Tuesday, January 15, 2019

آندھی میں اخبار کا کاغذ

ہم واپس 2014ءمیں جاتے ہیں‘ عمران خان دس لاکھ لوگوں اور ایک لاکھ موٹر سائیکلوں کے ساتھ اسلام آباد تشریف لائے اور تاریخ کا طویل ترین دھرنا دے دیا‘ میں اس وقت اس دھرنے کے خلاف تھا‘اس گستاخی سے پہلے میرے عمران خان کے ساتھ آئیڈیل تعلقات تھے‘ میں نے 1996ءمیں ان کی پہلی پریس کانفرنس سے لے کر2014ءتک ان کا بھرپور ساتھ دیا‘ یہ مجھ سے ستارہ مارکیٹ میں اپنے کارکنوں کو لیکچر بھی دلاتے تھے اور میں بازار روڈ پر بھی ان کے دفتر جاتا رہتا تھا‘

جنرل مجیب الرحمن اس وقت ان کے جنرل سیکرٹری اور اکبر ایس بابرسنٹرل وائس پریذیڈنٹ تھے لیکن عمران خان نے جب اسلام آباد پر یلغار کی تو میں نے ان کے طرز عمل کی مخالفت کی‘ اس مخالفت کی دو وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ‘ میں یلغار کی پوری بیک گراﺅنڈ سے واقف تھا‘ میں جانتا تھا اس کا مقصد حکومت تبدیل کرنا نہیں‘ حکومت کو دباﺅ میں لانا اور اس دباﺅ کے ذریعے حکومت سے کچھ حاصل کرنا ہے اور دوسری وجہ‘ یہ ملک دھرنے جیسے ٹرینڈز افورڈ نہیں کر سکتا‘ پاکستان پولرائزیشن کا شکار ملک ہے‘ یہاں تگڑے مذہبی گروپس بھی ہیں‘ مافیاز بھی‘ نسلی اور لسانی گروہ بھی اور باہر کی طاقتیں بھی‘ مجھے خطرہ تھا عمران خان کا دھرنا ریاست کی کمزوری پوری دنیا کے سامنے کھول دے گا اور یوں ملک کی چولیں ہل جائیں گی‘ یہ دونوں نقطے بعد ازاں سچ ثابت ہوئے‘ عمران خان کے دھرنے سے حکومت نہیں گری اور ریاست کی کمزوریاں بھی پوری دنیا کے سامنے آ گئیں‘ آپ علامہ خادم حسین رضوی کے دونوں دھرنوں کا تجزیہ کر لیجئے‘ آپ کو میرا نقطہ سمجھ آ جائے گا‘ میں 2014ءکے بعد مسلسل عرض کرتا رہا ہم نواز شریف کو نکال کر غلطی کر رہے ہیں‘ ملک کو اس کا نقصان ہو گا‘ میں یہ بھی کہتا رہا ہم نواز شریف کا احتساب نہیں کرنا چاہتے ‘ ہم بس ان کی انا اور عزت نفس پامال کرنا چاہتے ہیں‘ میرے یہ خدشات بھی درست نکلے‘ ہم نے نواز شریف کو نکالا اور ملک نے ڈھلوان کی طرف لڑھکنا شروع کر دیا‘ ہم احتساب میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے‘

احتساب اگر کسی شخص کو ڈیڑھ دو ماہ کےلئے جیل میں ڈالنا ہے تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں ہم کامیاب ہیں لیکن اگر مال مسروقہ برآمد کرنا بھی احتساب میں شامل ہے تو پھر ہم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں‘ ہم نے ایون فیلڈ میں نواز شریف کو سزا دی‘ ہائی کورٹ نے نیب کورٹ کے فیصلے کو کمزور ڈکلیئر کر کے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا‘ شریف فیملی کے تینوں فلیٹس آج بھی ان کی ملکیت ہیں‘ یہ ہمیں کبھی نہیں ملیں گے‘ ہم نے العزیزیہ ملز میں بھی انہیں سزا دی‘ یہ فیصلہ بھی کمزور ہے‘

میاں نواز شریف جلد یا بدیر اس سے بھی نکل جائیں گے چنانچہ پھر ہم نے کیا کمایا‘ کیا حاصل کیا؟ میں بار بار یہ بھی عرض کرتا تھا عمران خان کا موقف اور نیت ٹھیک ہے لیکن ان کا طریقہ کاراور ٹیم دونوں اچھے نہیں‘یہ اپروچ اور یہ ٹیم ملک نہیں چلا سکے گی‘ میری یہ بات بھی سچ ثابت ہوئی چنانچہ پاکستان تحریک انصاف کے پہلے پانچ ماہ نے عوام سمیت ہارون الرشید اور حسن نثار جیسے صحافیوں کے چھکے بھی چھڑا دیئے‘ آج ملک کے اندر اور باہر پاکستان تحریک انصاف کے نوے فیصدچاہنے والے پریشانی میں دائیں بائیں دیکھ رہے ہیں‘

میں انہیں تسلی دیتا ہوں لیکن یہ میری تسلی کو طنز سمجھتے ہیں چنانچہ میں ایک عجیب کنفیوژن‘ ایک عجیب المیے کا شکار ہوگیا ہوں‘ میں عمران خان کی مخالفت کرتا تھا مجھے اس وقت بھی گالی پڑتی تھی اور میں آج ان کی حمایت کرتا ہوں تو بھی لوگ مجھے گالی دیتے ہیں‘ مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں؟۔آپ یقین کیجئے ہم نے نواز شریف کو نکال کر غلطی کی تھی‘ ہم نے اگراب عمران خان کو کام نہ کرنے دیا تو ہم پہلی سے زیادہ بڑی غلطی کریں گے‘

ہمیں مان لینا چاہیے ہم نانی کی شادی کر چکے ہیں‘ ہمیں اب اسے طلاق دلانے کی حماقت نہیں کرنی چاہیے‘ ہمیں اب حکومت کو سپورٹ کرناچاہیے‘ملک کے دو اڑھائی سال مشکل ہیں لیکن پھر ملک ٹریک پر آ جائے گا‘ یہ لوگ ملک کو ٹھیک کر لیں گے‘ مجھے یقین ہے آپ کو میری بات پر یقین نہیںآئے گا لیکن میں آپ کو اس آبزرویشن کی فلاسفی سمجھاتا ہوں‘ ملکوں کی ترقی کے دو طریقے ہوتے ہیں‘ ہم پہلے طریقے کو نواز شریف میتھڈ کہہ سکتے ہیں‘ یہ میتھڈ امداد‘ قرضوں اور سپورٹ پر بیس کرتا ہے‘

ملک دھڑا دھڑ قرضے‘ امداد اور بڑی قوموں کی سپورٹ لیتے ہیں‘سڑکیں‘ پل‘ ڈیم‘ ائیرپورٹس اور بندرگاہیں بناتے ہیں اور بجلی اور گیس پوری کرتے ہیں‘ ملک میں صنعتکاروں اور تاجروں کی نئی کلاسز پیدا کرتے ہیں اور ملک ترقی کی دوڑ میں شریک ہو جاتے ہیں‘ یہ بعد ازاں کما کر اپنے قرضے بھی اتار دیتے ہیں‘ لاطینی امریکا ہو‘ آدھا یورپ ہو‘ مشرق بعید کے ترقی یافتہ ملک ہوں یا پھر سنٹرل ایشیا ہو آدھی دنیا نے اس طریقے سے ترقی کی‘ نواز شریف بھی یہ کر رہے تھے‘

یہ مانگ تانگ کر ملک کو ٹریک پر لا رہے تھے لیکن ہمیں یہ طریقہ پسند نہ آیا اور ہم نے انہیں بھی نکال دیا اور ان کے طریقے کو بھی‘ دوسرا طریقہ عمران خان میتھڈ ہے‘ بھارت اور چین سمیت دنیا کے بے شمار ملکوں نے غربت‘ افلاس‘ افراط زر‘ بیماری اور بے ہنگم آبادی کے باوجود کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا‘ یہ بھی غریبی میں ہنر اور نام پیدا کرتے کرتے بالآخر اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے‘ یہ بھی ترقی یافتہ کہلانے لگے‘ عمران خان میتھڈ کا دوسرا نام خود انحصاری ہے‘

یہ راستہ مشکل ضرور ہے‘ اس میں بے روزگاری‘ مہنگائی‘ بیماری‘ لوڈ شیڈنگ‘ افلاس‘ افراط زر اور قلت کے بے شمار کانٹے بھی آتے ہیں لیکن برازیل ہو‘ چلی ہو یا پھر اٹلی‘ جرمنی‘ چین اور بھارت ہوں دنیا کے بے شمار ملکوں نے اس کے ذریعے بھی ترقی کی‘ ہم نے بھی اب اس پر پاﺅں رکھ دیا ہے‘ ہمیں اب یہ پاﺅں واپس نہیں اٹھانا چاہیے‘ ہمارے لئے دو اڑھائی سال بہت مشکل ہوں گے‘ روپیہ مزید ڈی ویلیو ہو جائے گا‘یہ 180 روپے فی ڈالر تک پہنچ جائے گا‘ ٹیکس کولیکشن میں بھی کمی آئے گی‘

اشیاءخورونوش کی قلت بھی پیدا ہو گی‘ گیس اور بجلی کی خوفناک لوڈشیڈنگ بھی ہو گی اور ملک میں بے روزگاری کا سونامی بھی آئے گا لیکن ہم اگر یہ تکلیفیں سہہ گئے تو ملک بہت جلد ٹریک پر آ جائے گا‘ ہم بھی برازیل‘ میکسیکو‘ یونان‘ چین اور بھارت کی طرح ٹیک آف شروع کر دیں گے مگر اس کا انحصار صرف اور صرف ہماری قوت برداشت پر ہے‘ ہم اگر تکلیف کا یہ دور برداشت نہ کر سکے اور ہم نے اگر عمران خان کو بھی نکال دیا تو پھر ہمارا بدترین دور شروع ہو جائے گا‘

ہم دلدل کا رزق بن کر رہ جائیں گے چنانچہ ہمارے پاس اب عمران خان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں‘ ہمیں اسے حقیقت تسلیم کرلینا چاہیے ورنہ ہم بیچ راستے میں مارے جائیں گے تاہم میری عمران خان سے بھی درخواست ہے‘ یہ بھی اب کڑوا گھونٹ سمجھ کر ایک حقیقت مان لیں‘یہ تسلیم کر لیں یہ اپنی اس ٹیم کے ساتھ ملک بچا سکیں گے اور نہ چلا سکیں گے‘ حکومتی ٹیم میں کیا خرابی ہے‘ ہم اب اس طرف آتے ہیں۔دنیا میں تین چیزیں ناتجربہ کاری‘ بے ہنری اورتکبر جہاں بھی اکٹھی ہو تی ہیں وہاں تباہی آ جاتی ہے

اور عمران خان کی ٹیم کے نوے فیصد کھلاڑیوں میں یہ تینوں خامیاں موجود ہیں‘ پوری قوم روز وزراءکے تکبر کے مظاہرے دیکھتی ہے‘ پوری بیورو کریسی ان کی ناتجربہ کاری کے ہاتھوں ذلیل ہو چکی ہے اور پورا سسٹم ان کی بے ہنری (کیپسٹی) دیکھ کر جام ہو گیا ہے‘ مجھے وزیراعظم آفس کے ایک صاحب نے بتایا‘ ہم نے آج تک سی سی آئی کے اجلاسوں میں عثمان بزدار اور محمود خان کی آواز نہیں سنی‘ یہ لوگ فائل تک نہیں پڑھ سکتے‘عثمان بزدار کتنے بڑے آئن سٹائن ہیں آپ ایک مثال ملاحظہ کیجئے‘

سیہون شریف میں بزدار قبیلے کے لوگ رہتے ہیں‘ یہ وزیراعلیٰ پنجاب کو سیہون شریف بلانا چاہتے ہیں‘ عثمان بزدار نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے خود کہا ‘میں کراچی اور سیہون شریف آنا چاہتا ہوں‘ میں نے آج تک کراچی نہیں دیکھا‘ آپ اندازہ کیجئے ہم نے ملک کا سب سے بڑا صوبہ اس آئن سٹائن کے حوالے کر دیا‘ میں دل سے سمجھتا ہوں اگر جہانگیر ترین یا علیم خان بھی وزیراعلیٰ ہوتے تو آج یہ صوبہ مختلف ہوتا‘ آپ چودھری پرویز الٰہی کو ہی وزیراعلیٰ بنا دیں لیکن صوبے کو چلنے دیں ورنہ بیڑہ غرق ہو جائے گا‘

آپ پرویز خٹک کو دوبارہ کے پی کے میں لے آئیں‘ وہاں بھی تباہی ہو رہی ہے‘ دوسراہماری وفاقی کابینہ سیلفیوں اور سوشل میڈیا پر چل رہی ہے‘ صرف چار لوگ شاہ محمود قریشی‘ اسد عمر‘ محمدمیاں سومرو اور عمر ایوب کابینہ کے اجلاس میں خاموش بیٹھتے ہیں یا پھر کام کی بات کرتے ہیں‘ باقی تمام وزراءکی اچیومنٹ یہ ہوتی ہے ہم نے فلاں بیان دے کر‘ ہم نے فلاں پریس کانفرنس کر کے اور ہم نے فلاں ٹاک شو میں فلاں کی بولتی بند کر کے کمال کر دیا‘ یہ لوگ سارا دن ٹویٹس بھی کرتے رہتے ہیں‘

آپ یقین کر لیجئے اس سے ملک نہیں چل سکے گا‘ حکومت بار بار دعویٰ کر رہی ہے ہم نے امپورٹس کم کر دی ہیں‘ یہ لوگ یہ تک سوچنے کےلئے تیار نہیں اس کی وجہ حکومت کی اچھی پالیسیاں نہیں ہیں‘یہ کارنامہ ترقیاتی کاموں کی بندش اور ڈالر کی قیمت میں عدم استحکام نے سرانجام دیا‘ ملک میں جب ترقیاتی کام ہی نہیں ہوں گے اور صنعت کاروں کو ڈالر کی قیمت پر اعتماد نہیں ہوگا تو ملک میں امپورٹس خود بخود کم ہو جائیں گی چنانچہ حکومت کو اب جاگنا ہوگا‘

یہ اگر نیا پاکستان بنانا چاہتے ہیں تو پھر انہیں قائداعظم‘ لیاقت علی خان اور ایوب خان بننا ہوگا اور یہ تینوں انتہائی سنجیدہ تھے‘ یہ سر پیچھے گرا کر کرسیوں پر نہیں جھولتے تھے‘ یہ روز سیلفیاں نہیں بناتے تھے‘ یہ روز پریس ٹاک نہیں کرتے تھے اور یہ ہروقت ٹویٹر پربھی نہیں ہوتے تھے‘ یہ خاموشی سے کام کرتے تھے اور دنیا کا کوئی شخص انہیں متکبر یا غیرسنجیدہ نہیںکہتا تھا لہٰذا حکومت کو اب سنجیدہ بھی ہونا پڑے گا اور عاجزی بھی اختیارکرنی پڑے گی ورنہ دوسری صورت میں جس دن عوام یا بیورو کریسی کسی ایک وزیر کے سامنے کھڑی ہو گئی اس دن یہ سارا سسٹم آندھی میں اخبار کا کاغذ بن جائے گا‘ یہ حکومت بری طرح بکھر جائے گی چنانچہ خان صاحب آپ جاگ جائیں‘ آپ آنکھیں کھول لیں‘ سیلاب گھر کے دروازے تک پہنچ چکا ہے۔

The post آندھی میں اخبار کا کاغذ appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/15/541322

Sunday, January 13, 2019

آدھی بند آدھی کھلی

کانپور بھارتی ریاست اتر پردیش کا مشہور اور قدیم شہر ہے‘ یہ شہر قیام پاکستان سے پہلے چمڑے اور سوتی کپڑے کی وجہ سے پورے ہندوستان میں مشہور تھا‘ انگریز نے 1876ء میں کانپور میں ہندوستان کی پہلی وول مل لگائی اور یہ چمڑے اور کاٹن کے ساتھ وول کی سب سے بڑی منڈی بھی بن گیا‘ لالہ کملا پت کا تعلق اس شہر سے تھا‘ وہ کپاس کا بیوپاری تھا‘ اس نے انگریزوں کو دیکھتے ہوئے 1888ء میں جے کے آرگنائزیشن کے نام سے کاٹن اور وول کی کمپنی بنا لی‘

جے اس نے اپنے والد جگی لال سنگھانیا سے لیا تھا اور کے اس کے اپنے نام کملا کا پہلا حرف تھا‘ یہ کمپنی کامیاب ہو گئی‘ کانپور‘ دہلی اور ممبئی میں کمپنی کے دفتر کھل گئے اور یہ دھڑا دھڑ روپیہ کمانے لگے‘ لالہ کیلاش پت سنگھانیا لالہ کملا پت کا بیٹا تھا‘ بیٹا کاروبار میں آیا اور اس نے کاٹن اور وول کی تجارت تک محدود کمپنی کو سیمنٹ‘ ٹائر‘ کاغذ‘ ڈیری اور انجینئرنگ کے سامان تک پھیلا دیا‘ 1925ء تک جے کے آرگنائزیشن کے ملازمین کی تعداد 50 ہزار ہو گئی اور یہ ہندوستان کا سب سے بڑا گروپ بن گیا‘ لالہ کیلاش پت نے بعد ازاں جے کے آرگنائزیشن کو ریمنڈ گروپ میں تبدیل کر دیا اور گروپ نے کپڑے‘ گارمنٹس‘ ڈیزائنرویئر اور وول میں اجارہ داری قائم کر لی‘ وجے پت سنگھانیا خاندان کی تیسری نسل تھی‘ یہ آیا اور اس نے ریمنڈ گروپ کو بھارت کے 380 شہروں تک پھیلا دیا‘ اس نے ملک میں گیارہ سو ایگزیکٹو سٹورز اور 20 ہزار سیل پوائنٹس بھی بنا دیئے‘ گروپ کا کاروبار دنیا کے 55 ملکوں تک بھی پھیل گیا اور یہ دنیا میں ٹیکسٹائل کا پاور ہاؤس بھی بن گیا یوں وجے پت سنگھانیا بھارت کے امیر ترین افراد میں شامل ہو گیا‘یہ اربوں ڈالر کا مالک تھا‘ وجے پت سنگھانیا نوجوانوں کی صلاحیتوں پر یقین کرنے والا شخص تھا‘ اس نے 2007ء میں اپنا سارا کاروبار اپنے بیٹے گوتم سنگھانیا کے حوالے کر دیا‘ گوتم سنگھانیا والد کے ایک دستخط کے ساتھ ایک ہی رات میں 12 ہزار کروڑروپے کا مالک بن گیا اور یہاں سے وجے پت سنگھانیا کا برا وقت شروع ہو گیا‘

وہ بیٹا جو اپنی چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کیلئے باپ کے جوتے اٹھانے کیلئے تیار رہتا تھا اس نے آنکھیں ماتھے پر رکھنا شروع کر دیں‘ مالا بار ہل ایریا میں 36 منزلہ سنگھانیا ہاؤس تھا‘ وجے پت کا اس میں خوبصورت ایگزیکٹو اپارٹمنٹ تھا‘ یہ اپارٹمنٹ بیٹے نے والد کے نام کرنا تھا لیکن بیٹا مکر گیا‘ وجے پت کی اپنی کمپنی کے لوگ آئے اور اسے اس اپارٹمنٹ سے بے دخل کر دیا‘ وجے پت شیئرز کی ٹرانسفر کے باوجود گروپ کا چیئرمین تھا‘ بیٹے نے ڈائریکٹرز کے ساتھ مل کر باپ کو چیئرمین شپ سے بھی ہٹوا دیا‘

وجے پت کا دفتر ہیڈکوارٹر میں تھا‘ وہ ایک دن دفتر آیا تو پتہ چلا وہ دفتر بھی اب اس کا نہیں رہا اور وہ مجبوراً کرائے کے مکان میں شفٹ ہو گیا لیکن اس کی اپنی کمپنی نے کرایہ دینے سے انکار کر دیا‘ باپ وجے پت اور بیٹے گوتم پت میں دو سال سے کوئی رابطہ اور کوئی بات چیت بھی نہیں یوں بھارت کا چار نسلوں سے کھرب پتی بزنس مین پیسے پیسے کو محتاج ہو گیا‘ یہ اب روزانہ کی ضروریات کیلئے بھی دوستوں کی طرف دیکھتا رہتا ہے‘ وجے پت سنگھانیا نے ان حالات سے تنگ آ کر عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا‘

یہ بھارت بلکہ پوری دنیا کیلئے حیران کن کیس ہو گا‘ اس کیس میں ایک سابق کھرب پتی باپ اپنے موجودہ کھرب پتی بیٹے کو عدالت میں طلب کرے گا اور پھر عدالت سے درخواست کرے گا ”ہم والدین اگر اپنی اولاد کو اپنی زمین جائیداد دے سکتے ہیں تو پھر ہمارے پاس وہ زمین جائیداد واپس لینے کا اختیار بھی ہونا چاہیے“ یوں یہ اپنی نوعیت کا ایک حیران کن کیس ہو گا۔وجے پت سنگھانیا کی داستان برصغیر پاک وہند کی لاکھوں بلکہ کروڑوں داستانوں میں سے ایک ہے‘

آپ کو اپنی زندگی میں بھی ایسے بے شمار کردار مل جائیں گے جو امیر تھے‘ طاقتور اور صاحب جائیداد تھے اور ان کے عزیز‘ رشتے دار‘ دوست اور بچے ہر وقت ان کے اردگرد گھومتے پھرتے رہتے تھے لیکن پھر انہوں نے اپنا سب کچھ اپنے بچوں کو سونپ دیا اور پھر یہ دربدر ہو گئے اور یہ نعمتوں‘ سہولتوں اور اولاد کی محبت کو ترستے ترستے دنیا سے رخصت ہو گئے‘ لاہور میں میرے ایک جاننے والے تھے‘ وہ کیمیکل امپورٹ کیا کرتے تھے‘ کروڑ پتی تھے‘

اپرمال سکیم میں ان کا گھر تھا‘گاڑیاں اور نوکر چاکر تھے‘ اللہ نے انہیں اولاد سے بھی نواز رکھا تھا‘ تین بیٹے تھے‘ تینوں فرمانبردار تھے‘ بہویں بھی ہر وقت ان کی خدمت کرتی رہتی تھیں‘ ان کی بیگم کا انتقال ہو گیا‘ انہیں جذباتی دھچکا پہنچا اور وہ دنیا سے دین کی طرف راغب ہو گئے‘ عمرہ کیا‘ حج کیا اور پھر اولیاء کرام کی محفل میں بیٹھنے لگے جس کے بعد انہیں دنیا اور اس کا مال بے معنی سا محسوس ہونے لگا‘ وہ ایک دن اٹھے‘ بچوں کو اکٹھا کیا اور اپنا سارا کاروبار‘ جائیداد اور جمع پونجی ان کے حوالے کر دی‘

اپنے لئے گھر کا ایک پورشن پسند کیا‘ بچوں سے اپنا ماہانہ طے کرایا اور اللہ اللہ کرنے لگے‘بیٹے انہیں شروع میں باقاعدگی سے جیب خرچ دیتے رہے لیکن یہ بندوبست بمشکل چھ ماہ چل سکا‘ پہلے جیب خرچ بند ہوا‘ پھر ایک بیٹا دوسرے بیٹے اور دوسرا تیسرے پر ڈالنے لگا‘ پھر والد کے پورشن میں مہمان ٹھہرائے جانے لگے اور آخر میں تینوں بیٹوں نے والد کو تنہا چھوڑ دیا‘ وہ صاحب بے بسی اور عسرت کے عالم میں انتقال کر گئے‘ یہ ایک ماڈل تھا‘ آپ اب دوسرا ماڈل ملاحظہ کیجئے‘

میرے عزیز دوست فیضان عارف یورپ کے کسی ملک میں کسی پاکستانی سے ملاقات کیلئے گئے‘ وہ صاحب بزرگ تھے اور پورے خاندان کا نیوکلیس تھے‘ ان کے بیٹے‘ بیٹیاں‘ بہویں اور داماد بھی ان کا احترام کرتے تھے اور نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں بھی‘ فیضان عارف نے ان سے کہا ”انکل میں نے پورے یورپ میں ایسا پاکستانی گھرانہ نہیں دیکھا‘ لوگ یہاں اولاد کا شکوہ کرتے رہتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی سعادت مند اولاد سے نواز رکھا ہے‘‘

وہ صاحب سن کر ہنسے‘ ہاتھ کی مٹھی سی بنائی اور فیضان عارف کو دکھا کر بولے ”فیضان بھائی میں نے آج تک اپنی مٹھی نہیں کھولی“ فیضان نے کہا ”میں سمجھا نہیں“ وہ بولے‘ میں نے زندگی میں جو کچھ کمایا‘ اپنے پاس رکھا‘ میں بچوں کو صرف ضرورت کے مطابق پیسہ دیتا ہوں چنانچہ یہ میرا احترام کرتے ہیں‘ میں آج اپنی مٹھی کھول دوں تو میں کشکول بن جاؤں گا۔یہ دو مثالیں زندگی کے دو رخ ہیں‘ ہم پہلے رخ کو سنگھانیا رخ کہہ سکتے ہیں اور دوسرے رخ کو انکل رخ‘ میری نظر میں یہ دونوں رخ غلط ہیں‘

ہم سنگھانیافارمولے کے تحت اپنا سب کچھ اولاد کے حوالے کر کے دربدر ہو جاتے ہیں اور ہم انکل فارمولے پر عمل کر کے اپنی اولاد کی نظروں میں بے توقیر ہو جاتے ہیں‘ اولاد ہم سے اصل محبت نہیں کرتی‘ ہمارے بچے لالچ یا خوف کی وجہ سے ہمارا احترام کرتے ہیں چنانچہ یہ دونوں فارمولے غلط ہیں‘ قدرت نے ان دونوں کے درمیان بھی ایک راستہ رکھا ہوا ہے اور وہ راستہ مجھے کراچی کی ایک میمن فیملی نے دکھایا تھا‘ کراچی کے زیادہ تر میمن اپنے بچوں کو الگ الگ کاروبار کرا دیتے ہیں‘

یہ کاروبار الگ بھی ہوتا ہے اور فیملی کے ساتھ بھی‘ بچے والد کی کمپنی‘ فیکٹری یا دکان کو مال سپلائی کرتے ہیں یا اس سے خریدتے ہیں لیکن پورا منافع ان کا ہوتا ہے یوں یہ ساتھ بھی ہوتے ہیں اور الگ بھی‘ دوسرا فیملی اگر امیر ہو تو یہ لوگ زیادہ زمین خرید کر ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ گھر بنا لیتے ہیں‘ گھر الگ الگ ہوتے ہیں لیکن پارکنگ اور صحن ایک ہوتا ہے‘ والدین اس احاطے میں درمیان میں رہتے ہیں‘ یہ لوگ اگر زمین نہ خرید سکیں تو یہ اپنے گھر کو مختلف پورشنز میں تقسیم کر دیتے ہیں‘

والدین نچلی منزل میں رہتے ہیں اور بچے بالترتیب اوپر‘ والدین اپنا مرکزی کاروبار مرنے تک اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں‘ کاروبار اور جائیداد ان کے انتقال کے بعد تقسیم ہوتی ہے چنانچہ یوں والدین اور بچوں کے درمیان محبت اور احترام دونوں رشتے قائم رہتے ہیں‘ ملازم پیشہ میمن بھی اپنے گھر کے مختلف حصے بچوں کو دے دیتے ہیں لیکن یہ گھر ٹرانسفر نہیں کرتے‘ یہ مٹھی کو آدھا بند اور آدھا کھلا رکھتے ہیں‘ میرا خیال ہے یہ فارمولا زیادہ بہتر ہے‘ آپ سنگھانیا کی طرح اپنی پوری مٹھی کھول کر دربدر بھی نہ ہوں اور آپ فیضان عارف کے دوست انکل کی طرح اپنی مٹھی مکمل بند رکھ کر بچوں کے دل میں خوف بھی پیدا نہ کریں‘

آپ آدھی مٹھی کھول دیں‘ اپنی کمائی کا آدھا حصہ بچوں کو دے دیں اور آدھا بچا کر رکھیں‘ آپ اپنا آدھا حصہ جی بھر کر خرچ کریں‘ اپنے آرام‘ اپنے علاج اور اپنی خواہشوں کی تکمیل میں کوئی کسر نہ چھوڑیں‘ آپ دنیا سے خوش رخصت ہوں گے ورنہ دوسری صورت میں آپ سنگھانیا کی طرح اپنی اولاد کے سامنے محتاج ہو جائیں گے یا پھر آپ کی اولاد آپ کے مرنے کا انتظار کرے گی اور یوں یہ دنیا‘ یہ زندگی آپ کیلئے عذاب ہو جائے گی۔

The post آدھی بند آدھی کھلی appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/13/540610

Friday, January 11, 2019

ملک ایمرجنسی کے دہانے پر

ہمیں بات آگے بڑھانے سے قبل یہ ماننا ہوگا پاکستان پیپلز پارٹی ملک کےلئے انتہائی ضروری ہے‘ کیوں؟کیونکہ یہ ملک کی واحد لبرل پارٹی ہے اور یہ تاریخی حقیقت ہے ملک رجعت پسند جماعتوں اور گروپوں کی وجہ سے ٹوٹ تو سکتے ہیں‘ چل نہیں سکتے‘ہم بھی اگر ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں لبرل پارٹیاں چاہئیں اور یہ اس وقت واحد لبرل پارٹی ہے‘ دوسری وجہ یہ ملک کی واحد جماعت ہے جس کی جڑیں پورے ملک میں موجود ہیں‘ یہ درست ہے پیپلزپارٹی کا پنجاب سے مکمل صفایا ہو چکا ہے اور پانچ دریاﺅں کی سرزمین اب پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کا میدان جنگ بن چکی ہے

لیکن جیالے آج بھی زندہ ہیں اور جس دن پارٹی کو ایک اچھی اور مخلص قیادت مل گئی یہ جیالے پارٹی کوپنجاب میں ایک بار پھر زندہ کر دیں گے‘ میں دل سے سمجھتا ہوں اگر پیپلز پارٹی ختم ہو گئی تو ملک میں پھر کوئی سنٹرل پارٹی نہیں بچے گی‘سیاست علاقائی‘ مذہبی اور نسل پرست جماعتوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی‘ یہ جماعتیں مل کر وفاق میں حکومتیں بنائیں گی‘ وہ حکومتیں بہت کمزور ہوں گی اور وہ کمزور حکومتیں ملک کو مزید کمزور کر دیں گی چنانچہ ہمیں ہر صورتحال میں سنٹرل پارٹیاں چاہئیں اور تیسری وجہ آج بھی پاکستان پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس میں سب سے زیادہ تجربہ کارلوگ موجود ہیں‘ یہ لوگ 1960ءاور 1970ءکی دہائی میں سیاست میں آئے اور یہ اب پوری طرح پک چکے ہیں‘ ان لوگوں کو اگر ایک ایماندار اور سمجھ دار قیادت مل جائے تو یہ لوگ آج بھی ملک چلا سکتے ہیں۔ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کیا بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ جعلی اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ کا حصہ تھے‘ میرا خیال ہے نہیں‘ ہم مراد علی شاہ سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ ایک پڑھے لکھے‘ متحرک اور مخلص وزیراعلیٰ ہیں‘ یہ اپنے صوبے کو ترقی یافتہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے راستے میں فریال تالپور اور آصف علی زرداری کے سپیڈ بریکر ہیں‘یہ سپیڈ بریکرز ان کی رفتار کو بڑھنے نہیں دے رہے‘ یہ جس دن ہٹ گئے مراد علی شاہ اس دن سندھ کےلئے میاں شہباز شریف ثابت ہوں گے

اور جہاں تک بلاول بھٹو کا معاملہ ہے یہ اپنے والد اور پھوپھی کی فصل کاٹ رہے ہیں‘ یہ جب بھی اڑنے لگتے ہیں تو ماضی ان کے دونوں پروں کا بوجھ بن جاتا ہے اور یہ نیچے جا گرتے ہیں‘ یہ نیا ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو ثابت ہونا چاہتے ہیں لیکن یہ اپنے بزرگوں کے سائے سے باہر نہیں آ پا رہے‘ پاکستان پیپلز پارٹی کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا یہ پنجاب کی طرح سندھ سے بھی مکمل فارغ ہو جائے یا پھر یہ بلاول بھٹو کو مکمل آزاد اور خود مختار چیئرمین بنا دے‘ پارٹی کے تمام فیصلے ان کے ہاتھ میں ہوں اور یہ آزادی کے ساتھ فیصلے کریں‘

حکومت نے ان کا نام ای سی ایل پر ڈال کر اور جے آئی ٹی نے ان کو جعلی اکاﺅنٹس میں ملوث کر کے زیادتی کی‘ یہ زیادتی اب بلاول کی زبان اور سوچ دونوں میں ظاہر ہو رہی ہے تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کا نام جے آئی ٹی اور ای سی ایل سے نکال کر بہت اچھا کیا‘ والد کی غلطیوں کی سزا بیٹے کو نہیں ملنی چاہیے‘ یہ اگر والد کے ساتھ بریکٹ رہتے تو یہ اینٹی پاکستان اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہو جاتے اور یہ بلاول اور ملک دونوں کے ساتھ زیادتی ہوتی‘ ہم اب موجودہ سیاسی صورتحال کے حل کی طرف آتے ہیں۔

پہلا حل جعلی اکاﺅنٹس کیس سے متعلق ہے‘ ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لیں تو ریاست بیس سال میں جعلی اکاﺅنٹس کیس نہیں نبٹا سکے گی‘ آپ کو اس کےلئے سینکڑوں ایکسپرٹس پر مشتمل ٹیم بھی چاہیے ‘ نجف مرزا‘ بشیر میمن اور احسان صادق جیسے مخلص اور نڈر افسر بھی اور جسٹس ثاقب نثار جیسا چیف جسٹس بھی اور ہم ایسے کتنے لوگ اکٹھے کر لیں گے اور یہ کب تک تحقیقات کر لیں گے اور اگر تحقیقات ہو بھی گئیں تو ہمیں مجرموں کو سزا دینے کےلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی

اور ترمیم کےلئے موجودہ حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ ارکان ہیں اور نہ کیپسٹی‘ اپوزیشن حکومت کونیا قانون بنانے اور پرانے قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دے گی اور اگر یہ ہو گیا تو بھی جعلی اکاﺅنٹس کا پیسہ ملک سے باہر جا چکا ہے‘ ہمیں یہ پیسہ واپس لانے کےلئے ان ملکوں کا قانون تبدیل کرانا پڑے گا اور یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہو گی‘ ایران 1978ءسے برطانیہ‘ یورپ اور امریکا سے شاہ ایران کا پیسہ واپس مانگ رہا ہے‘ ایران کو آج تک ایک دھیلا نہیں ملا‘ فلپائن کے فرڈی نینڈ مارکوس نے 16بلین ڈالر لوٹے تھے‘

یہ بھی آج تک فلپائن واپس نہیں آئے‘ مصر کے حسنی مبارک‘ لیبیا کے کرنل قذافی‘ تیونس کے زین العابدین بن علی اور عراق کے صدام حسین کے اربوں ڈالر بھی یورپ‘ امریکا اور برطانیہ کے مگرمچھ کھا گئے‘یہ رقمیں بھی واپس نہیں آئیں‘ ہمیں بھی یہ رقم واپس نہیں ملے گی اور ہم الٹا تحقیقات‘ مقدمات اور جیلوں پر مزید اربوں روپے ضائع کر دیں گے‘ اومنی گروپ اس وقت ظاہری اور خفیہ 14شوگر ملوں کا مالک ہے‘ یہ شوگر ملیں اس وقت تک ورکنگ پوزیشن میں ہیں‘

یہ آنے والے چند مہینوں میں کاٹھ کباڑ بن جائیں گی‘ سکینڈل کی زد میں آنے والے بینک بھی تباہ ہو جائیں گے‘ ان بینکوں کے لاکھوں کھاتہ دار بھی سڑکوں پر آ جائیں گے اور سکینڈل میں ملوث زیادہ تر لوگ بوڑھے اور بیمار ہیں‘ یہ اس دوران انتقال کر جائیں گے اور یوں ان کا مال جس جس شخص کے پاس ہے وہ ڈکار مار جائے گا چنانچہ ہمیں آخر میں اس احتساب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ ہم ہرطرف سے خسارے میں رہیں گے لہٰذا میری حکومت سے درخواست ہے آپ ایک مثبت اور بڑا یوٹرن لیں‘

آپ ایک بڑی ایمنسٹی سکیم لانچ کریں اور آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف سمیت تمام لوگوں کو این آر او دے دیں‘یہ لوگ اپنی جائیدادیں‘ جعلی اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ کی رقمیں خزانے میں جمع کرا دیں‘ پارٹی کی قیادت اور سیاست چھوڑ دیں اور دنیا میں جہاں جانا چاہیں چلے جائیں‘ حکومت اومنی گروپ کی شوگر ملیں‘ زمینیں اور کمرشل پراپرٹیز بھی نیلام کر دے اور یہ سارا سرمایہ ڈیم فنڈ میںجمع کرا دے یوں ریاست کو اربوں روپے بھی مل جائیں گے اور یہ تحقیقات اور مقدمات کی خواری سے بھی بچ جائے گی ورنہ دوسری صورت میں ہم مزید دو چار ارب روپے ضائع کر بیٹھیں گے۔

دوسرا حل کرپشن سے متعلق ہے‘ حکومت مستقبل میں کرپشن کے خاتمے کےلئے خفیہ اداروں کا ایک خفیہ سیل بنا دے‘ یہ سیل کرپشن کے خلاف خفیہ تحقیقات کرے اور جوں ہی کوئی شخص‘ کوئی عہدیدار کرپٹ ثابت ہو جائے حکومت دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں کی طرح اس شخص کے خلاف خفیہ مقدمہ چلائے‘ رقم وصول کرے‘ اسے جیل میں ڈالے یا پھر اسے ملک بدر کر دے‘ اس سے قوم کا وقت اور سرمایہ بھی بچ جائے گا اور ریاست کو لوٹا ہوا مال بھی واپس مل جائے گا‘

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی نیب کی کھلی کارروائیوں سے ملک میں خوف پیدا ہورہا ہے اور یہ خوف ملک اور معیشت کونقصان پہنچارہا ہے‘ بیورو کریٹس کام نہیں کررہے اور سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں‘ کرپشن کے خلاف خفیہ تحقیقات‘ خفیہ خصوصی عدالتوں اور خصوصی قوانین کی وجہ سے معاشرے میں خوف بھی پیدا نہیں ہوگا‘ لوٹی ہوئی دولت بھی واپس مل جائے گی اور خفیہ آنکھ کی دہشت کی وجہ سے کرپشن بھی رک جائے گی‘ ہم اگر دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کےلئے خصوصی فوجی عدالتیں اور خصوصی قوانین بنا سکتے ہیں تو کرپشن کے خلاف خصوصی قوانین‘ خصوصی خفیہ سیل اور خصوصی عدالتیں بنانے میں کوئی حرج نہیں‘

یہ ملک کےلئے زیادہ مفید ثابت ہوں گی اور آخری حل ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کو اب اپنی اپنی قیادت تبدیل کر لینی چاہیے‘ ملک کی فیصلہ ساز قوتیں ماضی میں ان دونوں پارٹیوں کو قیادت تبدیل کرنے کا بار بار موقع دیتی رہیں‘ جنرل راحیل شریف کے دور میں آصف علی زرداری کی جگہ بلاول بھٹو‘ میاں نواز شریف کی جگہ میاں شہباز شریف اور الطاف حسین کی جگہ فاروق ستار کو بٹھانے کی سنجیدہ کوششیں ہوئیں‘

آصف علی زرداری اور جنرل راحیل شریف کے درمیان وزیراعلیٰ ہاﺅس سندھ میں خفیہ ملاقات کا بندوبست بھی کیاگیا‘ آصف علی زرداری آ گئے لیکن جنرل راحیل شریف نہیں آ سکے تاہم دونوں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا‘ جنرل راحیل شریف نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیاآپ بلاول بھٹو پر اعتماد کریں‘ یہ پارٹی کو سنبھال لیں گے‘ ملک پیپلز پارٹی جیسی لبرل جماعت کا نقصان برداشت نہیں کر سکتا‘ زرداری صاحب نے وعدہ کر لیا لیکن یہ وعدہ بعد ازاں نبھایا نہیں گیا‘

میاں نواز شریف 22مئی 2016ءکو دل کے آپریشن کےلئے لندن گئے ‘ آپریشن سے ایک دن پہلے انہوں نے مارک اینڈ سپنسر کی کافی شاپ میں بیٹھ کر میاں شہباز شریف کو پارٹی اور سیاست سنبھالنے کی آفر کی‘ میاں شہباز شریف نے صاف انکار کر دیا‘ آپریشن کے بعد میاں نواز شریف نے دوبارہ شہباز شریف کو بلایا اور اڑھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد انہیںقائل کر لیا‘ طے ہو گیا میاں نواز شریف اگلے دن ہسپتال سے تقریر کریں گے اور سیاست اور پارٹی دونوں سے دستبردار ہو جائیں گے‘

عرفان صدیقی کو تقریر لکھنے کےلئے طلب کیا گیا لیکن عرفان صدیقی نے میاں نواز شریف کو یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا‘ اس کے بعد جو ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا‘میاں نواز شریف اگر اس وقت چند قدم پیچھے ہٹ جاتے تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے‘ اسی طرح اگر الطاف حسین بھی 2016ءمیں اپنی انا کی قربانی دے دیتے‘ یہ فاروق ستار جیسی آفر قبول کر لیتے تو آج ایم کیو ایم بھی چار ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہوتی‘ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہو گیا‘ ملک کی تینوں پارٹیوں کو اب ہوش کے ناخن لے لینے چاہئیں‘ان تینوں کو بلاول بھٹو‘ میاں شہباز شریف اور فاروق ستار کو تسلیم کر لینا چاہیے‘

یہ لوگ آئیں‘ پارٹیوں کی قیادت سنبھالیں اور حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیں تاکہ ملک ٹریک پر آ سکے اور اس کےلئے عمران خان کو اپنی انا کی قربانی دینی ہو گی‘ یہ آخری یوٹرن لیں‘ ایمنسٹی کی شکل میں این آر او دیں اور اس جھنجٹ سے ملک اور اپنی دونوں کی جان چھڑا لیں‘ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی باعزت آپشن نہیں بچا اور اگر عمران خان یہ فیصلہ نہیں کرتے تو پھر یہ فیصلہ ایمرجنسی کرے گی‘ ملک میں ایمرجنسی لگے گی اور یہ سارے فیصلے اس ایمرجنسی میں ہوں گے اور ہم بڑی تیزی سے اس ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

The post ملک ایمرجنسی کے دہانے پر appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/11/540115

Tuesday, January 8, 2019

ہمیں 1960 ءکی دہائی میں واپس جانا ہوگا

ہم ہمیشہ 1960ءکی دہائی کو پاکستان کی تاریخ کا شاندار ترین دور کہتے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان بھی اپنی ہر تقریر میں چھٹی دہائی کا حوالہ دیتے ہیں‘ یہ جمعہ 4جنوری کو ترکی میں بھی 1960ءکی دہائی کا ریفرنس دے رہے تھے لیکن یہ اور پاکستان کا نوحہ پڑھنے والے زیادہ تر لوگ یہ بھول جاتے ہیںاس سنہری دورکے آرکی ٹیکٹ کون تھے اور ہم نے اس زمانے میں کیوں ترقی کی ؟ ہم نے جس دن ان سوالوں کا جواب کھودلیا اس دن دو پشتون افسروں کے نام اور چہرے بھی ہمارے سامنے آ جائیں گے اور ہم اس سنہرے دور کے ان دو اصولوں تک بھی پہنچ جائیں گے جن کی مددسے پاکستان جنوبی ایشیا میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن گیا تھا اور وہ دو اصول بعد ازاں جاپان‘ ملائیشیا‘ سنگاپور‘ کوریا اور آخر میں چین نے پاکستان سے امپورٹ کئے اور ہم سے بھی آگے نکل گئے۔

پہلے افسر غلام فاروق خان تھے‘ یہ اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھتے تھے‘ خوشحال خان خٹک کے خاندان سے تھے‘ والد میر اسلم خان خٹک انگریز کے زمانے میں ناگ پور شفٹ ہو گئے‘ ٹھیکیداری کی اور کروڑوں روپے کمائے‘ غلام فاروق خان 1899ءمیں بنگال میں پیدا ہوئے‘ اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور 1921ءمیں ریلوے میں اسسٹنٹ ٹریفک سپرنٹنڈنٹ بھرتی ہو گئے‘ وہ ترقی کرتے کرتے 1946ءمیں ریلوے کے پہلے مسلمان جنرل منیجر بن گئے‘ 1948ءمیں پاکستان آئے اور قائداعظم نے انہیں منسٹری آف انڈسٹریز کا سیکرٹری لگا دیا اور اس کے بعد غلام فاروق خان نے کمال کر دیا‘

آپ آج پاکستان کے کسی بھی بڑے ادارے کی تاریخ میں جھانک کر دیکھیں آپ کو اس کے پیندے میں صرف ایک نام ملے گا اور وہ نام ہوگا غلام فاروق خان‘ وہ کتنے بڑے انسان تھے آپ چند مثالیں ملاحظہ کیجئے‘ غلام فاروق خان نے پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن بنائی اور پاکستان کے کرنسی نوٹ چھپنا شروع ہو گئے‘ جنوبی ایشیاءکے تمام ملکوں نے نوٹ چھاپنے کا یہ طریقہ پاکستان سے امپورٹ کیا‘ 1949ءمیں کاٹن اینڈ جیوٹ بورڈ بنایا‘ وہ بورڈ کے پہلے چیئرمین تھے‘ بورڈ نے مغربی پاکستان میں کاٹن اور مشرقی پاکستان میں پٹ سن کو باقاعدہ انڈسٹری بنایا‘

ہماری میجر ایکسپورٹ آج بھی کاٹن اور بنگلہ دیش کی جیوٹ ہے‘ ان دونوں کے پیچھے اس بزرگ خٹک کا ہاتھ تھا‘ غلام فاروق نے قدرتی گیس کی کمپنی بنائی اور کمپنی نے پاکستان میں گیس کی دریافت شروع کر دی‘ سوئی سدرن ہو یا پھرسوئی ناردرن ہو یہ دونوں غلام فاروق کے برین چائلڈ تھے‘ کراچی شپ یارڈ بھی ان کا کارنامہ تھا‘ لی کو آن یو نے سنگا پور شپ یارڈ اس کو دیکھ کر بنایا تھا‘ قیام پاکستان سے قبل مغربی اور مشرقی ملک کے دونوں حصوں کی انڈسٹری ہندو اور سکھ صنعت کاروں کے ہاتھ میں تھی‘

یہ لوگ بھارت شفٹ ہوئے تو صنعت اور تجارت دونوں کا بھٹہ بیٹھ گیا‘ غلام فاروق نے اس مسئلے کے حل کےلئے پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کمپنی (پی آئی ڈی سی) بنائی‘ کمپنی نے سرکاری رقم سے مختلف صنعتیں لگائیں‘ یہ صنعتیں چل پڑیں تو یہ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر دی گئیں‘ ملک میں پہلا سیمنٹ پلانٹ غلام فاروق نے لگوایا تھا‘ ملک میں آج بھی ایوب خان دور کے 22 بڑے کاروباری گروپوں کا حوالہ دیا جاتا ہے‘ یہ گروپس پی آئی ڈی سی سے پیدا ہوئے تھے‘

یہ تصور بعد ازاں پاکستان سے ملائیشیا‘ سنگاپور‘ جنوبی کوریا اور چین گیا‘ ان چاروں ملکوں نے حکومت کی نگرانی میں مختلف صنعتیں لگوانا شروع کر دیں‘ پاکستان میں ایک ہی اسلحہ ساز فیکٹری ہے‘ پاکستان آرڈیننس فیکٹری‘ یہ بھی غلام فاروق خان نے 1958ءمیں بنائی تھی اور وہ اس کے پہلے اور آخری سویلین چیئرمین تھے‘ وہ واپڈا کے بانی بھی تھے‘ خان صاحب نے 1959ءمیں واپڈا بنایا اور منگلہ اور تربیلا ملک کے دونوں بڑے ڈیم بنوائے‘ انویسٹمنٹ کارپوریشن آف پاکستان بھی ان کا برین چائلڈ تھا‘

وہ 1983ءمیں اس کے چیئرمین بھی رہے‘ یہ آئیڈیا بھی بعد ازاں گیارہ ملکوں میں کاپی ہوا‘ وہ مشرقی پاکستان کے گورنر بھی بنے‘ ایوب خان کے دور میں وزیر تجارت بھی رہے‘ 1973ءمیں قومی اسمبلی کے رکن بھی بنے اوروہ دوبار سینٹ کے رکن بھی منتخب ہوئے‘ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا بزنس گروپ غلام فاروق گروپ بھی بنایا‘ اس گروپ نے چراٹ سیمنٹ پلانٹ‘ میر پور خاص شوگر مل اور ائیرکنڈیشنڈ پلانٹ بھی بنایا‘ پیپر مل‘ سی این جی پلانٹس اور ہائیڈروپاور پلانٹس بھی لگائے‘

غلام فاروق خان کا انتقال 1992ءمیں ہوا‘ آپ ملاحظہ کیجئے وہ کیسے شاندار انسان تھے جبکہ پاکستان کے دوسرے بڑے محسن پشتون بیورو کریٹ غلام اسحاق خان تھے‘ وہ 1915ءمیں اسماعیل خیل میں پیدا ہوئے اور 1941ءمیں انڈین سول سروس جوائن کر لی‘ صدر ایوب خان نے 1961ءمیں انہیں غلام فاروق خان کی سفارش پر واپڈا کا چیئرمین لگا دیا‘ یہ اس کے بعد فنانس سیکرٹری بھی رہے‘ گورنر سٹیٹ بینک بھی‘ ڈیفنس سیکرٹری بھی‘ چیئرمین سینٹ بھی اور صدر پاکستان بھی‘ یہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے نگران بھی تھے‘ پاکستان اگر آج ایٹمی طاقت ہے تو اس میں سب سے بڑا ہاتھ غلام اسحاق خان کا تھا۔

آپ ان دونوں حضرات کا پروفائل اور کارنامے دیکھئے اور اس کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کیجئے کیا ہم ان دونوں حضرات کو 1960ءکے سنہری دور سے الگ کر سکتے ہیں؟ کیا پاکستان ان لوگوں کے وژن اور کوششوں کے بغیر ایشیاءکا تیزی سے ترقی کرنے والا ملک بن سکتا تھا؟ جی نہیں! ہمیں ان لوگوں کی کوششوں اور وژن دونوں کا اعتراف کرنا ہوگا لیکن یہ اعتراف کافی نہیں ہوگا‘ ہمیں یہ بھی جاننا ہوگایہ تمام کارنامے ان دوبیوروکریٹس نے کیسے سرانجام دیئے؟

اس کے پیچھے صرف دو اصول کارفرما تھے‘ پہلا اصول ٹرسٹ یعنی اعتماد تھا‘ حکومت نے ان دونوں بیورو کریٹس کو پورا اعتماد دیا‘ یہ کسی بھی وقت کوئی بھی فیصلہ کر سکتے تھے اور کوئی ان سے وجہ پوچھتا تھا اور نہ حساب مانگتا تھا‘ پاکستان نے جب منگلا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا تو غلام فاروق امریکا گئے اور ٹینڈر کے بغیر تیسری امریکی کمپنی کو دنیا کے سب سے بڑے سول ورکس پراجیکٹ کا ٹھیکہ دے آئے اور کسی نے ان سے نہیں پوچھا آپ نے یہ ٹھیکہ پہلی دو بڑی کمپنیوں کو کیوں نہیں دیا

اور آپ نے ڈیم سے پہلے منگلا میں ائیرپورٹ اور ورکروں کی کالونی کیوں بنوائی اور آپ سرکاری خزانے سے فیکٹریاں لگا کر سیٹھوں کے حوالے کیوں کر رہے ہیں اور ہمیں جب روس مفت گیس دینے کےلئے تیار ہے تو آپ گیس کی تلاش کےلئے کروڑوں روپے کیوں خرچ کر رہے ہیں؟وغیرہ وغیرہ‘حکومت نے غلام فاروق اور غلام اسحاق خان کو اعتماد اس لئے دیا تھا کہ ملک میں اس وقت نیب‘ اینٹی کرپشن‘ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی اور محتسب اعلیٰ جیسے ادارے نہیں تھے

چنانچہ وہ لوگ آل ان آل تھے اور وہ 1960ءکی دہائی میں اسلحہ ساز فیکٹری‘ دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم اور پاکستان جیسے ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کا سوچ بھی سکتے تھے اور فیصلہ بھی کر سکتے تھے‘ مجھے یقین ہے اگر اس وقت بھی سوموٹو نوٹس ہو رہے ہوتے یا نیب فنکشنل ہوتا تو جہاں ہم آج بیٹھے ہیں ہم 1960ءمیں وہاں ہوتے‘ پاکستان میں آج کوئی ڈیم ہوتا اور نہ ہم ایٹمی طاقت ہوتے اور دوسرا اصول ”ملک میرا کل اثاثہ ہے“ جیسی سوچ تھی‘ وہ لوگ ملک کےلئے کاربن پنسل بھی خریدتے تھے تو یہ سوچ کر خریدتے تھے یہ رقم میں نے دینی ہے اور یہ پنسل میرے بچوں نے استعمال کرنی ہے

چنانچہ وہ لوگ ہر ادارہ اس نیت کے ساتھ بناتے رہے جیسے لوگ اپنا گھر بناتے ہیں لہٰذا ملک کے تمام ادارے نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ دوسرے ملکوں نے بھی ان کو کاپی کیا‘ ہمیں آج ماننا ہوگا ملک کو بنانا اور چلانا یہ دونوں ذمہ داریاںبہرحال بیورو کریٹس کے ہاتھ میں ہوتی ہیں‘ یہ لوگ ڈرائیور کی طرح ہوتے ہیں‘ ہم اگر دس کروڑ روپے کی گاڑی اناڑی ڈرائیور کے حوالے کر دیں گے یاپھر ہم اس پر اعتماد نہیں کریں گے تو پھر ہم اپنی گاڑی اور اپنی جان دونوں سے محروم ہو جائیں گے اور ہمارے ساتھ اس وقت یہی ہو رہا ہے‘

ہم نے پورے سسٹم کو پروسیجر سے باندھ دیا ہے چنانچہ فائلوں کا انبار لگ رہا ہے لیکن کام ایک انچ نہیں ہو رہا‘آپ کسی دن ٹھنڈے دل و دماغ سے موٹروے سے لے کر میٹروز اور بجلی کے کارخانوں تک ملک کی تمام ترقیاتی سکیموں کا جائزہ لے لیں آپ یہ ماننے پر مجبور ہو جائیں گے حکومتیں اگر پروسیجرز کو بائی پاس نہ کرتیں تو یہ منصوبے کبھی مکمل نہ ہوتے‘ میاں شہباز شریف نے تین سال میں پنجاب میں پانچ ہزار میگاواٹ کے چار پلانٹس لگائے‘

یہ کیسے ممکن ہوا اور دوسرے صوبے یہ کیوں نہیں کر سکے؟ وجہ پروسیجر تھا‘ میاں شہباز شریف نے پروسیجرز کو بائی پاس کر کے یہ کام مکمل کیا جبکہ دوسرے صوبے آج تک پروسیجرز میں پھنسے ہوئے ہیں‘ یہ اربوں روپے ضائع کر کے بھی میٹرو بناپا رہے ہیں‘ پاور پلانٹس لگا پا رہے ہیں اور نہ نئے ادارے تخلیق کر پا رہے ہیں‘ہماری وفاقی حکومت ساڑھے چار ماہ میں کوئی ایک فیصلہ نہیں کر سکی‘ پنجاب کا سسٹم مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے‘کیوں؟آپ نے سوچا

اس کی وجہ پروسیجر اور خوف ہے‘ بیوروکریٹس خوف اور پروسیجر کی وجہ سے کام نہیں کر رہے چنانچہ سسٹم منجمد ہو کر رہ گیا ہے‘میاں شہباز شریف نے دو سال میں پی کے ایل آئی بنا دیا تھا لیکن پنجاب کی پوری حکومت سپریم کورٹ کے شدید دباﺅ کے باوجود ایک آپریشن تھیٹر نہیں چلا پا رہی‘ یہ آپریشن تھیٹر چلے گا بھی نہیں‘ کیوں؟ کیونکہ فواد حسن فواد اور احد چیمہ کے حشر کے بعد کوئی بیورو کریٹ پی کے ایل آئی کی کسی سمری اور کسی آرڈر پر دستخط کرنے کےلئے تیار نہیں‘ ہم اگر ملک اور کام دونوں چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں نیب‘ اینٹی کرپشن‘ محتسب اعلیٰ اور سوموٹو نوٹس کے بارے میں کوئی نہ کوئی پالیسی بنانی پڑے گی‘

ہمیں سسٹم کو سیدھا کرنا پڑے گااور ہمیں بیوروکریٹس کو اعتماد بھی دینا ہوگا ورنہ ہماراسرکاری سسٹم مکمل طور پر بیٹھ جائے گا‘آپ لطیفہ ملاحظہ کیجئے وزیراعظم قانوناً کسی دوست ملک سے امداد لے سکتے ہیں اور نہ قرضہ لیکن عمران خان سعودی عرب‘ یو اے ای اور چین سے دھڑا دھڑ قرضے لے رہے ہیں‘ سپریم کورٹ نے جس دن قرضوں پر نوٹس لے لیا یا نیب نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کر دیا اس دن کے بعد کوئی شخص ملک کےلئے قرضہ لینے کی غلطی بھی نہیں کرے گا چنانچہ آپ خود فیصلہ کیجئے یہ ملک اب کیسے چلے گا؟ہمیں بہرحال لطیفوں کی یہ فیکٹری بند کرنا ہو گی‘ ہمیں 1960ءکی دہائی میں واپس جانا ہوگا۔

The post ہمیں 1960 ءکی دہائی میں واپس جانا ہوگا appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/08/538944

Sunday, January 6, 2019

لیونارڈو جیسے بچے

وہ اکثر سکول جاتے ہوئے گلیوں میں کام کرتے بچوں کو دیکھتا تھا اور پھر اپنے آپ سے پوچھتا تھا ”مجھ میں اور ان میں کیا فرق ہے‘ کیا یہ بچے نہیں ہیں اور کیا یہ اور ان کے والدین انہیں میری طرح سکول میں نہیں دیکھنا چاہتے‘ کیا تعلیم ان کا حق نہیں“ وہ روز یہ سوال اپنے آپ سے پوچھتا تھا اور اسے جواب میں کوئی جواب نہیں ملتا تھا‘ وہ ایک دن تنگ آ کر یہ سوال لے کر اپنی دادی کے پاس پہنچ گیا‘ دادی نے سنا‘ مسکرائی اور آہستہ آواز میں بولی ”بیٹا قدرت صرف خوش نصیب بچوں کو بچپن اور تعلیم کی نعمت دیتی ہے‘ تم خوش نصیب ہو اور گلیوں میں گھومتے پھرتے یہ بچے بدنصیب اور بس“ لیونارڈو مزید کنفیوژ ہو گیا‘

وہ بار بار ان بچوں کو دیکھتا اور خود سے سوال کرتا ”کیا ان بچوں کے بارے میں کوئی نہیں سوچے گا‘ کیا یہ کسی کی ذمہ داری نہیں ہیں“ میں کہانی آگے بڑھانے سے قبل آپ کو انسانی ذہن کی ایک دلچسپ عادت بتاتا چلوں‘ ہم انسان اگر مسلسل چالیس دن تک کوئی سوال بار بار اپنے آپ سے پوچھتے رہیں تو ہمارا دماغ اس سوال کا جواب‘ اس مسئلے کا حل تلاش کر لیتا ہے‘ دنیا کی تمام ایجادات نے انسان کی اس صلاحیت سے جنم لیا‘ انسان بار بار سوچتا اور انسانی دماغ حل تجویز کرتا رہا یہاں تک کہ انسان نے ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی ”سوٹ ایبل“ حل نکا لیا‘ اولیاء کرام انسان کی اس صلاحیت کو”قانون اوسط“ کہتے ہیں‘ یہ دعویٰ کرتے ہیں آپ چالیس نامعلوم لوگوں کو خط لکھیں‘ آپ چالیس لوگوں کو دعوت دیں یا آپ مختلف ڈائریکشنز میں چالیس کوششیں کریں‘ آپ کو کوئی ایک شخص مثبت جواب ضرور دے گا‘ آپ چالیس درخواستیں جمع کرا دیں آپ کو کسی ایک درخواست کا جواب بھی ضرور ملے گا‘یہ لوگ قانون اوسط کو دعا کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں‘ یہ چالیس دعائیں کرتے ہیں‘ کوئی ایک دعا قبول ہو جاتی ہے‘ یہ چالیس روزے رکھتے ہیں‘ چالیس نفل پڑھتے ہیں یا پھر چالیس کنوؤں کا پانی پیتے ہیں‘ کوئی ایک کنواں‘ کوئی ایک نفل یا کوئی ایک روزہ ان کی مراد پوری کر دیتا ہے‘ یہ اس راہ پر چل پڑتے ہیں یہ جس کی تلاش میں بھٹک رہے تھے‘ لیونارڈو بھی نہ جانتے ہوئے ”قانون اوسط“ پر عمل کرتا رہا‘ یہ بار بار یہ سوال اپنے آپ سے پوچھتا رہا اور پھر ایک دن اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا‘

اس کے اندر سے آواز آئی یہ بچے اس لئے تعلیم سے محروم ہیں کہ آج تک کسی نے ان کیلئے کوشش نہیں کی‘ کسی نے غریب اور بے بس بچوں کیلئے سکول نہیں بنایا‘ لیونارڈو کیلئے یہ جواب کافی تھا‘ وہ اٹھا اور بھاگتا ہوا اپنی دادی کے پاس چلا گیا‘ لیونارڈو دادی کے پاس کیوں گیا؟ ہم آپ کو یہ ضرور بتائیں گے لیکن اس سے قبل لیونارڈو کا تعارف ضروری ہے۔لیونارڈو کا پورا نام لیونارڈو نائکا نارکوئن ٹیروز  ہے‘ یہ ارجنٹائن کے صوبے سان جوان کے چھوٹے سے گاؤں لاس پیڈریٹاس میں رہتا ہے‘

اس کی عمر صرف بارہ سال ہے اور یہ آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہے‘ یہ سکول کا ریگولر طالب علم ہے‘ پڑھائی میں بہت اچھا اور فرمانبردار ہے‘ لیونارڈو کے گاؤں میں غربت ہے اور بے شمار والدین غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو سکول نہیں بھجوا پاتے‘ لیونارڈو جب بھی گھر سے سکول کیلئے نکلتا تھا تو اسے راستے میں بے شمار بچے گھر اور دکانوں کی دہلیز پر بیٹھے دکھائی دیتے تھے‘ یہ بچے اس کی یونیفارم‘ اس کے بستے اور اس کی سائیکل کو بڑی حیرت سے دیکھتے تھے‘

لیونارڈو کو یہ حسرت بہت تکلیف دیتی تھی چنانچہ وہ ان بچوں اور ان بچوں کے مستقبل کے بارے میں مسلسل سوچتا رہتا تھا اور ایک دن قانون اوسط کی وجہ سے اسے جواب مل گیا اور اس نے بارہ سال کی عمر میں ایک ایسا سکول بنانے کا فیصلہ کر لیا جس کا سارا عملہ بچوں پر مشتمل ہو اور جس میں بچے اپنے جیسے بچوں کو مفت تعلیم دیں‘ وہ بھاگتا ہوا اپنی دادی رامونا کے پاس پہنچا‘ اپنا آئیڈیا اس کے ساتھ شیئر کیا اور اس سے اس کے گھر کا پچھلا حصہ مانگ لیا‘ دادی کے گھر کا پچھلا حصہ کچا اور بے کار تھا‘

دادی نے وہ حصہ ہنسی خوشی اس کے حوالے کر دیا‘ دادی کا خیال تھا یہ بچوں جیسا آئیڈیاہے اور یہ بچہ بہت جلد مایوس ہو کر اس آئیڈیئے سے دستبردار ہو جائے گا لیکن لیونارڈو ایک مختلف بچہ نکلا‘ اس نے گھر کا کاٹھ کباڑ اکٹھا کیا اور گھر کے پچھلے حصے میں چھوٹا سا سکول کھول لیا‘ وہ اس سکول کا چپڑاسی بھی تھا‘ استاد بھی اور پرنسپل بھی‘ اس نے اس کے بعد اپنے تمام عزیزوں‘ رشتے داروں اور گلی محلے کے لوگوں سے ٹوٹی کرسیاں‘ بینچ‘ بانس‘ بالٹیاں‘ ٹائر‘ گتے‘ لکڑی‘ کپڑے‘ پرانے قالین‘ دریاں اور رائٹنگ بورڈ اکٹھے کئے‘

خود گارا بنایا‘ لیپ کیا اور سکول کھول لیا‘ سکول میں شروع میں صرف دو طالب علموں نے داخلہ لیا لیکن پھر آہستہ آہستہ لیونارڈو کی سنجیدگی دیکھ کر طالب علم اکٹھے ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ سکول میں بچوں کی تعداد چالیس ہو گئی‘ ان 40 طالب علموں میں 36 بچے لیونارڈو سے عمر میں چھوٹے ہیں جبکہ چار اس سے بڑے ہیں‘ یہ دوپہر تک خود سکول جاتا ہے اور سکول ختم کرنے کے بعد اپنے ذاتی سکول میں آ جاتا ہے اور اس نے اپنے اساتذہ سے جو کچھ پڑھا ہوتا ہے وہ اپنے طالب علموں کو پڑھا دیتا ہے‘

لوگ اس کے جذبے سے متاثر ہو رہے ہیں چنانچہ یہ اب اس کی کھل کر مدد کر رہے ہیں‘ لوگوں نے اسے گھنٹی بھی خرید دی ہے‘ سکول میں اب لائبریری‘ لاکرز روم اور ساؤنڈ سسٹم بھی لگ چکا ہے اور اس کے ساتھی طالب علموں نے بھی اس کے ساتھ پڑھانا شروع کر دیا ہے‘ یہ بھی اب اس کے سکول کا سٹاف بن چکے ہیں‘ لیونارڈو کے سکول میں تعلیم بالغاں بھی شروع ہو چکی ہے‘ یہ لوگ فالتو وقت میں جوان اور بوڑھوں کو بھی پڑھاتے ہیں‘ یہ سکول سردی‘ گرمی‘ برسات اور برف باری ہر موسم میں کھلا رہتا ہے اور یہ کسی طالب علم کو زبردستی کلاس روم میں لے کر نہیں آتے‘ سٹوڈنٹس اپنی رضامندی اور خواہش کے مطابق خوشی خوشی سکول آتے ہیں‘

 

یہ اپنے اس ننھے سے سکول کی صفائی اور حفاظت بھی خود کرتے ہیں‘ لیونارڈو اور اس کا سکول این جی اوز کی نظروں میں بھی آ رہا ہے چنانچہ یہ بھی اب اس سکول کو فنڈ دے رہی ہیں‘ امداد کی وجہ سے سکول کی حالت بہتر ہوتی جا رہی ہے‘ حکومت نے بھی طالب علموں کو وظائف دینا شروع کر دیئے ہیں‘ لیونارڈو کا خیال ہے وہ پورے علاقے میں اس قسم کے سکول بنائے گا‘ یہ سکول سٹوڈنٹس سکول کہلائیں گے جن کی ساری مینجمنٹ طالب علموں کے پاس ہو گی‘ یہ کلرک بھی ہوں گے‘ چپڑاسی بھی‘ استاد بھی اور پرنسپل بھی اور یہ خانساماں بن کر اپنے طالب علموں کیلئے خوراک کا بندوبست بھی کریں گے‘ یہ ارجنٹائن میں اصل انقلاب ثابت ہوں گے۔

لیونارڈو پوری دنیا کے بچوں کیلئے دلچسپ مثال بن رہا ہے‘ یہ تیزی سے ثابت کرتا جا رہا ہے نیکی اور فلاحی ادارے بنانے کی کوئی عمر نہیں ہوتی ہے‘ آپ کی نیت اگر نیک ہے تو پھر آپ بارہ سال کی عمر میں گارے کا سکول بنا کر بھی کمال کر سکتے ہیں‘ آپ پوری دنیا کو حیران کر سکتے ہیں‘ دنیا میں اگر کنایہ سیسرجیسی معذور بچی 15سال کی عمر میں ماڈل اور سپورٹس پرسن بن سکتی ہے‘اگر دہلی کا سونو چھوٹی سی عمر میں یعنی 13 سال میں بچوں کا بینک بنا سکتا ہے اور اگر رابرٹ 14سال میں پزل گیم بنا سکتا ہے‘

اگر ریان چھوٹی سی عمر میں سوشل میڈیا کے ذریعے کروڑ پتی بن سکتا ہے اور اگر ریکو روڈرگزاور جیڈن سمتھ کم عمری میں بطور چائلڈ سٹار کروڑوں روپے کما سکتے ہیں تو بچے دس‘ بارہ اور پندرہ سال کی عمر میں ویلفیئر کا کام کیوں نہیں کر سکتے‘ یہ لیونارڈو کی طرح اپنے گھروں کے پچھلے حصوں میں چیریٹی سکول کیوں نہیں بنا سکتے‘ یہ غریبوں کیلئے کھانے پینے‘ کپڑوں اور جوتوں کا بندوبست کیوں نہیں کر سکتے اور یہ غریب مریضوں کے علاج معالجے کا انتظام بھی کیوں نہیں کر سکتے؟

بچے بہت بڑی طاقت ہیں‘ یہ اگر بچپن میں پڑھ سکتے ہیں تو یہ پڑھا بھی سکتے ہیں‘ یہ اگر چیزیں خرید سکتے ہیں تو یہ چیزیں بیچ بھی سکتے ہیں اور یہ اگر سمجھ سکتے ہیں تو یہ دوسروں کو سمجھا بھی سکتے ہیں لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگ بچوں کو چھوٹا سمجھ کر ان کی صلاحیتوں کو ”اگنور“ کر دیتے ہیں‘ ہم انہیں لیونارڈو کی طرح پھلنے اور پھولنے کا موقع نہیں دیتے‘ ہم ان کی گروتھ کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ وہ بنیادی المیہ ہے جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ رک سا گیا ہے‘

ہم ایک منجمد سماج بن گئے ہیں‘ میرے پاس بے شمار والدین اپنے بچوں کی شکایت لے کر آتے ہیں‘ یہ کہتے ہیں ہمارے بچے جوان ہو چکے ہیں‘ یہ اپنی تعلیم بھی مکمل کر چکے ہیں لیکن یہ کام نہیں کرتے‘ میں ان سے ہنس کر کہتا ہوں آپ پچیس سال تک بچے کو یہ بتاتے رہے ہیں تم فکر نہ کرو تمہارا باپ اور تمہاری ماں سلامت ہیں لیکن اب آپ اسے اچانک کہہ رہے ہیں تم نکھٹو ہو‘ تم نالائق ہو‘ تم کچھ نہیں کرتے اور آپ کا بچہ یہ سوچ کر کنفیوژ ہو رہا ہے کہ آپ کا پچیس سال کا سبق ٹھیک ہے یا آپ کا آج کا پیغام ٹھیک ہے‘

آپ نے اگر بچپن میں اسے کام کی عادت ڈالی ہوتی تو آج یہ ایسا نہ ہوتا‘ ہمارے بچوں میں سے اگر کچھ بچے لیونارڈو کی طرح بچپن میں ویلفیئر کا کام شروع کرنا چاہتے ہیں تو آپ انہیں کرنے دیں کیونکہ یہ جوان ہو کر ہم سے نیکی میں بھی آگے ہوں گے اور یہ ہمارے مقابلے میں فوکسڈ بھی زیادہ ہوں گے‘ ہم میں سے بھی لیونارڈو نکلنے چاہئیں‘ یہ ہوں گے تو یہ ملک چلے گا ورنہ ہم اسی طرح کیچڑ میں پھسلتے چلے جائیں گے۔

The post لیونارڈو جیسے بچے appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/06/538289

Friday, January 4, 2019

آپ فری تو لے لیں

زینب کی عمرسات سال تھی‘ وہ چار جنوری2018ءکو گھر سے غائب ہوئی‘ 9 جنوری کو اس کی لاش ملی‘22 جنوری کو اس کا قاتل عمران گرفتار ہوا اور 17 اکتوبر 2018 ءکو اسے کوٹ لکھپت جیل میں پھانسی دے دی گئی‘یہ زینب قتل کیس کا مختصر سا خلاصہ ہے‘ یہ پاکستان کی تاریخ کا مشہور ترین کیس تھا‘ میڈیا نے اسے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت جتنی کوریج دی‘ ریاست پہلی مرتبہ ایکٹو ہوئی‘ ملک کے تمام اداروں نے مل کر کام کیا اور یوں مجرم کیفر کردار تک پہنچ گیا‘

میں نے ان دنوں امریکی ریاست ٹیکساس کے شہرآرلنگٹن کی ایک بچی امبر کی کہانی لکھی تھی‘ امبر21 جنوری 1996ءکی شام اغواءہوئی تھی‘ اس کی مسخ شدہ لاش پانچ روز بعد نالے سے ملی تھی‘ کیس کی تفتیش مائیک سائمنڈ کے پاس تھی‘مائیک سائمنڈ نے تفتیش کے دوران سوچا ہمارے پاس کوئی ایسا سسٹم ہونا چاہیے جس کے ذریعے مغوی بچے کی تفصیلات چند منٹوں میں پورے شہر تک پہنچ جائیں‘ یہ دو ہفتے سوچتا رہا یہاں تک کہ اس نے ایک الرٹ سسٹم بنا لیا‘ مائیک سائمنڈ نے یہ سسٹم آرلنگٹن پولیس کو دیا‘ پولیس نے میئر کے ساتھ مل کر یہ سسٹم پورے شہر میں لگا دیا‘ یہ بعدازاں پوری ٹیکساس ریاست میں نافذ ہوا‘ یہ 2001ءمیں چار امریکی ریاستوں تک پہنچ گیا اور 2002ءمیں امریکی صدر جارج بش نے اسے پورے امریکا میں نافذ کر دیا‘ یہ سسٹم 2005ءمیں دنیا کے 30 ملکوں تک پہنچا اور یہ اس وقت یورپ‘ مشرق بعید اور لاطینی امریکا سمیت دنیا کے تمام جدید ملکوں میں چل رہا ہے‘ میں نے حکومت سے درخواست کی یہ بہت اچھا اور کامیاب سسٹم ہے‘ آپ یہ پاکستان میں بھی اپنا لیں‘ ہزاروں بچوں اور بچیوں کی جان بچ جائے گی‘ وہ کالم 12 جنوری 2018ءکو شائع ہوا‘ پورے ملک سے صرف میاں شہباز شریف نے دلچسپی ظاہر کی‘ حکومت پنجاب نے زینب الرٹ کے نام پر 24 رکنی کمیٹی بنا دی‘ کمیٹی کے دھڑادھڑ اجلاس ہوئے‘ اصلاحات بھی فائنل ہو گئیں اور نئے قوانین کا خاکہ بھی تیار ہو گیا لیکن پھر وہی ہوا جو اس ملک میں 71 سال سے ہو رہا ہے‘

مجرم کی گرفتاری کے بعد زینب کیس ترجیحات کی فہرست میں نیچے سے نیچے ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ یہ فہرست ہی سے غائب ہو گیا‘ زینب الرٹ کمیٹی کی میٹنگز بھی بند ہو گئیں اور یوں یہ ایشو بھی ملک کے دوسرے جینوئن ایشوز کے ساتھ فائلوں میں دفن ہو گیا‘ پنجاب حکومت جب زینب الرٹ پر کام کر رہی تھی تو میں نے ان دنوں حکومت کو پیشکش کی میں آپ کو زینب الرٹ مفت بنوا دیتا ہوں‘ حکومت کا وقت اور پیسہ دونوں بچ جائیں گے لیکن حکومت کا خیال تھا ہمارے پاس پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور آج کا آئن سٹائن ڈاکٹر عمر سیف موجود ہے‘ ہم یہ ایپلی کیشن آسانی سے بنا لیں گے‘

یہ باتیں بظاہر اچھی لگتی ہیں لیکن ہمیں کبھی نہ کبھی یہ حقیقت ماننا پڑے گی ہمارے سرکاری اداروں میں کیپسٹی بھی نہیں اور نیت بھی نہیں‘ سرکار میں پہنچ کر ایک گھنٹے کا کام دس سال تک پھیل جاتا ہے لہٰذا زینب الرٹ کے ساتھ بھی یہی ہوا‘ پنجاب آئی ٹی بورڈ نے ایک دھیلے کا کام نہیں کیا یوں قانون بن سکا اور نہ ہی الرٹ اور آخر میں فائل بھی بند ہو گئی۔حکومت نے موقع ضائع کر دیا لیکن زینب الرٹ کا آئیڈیا کراچی کے پانچ نوجوانوں کو متاثر کر گیا‘ یہ لوگ سٹارٹ اپس کی چھوٹی سی کمپنی چلاتے ہیں‘

یہ لوگ ایکٹو ہوئے اور انہوں نے آٹھ ماہ میں زینب الرٹ بنا لی‘ میں نے یہ الرٹ دیکھی تو میں حیران ہوگیا‘ نوجوانوں نے واقعی کمال کر دیا‘ امبر الرٹ صرف انگریزی میں تھی جبکہ زینب الرٹ انگریزی‘ اردو‘ پنجابی‘ سندھی اور پشتو پانچ زبانوں میں ہے‘ یہ صرف بچوں کے اغواءتک محدود نہیں بلکہ اس میں موبائل فون چھیننے‘ آتش زدگی‘ چوری‘ عصمت دری‘ مشکوک اشیاءکی موجودگی‘ بدسلوکی‘ غیر قانونی تعمیرات‘ چوری شدہ گاڑیوں‘ رشوت ستانی‘ خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور گھوسٹ ملازمین کے بارے میں اطلاعات کے فیچرز بھی شامل ہیں‘

بچوں کے اغواءیا گمشدگی کے بعد کوئی بھی شخص ایپلی کیشن پر بچے کا نام‘ صنف‘ سرپرست کا نام‘ شناختی کارڈ‘ ایڈریس اور بچے کے آخری مقام کی معلومات دے کر پورے سسٹم کو الرٹ کر سکتا ہے‘ یہ معلومات چند سکینڈز میں پولیس‘ لوکل انتظامیہ اور صوبائی اور وفاقی حکومت ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن چینلز‘ ریڈیو‘ اخبارات‘ سوشل میڈیا اور فلاحی تنظیموں تک پہنچ جائیں گی‘ بچے کی تصاویر اور معلومات ریلوے سٹیشنوں‘ بس سٹاپس اور ائیرپورٹس کی سکرینوں پر بھی نظر آئیں گی‘

یہ سسٹم اس وقت تک ایکٹو رہے گا جب تک وہ بچہ مل نہیں جاتا‘یہ سسٹم بچوں کی گمشدگی کا ڈیٹا بھی بناتا رہے گا‘ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کوئی بھی شخص مسنگ بچوں کی تلاش میں انتظامیہ اور والدین دونوں کی مدد بھی کر سکے گا‘ میں نے الرٹ دیکھی تو میں نے بنانے والے نوجوانوں سے پوچھا‘ آپ نے یہ اب تک حکومت کو کیوں نہیں دی‘ نوجوانوں نے جواب دیا‘ ہم یہ الرٹ پرانی حکومت کو بھی دیتے رہے اور ہم اب نئے پاکستان کے پیچھے بھی بھاگ رہے ہیں‘

ہم نے صدر‘ وزیراعظم‘ وزراءاعلیٰ اور چیف جسٹس صاحبان تک کو خط بھی لکھے اور انہیں ای میلز بھی کیں‘ ہم ان سے صرف یہ درخواست کر رہے ہیں ہم آپ کو یہ الرٹ سسٹم فری دینا چاہتے ہیں‘ ہم آپ کو لگا بھی دیتے ہیں‘ چلا بھی دیتے ہیں اور سرکاری ملازمین کو ٹرینڈ بھی کر دیتے ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی‘ میں نے ہنس کر جواب دیا ”آپ فری میں مار کھا رہے ہیں‘ آپ اگر یہ بیچنا چاہ رہے ہوتے تو اب تک حکومت کا کوئی نہ کوئی بروکر سرکار کے دس پندرہ بیس کروڑ روپے کھا چکا ہوتا“

نوجوانوںکا کہنا تھا‘ پیسہ ہمارا مقصد نہیں تھا‘ ہم نے یہ کام نیک نیتی سے کیا تھا‘ ہم یہ بیچنا چاہتے ہیں اور نہ حکومت سے کوئی ایوارڈ لینا چاہتے ہیں‘ ہماری خواہش ہے ہماری ایپ سے اگر کوئی ایک بچہ بھی بچ گیا تو ہماری زندگی کا فرض ادا ہو جائے گا‘ میں نے ان کے جذبے کی تعریف کی لیکن دل ہی دل میں کہا‘ یہ نوجوان بے وقوف ہیں‘ یہ گونگوں کے شہر میں میوزک سنٹر بنا رہے ہیں۔ہم ٹیکنالوجی کے دور میں زندہ ہیں‘ ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچ چکی ہے آپ چین کے شہر ہانزو  کی مثال لے لیجئے‘

ہانزو کی آبادی دو کروڑ دس لاکھ ہے‘ یہ دنیا کا پہلا سمارٹ پولیسنگ شہر ہے‘ حکومت نے شہر میں چالیس ہزار سمارٹ کیمرے لگا دیئے ہیں‘ تمام کیمرے 167 پولیس سٹیشنوں کے ساتھ منسلک ہیں‘ شہر میں کوئی شخص جرم کے بعد ان کیمروں سے نہیں بچ سکتا‘ میرے ایک دوست چھ ماہ قبل ہانزو گئے‘ یہ اپنا موبائل فون ٹیکسی میں بھول گئے تھے‘ یہ پولیس سٹیشن گئے تو پولیس نے ان سے صرف ایک سوال پوچھا‘ آپ کس وقت اور کہاںٹیکسی سے اترے تھے‘ میرے دوست نے وقت اور جگہ بتا دی‘

پولیس نے یہ دونوں معلومات کمپیوٹر پر ٹائپ کیں اور وہ ٹیکسی‘ اس کا ڈرائیور اور گاڑی کا پورا ڈیٹا کھل گیا‘ گاڑی‘ ڈرائیور اور میرے دوست کی ساری تصویریں بھی سسٹم پر آ گئیں‘ وہ ٹیکسی مسافر کو اتارنے کے بعد کہاں کہاں گئی‘ یہ بھی پتہ چل گیا اور ڈرائیور اور اس کے خاندان کے سارے ایڈریسز اور موبائل فون نمبر بھی سامنے آ گئے‘ ڈرائیور موبائل فون ملنے کے بعد اپنا فون بند کر کے گھر چلا گیا تھا‘ پولیس نے پہلے اس کے ذاتی نمبروں پر رابطہ کیا‘

وہ بند ملے تو اس کی بہن کو فون کر کے بتایا تمہارے بھائی نے مسافر کا فون چوری کر لیا ہے‘ اسے جا کر بتاﺅیہ اگر آدھ گھنٹے میں فون کے ساتھ پولیس سٹیشن نہ پہنچا تو ہم اسے گرفتار کر لیں گے‘ میرا دوست یہ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ ڈرائیور آدھ گھنٹے میں فون لے کر تھانے پہنچ گیا‘ اس نے مسافر اور پولیس دونوں سے معافی بھی مانگی‘ میرے دوست نے پولیس سے پوچھا‘ کیا آپ تمام جرائم ان کیمروں کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں‘ پولیس افسر نے بتایا ‘

ہم لوگ پولیس سٹیشن سے باہر نہیں جاتے‘ ہم مجرم کی تصویر‘ نام یا شناختی نشان سسٹم میں ڈالتے ہیں اور چالیس ہزار کیمرے چند لمحوں میں اسے تلاش کر لیتے ہیں‘آپ دیکھئے دنیا کہاں پہنچ چکی ہے لیکن ہم زینب الرٹ بنانے اور چلانے تک کے روادار نہیں ہیں‘ آپ کسی دن تحقیق کر لیں آپ کو امریکا‘ کینیڈا اور جاپان سمیت پورے یورپ میں نیب ٹائپ کا کوئی ادارہ نہیں ملے گا‘ کیوں؟ کیونکہ ان ملکوں نے سسٹم اور ٹیکنالوجی کے ذریعے کرپشن کے سوراخ ہمیشہ کےلئے بند کر دیئے ہیں‘

ان ملکوں میں بینکوں کے علاوہ لین دین نہیں ہوتا‘ اگر کسی شخص کے گھر‘ دکان یا گاڑی سے دس بیس ہزار ڈالر یا یوروز نکل آئیں تو پولیس اسے گرفتار کر لیتی ہے‘ یہ ملک نوٹوں اور لوگوں کو زیادہ دیر تک سسٹم سے غائب بھی نہیں ہونے دیتے‘ نوٹ یا کوئی شخص غائب ہوا نہیں اور یہ اس کے پیچھے پڑے نہیں چنانچہ وہاں نیب جیسے کسی ادارے کی کوئی ضرورت نہیں جبکہ ہم آج بھی ڈنڈا لے کر گلیوں میں دوڑ رہے ہیں‘ ہم آخر سسٹم کی طرف کیوں نہیں آتے‘ ہم مسائل کا مستقل حل کیوں نہیں نکالتے؟

آپ ملک کے ہر شہری کےلئے بینک اکاﺅنٹ اور کریڈٹ کارڈ لازمی قرار دے دیں‘ لوگ انڈے سے لے کر جہاز تک ہر چیز کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خرید سکیں‘ پوری قوم سسٹم میں آ جائے گی‘ کوئی شخص اپنا آپ اور اپنے اثاثے نہیں چھپا سکے گا لیکن ہم بالٹی کے سوراخ بند کرنے کی بجائے ٹونٹی پرپراندہ باندھتے چلے جا رہے ہیں‘ ہم آج کے دور میں بھی جوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں‘ ہم مسئلے حل نہیں کر رہے۔

میری حکومت سے درخواست ہے آپ زینب الرٹ سے ٹیکنالوجی کا آغاز کریں‘ آپ یہ ایپلی کیشن فری لے لیں اور یہ نافذ کر دیں‘ ہم اس سے کم از کم زینب جیسی بچیوں کو تو بچا لیں گے‘ یہ ملک کسی ایک شعبے میں ہی سہی چند قدم آگے تو بڑھے گا‘ ہم ٹیکنالوجی کے دور میں تو داخل ہوں گے۔

The post آپ فری تو لے لیں appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/04/537602

Thursday, January 3, 2019

ہم آخر کب تک

محمد سعید بھکر کے غیر معروف گاﺅں کا رہائشی تھا‘ یہ 2011ءمیں موٹروے پولیس میں بھرتی ہوا اور کانسٹیبل سے ترقی کرتا ہواسب انسپکٹر ہو گیا‘ اس کی آخری تقرری ملتان سیکٹر کی بیٹ 19 تھی‘ یہ بستی ملوک میں پٹرولنگ آفیسر تھا‘ 30 دسمبر کی رات بستی ملوک میں شدید سردی بھی تھی اور دھند بھی‘ صبح آٹھ بج کر دس منٹ پرحد نظر صفر ہو گئی جس کی وجہ سے ایک مسافر بس ٹرک کے ساتھ ٹکرا گئی‘ اللہ نے کرم کیا ‘ جانی نقصان نہیں ہوا‘ موٹروے پولیس نے حادثے کی جگہ کلیئر کر دی‘

ٹریفک رواں ہو گئی تاہم حادثے کی شکاربس سڑک پر کھڑی رہی‘ اس دوران ایک کار بس کے ساتھ ٹکرا گئی‘ کار کو نقصان پہنچا مگر مسافر محفوظ رہے‘ یہ کار سائیڈ پر لگا دی گئی تو ایک اور کار کھڑی بس کے ساتھ ٹکرا گئی یوںیہ مقام حادثوں کا مرکز بنتا چلا گیا‘ محمد سعید نے فوراً چمکدار کونز لیں اور ڈرائیوروں کی رہنمائی کےلئے حادثے کے مقام پر رکھنا شروع کر دیں‘ کونز ابھی پوری طرح نہیں رکھی گئی تھیں کہ بہاولپور جانے والی بس آئی اور سب انسپکٹر محمد سعید کو کچل دیا‘وہ شدید زخمی ہو گیا‘ ہسپتال دور تھا‘ ساتھی اسے لے کر ہسپتال پہنچے لیکن وہ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکا‘ وہ خالق حقیقی سے جا ملا‘ موٹروے پولیس نے حسب معمول محمد سعید کو شہید ڈکلیئر کیا‘ اس کے اعزاز میں تقریب کی‘ اسے بہادر‘ دیانت دار‘ فرض شناس اور موٹروے پولیس کا عظیم سپوت قرار دیا‘ لواحقین کےلئے 75 لاکھ روپے کا اعلان کیا اور لاش اس کے گاﺅں بھجوا دی‘ محمد سعید کا جنازہ بھی یقینا شاندار ہوا ہو گا‘ اسے اعزاز کے ساتھ دفن بھی کیا گیا ہوگااور اب اس کے خاندان نے 75 لاکھ روپے کی آس میں در در دھکے کھانا بھی شروع کر دیئے ہوں گے اور کہانی ختم۔محمد سعید غریب گاﺅں کا غریب انسان تھا اور غریب دیہات کے غریب لوگ مٹی ہوتے ہیں‘یہ مٹی بستی ملوک میں ہو یا نیویارک میں اس مٹی کا اختتام بالآخر مٹی میں ہی ہوتا ہے‘

محمد سعید بھی مٹی میں مل گیا لیکن یہ اپنے پیچھے ایک سوال چھوڑ گیا اور وہ سوال تھا ”کیا میں کسی جنگ یا جہاد میں شہید ہوا ہوں‘ کیا میں نے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جان دی“ موٹر وے پولیس اس کا جواب یقینا ہاں میں دے گی لیکن میں محمد سعید کو مجاہد اور اس حادثے کو جہاد ماننے کےلئے تیار نہیں ہوں‘ یہ ظلم تھا اور محمد سعید اس ظالم سسٹم کی نالائقی اور ٹریننگ کی کمی کا لقمہ بن گیا‘ میں موٹروے پولیس اور مواصلات کی وزارت کو اسی فیصد حادثوں اور محمد سعید جیسے اہلکاروں کی ہلاکت کا ذمے دار سمجھتا ہوں‘

چیف جسٹس کو ان حادثوں اور اہلکاروں کی ہلاکت کا نوٹس بھی لینا چاہیے ‘ آئی جی موٹروے اور مواصلات کے وزیر کے خلاف مقدمہ بھی قائم ہونا چاہیے‘کیوں؟ کیونکہ دنیا میں ہائی ویز اور موٹر ویز کے سیفٹی پروسیجرز ہیں‘ کوئی گاڑی‘ کوئی شخص اور کوئی اہلکار ان پروسیجرز کے بغیر موٹر وے پر آ سکتا ہے اور نہ ڈیوٹی دے سکتا ہے لیکن ہم ان پروسیجرز کے بغیر 21 سال سے موٹروے چلا رہے ہیں ‘ہماری اس غفلت کی وجہ سے اب تک ہزاروں لوگ اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں‘

ان لوگوں میں موٹروے کے اپنے چالیس اہلکار بھی شامل ہیںاور ہم ہر بار ان لوگوں کو شہید قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں‘ ہم ان لوگوں کو فرض شناس ڈکلیئر کر کے پتلی گلی سے نکل جاتے ہیں‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ہمیں ماننا ہوگا ہم ان ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں‘ ان کا خون ریاست ‘ حکومت اور موٹروے پولیس کی گردن پر آتا ہے‘ میں نے دنیا جہاں کی موٹرویز‘ ہائی ویز اور آٹو بانز پر سفر کیا ہے لیکن جتنی غیر محفوظ ہماری موٹروے ہے دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی‘

ہم ہمیشہ موٹروے پولیس کا روایتی پولیس سے تقابل کرتے ہیں اور سینہ پھلا کر کھڑے ہو جاتے ہیں‘ ہم نے کبھی اپنی موٹروے پولیس کو امریکا‘ یورپ اور جاپان چھوڑیں ایران‘ ترکی‘ چین‘ ملائیشیااور بھارت کی ہائی ویز پولیس سے بھی کمپیئر نہیں کیا! آپ اسے کسی دن دوسرے اور تیسرے درجے کے ممالک کی ہائی وے پولیس کے سامنے کھڑا کر یں اور پھر دیکھیں‘ آپ کے سینے کی ہوا نکل جائے گی‘ہمیں اب آنکھیں کھول لینی چاہئیں‘ ہمیں اب حقائق کی بلی کا سامنا کر لینا چاہیے

اور حقائق یہ کہتے ہیں پوری دنیا میں ایکسیڈنٹ کے بعد چند منٹوں میں ایمبولینس‘ فائر بریگیڈ اور وہیکلز لفٹرحادثے کی جگہ پہنچ جاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا ‘ پوری دنیا میں موٹرویز پر ہیلی کاپٹر ایمبولینس سروس موجود ہے لیکن ہم نے آج تک یہ بندوبست نہیں کیا‘ ہم میں سے کسی نے یہ نہیں سوچا ہمارے کنٹونمنٹس موٹروے کے قریب ہیں‘ ہم اگر فوجی ہیلی کاپٹرز کو ہی موٹروے پولیس کے ساتھ لنک کر دیں تو سینکڑوں جانیں بچ جائیں گی‘

پوری دنیا کی موٹروے ایمبولینسزمیں ایسے سپرے موجودہوتے ہیں جن سے حادثوں کے بعد زخمیوں کا خون روکا جا سکتا ہے‘ ہم نے آج تک یہ بندوبست بھی نہیں کیا‘پوری دنیا میں موٹرویز پر ایمرجنسی ہاسپٹلز ہوتے ہیں‘ہمارے ملک میں ایک بھی نہیں‘ پوری دنیا میں موٹروے کے پلوں پر وارننگ سکرینز لگی ہیں‘ یہ سکرینز حادثوں کے بعد ڈرائیوروں کو سڑک اور ٹریفک کی صورتحال سے مطلع کرتی رہتی ہیں‘ ہم نے آج تک یہ انتظام بھی نہیں کیا‘پوری دنیا میں جائے حادثہ سے کم از کم دس کلو میٹر پیچھے سے وارننگز شروع ہو جاتی ہیں‘

ڈرائیور یہ وارننگز دیکھ کر سپیڈ کم کر دیتے ہیں اور محتاط بھی ہو جاتے ہیں‘ ہمارے پاس آج بھی وارننگز کا یہ سسٹم موجود نہیں‘ ہماری ایک گاڑی ٹکراتی ہے اور پھر پیچھے گاڑیوں کی لائین لگ جاتی ہے‘پوری دنیا میں سردیوں میں موٹرویز پر سفر سے پہلے ونٹر ٹائر اور فوگ لائیٹس ضروری ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں یہ ٹائر ملتے ہیں اور نہ ہی گاڑیوں پر فوگ لائیٹس لگتی ہیں‘ دنیا میں ونٹر ٹائرز کےلئے بے شمارسستی ٹیکنالوجیز بھی آ چکی ہیں‘ ٹائرز کی ایسی جھلیاں ایجاد ہو چکی ہیں آپ جنہیں ٹائر کے اوپر چڑھا دیں تو آپ کی گاڑی حادثے سے محفوظ ہو جاتی ہے‘ ہم نے یہ ٹیکنالوجی پاکستان میں کیوں متعارف نہیں کرائی؟

ہم سموگ کے شکار ممالک میں بھی شامل ہیں‘ ہم نے آج تک ملک کی ہر گاڑی میں فوگ لائیٹس ضروری قرار کیوں نہیں دیں؟ پوری دنیا میں رواں سڑک پر کوئی شخص کون نہیں رکھتا‘یہ کام گاڑیوں کے ذریعے کیا جاتا ہے‘ آپ یو ٹیوب پر چلے جائیں‘ آپ کو کونز رکھنے اور اٹھانے کے درجنوں طریقے مل جائیں گے‘ ہم موٹر وے پولیس کی گاڑیوں کے ساتھ مشین لگائیں‘ یہ مشین کون اٹھائے بھی اور لگائے بھی لیکن ہم نے آج تک یہ بھی نہیں کیا‘ دنیا میں اب ایسی ٹارچز اور لائیٹس بھی آ چکی ہیں جو فوری طور پر جائے حادثہ پر لگا دی جاتی ہیں اورپچھلی گاڑیوں کوحادثے کی اطلاع ہو جاتی ہے‘

ہم یہ لائیٹس کیوں امپورٹ نہیں کرتے یا کیوں نہیں بناتے؟دنیا بھر کی ہائی ویز پولیس نے اپنی لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں‘ یہ لوگ اپنی ضرورت کی اشیاءاپنی لیبارٹریوں میں ایجاد کرا لیتے ہیں یا بنوا لیتے ہیں‘ ہم بھی ملک کی تین بڑی انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر ایسی لیبارٹریاں بنا لیتے! یہ لیبارٹریاں ہائی وے پولیس کےلئے چھوٹی چھوٹی کارآمد چیزیں ایجاد کرتیں اور آخری بات محمد سعید کا واقعہ ثابت کرتا ہے ہماری موٹروے پولیس کو خود بھی روڈ اور اپنی سیفٹی کا علم نہیں‘

آپ اندازہ کیجئے محمد سعید کے سامنے گاڑیاں ٹکرا رہی تھیں اور اس نے سڑک کے درمیان کھڑے ہو کر کونز رکھنا شروع کر دیں‘ یہ کہاں کی عقل مندی تھی؟محمد سعید کا یہ قدم ثابت کرتا ہے موٹر وے پولیس کی ٹریننگ انتہائی ناقص اور غیرانسانی ہے۔میری موٹروے پولیس سے درخواست ہے آپ اپنے جوانوں اور افسروں کو ہر قسم کی صورتحال میں اپنی اور دوسروں کی جان بچانے کی ٹریننگ دیں‘ آپ کم ازکم فولڈنگ راڈز ہی بنوالیں‘آپ راڈز پر چمکدار پینٹ کرائیں اور یہ راڈز پولیس کی گاڑیوں کے اندر رکھوادیں‘

آپ گاڑیوں میں پیلی اور سرخ رنگ کی ٹیوب لائیٹس بھی رکھوا دیں‘ حادثے کے بعد محمد سعید جیسے افسر ٹیوب لائیٹس آن کردیں ‘ یہ لائیٹس جل بجھ کر پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو خطرے کا اشارہ کریں اور آفیسرز ان راڈز کے ذریعے کنارے پر کھڑے ہو کر کونز سڑک پر رکھتے چلے جائیں‘ اس سے محمد سعید جیسے فرض شناس افسروں کی جان بھی بچ جائے گی اور لوگ بھی حادثوں سے محفوظ رہیں گے۔مجھے ایک بار مشرقی یورپ میں دلچسپ تجربہ ہوا‘ برف باری کے دوران حادثہ ہوا‘ پولیس کی گاڑیاں آئیں اور یہ سڑک پر ایک پاﺅڈر سا چھڑکتی ہوئیں جائے حادثے کی طرف نکل گئیں‘

میں نے دیکھا جو بھی گاڑی پاﺅڈر کے اوپر سے گزرتی تھی‘ اس کے ٹائروں سے چنگاریاں نکلنے لگتی تھیں اور وہ ڈبل انڈیکیٹر لگا کر اپنی سپیڈ کم کر لیتی تھی‘ مجھے میزبان نے بتایا یہ کیمیکل یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس نے بنایا تھا‘ ہائی وے پر اگر رات‘ بارش یا دھند میں حادثہ ہو جائے تو پولیس کی گاڑیاں حادثے سے دس کلو میٹر پیچھے سڑک پر یہ کیمیکل چھڑک دیتی ہیں‘ کیمیکل کی مقدار جائے حادثہ کے قریب پہنچ کر بڑھ جاتی ہے‘ گاڑیاں اس کیمیکل کے اوپر سے گزرتی ہیں تو سڑک پر چنگاریاں سی نظر آتی ہیں اور یوں ڈرائیور محتاط ہو جاتے ہیں‘

میں حیران ہو گیا‘میں نے یورپ کے اکثر ملکوں میں پولیس کو برف باری کے دوران سڑکوں کے کناروں پر برف پر پیلا اور سرخ رنگ پھینکتے بھی دیکھا ‘ یہ رنگ بھی حادثے اور احتیاط کا اشارہ ہوتا ہے‘ ہم یہ کیوں نہیں کر سکتے‘ کیا ہم فکری لحاظ سے بانجھ ہیں اور کیا ہمارے ذہنوں میں نئے نئے آئیڈیاز نہیں آ تے؟ میرا خیال ہے ہم نے نئے آئیڈیاز پر کام کرنے کی بجائے ایک آسان راستہ چن لیا ہے اور وہ راستہ ہے شہید‘ ہم غفلت اور ریاستی نالائقیوں کے شکار لوگوں کو شہید ڈکلیئر کرتے ہیں‘

انہیں اللہ کی مرضی کے کھاتے میں ڈالتے ہیں‘ لواحقین کےلئے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہیں اورپھر کسی اگلے شہید کا انتظار شروع کر دیتے ہیں ‘ہم سسٹم امپروو نہیں کرتے‘ہم لوگوں کو ٹرینڈ نہیں کرتے اور یہ ہماری قومی پالیسی ہے‘ لوگ مرتے رہیں اور ہم انہیں شہید بناتے رہیں‘ ہم نے کبھی سوچا یہ ملک آخر مزید کتنے شہدا ءکا بوجھ اٹھائے گا‘ آخر کب تک یہ مذاق ہوتا رہے گا اور ہم کب تک لوگوں کو شہید بنا بنا کر گزارہ کرتے رہیں گے‘ ہمیں بالآخر سوچنا ہوگا۔

The post ہم آخر کب تک appeared first on JavedCh.Com.



source http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2019/01/03/537296