Friday, December 14, 2018

ول فیر جھنگ توں کوئی نہ آسی

جھنگ کا ایک جانگلی بیمار ہو گیا‘ موت کے آثار نظر آنے لگے تو اس نے دعا کی ”یا اللہ اگر موت دینی ہے تو پھر مجھے مکہ میں دو“وہ حسن اتفاق سے دعا کے بعد صحت یاب ہو گیا‘ وقت گزرا تو وہ بیماری اور یہ دعا دونوں بھول گیا‘وہ دس پندرہ برس بعد عمرے کےلئے سعودی عرب گیا‘ مکہ جا کر اس کی طبیعت خراب ہو گئی‘ وہ جوں جوں دوا لیتا اور ڈاکٹر بدلتا رہا‘ اس کی طبیعت مزید خراب ہو تی رہی یہاں تک کہ وہ بستر سے لگ گیا‘ اس کو لیٹے لیٹے اچانک جھنگ کی پرانی بیماری اور اپنی دعا یاد آ گئی‘ وہ ڈر گیا‘ اٹھ کربیٹھا اور خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے بولا ”اللہ سائیں میں تاں مر ویساں‘ پر یاد رکھیں ول جھنگ توں کوئی مکہ نہ آسی“(یا اللہ میں تو مر جاﺅں گا لیکن یہ یاد رکھنا میرے بعد جھنگ سے کوئی شخص مکہ نہیں آئے گا)۔

آپ کو جھنگ کے اس جانگلی کے لطیفے میں تین سبق ملیں گے‘ اول‘ ہم دعا مکہ کی کرتے ہیں لیکن مکے میں مرنے کےلئے تیار نہیں ہوتے‘ دوم اگر لوگ مکہ میں بھی مرنا شروع ہو جائیں تو یہ وہاں بھی نہیں جائیں گے اور سوم سروائیول یعنی زندہ رہنے کی خواہش انسان کی سب سے بڑی جبلت ہے اور انسان کسی قیمت پر‘ کسی بھی جگہ یہ جبلت سرینڈر نہیں کرتا‘ہم اگر اس لطیفے اور سروائیول کی اس جبلت کو حقیقت تسلیم کر لیں اوراس کا دائرہ ذرا سا بڑھا لیں تو پھر فیملی اور بزنس بھی اس میں شامل ہو جائے گا اور یہ دائرہ ہمیں بتائے گا‘ ہم میں سے کوئی اپنے آپ‘ اپنے خاندان اور اپنے کاروبار کو جوکھم میں ڈالنا پسند نہیں کرتا‘آپ اپنے آپ سے پوچھئے ‘کیا ہم مرنے کےلئے تیار ہیں‘ کیا ہم آسانی سے اپنے خاندان کو مصیبتوں میں رکھنے کےلئے تیار ہو جائیں گے اور کیا ہم چاہیں گے ہم جو کچھ کما رہے ہیں یا ہم نے دن رات ایک کر کے جو کچھ کمایا وہ کسی سرکاری حکم کے نتیجے میں ایک رات میں ختم ہو جائے؟ ہم میں شاید ہی کوئی شخص اس کےلئے راضی ہو گا‘یہ حقیقت ہے ہم سب زندگی میں ترقی کرنا چاہتے ہیں‘ ہم اپنے آپ اور اپنے خاندان کو محفوظ بھی دیکھنا چاہتے ہیں اور ہم اپنے عہدے‘ عزت‘ بزنس اور کمائی کو بھی سکیور رکھنا چاہتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کیا بحیثیت پاکستانی ہم یہ حق دوسروں کودینے کےلئے بھی تیار ہیں؟ یہ ایک مشکل سوال ہے‘

آپ کسی دن ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنے آپ سے یہ مشکل سوال پوچھیں ‘میرا دعویٰ ہے آپ یہ ماننے پر مجبور ہوجائیں گے ہم بحیثیت قوم اینٹی پراگریس‘ اینٹی ڈویلپمنٹ اور اینٹی بزنس ہیں‘ آپ آج ملک میں نئی بندرگاہ‘ نئی موٹروے‘ نئی ٹرین‘ نیا ائیرپورٹ اور غریب اور یتیم بچوں کےلئے دانش سکول جیسا کوئی نیا ایجوکیشنل سسٹم بنانے کا اعلان کر دیں پورا ملک آپ کے خلاف کھڑا ہو جائے گا اور آپ اگر اس مخالفت کے باوجودیہ کام کر جائیں گے یا آپ اپنا منصوبہ مکمل کر لیں گے تو آپ کو میاں شہباز شریف کی طرح باقی زندگی وکیلوں‘ عدالتوں اور جیلوں میں گزارنی پڑے گی‘

آپ نے پاکستان میںاکثر سنا ہوگا فلاں دس سال پہلے موٹر سائیکل پر تھا‘ یہ آج دس دس لینڈ کروزرز کا مالک ہے‘ یہ حرام کا مال کہاں سے آیا وغیرہ وغیرہ یعنی ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے ہمارے ملک میں جو شخص موٹر سائیکل سے آگے جائے گا وہ کرپٹ ہو گا‘ ہم اگر اس فارمولے کو درست مان لیں تو پھر دس بائی گیارہ فٹ کے دفتر میں مائیکرو سافٹ کی بنیاد رکھنے والے بل گیٹس اور گھر کے گیراج میں ایپل کمپنی کا دفتر کھولنے والے سٹیوجابز کو پھانسی ہو جانی چاہیے تھی‘

آج امریکا میں ایسے ساڑھے تین سوارب پتی ہیں جن کے پاس جوانی میںبس کا کرایہ بھی نہیں تھا لیکن یہ آج درجن درجن پرائیویٹ جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے مالک ہیں‘ آج پورا امریکا ان لوگوں کو سلیوٹ کرتا ہے‘ان پر فخر کرتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ لوگ امریکا اور امریکیوں دونوں کےلئے انسپریشن ہیں‘ ان کو دیکھ کر ہر امریکی نوجوان یہ سمجھتا ہے میں بھی بل گیٹس اور سٹیوجابز بن سکتا ہوں لیکن ہم نے اپنے معاشرے میں ترقی کو جرم بنا دیا ہے‘ ہمارے ملک میں کچھ نہ کرنے والے معزز ہیں اور محنت کر کے اوپر آنے والے چور ہیں‘ کیوں!آخر کیوں؟

دنیا ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے ملک میں کاروبار کےلئے لمبی چوڑی مراعات دیتی ہے‘ یہ انہیں مفت زمین‘ قرضے اور اپنی رقم واپس نکال لے جانے کی سہولتیں تک دیتی ہے لیکن ہمارے ملک میں مقدر کا مارا جو بھی آ جاتا ہے ہم اسے عبرت کی نشانی بنا دیتے ہیں‘ آپ کسی دن پاکستان میں کام کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ڈیٹا نکال کر دیکھ لیں ‘آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے ان کا آدھے سے زیادہ سٹاف سیکورٹی گارڈز اور وکلاءپر مشتمل ہے اور یہ لوگ کام کی بجائے عدالتوں میں بیٹھے نظر آتے ہیں‘

ملک میں کام کرنے والی تین بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس وقت ناک رگڑ رہی ہیں‘ یہ چور ثابت ہو رہی ہیں‘ کراچی میں میرے ایک دوست تھے جاوید اکھائی‘ یہ پاکستان کے پہلے بزنس مین تھے جنہوں نے ادویات سازی کی تین ملٹی نیشنل کمپنیاں خریدیں‘ یہ اربوں روپے کا کاروبار کرتے تھے لیکن پھر انہیں ایک نوٹس آیا اور وہ یہ نوٹس لے کر اسلام آباد میں پھرتے رہے‘ وہ پھرتے پھرتے پچھلے ماہ انتقال کر گئے‘ مجھے یقین ہے نوٹس پر کارروائی آج بھی جاری ہو گی اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ تینوں کمپنیاں بند نہیں ہو جاتیں‘

آپ میاں شہباز شریف کی مثال بھی لے لیجئے‘ نیب نے انہیں 60 دن حراست میں رکھا‘ یہ 60 دنوں میں ان کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا‘آپ مزید آگے چلئے‘ احد چیمہ 10ماہ اور فواد حسن فواد پانچ ماہ سے نیب کی حراست میں ہیں‘ یہ ان کے خلاف بھی کوئی ثبوت نہیں لا سکا‘ نیب کورٹ نے107سماعتوں کے بعد 6 جولائی 2018ءکو میاں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کوسزا سنا ئی‘ یہ تینوں جیل پہنچ گئے لیکن 19ستمبرکو اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کورٹ کے فیصلے پر چند سوال اٹھائے اور یہ تینوں اس وقت گھر بیٹھے ہیں‘

بحریہ ٹاﺅن ایشیا کی سب سے بڑی ہاﺅسنگ سکیم اور ملک ریاض پاکستان کا سب سے بڑا جاب پرووائیڈر ہے لیکن ملک میں اس وقت اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ بحریہ ٹاﺅن زمین پر لیٹ کر سسک رہا ہے اور لاکھوں لوگ اپنی پوری زندگی کی جمع پونجی برباد ہوتے دیکھ کر بیمار ہو رہے ہیں‘ یہ مثالیں کیا ثابت کرتی ہیں؟ یہ ثابت کرتی ہیں ہماری نظر میں ہمارے ملک میں ترقی کرنے‘ ملک کو ترقی دینے اور لوگوں کےلئے روزگار کا بندوبست کرنے والے تمام لوگ چورہوتے ہیں‘

کیا یہ ملک حقیقتاً چوروں کا ملک ہے؟ اگر بزنس مین چور ہیں‘ صنعت کار اور زمین دار چور ہیں‘ اگر بیورو کریٹس اور سیاستدان چور ہیں‘ اگر ملک میں سرمایہ لانے والے بھی چور ہیں اور ملک سے سرمایہ باہر لے جانے والے بھی چور ہیں‘ اگر کام کرنے والے بھی چور ہیں‘اگر ترقی کرنے والے بھی چور ہیں اور اگر ڈیلیور اور پرفارم کرنے والے بھی چور ہیں تو پھراس ملک میں ایماندار کون ہے؟ سچا اور کھرا کون ہے! کیا ہم اس ملک کو نکمے اور ناکام لوگوں کا ملک بنانا چاہتے ہیں؟

اگر ہاں تو پھر مہربانی فرما کر ترقی‘ کامیابی اور پرفارمنس اس ملک میں ان تینوں لفظوں پر پابندی لگا دیں تاکہ یہ کنفیوژن ہمیشہ کےلئے ختم ہو جائے اور ہم میں سے کوئی شخص پراگریس‘ ڈویلپمنٹ اور بزنس کی غلطی نہ کرے۔حکومت کسی دن مالم جبہ کی مثال کاتجزیہ بھی کر لے‘ مالم جبہ میں کیا ہوا؟ مالم جبہ میں لاکھوں ایکڑ زمین بے کار پڑی تھی‘ پرویز خٹک کے دور میں 275 ایکڑ زمین ہوٹل اور ریزارٹ کےلئے لیز کر دی گئی‘ یہ لیز آگے چل کر جرم بن گئی اور آج پرویز خٹک‘ محمود خان‘ عاطف خان اور سینیٹر محسن عزیز نیب کا مقدمہ بھگت رہے ہیں‘

گویا زمین بے کار پڑی رہے تو ٹھیک ہے‘ اسے اگرکوئی کارآمد بنانے کی غلطی کر بیٹھے تویہ جرم ہو جائے گا‘ میاں شہبازشریف اور ملک ریاض بھی اسی اپروچ کی سزا بھگت رہے ہیں‘یہ کچھ نہ کرتے تو یہ آج باقی وزراءاعلیٰ کی طرح عزت کے ساتھ گھر میں بیٹھے ہوتے‘ یہ کچھ کربیٹھے ہیں چنانچہ یہ سزا بھگت رہے ہیں‘ میری درخواست ہے ملک کے تمام مقتدر ادارے کسی دن اکٹھے بیٹھیں اور ملک میں ترقی‘ کام اور ڈیلیوری تینوں پر پابندی لگا دیں‘

یہ فیصلہ کر دیں ملک میں موٹر سائیکل سوار موٹر سائیکل‘ سوزوکی کار کا مالک سوزوکی ایف ایکس‘ ٹھیکیدار ٹھیکیداری اور دکاندار دکانداری سے اوپر نہیں جائے گا‘ملک میں کوئی ترقی نہیں کرے گا اور یہ فیصلہ بھی کر دیں ہاﺅسنگ سوسائٹی صرف وہ چلے گی جو عوام سے رقم وصول کرے گی لیکن انہیں پلاٹ نہیں دے گی‘ جو کبھی مکمل نہیں ہو گی اور جو ملٹی نیشنل کمپنی پاکستان آئے گی ہم کسی بھی وقت اس کا پورا کاروبار ضبط کر لیں گے اور ملک میں جس کے خلاف ایک بار کیس کھل گیا وہ کیس اس کے مرنے کے بعد بھی کھلا رہے گا اور جو حکومت میں رہتے ہوئے کام کرنے کی غلطی کر ے گاوہ باقی زندگی عدالتوں اور جیلوں میں گزارے گا‘

ہم ایک ہی بار یہ فیصلہ کر دیںتاکہ کم از کم روز روز کی بک بک سے تو جان چھوٹے‘ ترقی اور کام کے خواہش مند لوگ جہاں جانا چاہیں وہ جائیں‘ روز کا مرنا اور روز کا جینا تو ختم ہو اور آپ میں اگر اس فیصلے کی ہمت نہیں تو پھر آپ مہربانی فرما کر یہ ملک ترقی‘ پرفارمنس اور کامیابی کےلئے کھول دیں‘ لوگوں کو کام کرنے دیںاور کام کرنے والوں کو عزت دیں ورنہ یقین کریں ہم نے اگر یہ پھڑلو پھڑلو بند نہ کی تو کام کرنے والے دو چار سو یہ لوگ ٹینشن سے مر جائیں گے لیکن ”ول فیر جھنگ توں کوئی نہ آسی“ آپ کو پورے ملک میں کام کرنے والا کوئی شخص نہیں ملے گا‘ جو چلے گئے‘ وہ واپس نہیں آئیںگے اور جو آ گئے وہ بھی چلے جائیں گے اور ہمارے پاس ”ہم زندہ قوم ہیں“کے ترانے بجانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا۔

The post ول فیر جھنگ توں کوئی نہ آسی appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/12/14/531294

Thursday, December 13, 2018

گناہ ٹیکس

یہ تصور بھی سپین کے شہر سیویا نے دیا‘ رائل ٹوبیکو کے نام سے فیکٹری بنی اور فیکٹری نے 1758ءمیں سگریٹ کی پروڈکشن شروع کر دی‘ مالکان نے سگریٹ بنانے کےلئے بارہ سو خواتین بھرتی کیں‘ خواتین ہاتھ سے سگریٹ بناتی تھیں‘ وہ کاغذ کا چھوٹا سا ٹکڑا لے کر اس پر تمباکو رکھتی تھیں اور دوسرے ہاتھ سے اسے رول کر کے سگریٹ بنا دیتی تھیں‘سگریٹ بنانے کا یہ طریقہ امریکا سے سپین آیا تھا‘ امریکا میں سگار خواتین بناتی تھیں‘

نئی دنیا کا خیال تھا سگار کو اگر مرد کا ہاتھ لگ جائے تو یہ خراب ہو جاتا ہے لہٰذا سگار بنانا خالصتاً خواتین کا کام تھا‘ یہ تصور سگار سے سگریٹ میں آ گیا چنانچہ دنیا کی تمام ابتدائی سگریٹ فیکٹریوں میں سگریٹ بنانے کےلئے خواتین بھرتی کی جاتی تھیں‘ بھرتی کا یہ سسٹم بھی سیویا سے شروع ہوا‘ سگریٹ سازی کے اس عمل کے دوران تین بیماریاں سامنے آئیں‘ پہلی بیماری جلدی تھی‘ تمباکو رگڑنے سے خواتین کے ہاتھوں پر پھوڑے نکل آتے تھے‘ یہ پھوڑے آہستہ آہستہ بازو اور پھر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے تھے یوں وہ کام کے قابل نہیں رہتی تھیں‘ دوسرا ان کے جسم سے تمباکو کی بو آتی تھی جس سے ان کی گھریلو زندگی متاثر ہوجاتی تھی اور تیسرا سگریٹ فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین دمے اور ٹی بی کا شکار ہو جاتی تھیں‘ مالکان نے شروع میں ان ایشوز پر توجہ نہ دی لیکن جب زیادہ تر خواتین بیمار ہونے لگیںتو فیکٹری مالکان اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے افسراکٹھے بیٹھے اورحکومت نے سگریٹ پر تین ٹیکس لگا دیئے‘ پہلا ٹیکس جلدی امراض سے متعلق تھا‘ حکومت سگریٹ کی ہر ڈبی پر تھوڑی سی رقم لیتی تھی اور یہ رقم جلدی امراض پر کام کرنے والے اداروں کو دے دی جاتی تھی ‘ وہ ادارے اس رقم سے سگریٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کےلئے کریمیں اور پاﺅڈر ایجاد کرتے تھے‘ دوسرا ٹیکس سگریٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والی خواتین کی بہبود کےلئے تھا‘

حکومت اس فنڈ سے سگریٹ ساز خواتین اور ان کے بچوں کی پرورش کا بندوبست کرتی تھی اور تیسرے ٹیکس سے دمے اور ٹی بی کا علاج ہوتا تھا‘ حکومت نے سیویا میں سینی ٹوریم بنائے اور یہ اس فنڈ سے دمے اور ٹی بی کی شکار خواتین کا علاج کرنے لگی‘ یہ تینوں ٹیکس شروع میں مالکان پر لگائے گئے لیکن پھر یہ سگریٹ نوشوں پر شفٹ کر دیئے گئے‘ سگریٹ کی انڈسٹری اٹھارہویں صدی میں سیویا (سپین) سے نکل کر پورے یورپ میں پھیل گئی‘

یہ وہاں سے یورپی کالونیوں میں آئی اور پھر وہاں سے پوری دنیا میں پہنچ گئی یہاں تک کہ بیسیویں صدی میں دنیا کا کوئی ملک اور کوئی ایسا خطہ نہ بچا جہاں سگریٹ ‘ سگریٹ نوش‘ سگریٹ کی فیکٹریاں اور سگریٹ کا کاروبار نہ ہو‘ ہندوستان میں انگریز سگریٹ لے کر آیا‘1910ءمیں امپیریل ٹوبیکو کمپنی بنی اور اس نے 1913ءمیں کلکتہمیں پہلی سگریٹ فیکٹری لگائی‘ یہ فیکٹری فوج کو سگریٹ فراہم کرتی تھی‘ فوج میں شامل ہر جوان کو راشن میں سگریٹ دیا جاتا تھا‘

سرکاری افسروں کو بھی فری سگریٹ دیئے جاتے تھے‘ سگریٹ کی سرکاری کھپت میں اضافہ ہوا تو حکومت نے یہ علت عوام کےلئے بھی کھول دی‘ عوام کو سگریٹ مہنگا دیا جاتا تھا‘ منافع کا ایک حصہ مالکان کی جیب میں چلا جاتا تھا اور دوسرا حصہ حکومت سے ہوتا ہوا فیکٹریوں میں واپس آجاتا تھا اور اس سے فوج اور بیورو کریسی کےلئے مفت سگریٹ بنائے جاتے تھے‘ یہ سگریٹ محاذ پر لڑنے والے جوانوں کا واحد نفسیاتی سہارا ہوتے تھے‘ فوجی ان کے بغیر لڑ نہیں سکتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے روز مرہ کی زیادہ تر اشیاءپر ٹیکس لگنا شروع ہوگئے ‘ سگریٹ کی صنعت ٹیکس کا سب سے بڑا سورس بن گئی‘ حکومتیں اس انڈسٹری سے اربوں روپے سالانہ ٹیکس وصول کرتی تھیں‘ یہ اس ٹیکس پر خوش تھیں لیکن پھر آہستہ آہستہ سگریٹ نوشی کے نقصانات سامنے آنے لگے‘ یورپ میں لاکھوں لوگ ٹی بی‘ کینسر‘ دمہ‘ اعصابی کمزوری‘ ڈپرشن اور نروس بریک ڈاﺅن کا شکار ہوگئے‘ سگریٹ کی وجہ سے دل کے امراض میں بھی اضافہ ہو گیا

چنانچہ ایک ایسا وقت آ گیا جب حکومتوں کو پتہ چلا ہم سگریٹ کی صنعت سے جتنا ٹیکس وصول کر رہے ہیں ہم اس سے دوگنا اور تین گنا رقم امراض قلب اور کینسر پر خرچ کر دیتے ہیں‘ یہ بھی پتہ چلا سگریٹ کی وجہ سے معذور بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہو رہا ہے‘ یہ بھی معلوم ہوا تمباکو سے سگریٹ نوش اتنے متاثر نہیں ہوتے جتنے ان کے اردگرد موجود نان سموکر ہوتے ہیں اور یہ بھی پتہ چلا سگریٹ نوشوں کی عادت بد کے اثرات تیسری نسل تک جاتے ہیں۔

یہ تمام اعدادوشمار اور انکشافات ہولناک تھے چنانچہ پوری دنیا میں تمباکو‘سگریٹ اور سموکنگ کے خلاف مہم شروع ہو گئی‘ یورپ کے تمام ملکوں نے سگریٹ پر ہیوی ٹیکس اور ڈیوٹیز لگا دیں‘ سگریٹ نوشی کو کنٹرول کرنے کےلئے قوانین بھی بن گئے‘ شروع میں دفتروں اور عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی لگا ئی گئی اور پھر ہوٹلوں‘ ریستورانوں‘ گلیوں‘ کافی شاپس‘ بسوں‘ ٹرینوں اور ہوائی جہازوں میں پابندی لگائی گئی اور اب تقریباً تمام عمارتوں کے اندر سگریٹ نوشی منع ہے‘

دنیا کے اسی فیصد ملکوں میں بچوں کو سگریٹ فروخت نہیں کئے جاتے‘ پوری دنیا میں سگریٹ کی ڈبی پر کینسر کی وارننگ بھی لازم قرار پا چکی ہے‘ دنیا کے مختلف ملکوں میں وارننگ کا سائز بڑھتے بڑھتے 80 فیصد ہو چکا ہے‘ آپ کو ڈبی کے 80 فیصد حصے پر کینسر کے کسی مریض کی خوفناک تصویر دکھائی دیتی ہے تاہم پاکستان میں یہ وارننگ ابھی تک 50فیصد ہے‘ حکومت کو اسے بھی بڑا کرنا چاہیے‘ تمام سینما گھروں میں فلم سے قبل سگریٹ نوشی کے خلاف اعلان بھی دکھایا جاتا ہے اور پوری دنیا میں سگریٹ کے اشتہارات پر بھی پابندی ہے‘ یہ تمام انتظامات اپنی جگہ لیکن سگریٹ نوشی اور اس کے اثرات کنٹرول نہیں ہو رہے‘

ہمارے ملک میں لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ سگریٹ کے ہاتھوں تباہ ہو رہے ہیں‘ خاندان کے خاندان اجڑ گئے‘ آپ کسی ہسپتال میں چلے جائیں‘ آپ کو وہاں ہر دوسرا شخص سگریٹ کا شکار ملے گا‘ ترقی یافتہ دنیا اس مسئلے کے تدارک کےلئے دھڑا دھڑ قوانین بنا رہی ہے‘ ہمارے ملک میں 20سگریٹ کی جو ڈبی 160 روپے میں ملتی ہے وہ آسٹریلیا میں 20 ڈالر‘ نیوزی لینڈ میں18ڈالر‘ آئر لینڈمیں 13ڈالر اوربرطانیہ میں12 ڈالر میں بکتی ہے‘ یہ رقم پاکستانی روپوں میں بالترتیب 2780روپے‘2502روپے‘ 1807روپے اور1668روپے بنتے ہیں

گویاآسٹریلیا میں سگریٹ ہمارے مقابلے میں16گنا‘ نیوزی لینڈ میں15گنا‘آئر لینڈ میں10 گنااور برطانیہ میں9 گنا مہنگا ہے‘ ترقی یافتہ قومیں سگریٹ سے حاصل ہونے والی یہ اضافی آمدنی محکمہ صحت کو بھجوا دیتی ہیں اور محکمہ صحت یہ رقم سگریٹ نوشی کے اثرات پر تحقیق ‘ سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریوں اور کینسر کے مریضوں کے علاج پر خرچ کرتا ہے یوں سگریٹ نوشوں کی رقم سے تمباکو کے برے اثرات کے شکار لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے‘

قاتل کی بندوق اور قاتل کی گولی سے قاتل کو قتل کی سزا دی جاتی ہے‘ ذمہ داروں پر ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جاتا ہے۔یہ ایک بہت اچھا تصور ہے‘ سگریٹ کی صنعت اور سگریٹ نوش اگر دوسروں کی جان اور صحت کے ساتھ کھیل رہے ہیں تو پھر انہیں اس ظلم کا تاوان بھی ادا کرنا چاہیے‘ان لوگوں کو عام لوگوں کی بیماری کا بوجھ بھی اٹھانا چاہیے۔حکومت پاکستان بھی اب یورپین پیٹرن پر ”گناہ ٹیکس“ کے نام سے ایک نیا ٹیکس متعارف کرا رہی ہے‘ حکومت سگریٹ کی ہر ڈبی پر دس روپے اور مشروبات کی ہر بوتل پر ایک روپیہ ٹیکس وصول کر ےگی اور یہ رقم بعد ازاں ہیلتھ انشورنس سکیم اورمہلک بیماریوں کے خاتمے پر خرچ کی جائے گی‘

یہ حکومت کا پہلا ایسا اینی شیٹو ہے میں جس کی کھل کر حمایت کروں گا‘ سگریٹ نوشی کی وجہ سے محکمہ صحت اور ہسپتال دونوں دباﺅ میں ہیں‘ تمباکو نوش جہاں خود بیمار ہوتے ہیں یہ وہاں پورے معاشرے کو بھی بیمار کر رہے ہیں‘ ہم سگریٹ نہ پینے والے لوگ ان سگریٹ نوشوں اور ان کی پھیلائی بیماریوں کا بوجھ اٹھارہے ہیں‘ یہ بوجھ بھی ان لوگوں کو اٹھانا چاہیے چنانچہ حکومت کو چاہیے یہ دس کی بجائے تیس بلکہ پچاس روپے گناہ ٹیکس لگائے اور یہ رقم سیدھی امراض قلب‘ ٹی بی اور کینسر کے ہسپتالوں کو دے دی جائے‘

مشروبات بھی معدے‘ قلب اور دماغ کے امراض پیدا کر رہے ہیں‘ مشروبات ساز کمپنیاں ہر سال لاکھوں لوگوں کو بیمار کر کے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے حوالے کر دیتی ہیں‘ حکومت کو مشروبات سے لطف لینے اور مشروبات بنانے والی کمپنیوں دونوں سے اس گناہ کا تاوان وصول کرنا چاہیے‘ پٹرول بیچنے والی کمپنیاں بھی ماحول کو آلودہ کر رہی ہیں‘ ہماری ہوا میں اب آکسیجن کم اور دھاتیں اور کینسر پیدا کرنے والے مادے زیادہ ہیں‘ حکومت پٹرول پر بھی ماحولیات ٹیکس لگائے اور یہ ٹیکس روزانہ کی بنیاد پر وصول کر کے ماحولیات کی وزارت کو منتقل کیا جائے

اور آپ اسی طرح بناسپتی گھی اور کوکنگ آئل بنانے والی کمپنیوں پر بھی ”ہیلتھ اویئرنیس ٹیکس“ لگائیں اور یہ ٹیکس بھی محکمہ صحت کو روزانہ کی بنیاد پر منتقل کر دیا جائے اور ساتھ ہی ان اداروں کو سال کا روڈ میپ بھی دے دیا جائے اور ان سے ہر ماہ پوچھا جائے آپ نے پچھلے تیس دنوں میںکیا کیا؟ ان محکموں کے جن لوگوں کی کارکردگی ٹھیک نہ ہو‘ ان لوگوں کو نکما ڈکلیئر کر کے وزارت خزانہ میں اسد عمر کے حوالے کر دیا جائے اور یہ انہیں اپنے پرسنل سٹاف میں شامل کر لیں۔

یہ گناہ ٹیکس ملک میں واقعی تبدیلی لے آئے گا چنانچہ میں گناہ ٹیکس پر حکومت کو خراج تحسین بھی پیش کرتا ہوں‘ حمایت کا اعلان بھی کرتا ہوں اور ان سے گناہ ٹیکس کے جلد سے جلد نفاذ کی درخواست بھی کرتا ہوں‘ میری حکومت سے اپیل ہے آپ یہ اعلان بھی کر دیں ہم فلاں سال تک پاکستان کو سگریٹ نوشی سے پاک کر دیں گے‘ہم اگر یہ کر گئے‘ہم نے اگر پاکستان کو دنیا کا پہلا سموکنگ فری ملک بنا دیا تو یہ واقعی کمال ہو گا‘ ہم دنیا کو حیران کر دیں گے‘ میرا خیال ہے عمران خان کم از کم یہ کام ضرور کر سکتے ہیں۔

The post گناہ ٹیکس appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/12/13/530992

Tuesday, December 11, 2018

کنکر جوتے کے اندر ہے

”یہ پلان بی ہے‘ حکومت اگر بے بس ہو گئی تو یہ نئے الیکشن کرا دے گی“ صاحب نے جیب سے سگار نکالا‘ ماچس رگڑی اور شعلہ سگار کے سرے پر رکھ دیا‘ کمرے میں کیوبن سگار کی ہلکی ہلکی خوشبو پھیلنے لگی‘ مجھے تمباکو کی بو پسند نہیں ‘ مجھے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن سگار میں نہ جانے کیا جادو ہے مجھے اس کی خوشبو مدہوش کر دیتی ہے‘ میں دھوئیں کے اندر بیٹھا رہتا ہوں اور سگار کی خوشبو کلاسیکل موسیقی کی طرح میرے اندر بجتی‘ میرے باطن کو گدگداتی رہتی ہے‘

صاحب بھی آہستہ آہستہ مدہوش ہو رہے تھے‘ وہ سگار پی رہے تھے اور اپنے ریشمی گاﺅن کی ڈوریاں کھول اور بند کر رہے تھے‘ آتش دان میں لکڑیاں چٹخ رہی تھیں‘ کمرے میں مدہم مدہم سی گرمائش تھی اور کھڑکیوں کے پٹوں پر بارش آہستہ آہستہ برس رہی تھی‘ صاحب ذوق کا مجسمہ ہیں‘ وہ آتش دان میں تھوڑی دیر بعد صندل کی چھال ڈال دیتے تھے اور کمرہ فوراً مہکنے لگتا تھا‘ میں نے صاحب سے پوچھا ”کیا عمران خان واقعی ارلی الیکشن کرا دے گا“ صاحب نے مسکرا کر جواب دیا ”ہاں یہ اس کا پلان بی ہے‘ اپوزیشن نے اگر قانون سازی میں حکومت کی مدد نہ کی تو خان حکومتیں توڑ کر ارلی الیکشن کرا دے گا“ میں نے حیرت سے پوچھا ”کیا آپ سیریس ہیں‘ حکومت کو ابھی جمعہ جمعہ چار ماہ بھی پورے نہیں ہوئے اورآپ ارلی الیکشن کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘ کیا یہ عقل مندی ہو گی؟“ صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ” آج کے دور میں عقل مندی کی توقع سے بڑی کوئی بے وقوفی نہیں‘ مقابلہ اب حماقت اور بہت زیادہ حماقت کے درمیان ہے“ وہ رکے‘ سگار کا لمبا کش لیا اور ہونٹوں کے کونوں سے دھوئیں اگلنے لگے‘ میں نے پوچھا ”لیکن عمران خان یہ حماقت کیوں کریں گے“ صاحب نے خوفناک مکروہ قہقہہ لگایا اور پھر بولے ”یہ سمجھتے ہیں حکومت کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کےلئے دو تہائی اکثریت چاہیے چنانچہ یہ پہلے اپنے مخالفین کو جیلوں میں پہنچائیں گے‘ میاں نواز شریف اپنے تمام اہم ساتھیوں خواجہ آصف‘ خواجہ سعد رفیق‘ احسن اقبال‘ شاہد خاقان عباسی اور پرویز رشید کے ساتھ جیل پہنچ جائیں گے‘

مولانا فضل الرحمن ‘ محمود خان اچکزئی اور بلاول بھٹو بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم لیڈروںکے ساتھ جیل میں ہوں گے‘ یہ تمام لوگ جب سات سات ‘دس دس سال کےلئے قید ہو جائیں گے تو عمران خان کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا‘ یہ اطمینان سے ارلی الیکشن کروائیں گے اور دو تہائی اکثریت حاصل کر لیں گے“ میں نے بے چینی کے ساتھ کروٹ بدلی اور پوچھا ”لیکن بلاول بھٹو کیوں جیل جائیں گے‘ یہ کبھی اقتدار میں نہیں رہے‘ یہ درست ہے جے آئی ٹی نے سندھ میں 358 ارب روپے کے جعلی اکاﺅنٹس پکڑ لئے ہیں‘ ان اکاﺅنٹس کا آصف علی زرداری کے دوستوں کے ساتھ تو کوئی نہ کوئی تعلق ہو سکتا ہے لیکن بلاول بھٹو کے ساتھ نہیں‘

یہ بھی ثابت ہو رہا ہے آصف علی زرداری کے دوستوں نے بینک بنایا‘ بینک کی گارنٹی کی رقم کراچی کے سرکاری ٹھیکیدار قسطوں میں جمع کراتے رہے‘ ٹھیکیداروں نے اپنا جرم بھی تسلیم کر لیا اور جے آئی ٹی کو یہ بھی بتا دیا‘ یہ کس کے حکم پر کس کے اکاﺅنٹ میں کتنی رقم جمع کراتے رہے‘ یہ بھی ثابت ہو رہا ہے جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے رقم کراچی سے دوبئی‘ دوبئی سے سوئٹزر لینڈ اور وہاں سے لندن جاتی رہی اور یہ رقم لندن میں ایک خاتون اور برطانیہ میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر کے ایک صاحبزادے کے اکاﺅنٹ میں پارک ہوتی رہی اور یہ دونوں اس سے پراپرٹی خریدتے رہے لیکن اس میں بلاول بھٹو کا کوئی ہاتھ‘ کوئی عمل دخل نہیں تھا“۔

صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولے ”بلاول بھٹو کی گرفتاری کی دو وجوہات ہیں‘ پہلی وجہ قانونی اور دوسری سیاسی ہے‘ ہم پہلے قانونی وجہ کی طرف آتے ہیں‘ آصف علی زرداری نے 2008ءمیں اقتدار میں آنے کے بعد اپنا کاروبار اور زیادہ تر کمپنیاں بچوں کے نام کر دی تھیں چنانچہ آصف علی زرداری قانوناً کسی اصلی یا جعلی اکاﺅنٹ اور کسی سودے کے بینی فشری نہیں ہیں‘ بینی فشری بلاول بھٹو ہیں‘ زرداری خاندان نے 2008ءسے 2014ءکے درمیان بلاول ہاﺅس کراچی کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے موجود 48 گھر‘ پلازے اور زمینیں خرید یں‘ یہ پراپرٹیز بعدازاں بلاول ہاﺅس میں ضم کر دی گئیں‘

یہ خریداری جس کمپنی کے ذریعے ہوئی وہ بلاول بھٹوکے نام ہے‘ جے آئی ٹی کو چند کلیوز ملے ہیں جن سے اب یہ ثابت کرنا مشکل نہیں کہ رقم پہلے جعلی اکاﺅنٹس سے اس کمپنی میں آئی اور کمپنی نے یہ رقم بلاول ہاﺅس کے گرد موجود پراپرٹیز کی خریداری میں استعمال کی‘ یہ رقم 84 ارب روپے ہے چنانچہ بلاول بھٹو بڑی آسانی سے شکنجے میں آ جائیں گے‘ یہ قانونی وجہ تھی‘ میں اب تمہیں سیاسی وجہ بتاتا ہوں‘ عمران خان کو زرداری صاحب سے کوئی خطرہ نہیں‘ یہ بیمار بھی ہیں اور پارٹی ان کے امیج کی وجہ سے ان سے خوش بھی نہیں‘

حکومت کو اصل خطرہ بلاول بھٹو سے ہے‘ یہ باہر رہیں گے تو حکومت کےلئے حکومت مشکل ہو جائے گی‘ عمران خان بلاول کی موجودگی میں ارلی الیکشن کا رسک بھی نہیں لے سکتے چنانچہ بلاول کی گرفتاری حکومت کو سوٹ کرتی ہے‘ بلاول کے مقابلے میں اگر آصف علی زرداری گرفتار ہوتے ہیں تو حکومت انہیں اٹھا اٹھا کر ہسپتالوں میں بھی پھرتی رہے گی اور ان کی گرفتاری سے پاکستان پیپلز پارٹی کو نئی آکسیجن بھی مل جائے گی ‘ پاکستان تحریک انصاف کسی قیمت پر یہ نہیں چاہے گی

چنانچہ گرفتار بہرحال بلاول بھٹو ہی ہوں گے اور زرداری صاحب بیٹے کی رہائی اور جیل میں اس کےلئے رعایتوں کے بدلے حکومت سے ہر قسم کے تعاون کےلئے تیار ہو جائیں گے“ وہ خاموش ہو گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ”اور میاں نواز شریف؟“ وہ اداس لہجے میں بولے ”میاں صاحب بے چارے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر ابھی تک جیل کے شاک سے نہیں نکلے‘ یہ دونوں بری طرح بیمار ہو چکے ہیں‘ کیپٹن صفدر نے وزن کم کرنے کےلئے لندن سے اپنا معدہ آدھا کروایا تھا‘

یہ جیل میں مخصوص خوراک نہیں کھا سکے چنانچہ یہ بری طرح بیمار ہو گئے‘ جیل میں گرمی اور حبس تھالہٰذا مریم نواز بھی بیمار ہو گئیں‘ میاں نواز شریف کو اپنی اہلیہ دنیا کی ہر چیز‘ ہر عہدے سے زیادہ عزیز تھیں‘ یہ ان کے انتقال کے شاک سے باہر نہیں آ سکے اور یہ شاید کبھی نہ آ سکیں‘ یہ دن کا ایک حصہ والدہ کے ساتھ گزارتے ہیں‘ ایک حصہ اہلیہ کی قبر پر صرف کرتے ہیں اور ان کا باقی وقت وکلاءاور تلاوت قرآن مجید پر خرچ ہوتا ہے‘ ان کی یادداشت بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے‘ یہ نام‘ مقام اور واقعات بھولنا شروع ہو گئے ہیں‘

یہ کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کےلئے بھی تیار نہیں ہیں چنانچہ حکومت کے پاس اب ان کےلئے دو آپشن ہیں‘ یہ انہیں جیل میں ڈال دے یا پھر میاں شہباز شریف سے یہ گارنٹی لے لے میاں نواز شریف سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لیں گے اور یہ باقی زندگی خاموش رہیں گے‘ حکومت اس گارنٹی کے بعد میاں نواز شریف کو ان کے حال پر چھوڑ دے مگر میاں نواز شریف یہ آپشن قبول نہیں کررہے لہٰذا یہ اب العزیزیہ اور فلیگ شپ کے مقدموں میں اندر ہو جائیں گے‘

پیچھے رہ گئے مولانا فضل الرحمن‘ محمود خان اچکزئی اور میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی تو یہ چپ چاپ ملک سے باہر چلے جائیں گے یا پھر یہ بھی اندر ہو جائیں گے‘ ان گرفتاریوں کے بعد دونوں پارٹیوں کے پاس دو آپشن ہوں گے‘ یہ حکومت سے تعاون کریں‘ پارلیمنٹ کو قاعدے کے مطابق چلنے دیں‘ حکومتی بلوں کی حمایت کریں یا پھر حکومت جب بھی بل پاس کرانے لگے تو یہ واک آﺅٹ کر کے پارلیمنٹ ہاﺅس کی کینٹین میں چلے جائیں اور بل پاس ہونے کے بعد واپس آ جائیں یا پھر ارلی الیکشن کےلئے تیار ہو جائیں“ وہ خاموش ہو گئے۔

میں نے کرسی پر کروٹ بدلی اور پھر ان سے پوچھا ” کیا عوام مہنگائی‘ بے روزگاری‘ غربت‘ لاءاینڈ آرڈر کی دگرگوں صورتحال اور مس گورننس کے باوجود عمران خان کو ٹو تھرڈ میجارٹی دے دیں گے“ صاحب نے سگار کا ایک اور کش لیا اور ناک سے دھواں نکال کر بولے ”ہاں بڑی آسانی کے ساتھ‘ آپ کے تمام مخالف پہلوان جب اکھاڑ سے باہر ہوں گے اور جب فیصلہ کن قوتیں آپ کے ساتھ ہوں گی تو ٹو تھرڈ کیا آپ کو تھری تھرڈ میجارٹی بھی مل سکتی ہے اور عمران خان آسانی سے یہ حاصل کر لیں گے“

وہ خاموش ہو گئے‘ ملازم نے صاحب کی کافی کا کپ میز پر رکھ دیا‘ صاحب نے کپ اٹھایا‘ ناک کے قریب لا کر کافی کی خوشبو سونگھی‘ سرشار لہجے میں واہ واہ کیا‘ کافی کا ایک گھونٹ بھرا اور میری طرف متوجہ ہو گئے‘ میں نے ان سے پوچھا ”کیا عمران خان ٹوتھرڈ میجارٹی لے کر پرانے پاکستان کو نیا بنا دیں گے“ صاحب نے بلند قہقہہ لگایا اور گردن نفی میں ہلا کر بولے ”نہیں ہرگز نہیں‘ نیا تو دور پرانا پاکستان بھی مزید پھٹ جائے گا‘ عمران خان اپنی ناکامی سے پوری دنیا کو پریشان کر دیں گے‘ یہ اپنے تمام معاونین کے چھکے چھڑا دیں گے اور یہ مایوس ہو کر باہر چلے جائیں گے“

میں نے حیرت سے پوچھا ”وہ کیوں؟“ صاحب نے کافی کا دوسرا گھونٹ بھرا اور بولے ”اگر پتھر آپ کے راستے میں ہوں تو آپ اچھے جوتے پہن کر سفر جاری رکھ سکتے ہیں لیکن کنکر آپ کے جوتے کے اندر ہو تو سڑک یا راستہ خواہ کتنا ہی ہموار کیوں نہ ہو آپ چل نہیں پاتے‘ آپ سفر نہیں کر سکتے اور عمران خان کے راستے میں پتھر نہیں ہیں ‘ ان کے کنکر ان کے جوتے کے اندر ہیں اور یہ جب تک یہ کنکر نہیں نکالیں گے‘ یہ اس وقت تک سفر نہیں کر سکیں گے‘ خواہ یہ کتنے ہی ارلی الیکشن کرا لیں اور عوام خواہ انہیں کتنے ہی ووٹ دے دیں“میں نے صاحب سے ہاتھ ملایا‘ سلام کیا اور باہر آ گیا‘ باہر سردیوں کی پہلی بارش شروع ہو چکی تھی۔

The post کنکر جوتے کے اندر ہے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/12/11/530343

Sunday, December 9, 2018

یہ بندہ اتنا برا نہیں

میں نے بچپن میں قاتل اور جج کی ایک کہانی پڑھی تھی‘ کہانی کچھ یوں تھی‘ جج قاتل کو سزائے موت سناتا ہے‘ قاتل یہ سزا ہنس کر قبول کر لیتا ہے لیکن ساتھ ہی جج صاحب سے درخواست کرتا ہے فلاں گاؤں میں میرے بیوی بچے رہتے ہیں‘ وہ بہت غریب ہیں‘ وہ شہر نہیں آ سکیں گے چنانچہ مجھے جب پھانسی ہو جائے تو میری لاش آپ گاؤں پہنچا ئیں گے‘ جج یہ درخواست منظور کر لیتا ہے‘ قاتل کو چند ماہ بعد پھانسی ہو جاتی ہے‘ جج لاش لے کر گاؤں پہنچتا ہے اور یہاں سے اس کی زندگی کا پورا زاویہ تبدیل ہو جاتا ہے‘

وہ گاؤں میں غربت اور جہالت دیکھتا ہے‘ وہ جاگیرداروں کے ہاتھوں غریبوں کو پامال ہوتے دیکھتا ہے اور اسے یہ پتہ چلتا ہے وہ جس شخص کو قاتل سمجھتا رہا تھا وہ مکمل بے گناہ تھا‘ اصل قاتل گاؤں کا چودھری تھا‘چودھری نے پولیس کے ساتھ مل کر مجرم کو بلاوجہ پھنسایا تھا وغیرہ وغیرہ‘ یہ حقائق دیکھ کر جج کا جوڈیشل سسٹم سے یقین اٹھ جاتا ہے‘ وہ استعفیٰ دیتا ہے اور اپنی باقی زندگی قاتل کے بچوں کی پرورش اور گاؤں کی بہبود کیلئے وقف کر دیتا ہے۔ ملک ریاض کی کہانی بھی اس قاتل سے ملتی جلتی ہے‘ میں اس شخص کو 1996ء سے جانتا ہوں‘ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے معمولی پراپرٹی ڈیلر سے پاکستان کا سب سے بڑا رئیل سٹیٹ ٹائی کون بنتے دیکھا‘ یہ ٹھیکیدار تھا لیکن اس ٹھیکیدار نے پورے ملک کا لیونگ سٹینڈر تبدیل کر دیا‘ آپ کو آج کراچی سے لے کر خیبر تک جتنی ماڈرن عمارتیں نظر آتی ہیں‘ آپ کو ملک میں ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے جتنے پھول‘ بوٹے اور درخت نظر آتے ہیں اور آپ کو ملک کے مختلف حصوں میں کنسٹرکشن کی جتنی ماڈرن مشینری نظر آتی ہے یہ سب اس ایک شخص کا کمال ہے‘ یہ ملک میں مشینری بھی لے کر آیا‘ کنسٹرکشن کی جدید تکنیکس بھی‘ پل‘ اوور ہیڈ برج‘ انڈر پاس اور ٹنل بنانے کی ٹیکنالوجی بھی اور ملک میں ایلومینیم‘ یو پی وی سی‘ ڈبل گلیزڈ شیشہ اور ماڈرن کھڑکیاں‘ دروازے اور ٹائلز بھی اس شخص نے متعارف کرائیں‘ آپ تعمیرات سے وابستہ 60 انڈسٹریز میں سے کسی انڈسٹری کے کسی مالک سے جا کر مل لیں‘ وہ ملک ریاض کو اپنا محسن بھی کہے گا اور اس کا شکریہ بھی ادا کرے گا‘لوگ منہ سے کہیں گے یہ نہ ہوتا تو شاید ہم بھی نہ ہوتے‘

آپ لاہور‘ کراچی‘ راولپنڈی اور اسلام آباد کے بحریہ ٹاؤن میں رہنے والے کسی شخص کو روک کر پوچھ لیں وہ بھی گھنٹہ بھر اس شخص کی تعریف کرے گا‘ آپ بزنس مینوں‘ اوورسیز پاکستانیوں‘ ریٹائرڈ فوجی افسروں‘ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ایگزیکٹوز‘ بیورو کریٹس‘ ججز‘ سیاستدانوں اور پرائیویٹ ملازمین کے رہائشی ایڈریسز دیکھ لیجئے‘ آپ کو ملک کا ہر اہم شخص بحریہ ٹاؤن کا شہری ملے گا‘ آپ ملک ریاض کے سکولوں‘ کالجوں‘ ہسپتالوں‘ مسجدوں اور شاپنگ سنٹروں میں جانے والے لوگوں کا ڈیٹا بھی نکال لیجئے‘

آپ کو ہر شخص اس کی تعریف کرتا ملے گا لیکن آپ اس کے ساتھ ساتھ ملک ریاض کے مخالفین کی فہرست بھی دیکھ لیجئے‘ آپ کو ملک میں اس کے لاکھوں مخالف ملیں گے‘ آپ کو اکثر لوگ ”کھا گیا‘ لوٹ گیا‘ قبضہ کر گیا“ کہتے بھی ملیں گے‘ میں اکثر سوچتا ہوں پہلے لوگ کون ہیں اور دوسرے لوگ کون ہیں تو مجھے فوراً قاتل اور جج کی کہانی یاد آ جاتی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں پہلے لوگ قاتل کے گاؤں کے باسی ہیں‘ یہ اس کے قریب یا اس کے آباد کردہ شہروں میں رہتے ہیں

جبکہ دوسرے لوگ وہ جج ہیں جو کرسیوں پر بیٹھ کر صرف پرسپشن پر فیصلے کر رہے ہیں اور یہ حقیقت ہے ملک ریاض کی پوری زندگی ان دوسرے لوگوں سے لڑتے لڑتے ضائع ہو گئی‘اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو وژن اور ڈیلیوری دونوں سے نواز رکھا ہے‘ یہ صرف میٹرک پاس ہے لیکن اس نے انتہائی نامساعد حالات میں کمال کر دیا‘ حکومتیں پورا زور لگا کر پچھلے پچاس برسوں میں ملک کے دس بڑے شہروں میں کوئی ایک نیا سیکٹر ڈویلپ نہیں کر سکیں لیکن اس اکیلے شخص نے چار بڑے شہروں میں پورے پورے شہر آباد کر دیئے‘آخر اس میں کوئی تو کمال ہو گا؟

کاش حکومتیں اس سے مدد لیتیں‘ یہ اس سے تعاون کرتیں تو یہ پورے ملک کا حلیہ بدل دیتا‘ آپ آج اسلام آباد اس کے حوالے کر دیں اور اسے پانچ سال دے دیں‘ یہ اگر اس شہر کو پانچ سال میں سنگا پور نہ بنا دے تو آپ اسے پھانسی چڑھا دیجئے گا مگر افسوس کا مقام ہے ہم نے اس شخص کو بھی بستر کے ساتھ لگا دیا ہے‘ ہم اس کو بھی تباہی کی عبرت ناک مثال بنا دینا چاہتے ہیں‘ کیوں؟ آخر اس کا جرم کیا ہے؟۔ہم پوری دنیا میں سی پیک کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں‘ چین پاکستان میں پندرہ برسوں میں جتنی سرمایہ کاری کرے گا یہ اکیلا شخص اتنی رقم اس ملک میں لگا کر بیٹھا ہے‘

یہ اگر یہ رقم ملک سے باہر لے جاتا تو اسے کون روک سکتا تھا؟ ہم نے ناک رگڑ کر سعودی عرب سے صرف ایک بلین ڈالر لیا‘ ہم آئی ایم ایف کا سات بلین ڈالر کا پیکج لینے کیلئے ڈالر کی مالیت میں بھی اضافہ کر رہے ہیں‘ ٹیکس‘ بجلی‘ پٹرول اور گیس کی قیمتیں بھی بڑھا رہے ہیں اور عوام کو بھی مہنگائی کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں لیکن اس اکیلے شخص کی ویلیو تین ہزار ارب روپے ہے‘ یہ اپنی ذات میں ایک آئی ایم ایف ہے‘یہ سعودی عرب سے زیادہ پاکستان کا دوست ہے‘

آپ پاکستان میں کام کرنے والی تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور اثاثوں کی مالیت بھی جمع کیجئے اور آپ اس کے بعد بحریہ ٹاؤن کی کسی ایک کمرشل ڈسٹرکٹ کی مالیت دیکھ لیجئے‘ آپ کو یہ کمرشل ڈسٹرکٹ مالیت میں ملک میں کام کرنے والی تمام ملٹی نیشنل کمپنیوں سے بڑی ملے گی لیکن اس شخص نے کل مجھے فون کر کے کہا ”یہ لوگ مجھے مار دینا چاہتے ہیں“آخر کیوں؟آخر اس کاقصور کیا ہے؟ ہم خزانے اور ڈیم کیلئے ڈالر ڈالر کر رہے ہیں‘ ہم ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر دیامر بھاشا ڈیم کیلئے بمشکل 8ارب 47 کروڑ جمع کر پائے ہیں‘

آپ آج ملک ریاض کے ساتھ بیٹھئے اور اسے اسلام آباد کا کوئی خالی سیکٹر دے دیجئے‘ یہ وہاں اوور سیز سٹی بنائے گا‘ ڈالروں میں بکنگ کرے گا اور آپ کے پاس ڈالر ہی ڈالر آ جائیں گے‘ آج بھی ملک میں اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے بڑی سرمایہ کاری بحریہ ٹاؤن میں ہے اور یہ بھی حقیقت ہے ملک میں اگر کوئی شخص حکومت کیلئے 50 لاکھ گھر بنا سکتا ہے تو وہ شخص ملک ریاض ہے لیکن ہم اس کے پوٹینشل‘ اس کی کریڈیبلٹی اور اس کی مہارت کا فائدہ اٹھانے کی بجائے اسے عبرت ناک مثال بنا دینا چاہتے ہیں‘

آپ آج آزما لیجئے‘ آپ ایک سکیم حکومت وقت سے اناؤنس کروائیں اور دوسری ملک ریاض کو اناؤنس کرنے دیں‘ فرق ثابت کر دے گا کون زیادہ کریڈیبل ہے‘ حکومت یا ملک ریاض! مگر ہم نے اس شخص کی ناک رگڑ کر رکھ دی‘یہ آج ہر شخص سے اپنا جرم پوچھتا پھر رہا ہے اور لوگ ہنس کر منہ دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ہم کچھ نہ کریں‘ ہم بس ایک فیصلہ کر لیں‘ ہم جج کی طرح اس مجرم کا فیصلہ اس کے آباد کردہ شہر میں عوام کے درمیان کھڑے ہو کر کریں گے‘ یقین کریں مسئلہ ختم ہو جائے گا۔

آپ کراچی کے ایشو کولے لیں‘ ملک ریاض نے 2015ء میں بحریہ ٹاؤن کراچی لانچ کیا‘ یہ ساڑھے چھ ارب روپے کا منصوبہ تھا‘ دو لاکھ لوگوں نے وہاں پلاٹس‘ ولاز‘ فلیٹس اور گھر خریدے‘ اس شخص نے ساڑھے تین سال میں پورا شہر آباد کر دیا‘ گیارہ ہزار فلیٹس اور گھر بن گئے‘ اٹھارہ سو کلومیٹر سڑکیں بن گئیں‘ ایک کروڑ درخت لگ گئے اور دنیا کی تیسری بڑی مسجد بن گئی‘ ایشیا کا سب سے بڑا گالف کورس اور ساؤتھ ایشیا کے سب سے بڑے ڈانسنگ فاؤنٹین بھی بن گئے او ر لوگ وہاں باقاعدہ رہائش پذیر ہو گئے لیکن ہمیں اچانک معلوم ہوا یہ زمین سرکاری تھی‘

ملک ریاض کا کہنا ہے میں نے تمام قانونی کارروائی مکمل کی‘ اربوں روپے ٹیکس دیا‘ پانی کے کنکشن کیلئے بھی 35 کروڑ روپے جمع کرا دیئے‘ہم 16 کروڑ روپے کا ماہانہ بل بھی جمع کرا رہے ہیں‘ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ساتھ زمین کے تبادلے کا قانون 1982ء میں منظور ہوا‘ ڈی ایچ اے سمیت 13 ہاؤسنگ سکیموں نے زمینوں کا تبادلہ کیا‘ سندھ گورنمنٹ اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی دونوں معاہدے کو قانونی کہتی ہیں اور ہم شہر بنا چکے ہیں‘ لوگ آباد ہو رہے ہیں لیکن میری جان نہیں چھوٹ رہی‘

مجھے کوئی بتا دے زمین کا تبادلہ اگر غلط تھا تو آپ باقی 13 ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو بھی ساتھ کھڑا کریں‘آپ صرف میرا احتساب کیوں کر رہے ہیں؟ آپ پورے علاقے کو صاف کر دیں‘ صرف بحریہ ٹاؤن کیوں؟ اور ملک ریاض یہ بھی کہتا ہے آپ اس کے باوجود یہ سمجھتے ہیں یہ معاہدہ غلط تھا تو آپ جرمانہ عائد کر دیں‘ آپ وزیراعظم کے بنی گالہ کے گھر کی طرح ہمیں بھی ریگولائزیشن کا آپشن دے دیں‘ ہم زمین کی قیمت اور جرمانہ ادا کرنے کیلئے تیار ہیں‘ ملک ریاض کی یہ بات ”ریزن ایبل“ ہے‘

بحریہ ٹاؤن غلط ہے تو 1982ء کے قانون کا فائدہ اٹھانے والی دوسری سکیمیں کیسے ٹھیک ہو گئیں‘ آپ انہیں بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیں‘ دوسرا آپ اگر ریگولائزیشن کی اجازت دے دیں گے یا جرمانہ عائد کر دیں گے تو ملک کو اربوں روپے بھی مل جائیں گے‘ لوگوں کی کھربوں روپے کی پراپرٹی بھی بچ جائے گی اور رئیل سٹیٹ انڈسٹری بھی تباہ نہیں ہو گی لیکن اس کے برعکس اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو آج بحریہ ٹاؤن کراچی کے 45 ہزار ملازمین بے روزگار ہوئے ہیں‘

اس کی لائٹس بجھ گئی ہیں‘ لوگوں کے اربوں روپے ڈوب گئے ہیں اور پوری رئیل سٹیٹ انڈسٹری کے کڑاکے نکل گئے ہیں تو کل کو رئیل سٹیٹ سے منسلک 60 صنعتیں بھی تباہ ہو جائیں گی‘ لاکھوں لوگ گھروں اور پلاٹوں سے بھی محر وم ہو جائیں گے اور وہ ملک ریاض جو آج بھی پاکستان کیلئے اپنا تن‘ من اور دھن قربان کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہے وہ ہسپتال پہنچ جائے گا یا پھر باقی زندگی ملک سے باہر گزارنے پر مجبور ہوجائے گا‘ کیا یہ ملک کیلئے بہتر ہو گا‘ کیا ہم اس جیسے شخص کو تباہ کر کے‘

اسے ملک سے بھگا کر نیا پاکستان بنا سکیں گے اور کیا غیر ملکی سرمایہ کار ملک ریاض کے انجام کے بعد اس ملک میں سرمایہ کاری کریں گے؟ کیا یہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے پہلے یہ نہیں سوچیں گے جس ملک نے اپنے سرمایہ کار کی قدر نہیں کی وہ ہماری اور ہمارے سرمائے کی کیا قدر‘ کیا عزت کرے گا لیکن آپ اگر اس کے باوجود کوئی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں توپھر میری درخواست ہے آپ یہ فیصلہ بحریہ ٹاؤن میں کھڑے ہو کر کریں‘ عین ممکن ہے آپ دیکھیں اور گرانے ڈھانے کا یہ سلسلہ بند ہو جائے‘ آپ بھی یہ محسوس کریں یہ بندہ اتنا برا نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں۔

The post یہ بندہ اتنا برا نہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/12/09/529711

Friday, December 7, 2018

ریاست مدینہ بناتے بناتے

آپ کسی دن سنگا پور اور پاکستان کا موازنہ کریں آپ حیران رہ جائیں گے‘ پاکستان کا رقبہ پونے نو لاکھ مربع کلو میٹر اور سنگا پور صرف722مربع کلو میٹر پر محیط ہے‘ ہم فوجی لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہیں اور سنگا پور میں صرف 22 ہزار ریگولرفوجی ہیں‘ ہم دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت ہیں اور سنگا پور جوہری ہتھیاروں کے خلاف ہے اور ہم آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک ہیں اور سنگا پور133ویںنمبر پر آتا ہے لیکن آپ دوسری طرف دیکھئے‘

پاکستان کا جی ڈی پی 304بلین ڈالر اور سنگا پور کا 555 بلین ڈالر ہے‘ ہماری فی کس اوسط آمدنی 1629ڈالر جبکہ سنگا پور کی 61ہزار 766 ڈالر ہے‘ ہمارے ملک میں انفلیشن (افراط زر)6.5 فیصد جبکہ سنگا پور میں اعشاریہ 4فیصدہے(آدھ فیصد سے بھی کم)‘ ہماری آدھی آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جبکہ سنگا پور میں کوئی شخص خط غربت سے نیچے نہیں‘ ہمارے ملک کے چھ فیصد لوگ بے روزگار ہیں جبکہ سنگا پور میں صرف دواعشاریہ ایک فیصد لوگ جاب لیس ہیں‘ ہم ایمانداری کے انڈیکس میں 180ملکوں میں117نمبر پر آتے ہیں جبکہ سنگا پور دنیا کا ساتواں ایماندار ترین ملک ہے‘ پاکستان کے فارن ریزروز 14بلین ڈالرز ہیں جبکہ سنگا پور کے پاس 280 بلین ڈالر کے ریزروز ہیں‘ ہم 21 کروڑ لوگ مل کر صرف 24بلین ڈالر کی مصنوعات ایکسپورٹ کرتے ہیں جبکہ 57لاکھ کی آبادی کے ملک سنگا پور کی برآمدات 330 بلین ڈالر ہیں اور ہم جوہری طاقت اور دنیا کا پانچواںبڑا ملک ہونے کے باوجود عدم استحکام کا شکار ہیں جبکہ سنگا پور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا113واںاور رقبے کے لحاظ سے 176واںملک ہونے کے باوجود دنیا کے مستحکم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔آپ نے کبھی سوچا کیوں؟ ہم اس کا کریڈٹ ہمیشہ لی کو آن یو کو دیتے ہیں‘ یہ کریڈٹ درست بھی ہے‘ واقعی یہ وہ شخص تھا جس نے بدبودار جزیرے کو دنیا کا کامیاب اور ترقی یافتہ ترین ملک بنایا لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں لی کو آن یو چند اصولوں اور چند تکنیکس کا مجموعہ تھا‘

اگر یہ اصول‘ اگر یہ تکنیکس نہ ہوتیں تو لی کوآن یو بھی آپ اور میری طرح ایک عام انسان ہوتا‘ یہ بھی پیدا ہوتا‘ بڑا ہوتا‘ بچے پیدا کرتا اور کھانس کھانس کر مر جاتا لہٰذا لی کوآن یو اتنا اہم نہیں تھا جتنی اہم اس کی تکنیکس اور اس کے اصول تھے‘ میں سمجھتا ہوں ہمارے لیڈروں میں سے جو بھی لی کو آن یو کے اصول اور تکنیکس اپنا لے گا وہ لی کوآن یو بن جائے گا اور وہ اس ملک کو سنگا پور بنا دے گا چنانچہ ہمیں کسی لی کوآن یو کا انتظار کرنے کی بجائے صرف اور صرف اس کی تکنیکس اور اصولوں پر توجہ دینی چاہیے اور لی کوآن یو کی تکنیکس میں دو تکنیکس بہت اہم تھیں‘

پہلی تکنیک آبادی تھی اور دوسری تکنیک سکل یعنی مہارت تھی‘ لی کوآن یو نے آج سے پچاس سال پہلے بھانپ لیا تھا سروسزانڈسٹری اکیسویں صدی کی سب سے بڑی انڈسٹری ہو گی چنانچہ اس نے اپنے لوگوں کو سروسز کی ٹریننگ دینا شروع کر دی اور آج سنگا پور کی ایکسپورٹس میں سروسز کابہت بڑا حصہ ہے‘ یہ چھوٹا سا ملک دنیا کو آج سروسز کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کی الیکٹرانکس‘ آلات‘ فارما سوٹیکلز اور کمپیوٹر پارٹس بھی فراہم کر تا ہے‘ لی کو آن یو کی دوسری تکنیک آبادی تھی‘

سنگا پور نے 1957ءمیں آزادی حاصل کی‘ 1960ءتک اس کی آبادی 17 لاکھ تھی‘ آج 58سال بعد یہ آبادی صرف57 لاکھ ہے‘ آپ اس کے مقابلے میں پاکستان کو دیکھئے‘ پاکستان کی آبادی 1960ءمیں ساڑھے چار کروڑ تھی(مشرقی اور مغربی دونوں حصے شامل ہیں) ‘ہماری آبادی1975ءمیں 6 کروڑ 67 لاکھ(صرف مغربی پاکستان) ہو گئی لیکن آج ہم 21 کروڑ ہیں‘ کراچی شہر کی آبادی 1946ءمیں صرف دو لاکھ تھی‘ یہ آج دو کروڑلوگوں کا شہر ہے اور 1947ءمیںلاہور سات لاکھ لوگوں کا شہر تھا‘

آج اس کی آبادی سوا کروڑ ہے چنانچہ ہم اگر اپنے باقی تمام گناہ اور تمام غلطیاں فراموش بھی کر دیں تو بھی ہمیں آبادی اور بے ہنری کی سزا ضرور ملنی چاہیے اور ہم یہ سزا بھگت رہے ہیں‘ ہم اگر آج بھی لی کوآن یو کی صرف دو تکنیکس اٹھا لیں‘ ہم صرف ان پر عمل شروع کر دیں تو کل کا پاکستان آج کے پاکستان سے ہزار گنا بہتر ہو گا اور وہ تکنیکس آبادی اور ہنر ہے۔ہم آج فیصلہ کر لیں ہم کسی بھی قیمت پر آبادی میں اضافہ نہیں ہونے دیں گے‘ ملک میں کوئی بھی شخص شادی کے پانچ سال تک بچہ پیدا نہیں کرے گا‘

شادی سے پہلے میڈیکل ٹیسٹ اورفیملی پلاننگ کی ٹریننگ لازمی ہو گی‘ ملک کا کوئی نکاح خواں میڈیکل سرٹیفکیٹ کے بغیر نکاح نہیں پڑھائے گا‘ وہ اگر نکاح پڑھادے گا تو یہ نکاح رجسٹرڈ نہیں ہوگا اور ریاست اس وقت تک جوڑے کو میاں بیوی تسلیم نہیں کرے گی جب تک وہ میڈیکل ٹیسٹ اور فیملی پلاننگ کی ٹریننگ کا سرٹیفکیٹ جمع نہیں کراتا‘ ملک بھر میں ہر زچگی ہسپتال یا بنیادی مرکز صحت میں ہو گی اور بچہ پیدائش کے فوراً بعد رجسٹر ہو گا‘

حکومت حاملہ خواتین اور ماﺅں کےلئے کورس بھی لازمی قرار دے دے‘ ہم اس ضمن میں بنگلہ دیش اور ایران کا ماڈل بھی لے سکتے ہیں‘ بنگلہ دیش اور ایران نے علماءکرام اور امام مسجدوں کو فیملی پلاننگ میں شامل کیا‘ ملک کے ہر امام کو فیملی پلاننگ کا ملازم بنا دیا گیا چنانچہ آج بنگلہ دیش اور ایران دونوں کی آبادی حکومت کے کنٹرول میں ہے‘ ہم بھی ملک کی تمام مساجد کے اماموں کو ٹریننگ دیں اور انہیں فیملی پلاننگ سے وظائف دینا شروع کر دیں‘ ہم اسی طرح ہائی سکول اور کالج کے سلیبس میں فیملی پلاننگ‘ ماحولیات اور جسمانی صفائی کے مضامین بھی شامل کر دیں اور اساتذہ کو بھی وظائف دینا شروع کر دیں‘

اس سے بھی ”اویئرنیس“میں اضافہ ہو گا‘ ہم اس کے بعد فیصلہ کر لیں ہمارے ملک میں آج کے بعد کوئی شخص بے ہنر نہیں ہو گا‘ وزیراعظم سے لے کر عام شخص تک ملک کا ہر وہ شہری جس کی جیب میں پاکستانی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ ہوگا وہ جرمنی کی طرح کوئی نہ کوئی جسمانی ہنر ضرور جانتا ہو گا‘ جرمنی کا ہر شہری ہنر مند ہے‘ اینجلا مرکل چانسلر بھی ہیں اور ساتھ ہی نائی بھی‘ امریکا کے ہر گھر میں ٹول کٹ ہوتی ہے اور آدھی سے زائد آبادی اپنے گھر خود بنا لیتی ہے‘ پورے یورپ‘ پورے امریکا اور فارایسٹ کے تمام ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ اپنی برف خود صاف کرتے اور اپنی گھاس خود کاٹتے ہیں

جبکہ آپ پاکستان میں سروے کروا لیں پاکستان کے ننانوے فیصد لوگ گھاس تک کاٹنے کے اہل نہیں ہوں گے چنانچہ ہمیں اپنی تعلیم کو علم کے ساتھ ساتھ ہنر پر شفٹ کرنا ہوگا‘ ہمارے سکولوں اور کالجوں کی آدھی تعلیم تھیوری اور آدھی ہنر پر مشتمل ہونی چاہیے‘ ہم لوگ جسمانی طور پر مضبوط ہیں‘ ہم قدرتی لحاظ سے شارپ بھی ہیں‘ حکومت فیصلہ کر لے ہم دو سیکٹرز میں پوری دنیا کو ہیومن ریسورس فراہم کریں گے‘اول سیکورٹی اوردوم آئی ٹی‘آپ یقین کیجئے ہم بہت جلد اپنے قدموں پر کھڑے ہو جائیں گے‘

آپ جسمانی لحاظ سے فٹ لوگوں کو فوج کے حوالے کر دیں‘ یہ انہیں فوجی ٹریننگ دیں اور حکومت انہیں سیکورٹی گارڈز بنا کر یو این آرمی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو دے دے‘ ہماری آبادی کارآمد ہو جائے گی‘ میں اس ضمن میں فجی کی مثال دیتا ہوں‘ فجی کے لوگ جسمانی لحاظ سے مضبوط ہیں چنانچہ برطانیہ نے فجی کے جوانوں کےلئے اپنی فوج کے دروازے کھول رکھے ہیں‘آپ کو آدھی برطانوی فوج فجین ملے گی‘ افریقہ کے تین ملک عرب‘ یورپ اور امریکی ملکوں کو سیکورٹی گارڈز اور باﺅنسرز فراہم کرتے ہیں‘

ہم بڑی آسانی سے یہ مارکیٹ حاصل کر سکتے ہیں‘ ہم بھی سیکورٹی اکیڈمیز بنائیں اور نوجوانوں کو باہر بھجوادیں‘ ہمارے بچے اسی طرح قدرتی طور پر آئی ٹی کوبھی سمجھتے ہیں‘ ہم آدھے کالجوں کو آئی ٹی انسٹیٹیوٹس میں تبدیل کر دیں اور دنیا کو آئی ٹی کا سستا ٹیلنٹ دینا شروع کر دیں‘ آپ یقین کریں پاکستان خوشحال بھی ہو جائے گا اور تبدیل بھی چنانچہ ہم اگر صرف بے ہنری اور آبادی دو شعبوں کو کنٹرول کر لیں تو ہم بڑی حد تک اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے بدھ 5 دسمبر کو بہت اچھا قدم اٹھایا‘ اسلام آبادمیں آبادی کے کنٹرول پر سمپوزیم کیا اور وزیراعظم‘ چاروں صوبوں کے وزراءاعلیٰ اور پوری وفاقی کابینہ کو اکٹھا بٹھا دیا‘ مجھے یقین ہے یہ پالیسی اب قومی پالیسی بن جائے گی اور ریاست اس پر دل و جان سے عمل کرے گی‘ میری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے آپ یہ سلسلہ تھوڑا سا آگے بڑھا دیں‘ آپ جاتے جاتے ملک کے گیارہ بڑے مسئلوں پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا بٹھا ئیں اور دس سال کےلئے قومی پالیسیاں بنا دیں‘

آپ آرمی چیف‘ ملک کی تینوں خفیہ ایجنسیوں کے سربراہوں‘ وزیراعظم‘ وزراءاعلیٰ اور ملک کی پانچ بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو بٹھائیں اور معیشت‘ ڈویلپمنٹ‘ جمہوریت‘ انصاف‘ قانون‘ مذہب‘ تعلیم‘ روزگار‘ صحت‘ پانی اور فارن پالیسی پر ملک کےلئے دس سال کا روڈ میپ تیار کروا دیں اور فیصلہ کر دیں ملک کا کوئی ادارہ اب اس پالیسی کو نہیں چھیڑ ے گا‘ آپ ریاست کو اس ایجنڈے کی تکمیل کا ہدف بھی دے دیں اور اگر ممکن ہو توآپ عمران خان کی سربراہی میں ایک نیشنل گورنمنٹ بھی بنا دیں‘ کیوں؟

کیونکہ مجھے محسوس ہوتا ہے یہ ملک اب نیشنل گورنمنٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا‘ ہم جتنی دیر کریں گے یہ مریض اتنا موت کے قریب ہوتاچلا جائے گالہٰذا ہمیں جذبات سے نکل کر اب پریکٹیکل قدم اٹھانا ہوں گے‘ ہمیں ریاست مدینہ سے پہلے اس ریاست کو ریاست بنانا ہوگا اور یہ دس بیس سال کے حتمی روڈمیپ کے بغیر ممکن نہیں اور یہ روڈ میپ ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی اجتماعی میٹنگ کے سوا نہیں بن سکے گا اور نیشنل گورنمنٹ کے بغیر نہیں چل سکے گا‘ہم نے اگر آج یہ قدم نہ اٹھایا تو تاریخ ہمارے بارے میں بآواز بلند کہے گی‘ یہ وہ لوگ تھے جو ریاست کو ریاست مدینہ بناتے بناتے ریاست ہی سے محروم ہو گئے‘ قائداعظم اول نے لندن سے آ کر ملک بنایا اور قائداعظم ثانی ملک توڑ کر لندن چلا گیا۔کیا ہم یہ چاہتے ہیں!۔

The post ریاست مدینہ بناتے بناتے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/12/07/529106

Thursday, December 6, 2018

بس ایک جنگ باقی ہے

حمیدہ بانو بیگم تیسرے مغل بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کی والدہ تھیں‘ اکبر انہیں مریم مکانی کہتا تھا‘ وہ نسلاً مغل تھیں اور ایران سے تعلق رکھتی تھیں‘ اکبر کے دور میں مریم مکانی کے بے شمار رشتے دار ایران سے ہندوستان شفٹ ہو ئے‘ اکبر کی زندگی کے 14 سال لاہور میں گزرے لہٰذا وہ دل میں لاہور کےلئے انتہائی نرم گوشہ رکھتا تھااور اپنی والدہ کے زیادہ تر رشتے داروں کو لاہور میں سیٹل کرا دیتا تھا‘ محمد قاسم خان بھی ان لوگوں میں شامل تھا‘ وہ مریم مکانی کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا‘

والدین ایران سے آگرہ آئے اور بادشاہ کے حکم پر لاہور منتقل ہو گئے‘ بادشاہ نے خاندان کو لاہور کے مضافات میں جاگیر عنایت کر دی‘ محمد قاسم خان کی آخری زندگی اس جاگیر پر گزری‘ 1635ءمیں اس کا انتقال ہوا اور اسے اس کی جاگیر میں دفن کر دیا گیا‘ پانچواں مغل بادشاہ شاہ جہاں 1630ءمیں لاہورآیا اور اس نے لاہور کے شاہی قلعے میں موتی مسجد بھی بنوائی‘ شالیمار باغ بھی شروع کروایا اور اپنے تمام رشتے داروں کے مزارات بھی تعمیر کرائے‘ ان مزارات میں محمد قاسم خان کا مزار بھی شامل تھا‘ یہ دو منزلہ مزار تھا‘ تہہ خانے میں قبر تھی‘ اوپر بارہ دری اور اس کے اوپر گنبد تھا‘ سکھوں کا دور آیا تو راجہ رنجیت سنگھ نے محمد قاسم خان کے مزار سمیت پوری جاگیر اپنے وزیر خزانہ خوشحال سنگھ کو الاٹ کر دی‘ خوشحال سنگھ نے مزار کے گرد شاندار حویلی بنوانا شروع کر دی‘ خاندان نے محمد قاسم خان کا مزار مسمار کرنے کا فیصلہ کیا لیکن خوشحال سنگھ نے روک دیا یوں حویلی بھی بن گئی اور مزار بھی قائم رہا‘ خوش حال سنگھ کے بعد تیجا سنگھ وزیرخزانہ بنا تو اس نے سیالکوٹ میں اپنی حویلی دے کر خوشحال سنگھ سے یہ حویلی لے لی‘ 1849ءمیں انگریز نے پنجاب فتح کر لیا‘ 1859ءمیں میجر میک گریگر لاہور کا پہلا ڈپٹی کمشنر بنا‘ میجر میک کو یہ حویلی پسند آ گئی اور وہ اس میں اقامت پذیر ہو گیا‘ 1859ءہی میں رابرٹ منٹگمری کو پنجاب کا لیفٹیننٹ گورنر بنا دیا گیا‘ وہ لاہور پہنچا‘

ڈپٹی کمشنر نے اسے گھر پر کھانے کی دعوت دی‘وہ آیا‘ اسے یہ حویلی پسند آئی اور اس نے اسے گورنر ہاﺅس میں تبدیل کر نے کا فیصلہ کر لیا‘ انگریز آرکی ٹیکٹ جان لک ووڈ آیا اور اس نے اپنے شاگرد بھائی رام سنگھ کے ساتھ مل کر عمارت اور فرنیچر ڈیزائن کیا‘ محمد قاسم خان کا مزار نئی عمارت کے نیچے آ گیا‘ آرکی ٹیکٹس نے یہ مزار نہیں چھیڑا‘ اس کے گرد تہہ خانہ بنا دیا گیا اور اوپر گورنر ہاﺅس کا ڈائننگ ہال تعمیر کر دیا گیا‘ یہ ڈائننگ ہال اور محمد قاسم خان کا مزار یہ دونوں آج بھی گورنر ہاﺅس لاہور میں موجود ہیں۔

لاہور کا گورنر ہاﺅس 383 سال کی تاریخ کے ساتھ پاکستان کی شاندار ترین عمارتوں میں شامل ہے‘ یہ مغل‘ سکھ‘ انگریز اور ماڈرن چار ”آرکی ٹیکچرز“ کا مجموعہ ہے‘ رقبہ 85 ایکڑ ہے‘کمپلیکس میں عمارت کے علاوہ خوبصورت لانز‘ گارڈنز‘ جھیل‘ چڑیا گھر اور فوارے ہیں‘ دو دو سوسال پرانے درخت اور پھولوں اور پودوں کی نایاب نسلیں بھی ہیں‘ یہ عمارت اور محمد قاسم خان کا مزار یہ دونوں بابرکت ہیں‘ تاریخ کے 383 برسوں میں لاہور میں ہر قسم کا انقلاب آیا‘ مغل آئے اور رخصت ہوئے‘

دنیا میں سکھوں کی پہلی حکومت بنی اور پھر وہ بھی رخصت ہو گئی‘ انگریز آئے‘ حکومت کی اور برطانیہ واپس چلے گئے‘ پاکستان بنا اور 70 برسوں میں ہر قسم کا حکمران اور حکومت آئی لیکن یہ عمارت اور محمد قاسم خان کا مزار ہر دور میں قائم بھی رہا اور اس کی خوبصورتی اور مضبوطی میں اضافہ بھی ہوتا رہا‘ کیوں؟ اس کیوں کا جواب شاید کسی کے پاس موجود نہیں‘ اللہ تعالیٰ کو کسی انسان کی کوئی ادا پسند آ جاتی ہے اور یہ پھر اس کا نام اور اس کا نشان مٹنے نہیں دیتا‘

محمد قاسم خان نے بھی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی نیکی ضرور کی ہو گی جس کے صدقے اللہ تعالیٰ اس کی قبر اور اس کی جاگیر کی حفاظت کر رہا ہے لہٰذا جو بھی یہاں آتا ہے وہ اس عمارت کونقصان پہنچانے کی بجائے اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر جاتا ہے‘ وہ قاسم خان کی قبر کو مزید مضبوط بنا جاتا ہے‘ آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ تازہ ترین مثال لے لیجئے‘ وزیراعظم عمران خان نے یکم دسمبرکو گورنر ہاﺅس کی بیرونی دیوار گرانے کا حکم دے دیا‘ ایل ڈی اے نے حکم کی پیروی میں دیوار سے جنگلہ اتارنا شروع کر دیا‘

یہ ایشو فوراً لاہور ہائی کورٹ پہنچا اور جسٹس مامون الرشید نے دیواریں گرانے کے خلاف نہ صرف سٹے آرڈر دے دیا بلکہ یہ حکم بھی جاری کر دیا” حکومت کے جس اہلکار نے گورنر ہاﺅس کی دیوار کی ایک اینٹ بھی چھیڑی وہ سیدھا جیل جائے گا“ یہ مثال کیا ثابت کرتی ہے؟ یہ ثابت کرتی ہے کوئی ہے جو اس عمارت اور اس کی حدود کی حفاظت کر رہا ہے‘ وزیراعظم اور خاتون اول دونوں روحانی شخصیات ہیں‘ ان دونوں کو گورنر ہاﺅس کے اس روحانی پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

میں ملک کے سسٹم اور انگریز کی نفسیاتی غلامی کے خلاف ہوں‘ میں سر کے بال سے پاﺅں کے ناخن تک تبدیلی بھی چاہتا ہوں لیکن میں ایسی تبدیلی کے خلاف ہوں جس کی بنیاد پرانی عمارتوں کی لاش پر رکھی جائے‘ آپ حکومت کا کمال دیکھئے‘ یہ ڈیڑھ سو سال پرانی دیوار گرا کر اس کی جگہ چھ کروڑ کا جنگلہ لگانا چاہتی ہے‘ یہ کیسی سادگی‘ یہ کیسی کفایت شعاری ہے؟ آپ پہلے دیوار گرائیں گے اور پھر اس پر چھ کروڑ روپے کا نیا جنگلہ لگا ئیں گے‘ پنجاب کا گورنر آج بھی گورنر ہاﺅس میں بیٹھتا ہے‘

دیوار گرنے اور جنگلہ لگانے کے بعد لاہور گورنر ہاﺅس کی سیکورٹی کا کیا عالم ہو گا؟ کیا اسے آسانی سے دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنایا جا سکے گا؟ حکومت اس عمارت میں یونیورسٹی بنا کر نیا گورنر ہاﺅس بھی بنانا چاہتی ہے‘ آپ یونیورسٹی ضرور بنائیں لیکن سوال یہ ہے کیا نیا گورنر ہاﺅس مفت بنے گا‘ کیا ا س پر پچاس ساٹھ ستر کروڑ روپے خرچ نہیں ہوں گے اور کیا یہ فضول خرچی نہیں ہو گی؟ میں چار دن سے حکومتی ترجمانوں کے منہ سے سن رہا ہوں یہ عمارت انگریز استعمار کی یادگار ہے اور ہم یہ یادگار ختم کر رہے ہیں‘

یہ نقطہ بھی درست ہو سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کیا صرف گورنر ہاﺅس کی دیوار استعماری یادگار ہے‘ پوری عمارت نہیں‘ آپ نے اگر استعماری یادگار ختم کرنی ہے تو پھر آپ پورا گورنر ہاﺅس گرا دیں اور استعمار کے خلاف آپریشن صرف گورنر ہاﺅس تک ہی کیوں محدود رہے؟ پورا مال روڈ انگریزوں کی یادگار ہے‘ آپ گورنمنٹ کالج‘ ٹاﺅن ہال‘ اولڈ کیمپس‘ جی پی او‘ ہائی کورٹ کی عمارت اور 119 سال پرانا چرچ بھی گرا دیں‘ آپ لاہور کا ریلوے سٹیشن بھی گرا دیں اور آپ اس کے بعد کوشش کریں آپ راجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی‘ لاہور کا قلعہ‘ شالیمار گارڈن‘ چوبرجی اور کینٹ میں موجود انگریزوں کی تمام بیرکس بھی گرا دیں‘ کیوں؟

کیونکہ یہ بھی انگریز‘ سکھ اور مغل استعمار کی یادگاریں ہیں اور آپ اگر کوشش کریں تو آپ مینار پاکستان کو بھی گرا کر اس کی جگہ ایک لمباسا بانس لگا سکتے ہیں‘ ہمیں آخر اس مہنگائی میں اتنے بڑے مینار پاکستان کی کیا ضرورت ہے! ہمیں ملک میں سادگی‘ کفایت شعاری اور انقلاب کی ایسی روشن ترین مثالیں قائم کرنی چاہئیں جن سے یہ پھٹا پرانا ملک بھی نیا پاکستان بن جائے اور دنیا بھی ایفل ٹاور‘ مجسمہ آزادی اور بگ بینگ گرا کر ان کی جگہ بانس لگانے پر مجبور ہو جائے‘ ہم دنیا کو لیڈ کریں۔

حکومت کو بہرحال اب بریک لگانی ہو گی ورنہ یہ ملک ایک ایسی کھائی میں جا گرے گا جہاں سے اسے کوئی نہیں نکال سکے گا‘ آپ کی حالت یہ ہے آپ نے صرف 108 دنوں میں معیشت کا بھرکس نکال دیا‘ آپ سو دنوں میں ڈالر تک کو سٹیبل نہیں کر سکے‘ وزیراعظم بھی ڈالر کو ٹیلی ویژن کے ذریعے پرواز کرتا دیکھتے ہیں‘ ملک میں کوئی ایک بھی ایسا شعبہ‘ ڈیپارٹمنٹ یا ادارہ نہیں بچا جو سر پر ہاتھ رکھ کر دہائیاں نہ دے رہا ہو‘ حکومت کے اپنے معاشی ماہرین چلا چلا کر کہہ رہے ہیں ڈالر 180 روپے تک چلا جائے گا‘ 100 دنوں میںڈالر کے اتار چڑھاﺅ سے حکومتی قرضوں میں دو ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو گیا‘

ڈالر نے جمعہ 30نومبرکو جو چھلانگ لگائی صرف اس سے غیرملکی قرضوں میں 750 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا‘ ملک میں کام کرنے والی تین بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ہاتھ اٹھا دیئے ہیں‘ یہ ڈاﺅن سائزنگ بھی کر رہی ہیں اور یہ اپنے آپریشن بھی بند کر رہی ہیں‘ اسلام آباد کے ڈی چوک میں روزانہ کسی نہ کسی ڈیپارٹمنٹ کے ملازمین مظاہرہ کرتے ہیں اور سڑکیں بند ہو جاتی ہیں‘ آپ پٹرول‘ بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی دیکھ لیں اور ملک میں مہنگائی‘ بے روزگاری اور ڈپریشن بھی دیکھ لیجئے لیکن آپ ڈھلوان پر لڑھکتی ان گاڑیوں کو روکنے کی بجائے گرانے اور ڈھانے پر لگے ہوئے ہیں‘

آپ نے آدھے ملک کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا‘ آپ آج ملک کے کسی ائیرپورٹ سے باہر نکلیں آپ کو دائیں بائیں قطار اندر قطار ملبے کے ڈھیر ملتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے آپ کسی جنگ زدہ علاقے میں آگئے ہیں‘ ہماری حالت یہ ہے ہمارے اداروں میں ملبہ تک اٹھانے کی کیپسٹی موجود نہیں لیکن ہم انبار میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ پاگل پن کب تک چلتا رہے گا اور اس کا کیا انجام ہو گا؟ لوگ کہہ رہے ہیں بس ایک جنگ باقی ہے آپ یہ بھی شروع کر دیں‘ آپ انڈیا اور افغانستان پر چڑھ دوڑیں تاکہ ساری کسریں پوری ہو جائیں‘پاکستان واقعی نیا پاکستان بن جائے‘

کاش کوئی حکومت کو سمجھائے گرانے اور ڈھانے سے پرانے ملک نئے ملک بن سکتے تو عراق اور افغانستان دونوں آج امریکا ہوتے‘ گرانے اور ڈھانے کی اپروچ ٹھیک نہیں‘ آپ یہ کام روک کر صرف اور صرف معیشت پر توجہ دیں‘ معیشت کا پہیہ چل پڑا تو پورا ملک ٹھیک ہو جائے گا اور آپ کو پھر گورنر ہاﺅس کی دیواریں گرانا پڑیں گی اور نہ وزیراعظم ہاﺅس کو یونیورسٹی بنانا پڑے گا‘ لوگ آپ کا بت بنا کر ملک کی ہر سڑک پر لگا دیں گے لیکن آپ نے اگر یہ سلسلہ بند نہ کیا‘ آپ نے اگر اپنی سوچ نہ بدلی تو مجھے خطرہ ہے آپ لوگ چھ ماہ بعد اپنے دفتروں‘ گھروں اور حلقوں میں داخل نہیں ہو سکیں گے‘ عوام کے ہاتھوں سے نہ بننے والی حکومت عوام کے ہاتھوں ختم ہو جائے گی۔

The post بس ایک جنگ باقی ہے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/12/06/528803

Tuesday, December 4, 2018

کٹستان

اشفاق کٹا ہمارا کلاس فیلو تھا‘ ہم ایف سی کالج لاہور میں پڑھتے تھے‘ وہ انتہائی ذہین اور محنتی طالب علم تھا بس اس میں ایک خرابی تھی‘ اس کا والد گوالا تھا‘ وہ لوگ مغل پورہ میں رہتے تھے‘ دودھ بیچتے تھے اور خوش حال زندگی گزارتے تھے‘ اشفاق کالج تک پہنچنے والا خاندان کا پہلا بچہ تھا‘ والد چٹا ان پڑھ تھا چنانچہ وہ بیٹے کی اس اچیومنٹ پر بہت خوش تھا‘ وہ اکثر اوقات خالص دیسی گھی‘ مکھن اور دودھ لے کر کالج آ جاتا تھا‘ پروفیسروں سے ملتا تھا‘ بیٹے کی کارکردگی پوچھتا تھا اور واپس جاتے ہوئے پروفیسروں کو گھی کا ڈبہ‘ دودھ کی ڈرمی اور مکھن کا جار پکڑا جاتا تھا

پروفیسر دیر تک اس سوغات کو دیکھتے رہتے تھے اور پھر اشفاق کی طرف دیکھ کر وہ تحفہ چپڑاسی کو دے دیتے تھے‘ اشفاق والد کی ان حرکتوں پر ہمیشہ شرمندہ ہوتا تھا‘ یہ سلسلہ کئی مہینے چلتا رہا لیکن پھر ایک دن انتہا ہو گئی‘ ہم اس دن ایک پیریڈ کے بعد دوسرے پیریڈ کےلئے کلاس روم سے نکلے تو اشفاق کا والد باہر برآمدے میں کھڑا تھا‘ اشفاق کا رنگ فق ہو گیا اور وہ ہم سب کے پیچھے چھپ کر فرار ہونے کی کوشش کرنے لگا ‘ والد کائیاں تھا‘ وہ فوراً بھانپ گیا‘ وہ ہماری صفوں میں گھسا‘ بیٹے کو پکڑا اور گیٹ کی طرف کھینچنے لگا اور اشفاق پیچھے کی طرف زور لگانے لگا‘ پوری کلاس کھی کھی کر کے ہنسنے لگی‘ باپ بہرحال بیٹے کو گھسیٹ کر فیروز پور روڈ کی طرف لے گیا‘ ہم لوگ بھی شغل دیکھنے کےلئے پیچھے پیچھے چل پڑے‘ اشفاق چلا چلا کر ہمیں واپس جانے کی ہدایت کرتا رہا مگر ہم پورا تھیٹر دیکھنا چاہتے تھے‘ ہم باپ بیٹے کے پیچھے چلتے چلتے گیٹ سے باہر آگئے‘ سڑک پر ٹریکٹر ٹرالی کھڑی تھی اور ٹرالی میں ایک بوڑھی بھینس فیروز پور روڈ کی طرف منہ کر کے جگالی کر رہی تھی‘ والد بیٹے کو ٹرالی تک لایا اور بڑے پیار سے اس سے کہنے لگا ”چل پتر‘ اپنی ماں کے سر پر ہاتھ پھیر دے‘ یہ آج جا رہی ہے“ اشفاق جان چھڑانے کےلئے جلدی جلدی بھینس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگا‘ ہم سب اس کے پیچھے کھڑے تھے‘ اشفاق کے والد نے بھینس کو دیکھا‘ بیٹے کو دیکھا اور پھر ہماری طرف مڑ کر بولا ”یہ بھینس صرف بھینس نہیں‘ یہ اس کی ماں بھی ہے‘ اس نے میرے بیٹے کو پال پوس کر بڑا کیا“

ہم سمجھنے اور نا سمجھنے کے عالم میں ان دونوں کی طرف دیکھنے لگے‘ والد بولا ”میں نے یہ بھینس اس وقت خریدی تھی جب اشفاق سکول میں داخل ہوا تھا‘ میں نے اس کا دودھ بیچ بیچ کر بیٹے کو کالج تک پہنچایا‘ یہ اب کھانگڑ ہو گئی ہے‘ میں اسے قصائی کے حوالے کرنے جا رہا ہوں‘ میں چاہتا تھا میرا بیٹا آخری بار اپنی محسن کے سر پر ہاتھ پھیر لے“یہ کہتے کہتے اشفاق کا والد جذباتی ہو گیا‘ اس نے بھینس کے سر پر پیار کیا‘ ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کیں‘ ٹریکٹر پر بیٹھا اور والٹن کی طرف روانہ ہو گیا‘ محمد اشفاق اس دن کے بعد اشفاق کٹا ہو گیا‘ کالج کے پروفیسر تک اسے کٹا کہنے لگے۔

یہ صرف اشفاق کٹے کی داستان نہیں‘ پنجاب میں ہر دور میں بھینسیں کروڑوں خاندانوں کو پالتی رہی ہیں‘ دنیا کے کسی بھی مورخ یا کسی بھی بین الاقوامی یونیورسٹی کے سوشیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے جس دن پنجاب پر ریسرچ کی وہ بھینس کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکے گا‘ بھینس پنجاب کی بقا بھی ہے اور پسماندگی کی بنیادی وجہ بھی‘ ہم پنجابی جنیاتی لحاظ سے سمجھتے ہیں ہمارے پاس اگر اچھی نسل کی ایک بھینس موجود ہے تو ہمارا پورا خاندان پل جائے گا‘پنجاب میں بچے بھینس کا دودھ پیتے ہیں‘

عورتیں دودھ سے دہی‘ مکھن‘ پنیر اور گھی بنا تی ہیں‘ مرد سارا دن لسی پیتے رہتے ہیں اور گھر میں اگر ترکاری یا دال نہ ہو تو پنجاب کے لوگ بیس پچیس سال پہلے تک دودھ میں مرچیں ڈالتے تھے اور اس میں روٹی بھگو کر کھا لیتے تھے‘ میں نے اپنے پورے بچپن میں لوگوں کو لسی کے ساتھ ناشتہ کرتے دیکھا چنانچہ بھینس پنجاب ہے اور پنجاب بھینس ہے‘ بھینس کیونکہ پنجابیوں کی بنیادی ضرورتیں پوری کر دیتی تھی چنانچہ پنجابیوں نے زندگی کو کبھی بھینس سے آگے نکل کر نہیں دیکھا ‘ بھینس ہمیشہ ہمارے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑی رہی‘

میں پنجابی کی حیثیت سے سمجھتا ہوں ہم جب تک بھینس کو راستے سے نہیں ہٹائیں گے‘ ہم پنجابی اس وقت تک ترقی نہیں کر سکیں گے لیکن ہمارے وزیراعظم عمران خان اس بھینس کو کٹے سمیت ہماری زندگی میں دوبارہ شامل کرنا چاہتے ہیں‘ وزیراعظم نے 29 نومبرکو حکومت کے سو دن پورے ہونے پر معرکة الآراءتقریر فرمائی‘ یہ تقریر دیسی مرغیوں‘ انڈوں اور کٹوں کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہوئی‘ وزیراعظم کی نیت نیک ہو سکتی ہے‘ یہ واقعی کٹوں اور دیسی مرغیوں کے ذریعے پاکستانی عوام کا مقدر بدلنا چاہتے ہوں گے لیکن وزیراعظم کو اعلان سے پہلے انڈوں‘ مرغیوں اور کٹوںپر ریسرچ ضرور کر لینی چاہیے تھی‘

یہ درست ہے پنجاب میں (بھینس صرف پنجاب کا اثاثہ ہے‘ یہ کے پی کے‘ بلوچستان‘ سندھ اور کشمیر میں نہیں پائی جاتی‘ پنجاب کے علاوہ باقی علاقوں میں گائے پالی جاتی ہے) لوگ بھینس کی بیٹیوں (کٹیوں) کو رکھ لیتے ہیں اور بیٹے (کٹے) کو بیچ دیتے ہیں‘ یہ بھی درست ہے کٹے جوں ہی ڈیڑھ سے دو ماہ کے ہوتے ہیں یہ قصائیوں کے حوالے کر دیئے جاتے ہیں چنانچہ وزیراعظم کا خیال ہے ہم لوگ اگر کٹے بچا لیں‘ ہم دو سال تک ان کی پرورش کریں اور ان کا وزن جب چار پانچ من ہو جائے تو ہم انہیں مہنگے داموں بیچ دیں‘

یہ اس سلسلے میں یورپ‘ا مریکا اور نیوزی لینڈ کی مثال بھی دیتے ہیں‘وزیراعظم کی معلومات درست ہیں‘ ان ملکوں میں واقعی ویڑوں (گائے کے بیٹوں) کو دو سال سے پہلے ذبح نہیں کیا جاتا لیکن ہم پنجابی دس ہزار سال سے کٹوں کو تین چار ماہ کی عمر میں ذبح کرتے آ رہے ہیں‘کیا وزیراعظم وجہ جانتے ہیں؟شاید نہیں! وزیراعظم کو یقینا یہ معلوم نہیں پنجاب کا زیادہ تر علاقہ بارانی ہے اور ہمارے خطے میں یورپ‘ امریکا‘ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے مقابلے میں بہت کم بارشیں ہوتی ہیں‘ پنجاب میں برسین اور مکئی دو قسم کے چارے ہوتے ہیں‘

ان دونوں کے درمیان بھی دو دو ماہ کے دو وقفے ہوتے ہیں چنانچہ سال میں چار ماہ پنجاب میں چارے کی قلت پیدا ہو جاتی ہے‘ کٹے عموماً 30 سے 70 کلو گرام چارہ روزانہ کھاتے ہیں‘ بھینسیں بھی اتنا ہی چارہ کھاتی ہیں لیکن یہ اس کے نتیجے میں دس سے پندرہ لیٹر دودھ دیتی ہیں جبکہ کٹے کا کوئی ”آﺅٹ پٹ“ نہیں ہوتا‘ یہ صرف چارہ کھاتا ہے‘ آپ فرض کر لیجئے ایک کٹا اگر روزانہ تین سو روپے کا چارہ کھائے تو یہ مہینے میں نو ہزار‘ سال میں ایک لاکھ آٹھ ہزار اور دو سال میں دو لاکھ 16 ہزار روپے کا چارہ کھا جائے گا

ہمارا کسان اگر اسے دو سال بعد بیچے گا تو یہ لاکھ روپے سے زیادہ کا نہیں بکے گا چنانچہ کسان کو ٹھیک ٹھاک نقصان ہو جائے گا‘ کسان اگر وزیراعظم کے مشورے پر عمل کریں تو یہ دو سال میں دیوالیہ ہو جائیں گے لہٰذا لوگ پنجاب میں ہزاروں سال سے کٹے فروخت کرتے اور کٹیاں محفوظ کرتے آ رہے ہیں‘ کٹی کسانوں کا اثاثہ ہوتی ہے‘ یہ دو سال میں جوان ہو جاتی ہے‘ یہ بارہ سے تیرہ سال تک دودھ بھی دیتی ہے اور بچے بھی چنانچہ کسان کٹیاں رکھ لیتے ہیں اور کٹے قصابوں کے حوالے کر دیتے ہیں‘

بھینس کے دودھ کا سائیکل 305 دن ہوتا ہے‘ یہ اس سائیکل میں 20 لیٹر تک دودھ دیتی ہے‘ آخر میں دودھ دو سے اڑھائی کلو رہ جاتا ہے لیکن بچہ دینے کے بعد دودھ دوبارہ بڑھ جاتا ہے۔پنجاب کے مقابلے میں یورپ میں چرا ہ گاہیں بھی ہیں‘ چارہ بھی سستا ہے‘ گوشت کی صنعت بھی مضبوط ہے‘ دودھ بھی مہنگا ہے اور وہاں بھینس کی بجائے گائے ہے اور گائے بھینس کے مقابلے میں کم چارہ کھاتی ہے اور دودھ زیادہ دیتی ہے لہٰذا کسان وہاں ویڑوں کو دو دو سال تک پال لیتے ہیں‘ ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے‘

ہمارے ملک میں گوشت آج تک انڈسٹری نہیں بن سکا‘ چارہ مہنگا اور نایاب ہے اور ہم آج بھی گائے کی بجائے بھینس کا دودھ پیتے ہیں لہٰذا ہم کٹے پالنے کا رسک نہیں لے سکتے‘ہم نے اگر سال میں ایک بار کٹے پال لئے تو پھر بھینسوں کےلئے چارہ نہیں بچے گا اور یوں دودھ کا خوفناک بحران پیدا ہو جائے گا‘ مرغیوں کا ایشو بھی اس سے ملتا جلتا ہے‘ ہم مرغی میں خود کفیل ہیں‘ پاکستان میں لوگ 21 کروڑ ہیں لیکن مرغیاں 25 کروڑ ہیں‘ پولٹری انڈسٹری مرغی اور انڈہ دونوں وافر مقدار میں پیدا کر رہی ہے‘

حکومت اگر اس انڈسٹری کو فراموش کر کے دیہاتوں میں دیسی مرغیاں بانٹنا شروع کر دیتی ہے تو ایک خاندان کتنی مرغیاں پال لے گا‘ یہ مرغیاں کتنے انڈے دے لیں گی‘یہ انڈے کتنے میں بک جائیں گے اور کیا وہ خاندان دیسی انڈوں کی کمائی سے اپنا چولہا جلا لے گا؟ جی نہیں! اور اگر فرض کر لیں یہ ہو بھی جائے تو بھی ملک میں پولٹری انڈسٹری کے ہوتے ہوئے لوگ مہنگا دیسی انڈہ کیوں خریدیں گے؟ کیا ہم دیسی انڈوں کی مارکیٹ پیدا کرنے کےلئے ولایتی انڈوں کی انڈسٹری بند کر دیں گے؟

اور اگر ہم یہ بھی کر دیں تو کیا ہم ملک میں25 کروڑ مرغیاں پیدا کر سکیں گے اور یہ مرغیاں گلیوں میں پھر کر زندہ رہ سکیں گی؟اور کیا ہم انہیں برڈفلو سے بھی بچا لیں گے؟یہ بھی ظاہر ہے ممکن نہیں چنانچہ میری وزیراعظم سے درخواست ہے آپ کٹوں اور مرغیوں کے ذریعے نیا پاکستان ضرور بنائیں لیکن آپ اس سے قبل یہ بھی ریسرچ ضرور کرا لیں کیا دنیا میں کوئی ایک ایسا ملک ہے جس میں کٹوں اور مرغیوں کے ذریعے غربت ختم ہو گئی ہو؟ مجھے یقین ہے وزیراعظم جب یہ ریسرچ کرائیں گے تو یہ جان کر حیران رہ جائیں گے

یہ منصوبہ افریقہ کے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بھی بری طرح فیل ہو گیا تھا‘بل گیٹس نے سب صحارا ممالک میں کروڑوں ڈالر خرچ کئے لیکن وہ وہاں کسی ایک خاندان کو بھی غربت سے نہیں نکال سکا‘ہم اس منصوبے سے کیا حاصل کر لیں گے ‘ وزیراعظم کوچاہیے یہ اپنی مصروفیت صرف ڈالر تک محدود رکھیں‘یہ کٹوں اور مرغیوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو جائے دنیا نئے پاکستان کو کٹستان کہنا شروع کردے اور ہم سب اشفاق کٹے ہو جائیں۔

The post کٹستان appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2018/12/04/528054