Thursday, February 21, 2019

خیر پور کا فیض محل

خیر پور کے فیض محل میں گئے وقتوں کی دھوپ ابھی باقی تھی‘ خادم نے دربار ہال کا دروازہ کھولا اور تاریخ کے مرتبان کا ڈھکن کھل گیا‘سرخ قالین پر آخری دیوار سے ذرا سے فاصلے پر رائل چیئرز کی قطار تھی‘ کرسیوں کے پیچھے دو شاہی سنگھار میزیں پڑی تھیں‘ چھت بلند تھی اور اس پر ریشمی کپڑے کی ”سیلنگ“ تھی‘ سیلنگ وقت کے تھپیڑے کھا کھا کر مدہم پڑ چکی تھی‘ دیواروں پر ماضی کے میروں کی پینٹنگز تھیںاورہر پینٹنگ وقت کا نوحہ تھی‘

دائیں ہاتھ ہال کی آخری دیوار کے ساتھ ساتھ میروں کی بندوقوں کا رزق بننے والے چیتوں اور شیروں کی باقیات تھیں ‘ ہاتھی دانت کی میز اورشو پیسز بھی تھے جبکہ بائیں ہاتھ صدارتی کمرے کے ساتھ الماریوں میں ریاست کے آرکائیو پڑے تھے‘ ریاست کے چاندی کے سکے‘ ٹکٹ‘ سٹام پیپرز اور انگریزوں‘ قائداعظم اور آخر میں 1955ءمیں حکومت پاکستان کے ساتھ تحریری معاہدے‘ ریاست کے قانون کی کتاب اور میروں کی تاج پوشی کی تصاویریہ سب قطار میں لگی کھڑی تھیں‘ پچھلی دیوار پر ریاست کے بانی اور پہلے میر سہراب خان تالپور کی پینٹنگ تھی اور ان سب کے ساتھ صدارتی کمرہ تھا‘ صدارتی کمرے میں قائداعظم سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو تک ملک کے زیادہ تر حکمران قیام کر چکے ہیں‘ محل کی بالائی منزل کے تمام کمروں کے برآمدے اور کھڑکیاں ہال میں کھلتی ہیں‘ کھڑکیوں کے میلے شیشوں اور ان شیشوں سے چھن کر آنے والی روشنی زبان سے بہت کچھ کہہ رہی تھی اور یہ کہا ہوا ہم سب کے دل میں اداسی بن کر اتر رہا تھا‘ دنیا میں وقت سے بڑاکوئی ظالم نہیں‘ وقت بالآخر ہر حکومت اور ہر حکمران کے سر پر خاک ڈال کر رہتا ہے اور ہم کھلی آنکھوں سے وہ خاک‘ وہ شاہی سر اور بے مہر وقت کا ظلم یہ تینوں دیکھ رہے تھے۔خیرپور سکھر سے 35 منٹ کی ڈرائیو پررکھا ہے‘ یہ شہر ماضی کی مشہور ریاست خیر پور کا دارالحکومت تھا‘ اس پر تالپور حکومت کیا کرتے تھے‘

سندھ 1783ءتک میانوالی کے کلہوڑوں کے قبضے میں تھا لیکن پھر ہلانی کی جنگ ہوئی اور بلوچ تالپور میر سہراب خان نے کلہوڑوں سے سندھ چھین لیا‘ سہراب خان نے اپنے نام پر سہراب پور شہر آباد کیا اور نئی ریاست نے جنم لے لیا‘ میر سہراب نے خیرپور سے 25کلو میٹر کے فاصلے پر کوٹ ڈیجی میں ہندوستان کا مضبوط اور شاندار ترین قلعہ بھی تعمیر کرایا‘ قلعے میں میروں کی فوجیں قیام کرتی تھیں‘فصیل کے دائیں بائیں میروں کے محلات تھے‘ یہ قلعہ بذات خود دیکھنے اور متاثر ہونے کا مقام ہے‘میں وہاں بھی گیا اور متاثربھی ہوا‘

ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1830ئمیں سندھ کی طرف بڑھنا شروع کیا‘ کمپنی کابل تک پہنچنا چاہتی تھی‘ پنجاب میں اس وقت راجہ رنجیت سنگھ کی حکومت تھی‘ یہ فوجی لحاظ سے ہندوستان کی مضبوط ترین ریاسست تھی‘ انگریز اس سے ٹکرانے کی جرات نہیں کر رہے تھے چنانچہ کمپنی نے 1838ءمیں خیر پور کے میر سے معاہدہ کیا ‘یہ معاہدہ خیر پور سے گزر کر افغانستان جانے کا اجازت نامہ تھا لیکن یہ کاغذ کا ٹکڑا بعد ازاں ریاست کے زوال کی وجہ بن گیا‘ ہم زوال کی اس داستان کی طرف آئیں گے لیکن آپ پہلے اس زمانے کی ریاست کے بارے میں سنتے جائیں‘

خیر پور انیسویں صدی میں ہندوستان کی خوشحال ترین ریاستوں میں شمار ہوتا تھا‘ شہر میں 80 بڑے کارخانے تھے‘ کپڑا‘ نیل اور برتن بڑی صنعتیں تھیں‘ شہر میں بنارسی بستی تھی (یہ لوگ آج بھی موجود ہیں)‘ اس بستی میں بنارسی ساڑھیاں بنتی تھیں اور پورے ملک میں فروخت ہوتی تھیں‘ نیل کے پچاس پچاس اونٹ کراچی‘ پھر ممبئی اور پھر وہاں سے یورپ جاتے تھے‘ خیر پور کے تعلیمی ادارے پورے ہندوستان میں مشہور تھے‘ شکار پور علاقے کا سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا‘

ہندوستان کے تمام تجارتی قافلے شکار پور سے ہو کر افغانستان‘ ایران‘ ازبکستان اور روس جاتے تھے‘ شکار پوری بنیوں نے اس زمانے میں ہنڈی کا کاروبار شروع کیا اور یہ کاروباردیکھتے ہی دیکھتے پورے ایشیا میں پھیل گیا‘ یہ بنیے مغل دربار اور انگریزوں تک کو سود پر رقم دیتے تھے لیکن پھر انگریز آیا اور ہر چیز بدل گئی‘ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1838ءمیں میر رستم خان کے ساتھ معاہدہ کیا‘ میر کے بھائی اور وزیر سمجھاتے رہ گئے لیکن میر رستم خان انگریزوں کے جھانسے میں آ گئے‘

کاغذات پر دستخط ہوئے اور انگریز نے اگلے ہی دن بھکر کی فوجی چھاﺅنی مانگ لی (یہ پنجاب کا بھکر نہیں‘ خیر پور میں دریائے سندھ کے درمیان ایک جزیرہ ہے‘ یہ جزیرہ بھی بھکر کہلاتا ہے) اور پھر یہ چھاﺅنی ملنے کی دیر تھی اور انگریزنے عملاً پوری ریاست پر قبضہ کر لیا‘ میررستم خان کو معزول اور ریاست بدر کر دیا گیا اور اس کے کمزور بھائی کو تخت پر بٹھا دیاگیا‘ چارلس نیپئر نے 1843ءمیں میرآف سندھ میرناصر خان تالپور کو میانی کے مقام پر شکست دے دی‘

میرناصر خان نے تاریخ میں پہلی بار ”مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں“ کا نعرہ لگایا لیکن جنگیں وسائل اور حوصلے سے لڑی جاتی ہیں صرف نعروں سے نہیں‘ میر ناصر خان یہ جنگ ہار گیا‘ سندھ پر انگریز کا قبضہ ہو گیا تاہم انگریز نے وفاداری کا حلف لے کر خیرپور کی ریاست برقرار رہنے دی‘ میر جیسے تیسے انگریز کے دور میں بھی ریاست چلاتے رہے‘ 1947ءمیں پاکستان بنا تو میرآف خیرپور نے قائداعظم کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے‘

قائداعظم نے لکھ کر دے دیا ریاست کی ہیئت میں تبدیلی نہیں ہو گی اور ڈیڑھ ہزار مربع میل پر مشتمل یہ ریاست بدستور میروں کے پاس رہے گی لیکن پھر 1956ءمیں یہ معاہدہ توڑ دیا گیا اور ریاست کو ون یونٹ میں شامل کر دیا گیا‘ خیر پور کے آخری میر علی مراد دوم ہیں‘ میر نے خان لیاقت علی خان کے دور میں 14 سال کی عمر میں تخت سنبھالاتھا‘یہ بدقسمت بادشاہ ثابت ہوئے‘ نواب آف بہاولپور کی صاحبزادی سے شادی کی‘ یہ شادی نہ چل سکی‘ حکومت نے 1956ءمیں ریاست پر قبضہ کر لیا‘ 80 ہزار روپے ماہانہ پنشن طے ہوئی‘

یہ انتہائی کم تھی‘ لوگوں نے میر کی زمین جائیداد‘ محلات اور نوادرات پر قبضہ کر لیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے وہ میر جو ذاتی فوج اور ہاتھی گھوڑوں کے مالک تھے‘ جو حکومتوں کو قرض دیا کرتے تھے وہ خود محتاج ہوتے چلے گئے‘ یہ حالات میرعلی مراد دوم کی شخصیت پر اثر انداز ہوئے‘وہ کراچی شفٹ ہوئے اور تارک الدنیا ہو گئے‘ وہ پچھلے چالیس سال سے کسی سے نہیں ملے‘ عبادات‘ وظائف اور زیارتوں تک محدود ہو چکے ہیں‘ میں پچھلے سال دمشق گیا تو مجھے تاریخی قبرستان باب الصغیر میں حضرت فاطمہؓ کی ذاتی خادمہ کی قبر پر حاضری کی توفیق ہوئی‘

میں نے دیکھا مزار پر اردو میں طالب دعا علی مراد لکھا تھا‘ میں ہفتہ 16 فروری کی دوپہر فیض محل گیا اور میں نے آخر میں میر علی مراد دوم کی کہانی سنی تو مجھے وہ عبارت یاد آ گئی اور پتہ چلا وہ پچھلے پچاس برس سے مقدس مزارات تلاش کرتے ہیں‘ ان کی تعمیر کراتے ہیں اور پھر وہاں اپنے ہاتھ سے صفائی کرتے ہیں‘ یہ اس وقت بھی حیات ہیں لیکن علیل ہیں‘ ان کے دو صاحبزادے ہیں‘عباس خان تالپور اور مہدی رضا‘ یہ دونوں بھائی بچی کھچی زمینوں اور سرکاری اور غیرسرکاری قبضے سے محفوظ مکانات اور محلات کی حفاظت کرتے ہیں‘

کھجوروں کی فصل اور معمولی کاروبار خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھا رہا ہے‘ یہ خاندانی رئیس اور حکمران تھے چنانچہ یہ کسی سے مطالبہ کرتے ہیں اور نہ کوئی درخواست بس زمانے کی نیرنگی کا مشاہدہ کرتے ہیں اور سینے پر ہاتھ رکھ کر چپ چاپ آگے نکل جاتے ہیں۔میں فیض محل کے برآمدے میں آ گیا‘یہ محل میر فیض محمد تالپور نے 1894ءمیں شروع کیا اور یہ 1907ءمیں مکمل ہوا‘یہ سندھی‘ جودھ پوری اور سکھ آرکی ٹیکچر کا خوبصورت امتزاج ہے‘ آرکی ٹیکٹ گلاب سنگھ تھا‘ گلاب سنگھ نے دیواریں سندھی سٹائل میں بنائیں‘

مینار جودھ پوری اور کراﺅن میں سکھ تہذیب پرودی‘ برآمدہ کمال تھا‘ یہ ایک کچا شاہی برآمدہ ہے‘ فرش پر قرمزی رنگ کی چکور ٹائلیں ہیں‘ چھت پر آبنوسی لکڑی کی کڑیاں ہیں‘ چونے کی دیواروں کے اندر سے پرانی شاہی اینٹیں جھانک رہی ہیں اور دیواروں کے ساتھ ساتھ کھڑکیوں اور دروازوں سے لکڑی کی الماریاں لگ کر کھڑی ہیں‘ پورا برآمدہ آرچز اور ستونوں پر ایستادہ ہے اور کھڑکیوں اور دروازوں کے اوپر پتھر کی جالیاں ہیں‘ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا برآمدے کے آخری سرے پر سفید رنگ کا ایک اداس صوفہ پڑا تھا‘

یہ صوفہ بھی گئے وقتوں کی نشانی ہے‘ چھت سے دودھیا شیشوں اور سیاہ لوہے کے لیمپوں سے وقت جھانک رہا تھا‘برآمدے کی ہرچیزسے گئے وقت کی سرگوشیاں ابل رہی تھیں‘ماحول پر براﺅن اور اورنج رنگ کاغلبہ تھا ‘ یہ تمام سرگوشیاں‘ یہ سارے رنگ اور اداس الماریاں ماحول کو گھمبیر بنا رہی تھیں‘ میں برآمدے سے نکل کر باہرآ گیا‘ محل کے سامنے ایک وسیع لان ہے‘ لان کے دونوں اطراف گزر گاہ ہے اور گزرگاہ کا فرش خوبصورت سرخ اینٹوں سے بناہے‘ دونوں سائیڈوں پر دو دو توپوں کے دو جوڑے ایستادہ ہیں‘

آپ اگر لان میں کھڑے ہو کر محل کی طرف دیکھیں تو آپ کوچاروں توپیں محل کی حفاظت کرتی محسوس ہوں گی‘ محل باہرسے سرخ‘ پیلے اور سفید تین رنگوں کا ملاپ دکھائی دیتا ہے‘ دائیں بائیں دو چوکیاں ہیں‘ پھر دو مینار اوپر اٹھتے ہیں اور درمیان میں سکھ تاج ہے‘ فیض محل دھوپ میںہندوستان کے قدیم محلوں کا نمائندہ محسوس ہورہا تھا‘ میں نے توپوں کی طرف دیکھا تو وہ یہ کہتی ہوئی پائی گئیں ریاستیں جب ختم ہوتی ہیں تو پھر توپیں خواہ کتنی ہی بڑی اور مضبوط کیوں نہ ہوں وہ صرف دھوپ سینکتی رہی جاتی ہیں‘

وہ ریاست کی حفاظت نہیں کر پاتیں‘ صرف اللہ کے نام کو زوال نہیں باقی سب فانی ہے‘ میر بھی اور غلام بھی اور اگر کسی کو یہ حقیقت سمجھ نہ آئے تو وہ ایک بار‘ صرف ایک بار فیض محل ہو آئے۔لاہور کی طوائف بالی اور میرعلی نواز کی محبت بھی اسی محل میں پروان چڑھی تھی‘ آ پ اس داستان کا مطالعہ کل کریں گے۔

The post خیر پور کا فیض محل appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/02/21/552607

Tuesday, February 19, 2019

موہنجو داڑو یورپ کو گفٹ کر دیں

موہنجو داڑو دنیا کا پہلا میٹرو پولیٹن‘ میگا اور پلینڈ سٹی تھا‘ یہ دو ہزار چھ سو قبل مسیح (یعنی ساڑھے چار ہزار سال) میں بھی موجودتھا‘ ہم اگر اہرام مصر کے بعد کسی انسانی شاہکار کو عجوبہ کہہ سکتے ہیں تو وہ موہنجو داڑو ہوگا اور میں ہفتے کی دوپہر وہاں پہنچ گیا‘ میں آدھی سے زائد دنیا دیکھ چکا ہوں‘ صرف موہنجو داڑو بچا تھا چنانچہ میں نے جمعہ کی شام سکھر کی فلائیٹ لی‘ رات سکھر میں قیام کیا اور ہفتے کی دوپہر موہنجو داڑو پہنچ گیا‘ یہ سکھر سے 80 اور لاڑکانہ سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے‘

شہر گیارہ ہزار ایکڑ پر مشتمل تھا‘ اس کا صرف 10 فیصد حصہ کھود کر نکالا گیا اور یہ 10 فیصد بھی 1922ءسے 1933ءکے دوران انگریزآرکیالوجسٹ نے نکالا جبکہ ہم نے پچھلے 86برسوں میں ان آثار میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں کیا‘ یہ شہر کتنا اہم تھا آپ اس کا اندازہ چند حقیقتوں سے لگا لیجئے‘ دنیا میں تین قدیم ترین تہذیبیں ہیں‘ دریائے نیل‘ میسوپوٹیمیا اور دریائے سندھ کی تہذیبیں‘ دریائے نیل نے مصر کی تہذیب کو جنم دیا ‘ میسو پوٹیمیا نے دو دریاﺅں دجلہ اور فرات کے درمیان جنم لیا ‘

یہ دونوں دریا ترکی سے نکلتے ہیں اور یہ ایران‘شام اور عراق سے بے شمار علاقوں کو سمیٹ کر خلیج فارس میں جا گرتے ہیں‘ ان دونوں دریاﺅں کے درمیان کی زمین میسو پوٹیمیا کہلاتی تھی اور تیسری اہم ترین تہذیب انڈس (دریائے سندھ) کی تہذیب تھی‘ باقی ساری دنیا نے ان تینوں تہذیبوں کے بطن سے جنم لیااور موہنجو داڑو انڈس سولائزیشن کا قدیم ترین میٹرو پولیٹن شہر تھا‘ یہ دنیا کا پہلا شہر تھا جس کی تمام گلیاں سیدھی اور کھلی تھیں‘ جس میںانسان نے پانی کا پہلا تالاب بنایا‘

جس میں پہلی بار پبلک ٹوائلٹ‘ پبلک باتھ‘ سیوریج سسٹم اور کچرہ کنڈی بنائی گئی‘ جس میں نالیوں کا جال تھا اور تمام نالیاں اوپر سے بند تھیں‘ جس میں تاریخ میں پہلی بار گلیزڈ ٹائلزاور پہلی بار تارکول استعمال کی گئی‘ جس میں پہلا کالج بنایا گیا‘ جس میں عوامی کنوئیں کھودے گئے‘ جس میں باقاعدہ سرونٹ کوارٹرز اور مارکیٹ بنائی گئی اور جس میں امیر‘ مڈل اور لیبر کلاس تین طبقوں کو الگ الگ آباد کیا گیا‘ یہ تلوار کی ایجاد سے بھی پہلے کا شہر تھا اور میں اس وقت اس شہر میں تھا جسے تہذیب اور تاریخ گزرے وقت کی آخری یادگار قرار دیتی ہے‘ جو آرکیالوجی اور تہذیبی دریافت کا قبلہ ہے۔

موہنجو داڑو کے پانچ حصے ہیں‘ڈی کے کا ایریا کے این ڈکشٹ نے 1922ءسے 1933ءکے درمیان دریافت کیا تھا‘ یہ امراءکا علاقہ تھا‘ گھر بڑے اور دو منزلہ تھے‘ نچلی منزل میں کچن‘ باتھ روم ‘ کنواں اور مہمان خانہ ہوتا تھا ‘ رہائش دوسری منزل پر ہوتی تھی‘ پانی کو آلودگی سے بچانے کےلئے کنوئیں کے اوپر بھی چھت ڈالی جاتی تھی‘ باتھ روم کی ڈرینج کےلئے گلیزڈ ٹائلیں استعمال کی جاتی تھیں‘ یہ ٹائلیں آج بھی چکنی ہیں‘ گھروں میں ہوا کی کراسنگ کا بندوبست تھا‘ چھتیں اونچی اور فرش پکے تھے‘

گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کےلئے بیرونی دیواروں پر مٹی کا لیپ کیا جاتا تھا‘ ان لوگوں نے جپسم‘ چونے کا پتھر‘ ہڈیوں کا برادہ اور گوند ملا کر سیمنٹ بنالیا تھا‘ دیواروں کی چنائی میں یہ سیمنٹ استعمال ہوتا تھا‘ یہ تارکول بھی استعمال کرتے تھے‘ شہر میں 8 بائی 23 فٹ کا تالاب تھا‘ تالاب کے پیندے میں باقاعدہ تارکول کا لیپ کیا گیا تھا‘ میں نے گائیڈ سے عرض کیا برصغیر میں تارکول نہیں پایا جاتا‘ گائیڈ نے اثبات میں سر ہلا کر جواب دیا یہ لوگ اومان (مسقط) سے تارکول درآمد کرتے تھے‘

ان کے سکے اور برتن اومان‘ مصر اور میسوپوٹیمیا تینوں جگہوں سے ملے ہیں‘ یہ سکے ثابت کرتے ہیں یہ لوگ مصنوعات وہاں سے منگواتے تھے‘ کالج کے ساتھ بڑا کنواں تھا اور کنوئیں کے ساتھ گھڑے رکھنے کا چبوترا تھا‘ یہ ثابت کرتا ہے یہ لوگ گھڑے بھر کر چبوترے پر رکھ دیتے تھے تاکہ طالب علم استعمال کر سکیں‘ پبلک ٹوائلٹس بھی ساتھ تھے‘ یہ گھڑے وہاں بھی استعمال ہوتے ہوں گے‘ دس فیصد دریافت شدہ علاقے میں سات سو کنوئیں اور 80 پبلک ٹوائلٹس ہیں‘

آپ اس سے ان کی صفائی پسندی‘ سولائزیشن اور ماڈرن ہونے کا اندازہ کر لیجئے‘ ہم آج کے دور میں بھی لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں 80 پبلک ٹوائلٹس نہیں بنا سکے جبکہ موہنجو داڑو کے دس فیصد ایریا میں سات سو کنوئیں اور 80 پبلک ٹوائلٹس تھے اوریہ گھروں کے اندر موجود ٹوائلٹس کے علاوہ ہیں‘ اٹیچ باتھ کا یہ تصور میسو پوٹیمیا اور مصری تہذیب میں نہیں ملتا‘ شہر میں اناج گھر بھی تھا اور اس سے ساڑھے چار ہزار سال پرانی گندم بھی ملی‘ ڈی کے ایریا کے بعد ایچ آر کا علاقہ تھا‘

یہ علاقہ ہیرالڈ ہرگریوز  نے 1924-25ءمیں دریافت کیا تھا اور یہ مزدوروں کا علاقہ تھا‘ اس سے اینٹیں بنانے کے آلات اور دوسرے اوزار بھی ملے اور 14 مزدوروں کے اجتماعی ڈھانچے بھی‘ یہ لوگ کاٹن کا کپڑا بھی بناتے اور استعمال کرتے تھے‘ میسو پوٹیمیا اور ان کا لباس ایک جیسا تھا‘ یہ صرف دو رنگ استعمال کرتے تھے‘ کالا اور نیلا‘ یہ اس کے علاوہ کوئی اور رنگ نہیں بنا سکے تھے‘ رنگ اور ہندوازم ان کے بعد آئے چنانچہ یہاں سے مُردوں کو جلانے اور پوجنے والی مورتیوںکے آثار دریافت نہیں ہوئے‘

کوئی رنگین چیزبھی نہیں ملی‘ یہ مُردوں کو تین طریقوں سے دفن کرتے تھے‘ یہ انہیں مٹی کے تابوت میں رکھ دیتے تھے‘ یہ انہیں جانوروں اور پرندوں کو کھلانے کےلئے کھلے میدان میں رکھ دیتے تھے اور بعد ازاں ان کی ہڈیاں اکٹھی کر کے برتن میں ڈال کر دفن کر دیتے تھے اور یہ لاش کو ویرانے میں چھوڑ آتے تھے‘ میں نے یہ سن کر اندازہ لگایا موہنجو داڑو میں تین مذاہب تھے‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا کے مختلف مذاہب میں مُردوں کی تدفین کے مختلف طریقے ہوتے ہیں اور یہ تین طریقے تین مذاہب کی نشاندہی کرتے ہیں‘

شہر سے مچھلی پکڑنے کا کانٹا اور مٹی کے قلم بھی ملے‘ ان کا خط تصویری تھا اور یہ پتھر اور مٹی کی تختیوں پر لکھتے تھے لہٰذا یہ کاغذ‘ چھال اور کھال پر لکھنے کے دور سے پہلے کے لوگ تھے‘ شہر سے تلوار بھی نہیں ملی‘ تلوار کی کمی ثابت کرتی ہے یہ ہتھیاروں اور جنگوں کے دور سے بھی پہلے کے لوگ تھے‘ یہ شہر سات بار تباہ ہوا اور سات ہی بار آباد ہوا‘ یہ آخری بار بودھ مت کے دور میں آباد ہوا اور یہ اس کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کےلئے ختم ہو گیا‘

اس کی بربادی کی بے شمار وجوہات بیان کی جاتی ہیں لیکن میں اپنے تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں یہ شہر کسی بڑی بربادی‘ زلزلے‘ وبائ‘ شہاب ثاقب اور جنگ کا شکار نہیں ہوا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو شہر سے بڑی تعداد میں جلی یا ٹوٹی ہوئی ہڈیاں ملتیں جبکہ یہاں سے دو تین درجن سے زائد لاشوں کی ہڈیاں نہیں ملیں‘ اس کا مطلب ہے یہ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے‘ امکان ہے دریا دائیں سمت سے بہتے بہتے بائیں جانب آ گیا ہو گا اور یہ شہر پانی میں ڈوب گیا ہو گا‘

دریا نے اسے صدیوں تک ریت میں بھی دفن رکھا ہو گا‘شہر کی اینٹوں پر پانی اور ریت دونوں کے اثرات صاف ملتے ہیں‘ گائیڈ نے بھی میری آبزرویشن سے اتفاق کیا‘شہر سے وافر مقدار میں بچوں کے مٹی کے کھلونے بھی ملے‘ یہ ثابت کرتے ہیں یہ لوگ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے اور بچوں سے محبت کسی بھی تہذیب کا نقطہ عروج ہوتا ہے‘ شہر کا تیسرا حصہ وی ایس کہلاتا ہے‘ یہ حصہ ایم ایس واٹس نے دریافت کیا تھا اور اس میں مڈل کلاس رہتی تھی‘ اس کی گلیاں نسبتاً تنگ اور گھر چھوٹے تھے

یہ لوگ مارکیٹ کے قریب بھی رہتے تھے جس کا مطلب ہے یہ ورکنگ کلاس سے تعلق رکھتے تھے‘ شہر کی بنیادیں 30 فٹ گہری ہیں‘ یہ بنیادیں ثابت کرتی ہیں یہ شہر بار بار تباہ ہوتا رہا اور یہ لوگ تباہ شدہ شہر کے اوپر نیا شہر آباد کرتے رہے یہاں تک کہ 72فٹ اونچا ٹیلہ بن گیا‘ اس اونچے ٹیلے پر آخری آبادی بنی‘ وہ آخری لوگ بودھ مت تھے اور وہ دوسری صدی عیسوی میں یہاں آباد ہوئے‘ ان لوگوں کی آبادی شہر کا چوتھا حصہ تھی‘ یہ حصہ بالائی موہنجو داڑو کہلاتا ہے‘

آپ اگر 20 روپے کا نوٹ دیکھیں تو آپ کو اس کی پشت پر موہنجو داڑو کی تصویر ملے گی‘ یہ تصویر اس حصے کی ہے اور اس میں آپ کو سٹوپا نظر آتا ہے‘ یہ سٹوپا آج بھی یہاں موجود ہے اور شہر کا پانچواں حصہ سیکورٹی حصار پر مشتمل تھا‘ یہ بالائی موہنجو داڑو کے پیچھے ذرا سا ہٹ کر واقع ہے‘ شہر کے رکھوالے وہاں رہتے تھے۔موہنجو داڑو تہذیب‘ آرکی ٹیکچر‘ تمدن اور معاشرت کا نقطہ آغاز تھا‘ یہ شہر اجڑا‘ لوگ یہاں سے گنگا اور جمنا کے ڈیلٹاﺅں میں آباد ہوئے اور وہاں سے ہندو تہذیب شروع ہوئی۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس عظیم سیاحتی خزانے سے نواز رکھا ہے لیکن وہاں جا کر دل خون کے آنسو روتا ہے‘ پورے ماحول میں خاک اڑتی رہتی ہے‘ نہ بیٹھنے کی ڈھنگ کی جگہ ہے اور نہ کھانا کھانے کی‘ آپ ستم ظریفی ملاحظہ کیجئے ظالموں نے لاڑکانہ کا ائیرپورٹ بھی موہنجو داڑو کے آثار پر بنا دیا ہے‘ باقی نوے فیصد شہر رن وے کے نیچے دفن ہو چکا ہے‘ سکولوں کے بچے اور میرے جیسے نالائق سیاح دیواروں کے اوپر پھرتے رہتے ہیں‘ یہ پانی کی بوتلیں اور ریپر بھی وہاں پھینک دیتے ہیں‘

آپ المیہ دیکھئے آج سے ساڑھے چار ہزار سال پرانے لوگوں نے شہر میں کچرہ گھر بنائے تھے لیکن آج کے انسانوں نے یہ تکلف نہیں کیا‘ ساڑھے چار ہزار سال پرانے شہر میں پبلک ٹوائلٹس تھے لیکن آج کے موہنجو داڑو میں یہ سہولت انتہائی ناقص اور بدبودار ہے‘ اس شہر سے ساڑھے چار ہزار سال پرانی گندم مل گئی لیکن آپ آج کے چائے خانے سے چائے پینے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں‘ آپ تقابل کیجئے پیرس نے 1889ءمیں لوہے کا آئفل ٹاور بنایا‘

یہ ہر سال لوہے کا یہ بدصورت ڈھانچہ کروڑوں لوگوں کو دکھا کر 100 ارب یورو کما لیتا ہے جبکہ ہمارے پاس دنیا کا پہلا میٹرو پولیٹن شہر ہے لیکن ہم اس سے سالانہ دس لاکھ روپے بھی نہیں کما پا رہے‘ یہ شہر اگر یورپ میں ہوتا تو یقین کیجئے یہ دس عرب ملکوں کے کل تیل سے زیادہ رقم کما چکا ہوتا لیکن ہم نالائق لوگوں نے اسے بھی عبرت کی نشانی بنا دیا چنانچہ میری حکومت سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر یہ شہر کسی یورپی ملک کو گفٹ کر دیں‘ہم موہنجوداڑو کے قابل نہیںہیں۔

The post موہنجو داڑو یورپ کو گفٹ کر دیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/02/19/552247

Sunday, February 17, 2019

ہو سکتا ہے

وہ دونوں میاں بیوی صوفے پربیٹھ کر ٹیلی ویژن دیکھ رہے تھے‘بیوی کا موبائل درمیان میں پڑا تھا‘ فون کی گھنٹی بند تھی‘ خاوند کی نظر اچانک فون پر پڑی تو سکرین پر ایک نام جل بجھ رہا تھا‘ یہ کسی خاتون کا نام تھا‘ خاوند نے بیوی سے کہا ”تمہارا فون آ رہا ہے“ بیوی نے سکرین پر نظر ڈالی اور فون سنے بغیر کال کاٹ دی۔ خاوند نے پوچھا ”کس کا فون تھا“ بیوی نے جواب دیا ”میری پرانی سہیلی ہے“ خاوند نے پوچھا ”تم نے فون کیوں نہیں اٹھایا“ بیوی نے جواب دیا ”میں ٹی وی دیکھ رہی ہوں‘ بعد میں اسے خود فون کر لوں گی۔

خاوند بیوی کے جواب سے مطمئن نہیں ہوا‘ اس نے بیوی کے ہاتھ سے فون چھینا اور اس نمبر پر کال کر دی‘بیوی نے خاوند کے ہاتھ سے فون چھیننے کی کوشش کی لیکن خاوند صوفے سے اٹھ کر دور کھڑا ہو گیا‘ فون کی گھنٹی بج رہی تھی‘کال ملی اوردوسری طرف سے ایک پرجوش مردانہ آواز سنائی دی ”واہ آج ہمارا مقدر ہی جاگ گیا“۔ مردانہ آواز سن کر خاوند کے ماتھے پر پسینہ آ گیا جبکہ بیوی پریشانی کے عالم میں صوفے پر بیٹھ گئی‘ خاوند نے غصے سے پوچھا ”تم کون ہو؟“ دوسری طرف چند لمحوں کیلئے خاموشی چھا گئی‘ خاوند نے اس سے دوسری مرتبہ پوچھا ”تم کون ہو“ دوسری طرف سے ایک لمبی سانس کی آواز آئی اور وہ بولا ”آپ اپنی بیوی سے پوچھ لیں‘ یہ مجھے اچھی طرح جانتی ہیں“ خاوند کے غصے میں اضافہ ہو گیا اور اس نے فون پر موجود شخص کو گالیاں دینا شروع کر دیں‘ دوسری طرف کبھی خاموشی ہوجاتی اورکبھی قہقہوں کی آوازآنے لگتی‘ یہ گفتگو دس‘ پندرہ منٹ تک جاری رہی‘ اس کے بعد خاوند نے فون بند کیا اور بیوی کو مکوں اور ٹھڈوں سے مارنا شروع کر دیا‘ بیوی چیختی چلاتی رہی‘ خاوند سے بات سننے کی درخواست کرتی رہی لیکن خاوند کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا‘ اس دوران بیوی نے اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کی‘ اس کا پاؤں رپٹا‘ وہ شیشے کی میز پر گری‘ میز ٹوٹی اور شیشے کا بارہ انچ کا ایک ٹکڑا اس کے سینے میں پیوست ہوگیا‘خاوند بیوی کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہو گیا‘ اس نے بیوی کو اٹھایا‘ گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال کی طرف دوڑ پڑا لیکن بیوی راستے ہی میں دم توڑ گئی‘ دوپہر کو بچے سکول سے واپس آئے تو ان کی ماں دنیا سے رخصت ہو چکی تھی اور والد تھانے میں بند تھا۔

خاتون کے مرنے کے بعد جب اس ٹیلی فون کال کے بارے میں تحقیقات ہوئیں تو معلوم ہوا وہ نمبر مقتولہ کی ایک سہیلی بشریٰ کا تھا‘ بشریٰ دو سال کیلئے ملک سے باہر چلی گئی‘ اس دوران وہ نمبر بند رہا‘ سفر کے دوران بشریٰ کی سم بھی گم ہو گئی‘ اس عرصے میں موبائل کمپنی نے یہ نمبر کسی دوسرے شخص کو الاٹ کر دیا‘ بشریٰ واپس آئی توا س نے نیا نمبر لے لیا‘ اس خاتون کی سہیلی نے اسے بشریٰ کی واپسی کی اطلاع دی تو اس نے بشریٰ کے پرانے نمبر پر فون کر دیا‘ خاتون کا فون کسی مرد نے اٹھایا‘

اس نے اس سے بشریٰ کے بارے میں پوچھا تو اس نے جواب دیا ”میں بشریٰ کا خاوند ہوں‘ وہ باتھ روم میں ہے‘ وہ باہر آ جاتی ہے تومیں آپ کی اس سے بات کرا دوں گا‘آپ اس دوران میرے ساتھ بات چیت کر لیں“۔ خاتون نے اس صاحب کو بشریٰ کا خاوند سمجھ کر بات چیت شروع کر دی‘ یہ بات چیت دس پندرہ منٹ تک جاری رہی‘ اس دوران خاتون جب بھی بشریٰ کے بارے میں پوچھتی وہ اسے بتاتا وہ ابھی باتھ روم سے باہر نہیں آئی‘وہ ایک آدھ منٹ میں آ جائے گی۔ آپ اپنے بارے میں بتائیے اور گفتگو کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا۔

پندرہ منٹ بعد ان صاحب نے اس سے کہا ”وہ ابھی تک باتھ روم میں ہے‘ وہ باہر آتی ہے تو میں آپ کی بات کرادوں گا“ یوں فون بند ہو گیا۔ آدھ گھنٹے بعد اسی صاحب کا دوبارہ فون آیا‘ اس نے بشریٰ سے بات کرانے کا کہا اور کوئی بہانہ بنا کر خاتون سے گفتگو شروع کر دی‘ اس گفتگو کے دوران خاتون کو معاملہ مشکوک محسوس ہوا اور اس نے سختی سے اس شخص سے کہا ”بشریٰ کو بلائیں“ صاحب نے قہقہہ لگایا اور بولا ”یہاں کوئی بشریٰ نہیں ہوتی‘ آپ بشیر سے بات کر لیں“ خاتون نے فون بند کر دیا لیکن وہ صاحب باز نہیں آئے۔

وہ دن میں دس‘ پندرہ مرتبہ اسے فون کرتے‘ خاتون فون ”اگنور“کرتی رہتی لیکن دن میں ایک آدھ فون اٹھا کر اس صاحب سے جان چھڑانے کی کوشش کرتی لیکن وہ صاحب باز نہ آئے۔ یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے اس خاتون نے اپنے خاوند کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا‘ اس کی دو وجوہات تھیں۔ پہلی وجہ‘ اس کا خاوند ذرا شکی مزاج تھا‘ خاتون کا خیال تھا وہ اپنے خاوند سے بات کرے گی تو وہ الٹا اس پر شک شروع کر دے گا۔ دوسری وجہ‘ بیوی کو خطرہ تھا اس کا خاوند کہیں اس سے موبائل واپس نہ لے لے

 یہ فون اس کی بیمار ماں اور اس کے درمیان واحد رابطہ تھا‘ اس کی والدہ دوسرے شہر میں رہتی تھی اور شدید علیل تھی اور وہ فون کے ذریعے اس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی تھی‘ خاتون موبائل کمپنی کو فون کر کے وہ نمبربھی بلاک کرا سکتی تھی لیکن فون اس کے خاوند کے نام پر تھا اور موبائل کمپنیاں اس وقت تک اپنے گاہکوں کی شکایت پر عمل نہیں کرتیں جب تک موبائل کا اصل مالک ان سے رابطہ نہیں کرتا چنانچہ خاتون کے پاس خاموشی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

موبائل میں یہ نمبر بشریٰ کے نام سے ”سیو“ تھا اور پھر وہ دن آ گیا‘ اس دن اس کا خاوند دفتر نہیں گیا تھا‘ وہ دونوں میاں بیوی بچوں کو سکول بھجوا کر ٹی وی دیکھ رہے تھے اور اس دوران اس شخص نے فون کر دیا اور یوں یہ حادثہ ہو گیا۔ اس حادثے کے بعد جب اس شخص سے رابطہ کیا گیا تو پتہ چلا وہ یونیورسٹی کا ایک عام سا طالب علم ہے‘ اس نے یہ نمبر کسی سے خریدا تھا‘ فون استعمال کرنے کے چند دن بعد اسے یہ کال ریسیو ہوگئی اور اس نے چانس لینے کا فیصلہ کر لیا‘

اس نے بتایا یونیورسٹی کے زیادہ تر طالب علم یہی کرتے ہیں‘ یہ مختلف نمبر ڈائیل کرتے رہتے ہیں‘ اس دوران اگر ان کا رابطہ کسی خاتون یا لڑکی سے ہو جائے تو یہ مختلف بہانوں سے اس سے گفتگو شروع کر دیتے ہیں‘ یہ کبھی کسی بینک کے نمائندے بن کر انہیں کریڈٹ کارڈ کے فوائد بتانا شروع کر دیتے ہیں‘ کبھی انہیں لون پر گاڑی خریدنے کی ترغیب دیتے ہیں اور کبھی اکاؤنٹ کھولنے کا مشورہ دیتے ہیں اور مشوروں کے دوران خواتین کے ساتھ فری ہونا شروع کر دیتے ہیں‘

یہ کبھی کسی میک اپ برانڈ کا نمائندہ بھی بن جاتے ہیں اور کبھی کچن کی مشینری بیچنے والی کمپنی کے ترجمان بھی اور یوں گفتگو کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے‘ ان کے موبائل پر اگر کبھی کسی خاتون کی رانگ کال آ جائے تو بھی یہ پورا پورا چانس لینے کی کوشش کرتے ہیں‘ اس چانس کے دوران بعض اوقات ان کا کام بن جاتاہے اور یہ ”کام“ بعدازاں بے شمار لفنگے طالب علموں کیلئے ترغیب کا باعث بنتا ہے‘ اس قسم کی سرگرمیوں میں طالب علموں کے علاوہ بے شمار مرد بھی ”انوالو“ ہیں۔

یہ بھی دن میں دس‘ بیس‘ پچاس ”ایس ایم ایس“ پھینکتے ہیں‘ یہ ان ایس ایم ایس کو ”کنڈیاں“ کہتے ہیں اور اگر کسی ایک کنڈی میں کوئی مچھلی پھنس جائے تو یہ بھی کامیابی کی ایک لمبی چوڑی کہانی بن جاتی ہے اور اس کہانی کی بنیاد پر بعدازاں دوسرے مرد بھی کنڈیاں پھینکنا شروع کر دیتے ہیں‘ یہ کام اس وقت سائنسی بنیادوں پربھی چل رہا ہے‘ ملک میں بلیک میلرز کے بے شمار گینگز کام کر رہے ہیں‘ یہ لوگ چار پانچ سو سمیں خریدتے ہیں‘ یہ سمیں پڑھے لکھے مردوں اور عورتوں میں تقسیم کر دی جاتی ہیں۔

یہ عورتیں اور مرد کنڈیاں ڈالتے ہیں‘ ان کنڈیوں میں مچھلیاں پھنس جائیں توان خواتین اور مردوں کو ملاقات کیلئے بلایا جاتا ہے اور اس ملاقات کے دوران ”مچھلیوں“ کی تصویریں اور فلمیں بنا لی جاتی ہیں اور اس کے بعد بلیک میلنگ کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے آخر میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ میں واپس اس کہانی کی طرف آتا ہوں۔ وہ بیچاری خاتون بلاوجہ اس مسئلے میں الجھ گئی تھی‘ وہ خاوند سے ڈرتی تھی اور اس ڈر کے دوران یہ حادثہ پیش آ گیا‘ اگر خاتون اپنے خاوند کو اعتماد میں لے لیتی یا پھر خاوند فون پر گفتگو کے بعد اس سے آرام سے پوچھ لیتا تو شائد اتنا بڑا حادثہ پیش نہ آتا

لیکن ہم لوگ بعض اوقات اپنے شک اور اپنے خوف کو اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ یہ آخر میں ہماری جان لے لیتا ہے۔ یہ واقعہ آپ کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے کیونکہ اب موبائل کے مضر اثرات ہمارے معاشرے میں دکھائی دینے لگے ہیں لیکن آپ سے درخواست ہے اگر یہ واقعہ آپ کے ساتھ پیش آئے تو آپ دوسرے فریق کو اپنی صفائی کا موقع ضرور دیجئے گا‘ ہو سکتا ہے آپ کے گھر کی خاتون واقعی بے گناہ ہو‘ وہ آپ کی مدد کی طلب گار ہو مگر آپ محض شک کی وجہ سے اپنا گھر برباد کر بیٹھیں۔

The post ہو سکتا ہے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/02/17/551722

Friday, February 15, 2019

کوئی فرق نہیں پڑتا

سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کل پاکستان تشریف لا رہے ہیں‘ سعودی وفد اور سپورٹنگ سٹاف بارہ سو لوگوں پر مشتمل ہو گا‘کراﺅن پرنس کافرنیچر‘ ایکسرسائز مشین‘کافی مشین‘ گاڑیاں‘ کپڑے‘ جوتے اور بیڈ پاکستان پہنچ چکا ہے‘ ڈاکٹر اور سیکورٹی کی ٹیمیں بھی آ چکی ہیں جبکہ پرنس کی ذاتی گاڑیاں آج پہنچ جائیں گی‘ حکومت نے دارالحکومت کے دو فائیو سٹار ہوٹلز سمیت آٹھ ہوٹلز مکمل بک کر لئے ہیں‘ہوٹلوں کے 750 کمرے حکومت کے پاس ہیں‘ مہمانوں کےلئے0 30 گاڑیاں بھی کرائے پر لے لی گئی ہیں‘

پنجاب ہاﺅس کی تزئین و آرائش بھی ہو چکی ہے اور ولی عہد کو ٹھہرانے اور گارڈ آف آنر‘ لنچ اور ڈنرز کےلئے وزیراعظم ہاﺅس کی صفائیاں‘ رینوویشن اور اپ گریڈیشن بھی ہو چکی ہے‘ وزیراعظم ہاﺅس کو دو دن میں ولی عہد کے سٹینڈر کے برابر بنادیا گیا اور یہ تمام انتظامات اور تمام اخراجات کون کر رہا ہے؟ یہ تاریخ کی غیرت مند ترین‘ کفایت شعار ترین اور خودکشی کو دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بہتر قرار دینے والی ایماندار ترین حکومت کر رہی ہے اور یہ تمام فنڈز اس وزیراعظم کے حکم سے جاری ہو ئے جو پوری زندگی ایسے انتظامات پر ”یہ تمہارے باپ کا پیسہ ہے“ کا نعرہ لگاتا تھا‘ آپ آج پرانے پاکستان کے عمران خان کی تقریریں اور انٹرویوز نکال کر دیکھ لیں‘ یہ آپ کو عرب شہزادوں کے بارے میں وہ کچھ کہتے نظر آئیں گے جو ہم آج دہرا بھی نہیں سکتے‘آپ کو یاد ہوگا یہ وہ وزیراعظم ہیں جو میاں نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کی کنگ عبداللہ اور کنگ سلمان سے ملاقاتوں پر دونوں کو برا بھلا کہتے تھے‘ یہ کہتے تھے میں وزیراعظم بنا تو میں کشکول لے کر ملک ملک پھرنے کی بجائے خودکشی کر لوں گا اور میں مر جاﺅں گا لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاﺅں گا لیکن چھ ماہ بعد جی ہاں صرف چھ ماہ بعد وہ انقلابی وزیراعظم‘ وہ انقلابی حکومت اور وہ انقلابی نیا پاکستان تینوں غائب ہو چکے ہیں اور ان کی جگہ پرانے سے بھی بدتر پاکستان سامنے آ گیا‘ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجئے وہ سادگی‘ اپنی چادر کے اندر رہ کر پاﺅں پھیلانے اور وزیراعظم ہاﺅس کو یونیورسٹی بنانے کے دعوے آج کہاں ہیں؟

ہم نے آج جس وزیراعظم ہاﺅس کو ولی عہد کے شایان شان بنا یا کیا یہ وہی وزیراعظم ہاﺅس نہیں تھا جسے حکومت تین بار یونیورسٹی بنا چکی ہے‘ہم نے پہلے اس ”یونیورسٹی“ کو 6 جنوری کو یو اے ای کے ولی عہدشیخ محمد بن زید النہیان کےلئے ”بند“ کیا اور یہ آج پرنس محمد کےلئے بند ہو گئی‘ ہمارے وزیراعظم پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جس نے ائیرپورٹ جا کر کسی ولی عہد کا استقبال بھی کیا‘ اس کی گاڑی بھی ڈرائیو کی اور اسے یونیورسٹی وزیراعظم ہاﺅس میں بھی ٹھہرایا اور تاریخ میں پہلی بار کسی ولی عہد کو گارڈ آف آنربھی دیا گیا اور ہم یہ نوازش کرتے ہوئے یہ بھی بھول گئے گارڈ آف آنر ہیڈ آف سٹیٹس کو دیا جاتا ہے ولی عہدوں کو نہیں‘

ہم آج پرنس محمد بن سلمان کو بھی سربراہ مملکت سے بڑھ کر استقبال اور پروٹوکول دے رہے ہیں‘ ہم ان کے اعزاز میں 21 توپیں بھی چلا ئیں گے اور پوری کابینہ ائیرپورٹ پر ان کا استقبال بھی کرے گی‘ ہمیں یہ کرنا بھی چاہیے‘ کیوں؟ کیونکہ سعودی عرب صرف ہمارا دوست نہیں یہ ہماری عقیدت کا دارالحکومت بھی ہے لیکن یہ تو پرانے پاکستان میں بھی ہوتا تھا پھر نئے پاکستان میں کیا نیا ہے؟ پرانے پاکستان کی حکومتیں بھی کشکول لے کر نکلتی تھیں اور مانگ تانگ کر ملک چلا لیتی تھیں‘ ان میں بھی شہزادوں اور وزراءعظم کے ذاتی مہمانوں کو سربراہ مملکت کے برابر پروٹوکول دیا جاتا تھا‘ پھر نیا کیا ہے؟

ہاں ایک چیز نئی ہے! پرانے پاکستان میں صرف وزیر خزانہ چیف بیگرہوتا تھا جبکہ نئے پاکستان میں یہ فریضہ وزیراعظم ادا کر رہے ہیں‘نئے پاکستان میں شہزادوں کی گاڑیاں بھی وزیراعظم ڈرائیو کرتے ہیں‘ آئی ایم ایف کی سربراہ کے ساتھ قرضے کی شرائط بھی وزیراعظم طے کرتے ہیں اور صدر ٹرمپ اور نریندر مودی کی ٹویٹس کا جواب بھی وزیراعظم دیتے ہیں اور یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو مجھے یقین ہے وہ وقت دور نہیں جب ہمارے وزیراعظم شہزادوں کے بچوں کو کرکٹ بھی سکھانا شروع کر دیں گے اوریہ شہزادوں کو خوش کرنے کےلئے پاکستان میں کیمل ریس کا بندوبست بھی کرا دیں گے۔

ملک کے پچھلے چھ ماہ میں ملک کا جو حشر ہوا سو ہوا تاہم یہ غنیمت ہے وزیراعظم اور حکومت کو کنٹینر کی تقریروں اور زمینی حقائق کا فرق سمجھ آ گیا ‘ یہ لوگ یہ جان گئے صرف دعوﺅں اور تقریروں سے میٹروز نہیں بنتیں‘ اس کےلئے ٹیم چاہیے ہوتی ہے اور اگر ٹیم نہ ہو تو 17 ارب روپے کا پراجیکٹ 82 ارب روپے میں بھی مکمل نہیں ہوتا‘یہ لوگ یہ جان گئے تین سو ارب روپے کی کرپشن پکڑنے کے دعوے اور اس کرپشن کو عدالت میں ثابت کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے‘

یہ لوگ یہ جان گئے علیم خان اور اعظم سواتی جیسے لوگوں کے بغیر حکومتیں اور پارٹیاں بھی نہیں چلتیں اور پارٹیوں کو ان لوگوں کو سائیڈ پر کرنے کے نقصانات بھی بھگتنا پڑتے ہیں‘ یہ لوگ یہ جان گئے سسٹم چلانے کےلئے اہل وزیر اور اہل بیورو کریٹس دونوں ضروری ہوتے ہیں اور حکومت کو اگر بیورو کریٹس کا اعتماد حاصل نہ ہو تو فروری میں بھی کابینہ کے نومبر کے فیصلے پینڈنگ ہوتے ہیں‘ یہ لوگ یہ جان گئے حکومتوں کو روپے کی قیمت مستحکم رکھنے کےلئے روزانہ 50 ملین ڈالر مارکیٹ میں پھینکنے پڑتے ہیں‘

یہ لوگ یہ جان گئے حکومت اگر سرمایہ کاروں کو اعتماد نہ دے‘ یہ اگر بینکنگ سیکٹر کی مدد نہ کرے اور یہ اگر سٹاک ایکسچینج پر نظر نہ رکھے تو تیس چالیس ارب ڈالردنوں میںاڑ جاتے ہیں‘ یہ لوگ یہ جان گئے حکومت اگر بجلی اور گیس پر سبسڈی نہ دے تو لوگ خودکشیوں پر مجبور ہو جاتے ہیں اورحکومتوں کے اپنے سپورٹرز جھولیاں پھیلا پھیلا کر بددعائیں دیتے ہیں اور وزراءکےلئے گھروں سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے‘ یہ لوگ یہ جان گئے اپوزیشن اگر حکومت اور پارلیمنٹ کے ساتھ تعاون نہ کرے تو قانون سازی نہیں ہو سکتی اور اگر قانون پاس نہ ہوں تو سسٹم بیٹھ جاتا ہے‘

یہ لوگ یہ جان گئے ساہیوال جیسے واقعات حکومت کواندر اور باہر سے زخمی کر دیتے ہیں اور حکومتوں کےلئے عوام اور ادارے دونوں کو بچانامشکل ہو جاتا ہے‘ یہ لوگ یہ جان گئے ایکٹو میڈیا‘ پروایکٹو جوڈیشری اور سپر ایکٹو اسٹیبلشمنٹ کی موجودگی میں حکومت چلانا تار پر چلنے کے مترادف ہوتا ہے‘ یہ لوگ یہ جان گئے کلبھوشن جیسے جاسوسوں کو سرعام پھانسی دینا آسان نہیں ہوتا‘یہ لوگ یہ جان گئے نریندر مودی کو بڑے عہدے پر چھوٹا شخص قرار دے کر بھارت کو میز پر لانا آسان نہیں ہوتا‘

یہ لوگ یہ جان گئے امریکی اور فرنچ صدور کے ساتھ ٹھنڈے رویئے سے آئی ایم ایف کے پیکج کےلئے جوتے اور پیاز دونوں کھانا پڑتے ہیں‘ یہ لوگ یہ جان گئے حکومت بچانے کےلئے ٹھوس ثبوتوں کے باوجود آصف علی زرداری کو ڈھیل دینا پڑتی ہے‘ یہ لوگ یہ جان گئے نیب اور سرمایہ کاری ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘ یہ لوگ یہ جان گئے حکومت ایل این جی کے جہاز روک کر ملک میں گیس پوری نہیں کر سکتی‘ یہ لوگ یہ جان گئے محمود خان اور عثمان بزدار جیسے لوگ بوجھ ہوتے ہیں اور وزراءاعظم کو یہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانا پڑتے ہیں‘

یہ لوگ یہ جان گئے حکومتوں کو ریلوکٹوں اور پھٹیچر کھلاڑیوںکو ملک میں لانے کےلئے بڑی منتیں کرنا پڑتی ہیں‘ یہ لوگ یہ جان گئے وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر اصغر خان کیس بھی نبٹانا آسان نہیں ہوتا اور ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مجرموں کو سزا دینا بھی ‘ یہ لوگ یہ جان گئے سادگی‘ کفایت شعاری‘ انصاف اور احتساب کے دعوے کرنا اور ان پر عمل کرنا دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے اور یہ لوگ یہ بھی جان گئے حکومت میاں شہباز شریف اور میاں نواز شریف کو این آر او نہ دینے کے جتنے چاہے اعلان کر لے لیکن پرنس محمد کی برکت سے یہ لوگ باہر آ کر اور باہر جا کر رہتے ہیں۔

میں حیران ہوں حکومت کے چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی لوگ ان سے پوچھ رہے ہیں صاف پانی‘ کھلی اور شفاف ہوا‘ مفت انصاف‘ بے رحم اور اکراس دی بورڈ احتساب‘ اہل عہدوں پر اہل افسر اور غریب کےلئے سستی زندگی یہ سارے وعدے‘ یہ سارے دعوے کہاں ہیں؟یہ نادان لوگ حکومت سے پوچھ رہے ہیں آپ نے سو دنوں میں قوم کا مقدر بدلنا تھا‘ آپ نے پچاس لاکھ گھربھی بنانے تھے ‘آپ نے ایک کروڑ نوکریاںبھی دینی تھیں اور آپ نے پولیس کو غیر سیاسی بھی بنانا تھا‘ آج وہ پولیس‘ وہ نوکریاں اور وہ گھر کہاں ہیں؟

لوگ پوچھتے ہیں آپ نے ملک کی عزت نفس بھی بحال کرنی تھی‘ آپ نے ایف بی آر کا قبلہ بھی ٹھیک کرنا تھا اور آپ نے لوگوں کی ظالمانہ ٹیکسوں سے بھی جان چھڑانی تھی‘ آج وہ سب کہاں ہے؟اور لوگ پوچھ رہے ہیں آپ نے چھ ماہ میں کیا اچیو کیا!میں حیران ہوں لوگ ان سے یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ کیالوگ اب تک یہ بھی نہیں جان سکے نیا پاکستان ایک بلبلہ تھا اور یہ بلبلہ اس دن پھٹ گیا تھا جس دن مراد سعید جیسے لوگ وزارتوں کی کرسیوں پر بیٹھے تھے ‘یہ دنیا بہت ظالم ہے ‘

یہاں حقائق اور دعوے مختلف ہوتے ہیں‘ یہاںخواب اور حقیقت میں بڑا فرق ہوتا ہے‘ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ یہ فرق 16 فروری کو اس وزیراعظم ہاﺅس میں دیکھ لیجئے گا جسے ہم نے یونیورسٹی بنا دیا تھا‘ آپ پوری حکومت کو اس دن سعودی عرب کے ولی عہد کے سامنے قطار میں کھڑا بھی دیکھیں گے اورانہیں راضی کرنے کےلئے وہ حرکتیں کرتے بھی پائیں گے جو پرانے پاکستان کے پرانے حکمرانوں نے خواب میں بھی نہیں سوچی تھیں‘ میری حکومت سے درخواست ہے آپ مہربانی فرما کر 16 فروری کویوم آگاہی ڈکلیئر کر دیں اور قوم سے درخواست کریں یہ ہر 16 فروری کو اپنا گریبان پھاڑ کر یوم آگاہی منایا کرے

تاکہ اگلی نسلیں یہ جان سکیں دعوﺅں اورعمل میںبڑا فرق ہوتا ہے‘ اگلی نسلیں یہ بھی جان سکیں غربت دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور آپ اگر غریب ہیں تو پھر پاکستان پرانا ہو یا نیا کوئی فرق نہیں پڑتا‘پھر کرسی اقتدار پر آصف علی زرداری بیٹھے ہوں یا میاں نواز شریف یا پھر عمران خان غریبوںکا گز اڑھائی فٹ ہی رہتا ہے‘ یہ پانی چھان کر ہی پیتے ہیں اور اگلی نسلیں یہ بھی جان سکیںنئے پاکستان صرف نئے حکمرانوں کےلئے ہوتے ہیں‘ عوام پرانے پاکستانوں میں پیدا ہوتے ہیں اور پرانے پاکستانوں ہی میں مرتے ہیں‘ آسمانوں سے ان کےلئے کوئی خوش خبری ‘ کوئی من و سلویٰ نہیں اترا کرتا۔

The post کوئی فرق نہیں پڑتا appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/02/15/551299

Thursday, February 14, 2019

آئی ایم ایف کا باپ بھی آ جائے

میں نپولین بونا پارٹ کا فین ہوں‘ میں نے 2005ءمیں نپولین کا پیچھا شروع کیا‘ یہ کورسیکا  آئی لینڈ میں اجیکسیو میں پیدا ہوا تھا‘ میں پیرس سے فلائیٹ لے کر وہاں پہنچا اور دو دن بونا پارٹ کے شہر میں گزارے‘ اجیکسیو میں نپولین کا گھر آج تک موجود ہے‘ میں تنگ گلیوں سے ہوتا ہوا اس کے گھر پہنچا اور دیر تک وہاں بیٹھا رہا‘ کورسیکا میں گاڑیاں نہیں ہیں‘ لوگ بگھیوں میں سفر کرتے ہیں‘ میں نے بگھی میں سارا جزیرہ دیکھا‘ میں 2006ءمیں واٹر لو بھی گیا‘

واٹر لو بیلجیئم کا چھوٹا سا شہر ہے‘ اس میں برطانیہ اور روس نے مل کر 1815ءمیں نپولین کو آخری شکست دی تھی‘ حکومت نے نپولین کے میدان جنگ کو میوزیم بنا دیا ہے‘ میدان جنگ کے درمیان اونچی پہاڑی ہے‘ چوٹی تک جانے کےلئے سیڑھیاں ہیں اور وہاں سے پورا میدان دکھائی دیتا ہے‘ واٹر لو میں ”پلوٹوریم“ بھی ہے‘ یہ ایک 360 زاویئے کا فورڈی سینما گھر ہے جس میں آپ کھلی آنکھوں سے پوری جنگ دیکھتے ہیں اور میں 2007ءمیں سینٹ ہیلینا بھی گیا‘یہ جنوبی بحراوقیانوس میں 16 بائی8 کلومیٹر کا چھوٹا سا آتش فشانی جزیرہ ہے‘ جزیرے کی فضا میں گندھک کی بو بسی تھی‘ یہ بدبو نپولین کے پھیپھڑے کھا گئی اور وہ 1821ءمیں خون تھوک تھوک کر مر گیا‘ میں پیرس میں درجنوں مرتبہ اس کے مزار پر بھی گیا اور اس کا محل ٹولریزبھی تلاش کرتا رہا ‘یہ ٹولریز میں 15سال مقیم رہا ‘یہ عمارت 1871ءمیں جلا دی گئی تھی‘ اس کا صرف گارڈن بچا تھا۔نپولین حقیقتاً حیران کن کردار تھا لیکن یہ حیران کن کردار ہمارا موضوع نہیں‘ ہمارا موضوع اس کی وہ فلاسفی تھی جس نے اسے برطانیہ جیسی طاقت سے لڑا دیا‘ وہ برطانیہ کو نیشن آف شاپ کیپرز (دکانداروں کی قوم) کہتا تھا‘ اس کا خیال تھا برطانوی قوم دکانداروں پر مشتمل ہے اور دکاندار کبھی لڑ نہیںسکتے چنانچہ نپولین نے برطانیہ کو فتح کرنے کا فیصلہ کر لیا‘

نپولین کی پہلی آبزرویشن نیشن آف شاپ کیپرز درست تھی لیکن دکاندار لڑ نہیں سکتے وہ یہاں مار کھا گیا کیونکہ برطانیہ نے اسے نہ صرف دوبار خوفناک شکست دی بلکہ دکانداروں کی قوم نے اسے تاریخ کا رزق بھی بنا دیا‘ نپولین کی یہ فلاسفی اور یہ آبزرویشن ہمارا موضوع ہے۔برطانیہ اپنے صنعتی انقلاب تک ایک عام غریب ملک تھا‘ ملک کے 80 فیصد عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے تھے لیکن پھر ملکہ وکٹوریانے پورے ملک کو ہنر مند بنانے کا فیصلہ کیا‘ ملکہ انقلابی تھی‘

اس کا خیال تھا قوم جب تک کمائے گی نہیں اس وقت تک اس کی حالت نہیں بدلے گی لہٰذا اس نے بے کار قوم کو دکاندار بنانا شروع کر دیا‘ برطانیہ کے ہر خاندان نے ڈرائنگ روم توڑ کر دکان بنائی اور وہاں کوئی نہ کوئی کاروبار شروع کر لیا‘ لاکھوں کی تعداد میں نئی دکانیں کھلیں‘ مصنوعات کی ڈیمانڈ پیدا ہوئی‘ ڈیمانڈ نے سپلائی کا پہیہ چلایا اور یہ پہیہ فیکٹریوں میں تبدیل ہو گیا یوں برطانیہ میں دو نئے طبقے پیدا ہوئے‘ مزدور اور بزنس مین‘ آپ آج بھی برطانیہ جائیں تو آپ کو ہر گھر ‘ہر عمارت کے نیچے دکان ملے گی‘

پورا لندن شہر دکانوں پرمشتمل ہے‘ یہ سلسلہ اٹھارہویں صدی میں شروع ہوا تھا‘ یہ تکنیک خوش حالی لے کر آئی اور پورا برطانیہ امیر ہو گیا‘ نپولین کا خیال تھا خوش حالی نے برطانیہ کو سست بنا دیا ہے‘ یہ لوگ اب لڑنے کے قابل نہیں ہیں لیکن واٹر لو کے معرکے نے یہ خوش فہمی غلط ثابت کر دی‘ دکانداروں کی قوم جیت گئی اور نپولین بونا پارٹ تاریخ میں دفن ہو گیا‘ یہ کیسے ہوا؟ ہم جب آج واٹر لو کی جنگ کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں جنگ وسائل کا کھیل ہوتی ہے‘

برطانیہ کے پاس وسائل تھے چنانچہ یہ جنگ جیت گیا اور نپولین بونا پارٹ وسائل اور پیسے کی کمی کی وجہ سے مار کھا گیا‘ جنگ کےلئے گولہ بارود‘ سپاہی‘ گھوڑے‘ گاڑیاں اور بحری جہاز درکار ہوتے تھے اور یہ رقم کے بغیر ممکن نہیں ہوتا‘ برطانیہ کے پاس رقم تھی‘ اس نے اپنی فوج کو تمام وسائل فراہم کر دیئے جبکہ نپولین اور فرنچ عوام بے روزگاری اور کساد بازاری کا شکار تھے لہٰذا فرانس پھنستا چلا گیا‘یہاں سے معیشت کے ایک پریکٹیکل فلسفے نہ جنم لیا اور یہ پریکٹیکل فلسفہ ہمارا موضوع ہے۔

دنیا میں معیشت کی بے شمار تکنیکس ہیں لیکن معاش کی اصل عمارت صرف دو ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے‘ آمدنی میں اضافہ اور غیر ضروری اخراجات میں کمی‘ آپ اپنی آمدنی میں اضافہ کرتے رہیں‘ آپ کی معیشت مضبوط ہوتی جائے گی اور آپ وہ سوراخ بند کرتے رہیں جہاں سے آپ کا سرمایہ ضائع ہو رہا ہے‘ آپ اپنی خوش حالی کو زیادہ دیر تک انجوائے کریں گے لیکن اگر آپ کی آمدنی بھی کم ہے اور آپ کے وسائل بھی مختلف سوراخوں سے نکل رہے ہیں تو پھر آپ خود کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکیں گے اور برطانیہ نے صنعتی انقلاب کے زمانے میں یہ دونوں کام کئے تھے‘

ملکہ نے ہر شخص کو کمانے پربھی لگا دیا تھا اور اسے بچت کی عادت بھی ڈال دی تھی چنانچہ برطانیہ نے نپولین جیسی آندھی کا رخ موڑ دیا‘یہ پہلی اور دوسری عالمی جنگ بھی جیت گیا اور یہ آج بھی دنیا کی مضبوط ترین معیشت ہے‘ ہم جس دن اس حقیقت پر غور کریں گے ہم اس دن اس نتیجے پر پہنچیں گے ہم ان دونوں مسئلوں کا شکار ہیں‘ ہم 21کروڑ لوگوں کا ملک ہیں لیکن ہم میں کمانے والے ایک کروڑ اور کھانے والے 20 کروڑ ہیں‘کمانے والے کروڑ لوگوں میں سے بھی صرف 15لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں گویا21 کروڑ لوگوں کا بوجھ صرف 15 لاکھ لوگوں کے کندھوں پر ہے‘

ہم اگر ملک کو خودمختار اور اپنے قدموں پر دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں کمانے والے بڑھانے ہوں گے اور کمائی تجارت سے بڑھتی ہے ملازمت سے نہیں‘ ہمیں بھی لوگوں کو بچپن سے کمانے کی عادت ڈالنا ہو گی‘ حکومت نوجوانوں کےلئے خصوصی پیکج کا اعلان کرے ‘یہ انہیں لڑکپن سے کمانے کی عادت ڈالے‘ حکومت ٹیکسوں میں کمی لا کر ٹیکس بیس بھی بڑھائے‘آپ خود سوچئے حکومت اگر کسی شخص کی چوتھائی آمدنی لے جائے گی تو وہ ٹیکس کیوں دے گا؟

دوسراہمارے سرکاری ادارے لیکج کا بہت بڑا مرکز ہیں‘ حکومت کے 195 صنعتی اور کاروباری ادارے خسارے میں جا رہے ہیں‘ یہ ادارے ہر سال 1100 ارب روپے ضائع کر دیتے ہیں‘ پی آئی اے کا روزانہ کا خسارہ 11 کروڑ روپے ہے‘ آپ حد ملاحظہ کیجئے ہمارے پاس جہاز 32 ہیں لیکن پائلٹ 522 ہیں‘ 2018ءمیں پی آئی اے کو دنیا کی تیسری بدترین ائیرلائین قرار دیا گیا تھاجبکہ اسی سروے میں ساﺅتھ افریقن ائیرویز کو دنیا کی پانچویں بہترین ائیرلائین ڈکلیئر کیا گیا‘ساﺅتھ افریقن ائیرویز کے ملازمین کی تعداد پی آئی اے سے پانچ ہزار کم ہے‘

ہم یہ صورتحال کب اور کہاں تک برقرار رکھ سکیں گے چنانچہ حکومت اپوزیشن اور عوام کو اعتماد میں لے اور یہ خسارے کے شکار195 ادارے فروخت کر دے تاکہ کم از کم 1100 ارب روپے تو بچ جائیں‘ دوسرا ہمارے ملک میں ہر سال 24 فیصد بجلی اور 22 فیصد گیس چوری ہوتی ہے‘ حکومت یہ چوری صارفین پر ڈال دیتی ہے جس کی وجہ سے عوام کےلئے گیس اور بجلی کے بل دینا ممکن نہیں رہا‘ یہ بھی اب چوری کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘ حکومت کچھ بھی کرے لیکن یہ چوری بند کرا دے‘ اس سے لوگوں کے بل نیچے آ جائیں گے‘

ہماری امپورٹس کا 30فیصد پٹرول اور گیس پر مشتمل ہے‘ ہم اگریہ کم کر دیں تو بھی ہماری درآمدات میں ٹھیک ٹھاک کمی آ جائے گی اور ہم ہر سال اپنے مالیاتی ذخائر کے برابر رقم بچا لیں گے اوریہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بغیر ممکن نہیں‘ حکومت جتنی جلدی یہ حقیقت مان لے گی ہم اتنی جلدی امپورٹ بل کم کرلیںگے‘ہم اتنی جلدی رائیٹ ٹریک پر آ جائیں گے‘ عوام کو سستی اور آرام دہ سواری چاہیے‘ یہ عوام اور حکومت دونوں کےلئے ضروری ہے‘ پوری دنیا اس حقیقت کو مان چکی ہے‘ صرف ہم اپنی ضد کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں‘ ہم جتنی جلدی اس حقیقت کو تسلیم کر لیں گے ہمارے پیاز اور ہمارے جوتے اتنے کم ہو جائیں گے ورنہ یہ سلسلہ آگے چلتا جائے گا۔

ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا ملکی سرمائے کی لیکج کی ایک بڑی وجہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر بھی ہے‘ اورنج لائین منصوبوں کی اصل کاسٹ 164ارب تھی‘ عدالتوں کی وجہ سے 22 ماہ ضائع ہو گئے جس سے کاسٹ 240ارب روپے ہو گئی‘ یہ منصوبہ اب عثمان بزدار کے سپیڈ بریکر پر رک گیا ہے‘ یہ سپیڈ بریکر مزید سو ارب روپے ضائع کر دے گا‘ہم جس دن ٹھنڈے دماغ سے ان عوامل کا جائزہ لیں گے جن کی وجہ سے پشاور میٹرو کی کاسٹ 17 ارب سے 82 ارب روپے‘ تھرکول پراجیکٹ 100 ارب روپے سے 300 ارب روپے‘ کراچی کا سرکولر ریلوے پچاس ارب روپے سے 207ارب روپے اور گوادر پورٹ 30 ارب روپے سے 300 ارب روپے تک چلی جاتی ہے ہم اس دن ملک کو ٹھیک کر لیںگے‘

حقیقت تو یہ ہے ہمیں 2007ءمیں سٹیل مل کے 22 ارب روپے مل رہے تھے لیکن ہم نے اپنی ضد کی وجہ سے اس پر مزید 50 ارب روپے ضائع کردیئے‘یہ اب کوڑیوں کے مول بھی نہیں بک رہی‘ہماری یہ حماقتیںسرکار کی بالٹی کے پیندے میں سوراخ بڑھاتی چلی جا رہی ہیں اور یہ سوراخ جب تک موجود ہیں ہم اس وقت تک کشکول لے کر دردر پھرتے رہیں گے‘ اس دن تک ہماری بھیک کا سلسلہ بند ہو گا اور نہ ہم غربت سے نکل سکیں گے‘ہمیں یہ بھی مانناہوگا ہماری پرانی حکومتیں بھی آئی ایم ایف سے قرضے مانگ کر یہ سوراخ پالتی رہیں

اور ہماری یہ حکومت بھی سعودی عرب‘ یو اے ای ‘ چین اور آئی ایم ایف سے قرض لے لے کر اس بالٹی میں ڈال رہی ہے‘اصل مسئلے پچھلی حکومتوں نے ختم کیے اور نہ یہ کر رہے ہیں‘ پچھلی حکومتیں بھی کینسر کا علاج پیناڈول سے کر رہی تھیں اور یہ بھی یہ گولیاں نگلتے چلے جا رہے ہیں چنانچہ میری درخواست ہے آپ اصل حل کی طرف آئیں‘ لوگوں کو کمانے پر لگائیں اور حکومت لیکج کم کرے‘ یہ ملک تب چلے گا ورنہ آئی ایم ایف کا باپ بھی آ جائے تو بھی ہم غربت اور بے روزگاری کے سمندر سے باہر نہیں آ سکیں گے‘ ہم نپولین کی طرح ڈوبتے چلے جائیں گے‘ ہم اپنے مزار کا چراغ بن کر رہ جائیں گے۔

The post آئی ایم ایف کا باپ بھی آ جائے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/02/14/550971

Tuesday, February 12, 2019

یہ تبدیلی چھوٹی نہیں

آپ علیم خان کی گرفتاری کے بارے میں تین تھیوریاں ملاحظہ کیجئے۔پہلی تھیوری کا ماخذ وزیراعلیٰ ہاﺅس پنجاب کا ایک ویٹر ہے‘ ویٹر نے یہ بات اپنے ساتھیوں کو سنائی‘ ساتھیوں نے یہ بات پورے لاہور میں پھیلا دی اور یہ وہاں سے ملک کے تمام مقتدر حلقوں تک پہنچ گئی‘ ویٹر کے بقول 3فروری کووزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی ون آن ون ملاقات چل رہی تھی‘ میں چائے دینے کےلئے اندر گیا‘ میں نے سنا عثمان بزدار عمران خان سے کہہ رہے تھے‘ یہ دو لوگ مجھے چلنے نہیں دے رہے‘

یہ میرے سامنے بھی میری مخالفت کرتے ہیں اور پیچھے بھی‘ یہ میڈیا کو بھی میرے بارے میں مواد دیتے رہتے ہیں اور یہ بیورو کریٹس کوبھی اکساتے رہتے ہیں‘ عمران خان نے یہ سن کر وزیراعلیٰ کو تسلی دی اور صبر کی تلقین کی‘ ملاقات کے دو دن بعد 6 فروری کو نیب نے علیم خان کو گرفتار کر لیا اور یوں عثمان بزدار کے راستے کا پہلا کانٹا نکل گیا‘ دوسرا کانٹا کب نکلتا ہے لوگ اب اس کا انتظار کر رہے ہیں‘ یہ پہلی تھیوری تھی‘ آپ اب دوسری تھیوری بھی ملاحظہ کیجئے‘ یہ تھیوری لاہور کے اعلیٰ بقراطی حلقوں میں گردش کر رہی ہے‘ لاہوری بقراط کہتے ہیں عثمان بزدار نے پورے ملک کے چھکے چھڑا دیئے‘ پنجاب میں چھ ماہ میں مکمل ریورس گیئر لگ چکا ہے‘ دھیلے کا کام نہیں ہوا‘ پنجاب حکومت اورنج لائین ٹرین اور پی کے ایل آئی تک نہیں چلا سکی‘ یہ صورت حال ملک کے مقتدر حلقوں کےلئے قابل قبول نہیں‘ ان کا خیال ہے یہ حالات اگر مزید چھ ماہ جاری رہے تو پنجاب پورے ملک کو لے کر بیٹھ جائے گا چنانچہ ان حلقوں نے وزیراعظم پر دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا‘ یہ عثمان بزدار کو ہٹوا کر علیم خان کو وزیراعلیٰ بنوانا چاہتے تھے‘ چودھری صاحبان اور ن لیگ بھی درپردہ علیم خان کے حق میں تھی‘ وزیراعظم کا خیال تھا وقت کے ساتھ ساتھ اس دباﺅ میں اضافہ ہو گا لہٰذا علیم خان گرفتار ہو گئے اور یوں مضبوط کانٹا نکل گیا‘ یہ دوسری تھیوری تھی اور آپ اب تیسری تھیوری بھی ملاحظہ کیجئے‘ حکومتی وزراءکا خیال ہے علیم خان کی گرفتاری ”بیلنسنگ ایکٹ“ ہے‘

اپوزیشن بار بار نیب کو حکومت کا ان ہولی الائنس (غیر مقدس اتحاد) قرار دیتی تھی‘ یہ لوگ یہ بھی کہتے تھے نیب پاکستان تحریک انصاف کی لانڈری اور بی ٹیم ہے چنانچہ نیب نے یہ الزامات دھونے اور احتساب کے عمل کو متوازن کرنے کےلئے حکومت کے سینئر وزیر کو بھی گرفتار کر لیاجس کے بعد اپوزیشن اب نیب کو جانبدار قرار نہیں دے سکتی‘ دوسرا نیب چند بڑی شخصیات کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے‘ یہ لوگ بہت جلد گرفتار ہوجائیں گے‘ ان میں آصف علی زرداری‘ فریال تالپور‘ یوسف رضا گیلانی‘ راجہ پرویز اشرف‘ شاہد خاقان عباسی‘ رانا ثناءاللہ اور مریم اورنگزیب شامل ہیں‘ نیب نے ان گرفتاریوں سے پہلے حکومت کے سینئر وزیر کو حراست میں لے کر بھی توازن قائم کر دیا۔

یہ تینوں تھیوریاں اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں اور ان تینوں کے ٹھیک ٹھاک سپورٹر بھی ہیں لیکن میں ان تینوں سے اتفاق نہیں کرتا‘ میں سمجھتا ہوں یہ تھیوریز اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے حکومت وقت کا سینئر وزیراس وقت نیب کی حراست میں ہے اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں‘ نیب کا ادارہ اس وقت گرم پانیوں میں پھنسا ہوا ہے‘ پاکستان پیپلز پارٹی ہو‘پاکستان مسلم لیگ ن ہو یا پھر حکومتی پارٹی پاکستان تحریک انصاف ہو یہ تمام جماعتیں نیب پر دباﺅ بھی ڈال رہی ہیں اور یہ نیب کے قوانین میں ترمیم بھی کرنا چاہتی ہیں‘

ملک کی تینوں پارٹیوں میں اس وقت نیب کے خلاف خفیہ گٹھ جوڑ چل رہا ہے‘ اس گٹھ جوڑ کی وجہ سے نیب کے اچھے کام بھی ڈسٹ بین کی نظر ہو جاتے ہیں‘ یہ اس وقت بہت بڑا المیہ ہے‘ میں آگے بڑھنے سے پہلے آپ کو یہ بھی بتاتا چلوںعمران خان اور میاں نواز شریف دونوں نیب قوانین میں ترمیم کی مخالفت کر رہے ہیں‘ عمران خان تمام چوروں کو جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں چنانچہ یہ نیب لاز کو مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں جبکہ میاں نواز شریف کا خیال ہے” میرا جو نقصان ہونا تھا وہ ہو چکا ہے‘ میں جیل بھی جا چکا ہوں‘ میری حکومت بھی ختم ہو چکی ہے‘ میں ڈس کوالی فائی بھی ہو چکا ہوں اور میں اپنی اہلیہ کو بھی کھو چکا ہوں‘ یہ لوگ مجھے مزید کیا نقصان پہنچا سکتے ہیں چنانچہ میں چاہتا ہوں یہ لوگ بھی اب نیب کی چکی کے نیچے سے گزریں‘ یہ بھی مزہ چکھیں“

میاں نواز شریف اور عمران خان کی سوچ اور آصف علی زرداری اور میاں شہباز شریف کے اعتراضات کی وجہ سے نیب کا کردار دھندلا ہو گیا اور ہم اب اسے اس کاجائز حق بھی نہیں دے رہے‘ چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاویداقبال کی اچھائیاں اور کامیابیاں بھی اس سیاست بازی کی نذر ہو رہی ہیں‘ ہم جس دن ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ چند حقائق دیکھیں گے تو ہمیں نیب اتنا برا نہیں لگے گا جتنا ہم اسے اس وقت محسوس کر رہے ہیں‘ مثلاً ہمیں ماننا ہو گا کرپشن ہمارے پورے سسٹم کی نسوں کا حصہ ہے‘

آپ کو اوپر سے لے کر نیچے تک پورا سسٹم کرپٹ ملے گا‘ ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جس میں لوگوں نے قرآن مجید چھاپنے کے نام پر لوگوں کو لوٹ لیا تھا‘ جس میںمفتی صاحبان نے لال مسجد کا نام لے کر مضاربہ بنایا اور یہ نمازیوں کے اربوں روپے کھا گئے‘ جس میں ڈبل شاہ جیسے شخص نے چھ شہروں کو کنگال کر دیا اور جس میں انور مجید جیسے کاریگر ریگولربینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ کرتے رہے‘ ہم اس وقت دنیا کے ان چند ملکوں میں شامل ہیں جن کے شیڈولڈ بینک منی لانڈرنگ میں ملوث نکل آئے ہیں‘

جس ملک میں کرپشن کا یہ لیول ہو‘ جس میں لوگ مسجدوں سے جوتے اور پنکھے چوری کر لیتے ہوں اور حاجیوں کے حج کی رقم کھا جاتے ہوں آپ فیصلہ کیجئے اس میں اگر نیب جیسا ادارہ بھی نہ ہو تو صورتحال کیا ہو گی؟ جس ملک میں سیکرٹری خزانہ کے گھر سے 65 کروڑ روپے نکل آئیں اور ایمبیسیاں جعلی پاسپورٹس بنانے کے دھندے میں ملوث ہوں وہاں اگر جسٹس(ر) جاوید اقبال بھی نہیں ہوگا تو حالات کہاں تک چلے جائیں گے؟ہمیں ماننا ہوگا ہمارے ملک میں کرپشن بھی ہے اور اس کرپشن میں روز بروز اضافہ بھی ہو رہا ہے

چنانچہ میں دل سے سمجھتا ہوں نیب جیسے ادارے قائم بھی رہنے چاہئیں اور ان کے قوانین بھی سخت ہونے چاہئیں ‘ تاہم سسٹم میں چند تبدیلیاں بھی ضروری ہیں‘ مثلاً نیب جب تک اپنی تفتیش مکمل نہ کر لے‘یہ ریفرنس تیار نہ کر لے یہ ملزم کو گرفتار نہ کرے‘ چیئرمین کے پاس حراست کا اختیار بھی نہیں ہونا چاہیے اور نیب کو بزنس مینوں اور بیورو کریٹس کو بھی اس وقت تک گرفتار نہیں کرنا چاہیے جب تک اس کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود نہ ہوں ‘ہمیں ماننا ہوگا کمزور ثبوتوں کی وجہ سے معاشی مارکیٹ میں بھی انتشار پھیلتا ہے اور بیورو کریسی کا مورال بھی ڈاﺅن ہوتا ہے اور اس کا ملک کو نقصان پہنچتا ہے‘

نیب کو باعزت پیشوں مثلاً محکمہ تعلیم‘ صحت اور مذہب سے منسلک سینئر عہدیداروں کا احترام بھی کرنا چاہیے‘ پروفیسر گناہ گار بھی ہو سکتے ہیں اور کرپٹ بھی لیکن آپ جب ان کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کریں گے یا پھر ان کو گندے سیلز میں رکھیں گے تو اس سے معاشرے میں استاد کی تذلیل ہو گی اور یہ رجحان ٹھیک نہیں‘ کرپشن کے خاتمے کے ساتھ ساتھ باعزت پیشوں کا احترام بھی ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں خود کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دینا چاہیے‘ نیب کے قوانین میں یہ تبدیلیاں ہونی چاہئیں‘ اس سے کرپشن فری پاکستان ممکن ہو سکے گا۔

میں یہاں چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال کی تعریف بھی کرنا چاہتا ہوں‘ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں مضاربہ سکینڈل میں چار ہزار ایک سو 56 لوگوں نے شکایت کی‘ جسٹس جاوید اقبال نے ذاتی دلچسپی لے کر نہ صرف 44 بااثر ملزم گرفتار کرائے بلکہ ان سے 616 ملین روپے اور 6 ہزار کنال زمین ریکور کرا کر متاثرین کے حوالے کی‘ یہ بظاہر ایک چھوٹی سی نیکی تھی‘ یہ نیکی چار ہزار خاندانوں کی زندگی ثابت ہوئی‘ جسٹس جاوید اقبال اب تک ہاﺅسنگ سکیموں کے ڈسے ہوئے ہزاروں لوگوں کو بھی ریلیف دے چکے ہیں‘

یہ لوگ جھولی پھیلا پھیلا کر انہیں دعائیں دیتے ہیں اور یہ بھی شاید ہم سب کےلئے انکشاف ہو گا جسٹس(ر) جاوید اقبال نے پہلی بار اسلام آباد میں فرانزک لیب بنوائی‘ اس لیب میں فنانشل کرپشن کے ثبوتوں کا فزانزک ٹیسٹ بھی ہوتا ہے اور دستاویزات کی پڑتال بھی اور فنگر پرنٹس کی میچنگ بھی‘ نیب نے پچھلے13 ماہ میں 3919 ملین روپے کی ریکوری کی‘561 ملزمان گرفتار کئے‘2125 شکایات کی تصدیق‘ 1059کی انکوئری ‘302 شکایات کی تفتیش اور مختلف احتساب عدالتوں میں 590 ریفرنسز دائرکئے ‘اس وقت احتساب عدالتوں میں 900 ارب روپے کے 1280 ریفرنسززیرسماعت ہیں‘

یہ بڑی اچیومنٹس ہیں لیکن یہ اچیومنٹس سیاسی گرد میں چھپ کر رہ گئی ہیں اور ہم نیب کے خلاف پراپیگنڈے میں اس ادارے کی یہ خوبصورتیاں اور یہ کامیابیاں فراموش کر بیٹھے ہیں‘ ہم خواہ کچھ بھی کر لیں ہم علیم خان کی گرفتاری کو کسی کے کھاتے میں بھی ڈال دیں لیکن پھر بھی یہ حقیقت حقیقت ہی رہے گی نیب نے بہرحال پنجاب کے سینئر وزیر کو عین اس وقت گرفتار کیا جب اس کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر چمک رہا تھا‘ جب پوری دنیا اسے پارٹی کی اے ٹی ایم قرار دے رہی تھی‘ یہ سینئر وزیر اس وقت نیب کی حراست میں ہے جب اس کی پارٹی تین صوبوں اور وفاق میں حکمران ہے اور یہ کوئی چھوٹی بات نہیں‘

پاکستان جیسے ملکوں میں یہ کب اور کہاں ہوتا ہے‘ نیب میں اس وقت ایک صدر اور پانچ وزرائے اعظم کے خلاف انکوائریاں چل رہی ہیں اور یہ لوگ عدالتوں میں بھی بلوائے جاتے ہیں‘ یہ تبدیلی بھی چھوٹی نہیں‘ ہمیں اس تبدیلی کو بھی تسلیم کرنا ہو گا اور نیب جیسے اداروں کا احترام بھی تاہم تبدیلی‘ توسیع اور ترقی کی گنجائش ہر وقت اور ہر جگہ موجود رہتی ہے‘ نیب کے سسٹم میں بھی امپروومنٹ کی ضرورت ہے لیکن صرف سیاست کی وجہ سے یہ ادارہ بند نہیں ہونا چاہیے‘ یہ ملک کےلئے نقصان دہ ہو گا۔

The post یہ تبدیلی چھوٹی نہیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/02/12/550195

Sunday, February 10, 2019

تیرہ ۔ دل

سیف اللہ ضیاء میرے پرانے جاننے والے ہیں‘ ٹھیکیداری سے کام شروع کیا‘ اللہ نے ہاتھ پکڑا اور یہ ترقی کرتے چلے گئے‘یہ خدا ترس انسان ہیں‘انہوں نے گاؤں میں بچیوں کے سکول بھی بنائے اور ڈسپنسریاں بھی‘ یہ روزانہ نئی چیزیں بھی سیکھتے رہتے ہیں‘ میں نے چند ماہ قبل ہم خیال لوگوں کا گروپ بنایا اور ہم نے سفر شروع کئے تو سیف اللہ ضیاء سب سے پہلے اس گروپ کا حصہ بنے‘ یہ اب تک ہمارے ساتھ ترکی‘ ازبکستان اور مصر کا سفرکرچکے ہیں‘ ہم لوگ اب مارچ میں مراکش جائیں گے‘ یہ وہاں بھی ہمارے ہم رکاب ہوں گے‘

یہ قرآن مجید‘ احادیث اور اسلامی تاریخ میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں‘ ہم قاہرہ میں اہرام مصر پہنچے اور میں نے ابولہول کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کیا‘فرعون ٹیکنالوجی اور سائنس میں ہم سے بہت آگے تھے‘یہ سات ہزار سال قبل سات سو کلو میٹر دور لکسر شہر سے ایک کروڑ پتھر یہاں لائے‘ ہر پتھر 25 سے اڑھائی سو ٹن وزنی تھا‘یہ ون پیس تھا اور یہ پہلے پہاڑ سے چوڑائی میں کاٹا گیا تھا اور پھر سات سو کلو میٹر دور لایا گیا تھا‘ یہ پتھر بعد ازاں صحرا کے عین درمیان 170 میٹر کی بلندی پر لگائے بھی گئے‘قدیم مصری آرکی ٹیکٹس نے آٹھ ہزار سال قبل مقبروں کا ایسا ڈیزائن بنایا جو ہر طرف سے بند بھی تھا لیکن بندش کے باوجود اندر سورج کی روشنی بھی آتی تھی‘ ہوا بھی اور اندر کا درجہ حرارت بھی باہر کے ٹمپریچر سے کم رہتا تھا‘ ان لوگوں نے آٹھ ہزار سال قبل لاشوں کو حنوط کرنے کا طریقہ بھی ایجاد کر لیا اور یہ خوراک کو ہزار سال تک محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی جان گئے‘ قاہرہ کے علاقے جیزہ کے بڑے اہرام میں 23 لاکھ بڑے پتھر ہیں‘ ابولہول دنیا کا سب سے بڑا ون پیس سٹرکچر ہے اور یہ لوگ جانتے تھے شہد دنیا کی واحد خوراک ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتی چنانچہ اہراموں میں پانچ ہزار سال پرانا شہد نکلا اور یہ مکمل طور پر استعمال کے قابل تھا‘ یہ لوگ کمال تھے‘ بس ان میں ایک خرابی تھی‘ یہ متکبر تھے اور اللہ تعالیٰ کو تکبر پسند نہیں چنانچہ یہ پکڑ میں آ گئے اور یوں عبرت کی نشانی بن گئے‘ سیف اللہ ضیاء یہ گفتگو سنتے رہے‘ بس میں پہنچ کر انہوں نے ایک قرآنی ریسرچ کا حوالہ دیا‘ ان کا کہنا تھا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں تیرہ (13) دلوں کا ذکر کیا‘ یہ 13 دل تیرہ قسم کے لوگ ہیں۔

میں نے پاکستان واپس آکر یہ پوری ریسرچ پڑھی تو میں دیر تک سرشاری کی کیفیت میں رہا‘ بے شک ہر علم اللہ کی ذات سے پھوٹتا ہے اور علم کی ہر شاخ انسانی دماغ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے‘ آپ بھی اللہ کی طرف سے 13 لوگوں کی تقسیم ملاحظہ کیجئے اور سمیع العلیم کا شکر ادا کیجئے کہ اس نے ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے نوازا۔اللہ تعالیٰ کی نظر میں پہلا دل قلب سلیم ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو کفر‘ نفاق اور گندگی سے پاک ہوتے ہیں‘

قلب سلیم کے مالک لوگ ذہنی اور جسمانی گندگی بھی نہیں پھیلاتے اور یہ خود بھی نفاق اور کفر سے پاک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان سے بچا کر رکھتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کو یہ دل اچھے لگتے ہیں۔ دوسرا دل قلب منیب ہوتا ہے‘یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور اس کی اطاعت میں مصروف رہتے ہیں‘آپ کو زندگی میں بے شمار ایسے لوگ ملیں گے جو سر تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں گم رہتے ہیں‘ ان لوگوں کی واحد نشانی توبہ ہوتی ہے‘

یہ اللہ سے ہر وقت معافی اور توبہ کے خواستگار رہتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ منیب لوگوں کو بھی پسند کرتا ہے۔ تیسرا دل قلب مخبت ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو جھکے ہوئے‘ مطمئن اور پرسکون ہوتے ہیں‘ میں نے زندگی میں عاجز لوگوں کو مطمئن اور پرسکون پایا‘ آپ بھی اگر سکون اور اطمینان چاہتے ہیں تو آپ بھی عاجزی اختیار کر لیں آپ کو سکون کی دوا نہیں کھانا پڑے گی‘ عاجزی وہ واحد عبادت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا”جو کوئی بھی اللہ کیلئے جھکتا ہے (عاجزی اختیار کرتا ہے) اللہ اس کو بلند کر دیتا ہے“چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخبت دل بھی پسند ہیں۔

چوتھا دل قلب وجل ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو نیکی کے بعد بھی یہ سوچ کر ڈرتے رہتے ہیں کہ معلوم نہیں اللہ تعالیٰ ہماری یہ نیکی قبول کرے یا نہ کرے‘ یہ لوگ ہر لمحہ اللہ کے عذاب سے بھی ڈرتے رہتے ہیں‘ یہ بنیادی طور پر تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں‘ یہ جانتے ہیں اللہ نے اپنے انبیاء کو بھی غلطیوں کی سزا دی تھی‘ ہم کس کھیت کی مولی ہیں چنانچہ یہ اپنی بڑی سے بڑی نیکی کو بھی حقیر سمجھتے ہیں‘ اللہ کو یہ دل بھی پسند ہیں۔

پانچواں دل قلب تقی ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم کرتے ہیں‘ ہم میں سے بے شمار ایسے لوگ ہیں جو شعائر خداوندی پر مکمل عمل نہیں کر پاتے تاہم یہ ان شعائر کی عبادت کی طرح تعظیم کرتے ہیں‘ یہ لوگ اگر کسی مجبوری سے عبادت نہ کر سکیں تو بھی یہ روزہ داروں کے سامنے کھاتے پیتے نہیں ہیں اور یہ نماز اور اذان کے وقت خاموشی اختیار کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں‘ چھٹا دل قلب مہدی ہے‘یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ کے فیصلوں پر بھی راضی رہتے ہیں

اور یہ اللہ کے احکامات کو بھی بخوشی قبول کر لیتے ہیں‘ آپ نے ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو ہر برے واقعے کے بعد کہتے ہیں جو اللہ کی مرضی‘ جو اللہ چاہے‘ اللہ تعالیٰ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں‘ میں نے زندگی میں کبھی ایسے لوگوں کو خسارے میں نہیں دیکھا‘ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان کیلئے برائی کے اندر سے اچھائی نکالتا ہے‘ لوگ ان کیلئے شر کرتے ہیں لیکن اللہ اس شر سے خیر نکال دیتا ہے۔ساتواں دل قلب مطمئن ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہوتے ہیں جن کو اللہ کی توحید اور ذکر سے سکون ملتا ہے‘ قلب مطمئن بنیادی طور پر صرف اور صرف اللہ پر یقین رکھتا ہے‘ یہ دن رات اللہ کا ذکر (تسبیحات) بھی کرتا رہتا ہے‘

میں خود ماشاء اللہ 25 سال سے تسبیحات کر رہا ہوں اور میں نے تسبیحات کرنے والے بے شمار لوگ بھی دیکھے ہیں‘یہ لوگ واقعی مطمئن اور خوش رہتے ہیں‘ آپ بھی اگر ملال اور حزن سے بچنا چاہتے ہیں تو میری درخواست ہے آپ تسبیح شروع کر دیں‘ آپ کا دل اطمینان اور خوشی سے بھر جائے گا‘ درود شریف اور لاحول ولا قوۃ الاباللہ بہترین تسبیحات ہیں‘ آپ ان کو معمول بنا لیں اور آپ پھر کمال دیکھیں‘ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند ہیں‘ آٹھواں دل قلب حئی ہے‘

یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو اللہ کی نافرمان قوموں کا انجام سن کر ان سے عبرت اور نصیحت حاصل کرتے ہیں‘ ہم میں سے جو لوگ کم تولنے‘ جھوٹ بولنے‘ شر پھیلانے‘ شرک‘ کفر اور تکبر کرنے‘ برائی کی ترویج کرنے اور بچوں‘ عورتوں اور جانوروں پر ظلم کرنے والوں کا انجام سن اور دیکھ کر توبہ کر لیتے ہیں اور اپنی زندگیاں ان گناہوں سے پاک کر لیتے ہیں اللہ کی نظر میں وہ لوگ قلب حئی ہوتے ہیں اور اللہ انہیں بھی پسند کرتا ہے۔ نواں دل قلب مریض ہیں‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو شک‘ نفاق‘ بداخلاقی‘ ہوس اور لالچ کا شکار ہوتے ہیں‘

ہم لوگ لالچ‘ ہوس‘ بداخلاقی‘ نفاق اور شک کو عادتیں سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ روح اور دماغ کی بیماریاں ہیں اور جو لوگ ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں وہ اذیت ناک زندگی گزارتے ہیں‘ اللہ ان لوگوں اور ان کے دلوں کو مریض سمجھتا ہے‘ میرا دعویٰ ہے آپ اپنی زندگی میں صرف شک کا مرض پال لیں آپ چند برسوں میں دل‘ پھیپھڑوں‘گردوں اور جسمانی دردوں کی دوائیں کھانے پر مجبور ہو جائیں گے اور آپ بس شک کی عادت ترک کر دیں آپ کی ادویات کم ہونے لگیں گی‘ آزمائش شرط ہے‘

دسواں دل قلب الاعمی ہے‘ یہ وہ دل (لوگ) ہیں جو دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں‘ یہ بے حس لوگ ہوتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ انہیں اندھے اور بہرے لوگ سمجھتا ہے اور مومنوں کو حکم دیتا ہے تم بس انہیں سلام کرو اور آگے نکل جاؤ‘ یہ بنیادی طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جن سے قدرت بھی مایوس ہو جاتی ہے‘ مجھے جب اور جہاں بھی یہ لوگ ملتے ہیں میں ان سے فوراً کردہ اور ناکردہ گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور آگے چل پڑتا ہوں‘ یقین کیجئے میری زندگی میں بہت سکون ہے اور میں نے جب بھی انہیں سمجھانے کی کوشش کی میرا بلڈ پریشر بڑھ گیا چنانچہ آپ بھی اللہ کی نصیحت پر عمل کریں‘ انہیں سلام کریں اور آگے نکل جائیں۔

گیارہواں دل قلب اللاھی ہے‘ یہ وہ دل ہے جو قرآن سے غافل اور دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہے‘ اللہ ان غافل لوگوں کو بھی پسند نہیں کرتا اور یہ بھی بالآخر عبرت کا نشان بن جاتے ہیں‘ بارہواں دل قلب ا لآثم ہے‘ یہ وہ لوگ ہیں جو حق پر پردہ ڈالتے اور گواہی چھپاتے ہیں‘ آپ تاریخ پڑھ لیں آپ گواہی چھپانے اور حق پر پردہ ڈالنے والے معاشروں اور لوگوں کو تباہ ہوتے دیکھیں گے‘ اللہ کو یہ لوگ بھی پسند نہیں اور تیرہواں اور آخری دل متکبرہوتا ہے‘ یہ لوگ تکبر اور سرکشی میں مبتلا ہوتے ہیں‘

یہ اپنی دین داری کو بھی گھمنڈ بنا لیتے ہیں یوں یہ ظلم اور جارحیت کا شکار ہو جاتے ہیں‘ کبر اللہ کا وصف ہے‘ اللہ یہ وصف کسی انسان کے پاس برداشت نہیں کرتا چنانچہ معاشرہ ہو‘ ملک ہو یا پھر لوگ ہوں تاریخ گواہ ہے یہ فرعون اور نمرود کی طرح عبرت کا نشان بن جاتے ہیں‘ دنیا میں آج تک کسی مغرور شخص کو عزت نصیب نہیں ہوئی‘ وہ آخر میں رسوائی اور ذلت تک پہنچ کر رہا‘ اللہ کو یہ دل بھی پسند نہیں۔آپ ان 13 دلوں کو سامنے رکھیں اور اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں‘

آپ کے سینے میں اگر کوئی برا دل ہے تو آپ توبہ کریں اور اچھے دل کی طرف لوٹ جائیں‘ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے کرم اور فضل کے دروازے کھول دے گا‘ آپ یقین کر لیں اللہ کے سوا اس دنیا میں کوئی طاقت نہیں‘ یہ اگر آپ کے ساتھ ہے تو پھر کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اگر آپ کو اس کاساتھ نصیب نہیں تو پھر آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا‘ آپ خواہ فرعون ہوں یا نمرود آپ عبرت بن کر رہیں گے۔

The post تیرہ ۔ دل appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/02/10/549581