر بنوادیں اور وہاں کارکٹ اور روڈ سیفٹی کے بروشرز رکھوا دیں‘ لوگ دیکھ دیکھ کر بھی آلات خریدنا شروع کر دیں گے‘ حکومت اسی طرح روڈ سیفٹی کا کورس اور ڈرائیونگ لائسنس یہ دونوں انٹر میڈیٹ کے رزلٹ کے ساتھ نتھی کر دے‘

پاکستان کے تمام تعلیمی بورڈ ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ایف اے اور ایف ایس سی کی سند جاری نہ کریں‘ حکومت کالجوں میں ڈرائیونگ کی تربیت اور لائسنس دونوں کے یونٹس بھی کھلوا دے یوں لائسنس اتھارٹی پر بھی بوجھ کم ہو جائے گا اور لائسنس بھی بن جائیں گے‘ موٹروے پر سفر کےلئے موٹروے ریڈیو بھی لازمی کر دیا جائے‘ یورپ میں جب بھی ہائی وے کے بارے میں کوئی وارننگ آتی ہے تو گاڑیوں کا ریڈیو آٹو میٹک آن ہو جاتا ہے اور وارننگ کے بعد بند ہو جاتا ہے‘

یہ بندوبست اب کوئی راکٹ سائنس نہیں‘ حکومت شروع میں یہ موٹروے پر کرے اور پھر اس کا دائرہ ملک کی تمام سڑکوں تک پھیلا دے‘اس سے ٹریفک کا بہاﺅ بھی ٹھیک ہو جائے گا اور لوگوں کو بے وقت حادثوں‘ سڑک کی بندش اور ٹریفک کے پریشر کا بھی بروقت پتہ چل جائے گا اور آخری درخواست حکومت کم از کم موٹروے پر فائربریگیڈ‘ ایمبولینس اور کارلفٹر کو اکٹھا کر دے‘ یہ تینوں یونٹ موٹروے کے پاس ہونے چاہئیں اور یہ ایک کال پر موو ہو جانے چاہئیں‘ وزیراعظم کسی دن فائربریگیڈز کا معائنہ کرا کے دیکھ لیں‘

پاکستان کی زیادہ تر فائر بریگیڈز گاڑیوں میں پانی نہیں ہوتا‘کیوں؟ کیونکہ پانی کے لوڈ سے گاڑیوں کے ٹائر خراب ہو جاتے ہیں اور یہ لوگ ٹائر بچانے کےلئے ان میں ہوا بھی کم کر دیتے ہیں اور انہیں خالی بھی رکھتے ہیں چنانچہ جوں ہی حادثے کی اطلاع ملتی ہے یہ لوگ ٹائروں میں ہوا پوری کرنے اور گاڑی میں پانی بھرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور یوں آدھا گھنٹہ ضائع ہو جاتا ہے‘ یورپ میں فائربریگیڈ کی گاڑیاں ہر وقت پانی سے فل رہتی ہیں تاہم یہ لوگ ٹائروں کو بچانے کےلئے گاڑیوں کے نیچے جیک لگا دیتے ہیں‘

یہ جیک حادثے کی کال کے بعد ہٹا دیئے جاتے ہیںاور گاڑیاں موو کر جاتی ہیں۔قوم جانتی ہے حکومت اس وقت بڑے بڑے مسائل میں الجھی ہوئی ہے‘ بڑے مسائل کے اس انبار میں ٹریفک ایک چھوٹاایشو ہے لیکن یہ چھوٹا ایشو ہر سال 30 ہزار لوگوں کی جان لے جاتا ہے‘ میری حکومت سے درخواست ہے یہ اگر اس ایشو کو روزانہ دس منٹ دے تو یہ ایشو ایک ماہ میں ختم ہو جائے گا‘ ہزاروں جانیں بچ جائیں گی اور ہر جان وزیراعظم اور نئے پاکستان کو دعائیں دے گی۔

The post وزیراعظم دس منٹ دے دیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/17/542012

Tuesday, January 15, 2019

آندھی میں اخبار کا کاغذ

ہم واپس 2014ءمیں جاتے ہیں‘ عمران خان دس لاکھ لوگوں اور ایک لاکھ موٹر سائیکلوں کے ساتھ اسلام آباد تشریف لائے اور تاریخ کا طویل ترین دھرنا دے دیا‘ میں اس وقت اس دھرنے کے خلاف تھا‘اس گستاخی سے پہلے میرے عمران خان کے ساتھ آئیڈیل تعلقات تھے‘ میں نے 1996ءمیں ان کی پہلی پریس کانفرنس سے لے کر2014ءتک ان کا بھرپور ساتھ دیا‘ یہ مجھ سے ستارہ مارکیٹ میں اپنے کارکنوں کو لیکچر بھی دلاتے تھے اور میں بازار روڈ پر بھی ان کے دفتر جاتا رہتا تھا‘

جنرل مجیب الرحمن اس وقت ان کے جنرل سیکرٹری اور اکبر ایس بابرسنٹرل وائس پریذیڈنٹ تھے لیکن عمران خان نے جب اسلام آباد پر یلغار کی تو میں نے ان کے طرز عمل کی مخالفت کی‘ اس مخالفت کی دو وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ‘ میں یلغار کی پوری بیک گراﺅنڈ سے واقف تھا‘ میں جانتا تھا اس کا مقصد حکومت تبدیل کرنا نہیں‘ حکومت کو دباﺅ میں لانا اور اس دباﺅ کے ذریعے حکومت سے کچھ حاصل کرنا ہے اور دوسری وجہ‘ یہ ملک دھرنے جیسے ٹرینڈز افورڈ نہیں کر سکتا‘ پاکستان پولرائزیشن کا شکار ملک ہے‘ یہاں تگڑے مذہبی گروپس بھی ہیں‘ مافیاز بھی‘ نسلی اور لسانی گروہ بھی اور باہر کی طاقتیں بھی‘ مجھے خطرہ تھا عمران خان کا دھرنا ریاست کی کمزوری پوری دنیا کے سامنے کھول دے گا اور یوں ملک کی چولیں ہل جائیں گی‘ یہ دونوں نقطے بعد ازاں سچ ثابت ہوئے‘ عمران خان کے دھرنے سے حکومت نہیں گری اور ریاست کی کمزوریاں بھی پوری دنیا کے سامنے آ گئیں‘ آپ علامہ خادم حسین رضوی کے دونوں دھرنوں کا تجزیہ کر لیجئے‘ آپ کو میرا نقطہ سمجھ آ جائے گا‘ میں 2014ءکے بعد مسلسل عرض کرتا رہا ہم نواز شریف کو نکال کر غلطی کر رہے ہیں‘ ملک کو اس کا نقصان ہو گا‘ میں یہ بھی کہتا رہا ہم نواز شریف کا احتساب نہیں کرنا چاہتے ‘ ہم بس ان کی انا اور عزت نفس پامال کرنا چاہتے ہیں‘ میرے یہ خدشات بھی درست نکلے‘ ہم نے نواز شریف کو نکالا اور ملک نے ڈھلوان کی طرف لڑھکنا شروع کر دیا‘ ہم احتساب میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے‘

احتساب اگر کسی شخص کو ڈیڑھ دو ماہ کےلئے جیل میں ڈالنا ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں ہم کامیاب ہیں لیکن اگر مال مسروقہ برآمد کرنا بھی احتساب میں شامل ہے تو پھر ہم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں‘ ہم نے ایون فیلڈ میں نواز شریف کو سزا دی‘ ہائی کورٹ نے نیب کورٹ کے فیصلے کو کمزور ڈکلیئر کر کے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا‘ شریف فیملی کے تینوں فلیٹس آج بھی ان کی ملکیت ہیں‘ یہ ہمیں کبھی نہیں ملیں گے‘ ہم نے العزیزیہ ملز میں بھی انہیں سزا دی‘ یہ فیصلہ بھی کمزور ہے‘

میاں نواز شریف جلد یا بدیر اس سے بھی نکل جائیں گے چنانچہ پھر ہم نے کیا کمایا‘ کیا حاصل کیا؟ میں بار بار یہ بھی عرض کرتا تھا عمران خان کا موقف اور نیت ٹھیک ہے لیکن ان کا طریقہ کاراور ٹیم دونوں اچھے نہیں‘یہ اپروچ اور یہ ٹیم ملک نہیں چلا سکے گی‘ میری یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی چنانچہ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے پانچ ماہ نے عوام سمیت ہارون الرشید اور حسن نثار جیسے صحافیوں کے چھکے بھی چھڑا دیئے‘ آج ملک کے اندر اور باہر پاکستان تحریک انصاف کے نوے فیصدچاہنے والے پریشانی میں دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں‘

میں انہیں تسلی دیتا ہوں لیکن یہ میری تسلی کو طنز سمجھتے ہیں چنانچہ میں ایک عجیب کنفیوژن‘ ایک عجیب المیے کا شکار ہوگیا ہوں‘ میں عمران خان کی مخالفت کرتا تھا مجھے اس وقت بھی گالی پڑتی تھی اور میں آج ان کی حمایت کرتا ہوں تو بھی لوگ مجھے گالی دیتے ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں؟۔آپ یقین کیجئے ہم نے نواز شریف کو نکال کر غلطی کی تھی‘ ہم نے اگراب عمران خان کو کام نہ کرنے دیا تو ہم پہلی سے زیادہ بڑی غلطی کریں گے‘

ہمیں مان لینا چاہیے ہم نانی کی شادی کر چکے ہیں‘ ہمیں اب اسے طلاق دلانے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے‘ ہمیں اب حکومت کو سپورٹ کرناچاہیے‘ملک کے دو اڑھائی سال مشکل ہیں لیکن پھر ملک ٹریک پر آ جائے گا‘ یہ لوگ ملک کو ٹھیک کر لیں گے‘ مجھے یقین ہے آپ کو میری بات پر یقین نہیںآئے گا لیکن میں آپ کو اس آبزرویشن کی فلاسفی سمجھاتا ہوں‘ ملکوں کی ترقی کے دو طریقے ہوتے ہیں‘ ہم پہلے طریقے کو نواز شریف میتھڈ کہہ سکتے ہیں‘ یہ میتھڈ امداد‘ قرضوں اور سپورٹ پر بیس کرتا ہے‘

ملک دھڑا دھڑ قرضے‘ امداد اور بڑی قوموں کی سپورٹ لیتے ہیں‘سڑکیں‘ پل‘ ڈیم‘ ائیرپورٹس اور بندرگاہیں بناتے ہیں اور بجلی اور گیس پوری کرتے ہیں‘ ملک میں صنعتکاروں اور تاجروں کی نئی کلاسز پیدا کرتے ہیں اور ملک ترقی کی دوڑ میں شریک ہو جاتے ہیں‘ یہ بعد ازاں کما کر اپنے قرضے بھی اتار دیتے ہیں‘ لاطینی امریکا ہو‘ آدھا یورپ ہو‘ مشرق بعید کے ترقی یافتہ ملک ہوں یا پھر سنٹرل ایشیا ہو آدھی دنیا نے اس طریقے سے ترقی کی‘ نواز شریف بھی یہ کر رہے تھے‘

یہ مانگ تانگ کر ملک کو ٹریک پر لا رہے تھے لیکن ہمیں یہ طریقہ پسند نہ آیا اور ہم نے انہیں بھی نکال دیا اور ان کے طریقے کو بھی‘ دوسرا طریقہ عمران خان میتھڈ ہے‘ بھارت اور چین سمیت دنیا کے بے شمار ملکوں نے غربت‘ افلاس‘ افراط زر‘ بیماری اور بے ہنگم آبادی کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا‘ یہ بھی غریبی میں ہنر اور نام پیدا کرتے کرتے بالآخر اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے‘ یہ بھی ترقی یافتہ کہلانے لگے‘ عمران خان میتھڈ کا دوسرا نام خود انحصاری ہے‘

یہ راستہ مشکل ضرور ہے‘ اس میں بے روزگاری‘ مہنگائی‘ بیماری‘ لوڈ شیڈنگ‘ افلاس‘ افراط زر اور قلت کے بے شمار کانٹے بھی آتے ہیں لیکن برازیل ہو‘ چلی ہو یا پھر اٹلی‘ جرمنی‘ چین اور بھارت ہوں دنیا کے بے شمار ملکوں نے اس کے ذریعے بھی ترقی کی‘ ہم نے بھی اب اس پر پاﺅں رکھ دیا ہے‘ ہمیں اب یہ پاﺅں واپس نہیں اٹھانا چاہیے‘ ہمارے لئے دو اڑھائی سال بہت مشکل ہوں گے‘ روپیہ مزید ڈی ویلیو ہو جائے گا‘یہ 180 روپے فی ڈالر تک پہنچ جائے گا‘ ٹیکس کولیکشن میں بھی کمی آئے گی‘

اشیاءخورونوش کی قلت بھی پیدا ہو گی‘ گیس اور بجلی کی خوفناک لوڈشیڈنگ بھی ہو گی اور ملک میں بے روزگاری کا سونامی بھی آئے گا لیکن ہم اگر یہ تکلیفیں سہہ گئے تو ملک بہت جلد ٹریک پر آ جائے گا‘ ہم بھی برازیل‘ میکسیکو‘ یونان‘ چین اور بھارت کی طرح ٹیک آف شروع کر دیں گے مگر اس کا انحصار صرف اور صرف ہماری قوت برداشت پر ہے‘ ہم اگر تکلیف کا یہ دور برداشت نہ کر سکے اور ہم نے اگر عمران خان کو بھی نکال دیا تو پھر ہمارا بدترین دور شروع ہو جائے گا‘

ہم دلدل کا رزق بن کر رہ جائیں گے چنانچہ ہمارے پاس اب عمران خان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘ ہمیں اسے حقیقت تسلیم کرلینا چاہیے ورنہ ہم بیچ راستے میں مارے جائیں گے تاہم میری عمران خان سے بھی درخواست ہے‘ یہ بھی اب کڑوا گھونٹ سمجھ کر ایک حقیقت مان لیں‘یہ تسلیم کر لیں یہ اپنی اس ٹیم کے ساتھ ملک بچا سکیں گے اور نہ چلا سکیں گے‘ حکومتی ٹیم میں کیا خرابی ہے‘ ہم اب اس طرف آتے ہیں۔دنیا میں تین چیزیں ناتجربہ کاری‘ بے ہنری اورتکبر جہاں بھی اکٹھی ہو تی ہیں وہاں تباہی آ جاتی ہے

اور عمران خان کی ٹیم کے نوے فیصد کھلاڑیوں میں یہ تینوں خامیاں موجود ہیں‘ پوری قوم روز وزراءکے تکبر کے مظاہرے دیکھتی ہے‘ پوری بیورو کریسی ان کی ناتجربہ کاری کے ہاتھوں ذلیل ہو چکی ہے اور پورا سسٹم ان کی بے ہنری (کیپسٹی) دیکھ کر جام ہو گیا ہے‘ مجھے وزیراعظم آفس کے ایک صاحب نے بتایا‘ ہم نے آج تک سی سی آئی کے اجلاسوں میں عثمان بزدار اور محمود خان کی آواز نہیں سنی‘ یہ لوگ فائل تک نہیں پڑھ سکتے‘عثمان بزدار کتنے بڑے آئن سٹائن ہیں آپ ایک مثال ملاحظہ کیجئے‘

سیہون شریف میں بزدار قبیلے کے لوگ رہتے ہیں‘ یہ وزیراعلیٰ پنجاب کو سیہون شریف بلانا چاہتے ہیں‘ عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے خود کہا ‘میں کراچی اور سیہون شریف آنا چاہتا ہوں‘ میں نے آج تک کراچی نہیں دیکھا‘ آپ اندازہ کیجئے ہم نے ملک کا سب سے بڑا صوبہ اس آئن سٹائن کے حوالے کر دیا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں اگر جہانگیر ترین یا علیم خان بھی وزیراعلیٰ ہوتے تو آج یہ صوبہ مختلف ہوتا‘ آپ چودھری پرویز الٰہی کو ہی وزیراعلیٰ بنا دیں لیکن صوبے کو چلنے دیں ورنہ بیڑہ غرق ہو جائے گا‘

آپ پرویز خٹک کو دوبارہ کے پی کے میں لے آئیں‘ وہاں بھی تباہی ہو رہی ہے‘ دوسراہماری وفاقی کابینہ سیلفیوں اور سوشل میڈیا پر چل رہی ہے‘ صرف چار لوگ شاہ محمود قریشی‘ اسد عمر‘ محمدمیاں سومرو اور عمر ایوب کابینہ کے اجلاس میں خاموش بیٹھتے ہیں یا پھر کام کی بات کرتے ہیں‘ باقی تمام وزراءکی اچیومنٹ یہ ہوتی ہے ہم نے فلاں بیان دے کر‘ ہم نے فلاں پریس کانفرنس کر کے اور ہم نے فلاں ٹاک شو میں فلاں کی بولتی بند کر کے کمال کر دیا‘ یہ لوگ سارا دن ٹویٹس بھی کرتے رہتے ہیں‘

آپ یقین کر لیجئے اس سے ملک نہیں چل سکے گا‘ حکومت بار بار دعویٰ کر رہی ہے ہم نے امپورٹس کم کر دی ہیں‘ یہ لوگ یہ تک سوچنے کےلئے تیار نہیں اس کی وجہ حکومت کی اچھی پالیسیاں نہیں ہیں‘یہ کارنامہ ترقیاتی کاموں کی بندش اور ڈالر کی قیمت میں عدم استحکام نے سرانجام دیا‘ ملک میں جب ترقیاتی کام ہی نہیں ہوں گے اور صنعت کاروں کو ڈالر کی قیمت پر اعتماد نہیں ہوگا تو ملک میں امپورٹس خود بخود کم ہو جائیں گی چنانچہ حکومت کو اب جاگنا ہوگا‘

یہ اگر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں قائداعظم‘ لیاقت علی خان اور ایوب خان بننا ہوگا اور یہ تینوں انتہائی سنجیدہ تھے‘ یہ سر پیچھے گرا کر کرسیوں پر نہیں جھولتے تھے‘ یہ روز سیلفیاں نہیں بناتے تھے‘ یہ روز پریس ٹاک نہیں کرتے تھے اور یہ ہروقت ٹویٹر پربھی نہیں ہوتے تھے‘ یہ خاموشی سے کام کرتے تھے اور دنیا کا کوئی شخص انہیں متکبر یا غیرسنجیدہ نہیںکہتا تھا لہٰذا حکومت کو اب سنجیدہ بھی ہونا پڑے گا اور عاجزی بھی اختیارکرنی پڑے گی ورنہ دوسری صورت میں جس دن عوام یا بیورو کریسی کسی ایک وزیر کے سامنے کھڑی ہو گئی اس دن یہ سارا سسٹم آندھی میں اخبار کا کاغذ بن جائے گا‘ یہ حکومت بری طرح بکھر جائے گی چنانچہ خان صاحب آپ جاگ جائیں‘ آپ آنکھیں کھول لیں‘ سیلاب گھر کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔

The post آندھی میں اخبار کا کاغذ appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/15/541322

Sunday, January 13, 2019

آدھی بند آدھی کھلی

کانپور بھارتی ریاست اتر پردیش کا مشہور اور قدیم شہر ہے‘ یہ شہر قیام پاکستان سے پہلے چمڑے اور سوتی کپڑے کی وجہ سے پورے ہندوستان میں مشہور تھا‘ انگریز نے 1876ء میں کانپور میں ہندوستان کی پہلی وول مل لگائی اور یہ چمڑے اور کاٹن کے ساتھ وول کی سب سے بڑی منڈی بھی بن گیا‘ لالہ کملا پت کا تعلق اس شہر سے تھا‘ وہ کپاس کا بیوپاری تھا‘ اس نے انگریزوں کو دیکھتے ہوئے 1888ء میں جے کے آرگنائزیشن کے نام سے کاٹن اور وول کی کمپنی بنا لی‘

جے اس نے اپنے والد جگی لال سنگھانیا سے لیا تھا اور کے اس کے اپنے نام کملا کا پہلا حرف تھا‘ یہ کمپنی کامیاب ہو گئی‘ کانپور‘ دہلی اور ممبئی میں کمپنی کے دفتر کھل گئے اور یہ دھڑا دھڑ روپیہ کمانے لگے‘ لالہ کیلاش پت سنگھانیا لالہ کملا پت کا بیٹا تھا‘ بیٹا کاروبار میں آیا اور اس نے کاٹن اور وول کی تجارت تک محدود کمپنی کو سیمنٹ‘ ٹائر‘ کاغذ‘ ڈیری اور انجینئرنگ کے سامان تک پھیلا دیا‘ 1925ء تک جے کے آرگنائزیشن کے ملازمین کی تعداد 50 ہزار ہو گئی اور یہ ہندوستان کا سب سے بڑا گروپ بن گیا‘ لالہ کیلاش پت نے بعد ازاں جے کے آرگنائزیشن کو ریمنڈ گروپ میں تبدیل کر دیا اور گروپ نے کپڑے‘ گارمنٹس‘ ڈیزائنرویئر اور وول میں اجارہ داری قائم کر لی‘ وجے پت سنگھانیا خاندان کی تیسری نسل تھی‘ یہ آیا اور اس نے ریمنڈ گروپ کو بھارت کے 380 شہروں تک پھیلا دیا‘ اس نے ملک میں گیارہ سو ایگزیکٹو سٹورز اور 20 ہزار سیل پوائنٹس بھی بنا دیئے‘ گروپ کا کاروبار دنیا کے 55 ملکوں تک بھی پھیل گیا اور یہ دنیا میں ٹیکسٹائل کا پاور ہاؤس بھی بن گیا یوں وجے پت سنگھانیا بھارت کے امیر ترین افراد میں شامل ہو گیا‘یہ اربوں ڈالر کا مالک تھا‘ وجے پت سنگھانیا نوجوانوں کی صلاحیتوں پر یقین کرنے والا شخص تھا‘ اس نے 2007ء میں اپنا سارا کاروبار اپنے بیٹے گوتم سنگھانیا کے حوالے کر دیا‘ گوتم سنگھانیا والد کے ایک دستخط کے ساتھ ایک ہی رات میں 12 ہزار کروڑروپے کا مالک بن گیا اور یہاں سے وجے پت سنگھانیا کا برا وقت شروع ہو گیا‘

وہ بیٹا جو اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کیلئے باپ کے جوتے اٹھانے کیلئے تیار رہتا تھا اس نے آنکھیں ماتھے پر رکھنا شروع کر دیں‘ مالا بار ہل ایریا میں 36 منزلہ سنگھانیا ہاؤس تھا‘ وجے پت کا اس میں خوبصورت ایگزیکٹو اپارٹمنٹ تھا‘ یہ اپارٹمنٹ بیٹے نے والد کے نام کرنا تھا لیکن بیٹا مکر گیا‘ وجے پت کی اپنی کمپنی کے لوگ آئے اور اسے اس اپارٹمنٹ سے بے دخل کر دیا‘ وجے پت شیئرز کی ٹرانسفر کے باوجود گروپ کا چیئرمین تھا‘ بیٹے نے ڈائریکٹرز کے ساتھ مل کر باپ کو چیئرمین شپ سے بھی ہٹوا دیا‘

وجے پت کا دفتر ہیڈکوارٹر میں تھا‘ وہ ایک دن دفتر آیا تو پتہ چلا وہ دفتر بھی اب اس کا نہیں رہا اور وہ مجبوراً کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گیا لیکن اس کی اپنی کمپنی نے کرایہ دینے سے انکار کر دیا‘ باپ وجے پت اور بیٹے گوتم پت میں دو سال سے کوئی رابطہ اور کوئی بات چیت بھی نہیں یوں بھارت کا چار نسلوں سے کھرب پتی بزنس مین پیسے پیسے کو محتاج ہو گیا‘ یہ اب روزانہ کی ضروریات کیلئے بھی دوستوں کی طرف دیکھتا رہتا ہے‘ وجے پت سنگھانیا نے ان حالات سے تنگ آ کر عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا‘

یہ بھارت بلکہ پوری دنیا کیلئے حیران کن کیس ہو گا‘ اس کیس میں ایک سابق کھرب پتی باپ اپنے موجودہ کھرب پتی بیٹے کو عدالت میں طلب کرے گا اور پھر عدالت سے درخواست کرے گا ”ہم والدین اگر اپنی اولاد کو اپنی زمین جائیداد دے سکتے ہیں تو پھر ہمارے پاس وہ زمین جائیداد واپس لینے کا اختیار بھی ہونا چاہیے“ یوں یہ اپنی نوعیت کا ایک حیران کن کیس ہو گا۔وجے پت سنگھانیا کی داستان برصغیر پاک وہند کی لاکھوں بلکہ کروڑوں داستانوں میں سے ایک ہے‘

آپ کو اپنی زندگی میں بھی ایسے بے شمار کردار مل جائیں گے جو امیر تھے‘ طاقتور اور صاحب جائیداد تھے اور ان کے عزیز‘ رشتے دار‘ دوست اور بچے ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے پھرتے رہتے تھے لیکن پھر انہوں نے اپنا سب کچھ اپنے بچوں کو سونپ دیا اور پھر یہ دربدر ہو گئے اور یہ نعمتوں‘ سہولتوں اور اولاد کی محبت کو ترستے ترستے دنیا سے رخصت ہو گئے‘ لاہور میں میرے ایک جاننے والے تھے‘ وہ کیمیکل امپورٹ کیا کرتے تھے‘ کروڑ پتی تھے‘

اپرمال سکیم میں ان کا گھر تھا‘گاڑیاں اور نوکر چاکر تھے‘ اللہ نے انہیں اولاد سے بھی نواز رکھا تھا‘ تین بیٹے تھے‘ تینوں فرمانبردار تھے‘ بہویں بھی ہر وقت ان کی خدمت کرتی رہتی تھیں‘ ان کی بیگم کا انتقال ہو گیا‘ انہیں جذباتی دھچکا پہنچا اور وہ دنیا سے دین کی طرف راغب ہو گئے‘ عمرہ کیا‘ حج کیا اور پھر اولیاء کرام کی محفل میں بیٹھنے لگے جس کے بعد انہیں دنیا اور اس کا مال بے معنی سا محسوس ہونے لگا‘ وہ ایک دن اٹھے‘ بچوں کو اکٹھا کیا اور اپنا سارا کاروبار‘ جائیداد اور جمع پونجی ان کے حوالے کر دی‘

اپنے لئے گھر کا ایک پورشن پسند کیا‘ بچوں سے اپنا ماہانہ طے کرایا اور اللہ اللہ کرنے لگے‘بیٹے انہیں شروع میں باقاعدگی سے جیب خرچ دیتے رہے لیکن یہ بندوبست بمشکل چھ ماہ چل سکا‘ پہلے جیب خرچ بند ہوا‘ پھر ایک بیٹا دوسرے بیٹے اور دوسرا تیسرے پر ڈالنے لگا‘ پھر والد کے پورشن میں مہمان ٹھہرائے جانے لگے اور آخر میں تینوں بیٹوں نے والد کو تنہا چھوڑ دیا‘ وہ صاحب بے بسی اور عسرت کے عالم میں انتقال کر گئے‘ یہ ایک ماڈل تھا‘ آپ اب دوسرا ماڈل ملاحظہ کیجئے‘

میرے عزیز دوست فیضان عارف یورپ کے کسی ملک میں کسی پاکستانی سے ملاقات کیلئے گئے‘ وہ صاحب بزرگ تھے اور پورے خاندان کا نیوکلیس تھے‘ ان کے بیٹے‘ بیٹیاں‘ بہویں اور داماد بھی ان کا احترام کرتے تھے اور نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں بھی‘ فیضان عارف نے ان سے کہا ”انکل میں نے پورے یورپ میں ایسا پاکستانی گھرانہ نہیں دیکھا‘ لوگ یہاں اولاد کا شکوہ کرتے رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی سعادت مند اولاد سے نواز رکھا ہے‘‘

وہ صاحب سن کر ہنسے‘ ہاتھ کی مٹھی سی بنائی اور فیضان عارف کو دکھا کر بولے ”فیضان بھائی میں نے آج تک اپنی مٹھی نہیں کھولی“ فیضان نے کہا ”میں سمجھا نہیں“ وہ بولے‘ میں نے زندگی میں جو کچھ کمایا‘ اپنے پاس رکھا‘ میں بچوں کو صرف ضرورت کے مطابق پیسہ دیتا ہوں چنانچہ یہ میرا احترام کرتے ہیں‘ میں آج اپنی مٹھی کھول دوں تو میں کشکول بن جاؤں گا۔یہ دو مثالیں زندگی کے دو رخ ہیں‘ ہم پہلے رخ کو سنگھانیا رخ کہہ سکتے ہیں اور دوسرے رخ کو انکل رخ‘ میری نظر میں یہ دونوں رخ غلط ہیں‘

ہم سنگھانیافارمولے کے تحت اپنا سب کچھ اولاد کے حوالے کر کے دربدر ہو جاتے ہیں اور ہم انکل فارمولے پر عمل کر کے اپنی اولاد کی نظروں میں بے توقیر ہو جاتے ہیں‘ اولاد ہم سے اصل محبت نہیں کرتی‘ ہمارے بچے لالچ یا خوف کی وجہ سے ہمارا احترام کرتے ہیں چنانچہ یہ دونوں فارمولے غلط ہیں‘ قدرت نے ان دونوں کے درمیان بھی ایک راستہ رکھا ہوا ہے اور وہ راستہ مجھے کراچی کی ایک میمن فیملی نے دکھایا تھا‘ کراچی کے زیادہ تر میمن اپنے بچوں کو الگ الگ کاروبار کرا دیتے ہیں‘

یہ کاروبار الگ بھی ہوتا ہے اور فیملی کے ساتھ بھی‘ بچے والد کی کمپنی‘ فیکٹری یا دکان کو مال سپلائی کرتے ہیں یا اس سے خریدتے ہیں لیکن پورا منافع ان کا ہوتا ہے یوں یہ ساتھ بھی ہوتے ہیں اور الگ بھی‘ دوسرا فیملی اگر امیر ہو تو یہ لوگ زیادہ زمین خرید کر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ گھر بنا لیتے ہیں‘ گھر الگ الگ ہوتے ہیں لیکن پارکنگ اور صحن ایک ہوتا ہے‘ والدین اس احاطے میں درمیان میں رہتے ہیں‘ یہ لوگ اگر زمین نہ خرید سکیں تو یہ اپنے گھر کو مختلف پورشنز میں تقسیم کر دیتے ہیں‘

والدین نچلی منزل میں رہتے ہیں اور بچے بالترتیب اوپر‘ والدین اپنا مرکزی کاروبار مرنے تک اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں‘ کاروبار اور جائیداد ان کے انتقال کے بعد تقسیم ہوتی ہے چنانچہ یوں والدین اور بچوں کے درمیان محبت اور احترام دونوں رشتے قائم رہتے ہیں‘ ملازم پیشہ میمن بھی اپنے گھر کے مختلف حصے بچوں کو دے دیتے ہیں لیکن یہ گھر ٹرانسفر نہیں کرتے‘ یہ مٹھی کو آدھا بند اور آدھا کھلا رکھتے ہیں‘ میرا خیال ہے یہ فارمولا زیادہ بہتر ہے‘ آپ سنگھانیا کی طرح اپنی پوری مٹھی کھول کر دربدر بھی نہ ہوں اور آپ فیضان عارف کے دوست انکل کی طرح اپنی مٹھی مکمل بند رکھ کر بچوں کے دل میں خوف بھی پیدا نہ کریں‘

آپ آدھی مٹھی کھول دیں‘ اپنی کمائی کا آدھا حصہ بچوں کو دے دیں اور آدھا بچا کر رکھیں‘ آپ اپنا آدھا حصہ جی بھر کر خرچ کریں‘ اپنے آرام‘ اپنے علاج اور اپنی خواہشوں کی تکمیل میں کوئی کسر نہ چھوڑیں‘ آپ دنیا سے خوش رخصت ہوں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ سنگھانیا کی طرح اپنی اولاد کے سامنے محتاج ہو جائیں گے یا پھر آپ کی اولاد آپ کے مرنے کا انتظار کرے گی اور یوں یہ دنیا‘ یہ زندگی آپ کیلئے عذاب ہو جائے گی۔

The post آدھی بند آدھی کھلی appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/13/540610

Friday, January 11, 2019

ملک ایمرجنسی کے دہانے پر

ہمیں بات آگے بڑھانے سے قبل یہ ماننا ہوگا پاکستان پیپلز پارٹی ملک کےلئے انتہائی ضروری ہے‘ کیوں؟کیونکہ یہ ملک کی واحد لبرل پارٹی ہے اور یہ تاریخی حقیقت ہے ملک رجعت پسند جماعتوں اور گروپوں کی وجہ سے ٹوٹ تو سکتے ہیں‘ چل نہیں سکتے‘ہم بھی اگر ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں لبرل پارٹیاں چاہئیں اور یہ اس وقت واحد لبرل پارٹی ہے‘ دوسری وجہ یہ ملک کی واحد جماعت ہے جس کی جڑیں پورے ملک میں موجود ہیں‘ یہ درست ہے پیپلزپارٹی کا پنجاب سے مکمل صفایا ہو چکا ہے اور پانچ دریاﺅں کی سرزمین اب پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کا میدان جنگ بن چکی ہے

لیکن جیالے آج بھی زندہ ہیں اور جس دن پارٹی کو ایک اچھی اور مخلص قیادت مل گئی یہ جیالے پارٹی کوپنجاب میں ایک بار پھر زندہ کر دیں گے‘ میں دل سے سمجھتا ہوں اگر پیپلز پارٹی ختم ہو گئی تو ملک میں پھر کوئی سنٹرل پارٹی نہیں بچے گی‘سیاست علاقائی‘ مذہبی اور نسل پرست جماعتوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی‘ یہ جماعتیں مل کر وفاق میں حکومتیں بنائیں گی‘ وہ حکومتیں بہت کمزور ہوں گی اور وہ کمزور حکومتیں ملک کو مزید کمزور کر دیں گی چنانچہ ہمیں ہر صورتحال میں سنٹرل پارٹیاں چاہئیں اور تیسری وجہ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس میں سب سے زیادہ تجربہ کارلوگ موجود ہیں‘ یہ لوگ 1960ءاور 1970ءکی دہائی میں سیاست میں آئے اور یہ اب پوری طرح پک چکے ہیں‘ ان لوگوں کو اگر ایک ایماندار اور سمجھ دار قیادت مل جائے تو یہ لوگ آج بھی ملک چلا سکتے ہیں۔ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کیا بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ جعلی اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ کا حصہ تھے‘ میرا خیال ہے نہیں‘ ہم مراد علی شاہ سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ ایک پڑھے لکھے‘ متحرک اور مخلص وزیراعلیٰ ہیں‘ یہ اپنے صوبے کو ترقی یافتہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے راستے میں فریال تالپور اور آصف علی زرداری کے سپیڈ بریکر ہیں‘یہ سپیڈ بریکرز ان کی رفتار کو بڑھنے نہیں دے رہے‘ یہ جس دن ہٹ گئے مراد علی شاہ اس دن سندھ کےلئے میاں شہباز شریف ثابت ہوں گے

اور جہاں تک بلاول بھٹو کا معاملہ ہے یہ اپنے والد اور پھوپھی کی فصل کاٹ رہے ہیں‘ یہ جب بھی اڑنے لگتے ہیں تو ماضی ان کے دونوں پروں کا بوجھ بن جاتا ہے اور یہ نیچے جا گرتے ہیں‘ یہ نیا ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو ثابت ہونا چاہتے ہیں لیکن یہ اپنے بزرگوں کے سائے سے باہر نہیں آ پا رہے‘ پاکستان پیپلز پارٹی کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا یہ پنجاب کی طرح سندھ سے بھی مکمل فارغ ہو جائے یا پھر یہ بلاول بھٹو کو مکمل آزاد اور خود مختار چیئرمین بنا دے‘ پارٹی کے تمام فیصلے ان کے ہاتھ میں ہوں اور یہ آزادی کے ساتھ فیصلے کریں‘

حکومت نے ان کا نام ای سی ایل پر ڈال کر اور جے آئی ٹی نے ان کو جعلی اکاﺅنٹس میں ملوث کر کے زیادتی کی‘ یہ زیادتی اب بلاول کی زبان اور سوچ دونوں میں ظاہر ہو رہی ہے تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کا نام جے آئی ٹی اور ای سی ایل سے نکال کر بہت اچھا کیا‘ والد کی غلطیوں کی سزا بیٹے کو نہیں ملنی چاہیے‘ یہ اگر والد کے ساتھ بریکٹ رہتے تو یہ اینٹی پاکستان اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہو جاتے اور یہ بلاول اور ملک دونوں کے ساتھ زیادتی ہوتی‘ ہم اب موجودہ سیاسی صورتحال کے حل کی طرف آتے ہیں۔

پہلا حل جعلی اکاﺅنٹس کیس سے متعلق ہے‘ ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لیں تو ریاست بیس سال میں جعلی اکاﺅنٹس کیس نہیں نبٹا سکے گی‘ آپ کو اس کےلئے سینکڑوں ایکسپرٹس پر مشتمل ٹیم بھی چاہیے ‘ نجف مرزا‘ بشیر میمن اور احسان صادق جیسے مخلص اور نڈر افسر بھی اور جسٹس ثاقب نثار جیسا چیف جسٹس بھی اور ہم ایسے کتنے لوگ اکٹھے کر لیں گے اور یہ کب تک تحقیقات کر لیں گے اور اگر تحقیقات ہو بھی گئیں تو ہمیں مجرموں کو سزا دینے کےلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی

اور ترمیم کےلئے موجودہ حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ ارکان ہیں اور نہ کیپسٹی‘ اپوزیشن حکومت کونیا قانون بنانے اور پرانے قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دے گی اور اگر یہ ہو گیا تو بھی جعلی اکاﺅنٹس کا پیسہ ملک سے باہر جا چکا ہے‘ ہمیں یہ پیسہ واپس لانے کےلئے ان ملکوں کا قانون تبدیل کرانا پڑے گا اور یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہو گی‘ ایران 1978ءسے برطانیہ‘ یورپ اور امریکا سے شاہ ایران کا پیسہ واپس مانگ رہا ہے‘ ایران کو آج تک ایک دھیلا نہیں ملا‘ فلپائن کے فرڈی نینڈ مارکوس نے 16بلین ڈالر لوٹے تھے‘

یہ بھی آج تک فلپائن واپس نہیں آئے‘ مصر کے حسنی مبارک‘ لیبیا کے کرنل قذافی‘ تیونس کے زین العابدین بن علی اور عراق کے صدام حسین کے اربوں ڈالر بھی یورپ‘ امریکا اور برطانیہ کے مگرمچھ کھا گئے‘یہ رقمیں بھی واپس نہیں آئیں‘ ہمیں بھی یہ رقم واپس نہیں ملے گی اور ہم الٹا تحقیقات‘ مقدمات اور جیلوں پر مزید اربوں روپے ضائع کر دیں گے‘ اومنی گروپ اس وقت ظاہری اور خفیہ 14شوگر ملوں کا مالک ہے‘ یہ شوگر ملیں اس وقت تک ورکنگ پوزیشن میں ہیں‘

یہ آنے والے چند مہینوں میں کاٹھ کباڑ بن جائیں گی‘ سکینڈل کی زد میں آنے والے بینک بھی تباہ ہو جائیں گے‘ ان بینکوں کے لاکھوں کھاتہ دار بھی سڑکوں پر آ جائیں گے اور سکینڈل میں ملوث زیادہ تر لوگ بوڑھے اور بیمار ہیں‘ یہ اس دوران انتقال کر جائیں گے اور یوں ان کا مال جس جس شخص کے پاس ہے وہ ڈکار مار جائے گا چنانچہ ہمیں آخر میں اس احتساب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ ہم ہرطرف سے خسارے میں رہیں گے لہٰذا میری حکومت سے درخواست ہے آپ ایک مثبت اور بڑا یوٹرن لیں‘

آپ ایک بڑی ایمنسٹی سکیم لانچ کریں اور آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف سمیت تمام لوگوں کو این آر او دے دیں‘یہ لوگ اپنی جائیدادیں‘ جعلی اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ کی رقمیں خزانے میں جمع کرا دیں‘ پارٹی کی قیادت اور سیاست چھوڑ دیں اور دنیا میں جہاں جانا چاہیں چلے جائیں‘ حکومت اومنی گروپ کی شوگر ملیں‘ زمینیں اور کمرشل پراپرٹیز بھی نیلام کر دے اور یہ سارا سرمایہ ڈیم فنڈ میںجمع کرا دے یوں ریاست کو اربوں روپے بھی مل جائیں گے اور یہ تحقیقات اور مقدمات کی خواری سے بھی بچ جائے گی ورنہ دوسری صورت میں ہم مزید دو چار ارب روپے ضائع کر بیٹھیں گے۔

دوسرا حل کرپشن سے متعلق ہے‘ حکومت مستقبل میں کرپشن کے خاتمے کےلئے خفیہ اداروں کا ایک خفیہ سیل بنا دے‘ یہ سیل کرپشن کے خلاف خفیہ تحقیقات کرے اور جوں ہی کوئی شخص‘ کوئی عہدیدار کرپٹ ثابت ہو جائے حکومت دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں کی طرح اس شخص کے خلاف خفیہ مقدمہ چلائے‘ رقم وصول کرے‘ اسے جیل میں ڈالے یا پھر اسے ملک بدر کر دے‘ اس سے قوم کا وقت اور سرمایہ بھی بچ جائے گا اور ریاست کو لوٹا ہوا مال بھی واپس مل جائے گا‘

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی نیب کی کھلی کارروائیوں سے ملک میں خوف پیدا ہورہا ہے اور یہ خوف ملک اور معیشت کونقصان پہنچارہا ہے‘ بیورو کریٹس کام نہیں کررہے اور سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں‘ کرپشن کے خلاف خفیہ تحقیقات‘ خفیہ خصوصی عدالتوں اور خصوصی قوانین کی وجہ سے معاشرے میں خوف بھی پیدا نہیں ہوگا‘ لوٹی ہوئی دولت بھی واپس مل جائے گی اور خفیہ آنکھ کی دہشت کی وجہ سے کرپشن بھی رک جائے گی‘ ہم اگر دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کےلئے خصوصی فوجی عدالتیں اور خصوصی قوانین بنا سکتے ہیں تو کرپشن کے خلاف خصوصی قوانین‘ خصوصی خفیہ سیل اور خصوصی عدالتیں بنانے میں کوئی حرج نہیں‘

یہ ملک کےلئے زیادہ مفید ثابت ہوں گی اور آخری حل ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کو اب اپنی اپنی قیادت تبدیل کر لینی چاہیے‘ ملک کی فیصلہ ساز قوتیں ماضی میں ان دونوں پارٹیوں کو قیادت تبدیل کرنے کا بار بار موقع دیتی رہیں‘ جنرل راحیل شریف کے دور میں آصف علی زرداری کی جگہ بلاول بھٹو‘ میاں نواز شریف کی جگہ میاں شہباز شریف اور الطاف حسین کی جگہ فاروق ستار کو بٹھانے کی سنجیدہ کوششیں ہوئیں‘

آصف علی زرداری اور جنرل راحیل شریف کے درمیان وزیراعلیٰ ہاﺅس سندھ میں خفیہ ملاقات کا بندوبست بھی کیاگیا‘ آصف علی زرداری آ گئے لیکن جنرل راحیل شریف نہیں آ سکے تاہم دونوں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا‘ جنرل راحیل شریف نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیاآپ بلاول بھٹو پر اعتماد کریں‘ یہ پارٹی کو سنبھال لیں گے‘ ملک پیپلز پارٹی جیسی لبرل جماعت کا نقصان برداشت نہیں کر سکتا‘ زرداری صاحب نے وعدہ کر لیا لیکن یہ وعدہ بعد ازاں نبھایا نہیں گیا‘

میاں نواز شریف 22مئی 2016ءکو دل کے آپریشن کےلئے لندن گئے ‘ آپریشن سے ایک دن پہلے انہوں نے مارک اینڈ سپنسر کی کافی شاپ میں بیٹھ کر میاں شہباز شریف کو پارٹی اور سیاست سنبھالنے کی آفر کی‘ میاں شہباز شریف نے صاف انکار کر دیا‘ آپریشن کے بعد میاں نواز شریف نے دوبارہ شہباز شریف کو بلایا اور اڑھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد انہیںقائل کر لیا‘ طے ہو گیا میاں نواز شریف اگلے دن ہسپتال سے تقریر کریں گے اور سیاست اور پارٹی دونوں سے دستبردار ہو جائیں گے‘

عرفان صدیقی کو تقریر لکھنے کےلئے طلب کیا گیا لیکن عرفان صدیقی نے میاں نواز شریف کو یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا‘ اس کے بعد جو ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا‘میاں نواز شریف اگر اس وقت چند قدم پیچھے ہٹ جاتے تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے‘ اسی طرح اگر الطاف حسین بھی 2016ءمیں اپنی انا کی قربانی دے دیتے‘ یہ فاروق ستار جیسی آفر قبول کر لیتے تو آج ایم کیو ایم بھی چار ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہوتی‘ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہو گیا‘ ملک کی تینوں پارٹیوں کو اب ہوش کے ناخن لے لینے چاہئیں‘ان تینوں کو بلاول بھٹو‘ میاں شہباز شریف اور فاروق ستار کو تسلیم کر لینا چاہیے‘

یہ لوگ آئیں‘ پارٹیوں کی قیادت سنبھالیں اور حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیں تاکہ ملک ٹریک پر آ سکے اور اس کےلئے عمران خان کو اپنی انا کی قربانی دینی ہو گی‘ یہ آخری یوٹرن لیں‘ ایمنسٹی کی شکل میں این آر او دیں اور اس جھنجٹ سے ملک اور اپنی دونوں کی جان چھڑا لیں‘ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی باعزت آپشن نہیں بچا اور اگر عمران خان یہ فیصلہ نہیں کرتے تو پھر یہ فیصلہ ایمرجنسی کرے گی‘ ملک میں ایمرجنسی لگے گی اور یہ سارے فیصلے اس ایمرجنسی میں ہوں گے اور ہم بڑی تیزی سے اس ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

The post ملک ایمرجنسی کے دہانے پر appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/11/540115